ریاض میں جمعرات یکم اکتوبر 2026 کو موسم کی صورتحال کے حوالے سے قومی مرکز برائے موسمیات نے بتایا ہے کہ جازان، عسیر، الباحہ، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقوں کے بعض حصوں میں درمیانے سے شدید درجے کی گرج چمک کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے۔ اس بارش کے نتیجے میں اچانک سیلاب بھی آ سکتے ہیں، جبکہ اولے پڑنے اور تیز گرد اڑانے والی ہواؤں کا بھی امکان موجود ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، قومی مرکز برائے موسمیات کے مطابق انہی علاقوں کے بعض حصوں میں دھند بھی چھا سکتی ہے۔ مشرقی علاقے کے ساحلی حصوں میں بھی دھند بننے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ صورتحال ان علاقوں میں سفر کرنے والوں اور مقامی رہائشیوں دونوں کے لیے پیش نظر رکھنے والی بات ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ اچانک سیلاب کا خطرہ ان علاقوں میں کیوں بڑھ جاتا ہے؟ پہاڑی اور نشیبی علاقوں میں تیز بارش کے بعد پانی کم وقت میں جمع ہو جاتا ہے، جس سے وادیوں اور گزرگاہوں میں بہاؤ تیز ہو جاتا ہے۔ قومی مرکز برائے موسمیات نے جازان، عسیر، الباحہ، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقوں کے بعض حصوں کے لیے یہ انتباہ جاری کیا ہے۔
اسی طرح الجوف، حائل اور شمالی سرحدات کے علاقوں کے بعض حصوں میں ہلکی سے درمیانے درجے کی گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے، جس کے ساتھ تیز ہوائیں بھی چلیں گی۔ قاسم اور مشرقی علاقے کے شمالی حصوں میں بھی اسی نوعیت کی بارش کا امکان بتایا گیا ہے۔
کیا آپ نے غور کیا کہ ایک ہی دن میں ملک کے مختلف حصوں میں موسم کی شدت کیوں مختلف ہوتی ہے؟ قومی مرکز برائے موسمیات کے مطابق جنوبی اور مغربی علاقوں میں بارش کا دائرہ زیادہ وسیع اور شدید ہے، جبکہ شمالی علاقوں میں اس کی شدت نسبتاً کم رہے گی۔
بحیرہ احمر کے حوالے سے مرکز نے بتایا کہ ہوائیں شمال مغربی سے شمالی سمت میں 20 سے 45 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی، جبکہ جنوب مشرقی سے شمال مشرقی سمت میں ان کی رفتار 10 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ رہے گی۔ لہروں کی بلندی آدھے میٹر سے لے کر دو میٹر سے زیادہ تک جا سکتی ہے، اور سمندر پرسکون سے لے کر متلاطم تک رہے گا۔
کیا سمندری سفر کرنے والوں کو اس پیش گوئی پر خاص توجہ نہیں دینی چاہیے؟ لہروں کی بلندی میں اتار چڑھاؤ اور ہوا کی رفتار میں فرق بحری سرگرمیوں کے لیے اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔
خلیج عرب کے بارے میں قومی مرکز برائے موسمیات کے مطابق ہوائیں شمالی سے شمال مغربی سمت میں چلیں گی، جو شام کے وقت جنوب مشرقی اور جنوبی سمت اختیار کر لیں گی، اور ان کی رفتار 10 سے 36 کلومیٹر فی گھنٹہ رہے گی۔ اس کے علاوہ شمال مغربی سے شمالی سمت کی ہوائیں دوپہر کے بعد مشرقی اور شمال مشرقی سمت میں بدل جائیں گی، اور ان کی رفتار 10 سے 35 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی۔
خلیج عرب میں لہروں کی بلندی آدھے میٹر سے لے کر ڈیڑھ میٹر تک رہے گی، اور سمندر نسبتاً پرسکون رہے گا۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ ہوا کی سمت میں دن بھر تبدیلی کیوں رونما ہوتی ہے؟ قومی مرکز برائے موسمیات کی رپورٹ کے مطابق خلیج عرب میں صبح اور شام کے اوقات میں ہوا کی سمت بدلتی رہے گی، جس کا اثر لہروں کی بلندی پر بھی پڑے گا۔
یہ پیش گوئی یکم اکتوبر 2026 کو جاری کی گئی اور اس کا وقت مقامی وقت کے مطابق صبح 09:03 اور گرین وچ مین ٹائم کے مطابق صبح 06:03 بتایا گیا ہے۔ قومی مرکز برائے موسمیات نے یہ معلومات سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے ذریعے جاری کیں۔
کیا آپ نے دیکھا کہ دھند کا ذکر کچھ مخصوص علاقوں کے لیے کیا گیا ہے؟ مرکز کے مطابق جازان، عسیر، الباحہ، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقوں کے بعض حصوں کے علاوہ مشرقی علاقے کے ساحلی حصوں میں دھند بن سکتی ہے۔ دھند کے باعث حد نگاہ کم ہو سکتی ہے، جس کا اثر سڑکوں پر نقل و حرکت پر پڑ سکتا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ اولے پڑنے کا ذکر کس تناظر میں کیا گیا ہے؟ قومی مرکز برائے موسمیات کے مطابق جازان، عسیر، الباحہ، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقوں کے بعض حصوں میں درمیانے سے شدید گرج چمک کے ساتھ بارش کے دوران اولے بھی پڑ سکتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ان علاقوں میں تیز گرد اڑانے والی ہوائیں چلیں گی۔ اس قسم کی ہواؤں کے ساتھ بارش کے امکانات کا ذکر قومی مرکز برائے موسمیات نے اپنی پیش گوئی میں کیا ہے۔
کیا آپ نے نوٹ کیا کہ بحیرہ احمر اور خلیج عرب کے لیے الگ الگ تفصیلات دی گئی ہیں؟ بحیرہ احمر میں ہواؤں کی رفتار 20 سے 45 کلومیٹر فی گھنٹہ اور 10 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ بتائی گئی ہے، جبکہ خلیج عرب میں یہ رفتار 10 سے 36 کلومیٹر فی گھنٹہ اور 10 سے 35 کلومیٹر فی گھنٹہ بیان کی گئی ہے۔
لہروں کے حوالے سے بحیرہ احمر میں بلندی آدھے میٹر سے دو میٹر سے زیادہ تک بتائی گئی ہے اور سمندر پرسکون سے متلاطم رہے گا۔ خلیج عرب میں لہروں کی بلندی آدھے میٹر سے ڈیڑھ میٹر تک رہے گی اور سمندر نسبتاً پرسکون رہے گا۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ قومی مرکز برائے موسمیات کی یہ پیش گوئی کس تاریخ کو جاری ہوئی؟ یہ اطلاعات یکم اکتوبر 2026 کو جاری کی گئیں اور سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے انہیں نشر کیا۔
قومی مرکز برائے موسمیات کی جانب سے جاری اس پیش گوئی میں جازان، عسیر، الباحہ، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقوں کے بعض حصوں میں درمیانے سے شدید گرج چمک کے ساتھ بارش، اچانک سیلاب، اولے اور تیز گرد اڑانے والی ہواؤں کا ذکر شامل ہے۔ اسی رپورٹ میں الجوف، حائل اور شمالی سرحدات کے علاقوں کے بعض حصوں کے ساتھ قاسم اور مشرقی علاقے کے شمالی حصوں میں ہلکی سے درمیانے درجے کی گرج چمک کے ساتھ بارش اور تیز ہواؤں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
بحیرہ احمر اور خلیج عرب دونوں کے لیے ہواؤں کی سمت، رفتار، لہروں کی بلندی اور سمندر کی کیفیت کی تفصیلات بھی اسی پیش گوئی کا حصہ ہیں۔ دھند کے امکان کا ذکر بھی مخصوص علاقوں کے لیے کیا گیا ہے۔
سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کی اس رپورٹ میں ان علاقوں کے لیے کسی مخصوص انتباہی سطح، متاثرہ شہروں کی تفصیلی فہرست، یا بارش کی مقدار کے اعداد و شمار کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اسی طرح رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ یہ موسمی صورتحال کتنے دن جاری رہے گی۔
جمعرات کو کون سے علاقوں میں شدید بارش متوقع ہے؟ قومی مرکز برائے موسمیات کے مطابق جازان، عسیر، الباحہ، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقوں کے بعض حصوں میں درمیانے سے شدید گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔ اس بارش کے نتیجے میں اچانک سیلاب آ سکتے ہیں اور اولے بھی پڑ سکتے ہیں۔ انہی علاقوں میں تیز گرد اڑانے والی ہواؤں کا بھی امکان ہے۔
کن علاقوں میں ہلکی سے درمیانے درجے کی بارش کا امکان ہے؟ قومی مرکز برائے موسمیات کے مطابق الجوف، حائل اور شمالی سرحدات کے علاقوں کے بعض حصوں میں ہلکی سے درمیانے درجے کی گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔ اس کے ساتھ تیز ہوائیں بھی چلیں گی۔ قاسم اور مشرقی علاقے کے شمالی حصوں میں بھی اسی نوعیت کی بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
دھند کہاں بن سکتی ہے؟ قومی مرکز برائے موسمیات کے مطابق جازان، عسیر، الباحہ، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقوں کے بعض حصوں میں دھند بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مشرقی علاقے کے ساحلی حصوں میں بھی دھند کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں دھند کے دورانیے یا شدت کے بارے میں تفصیل نہیں دی گئی۔
بحیرہ احمر میں ہواؤں اور لہروں کی صورتحال کیا رہے گی؟ قومی مرکز برائے موسمیات کے مطابق بحیرہ احمر میں ہوائیں شمال مغربی سے شمالی سمت میں 20 سے 45 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ جنوب مشرقی سے شمال مشرقی سمت میں ان کی رفتار 10 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ رہے گی۔ لہروں کی بلندی آدھے میٹر سے دو میٹر سے زیادہ تک جا سکتی ہے اور سمندر پرسکون سے متلاطم تک رہے گا۔
خلیج عرب میں موسم کی کیا صورتحال بتائی گئی ہے؟ قومی مرکز برائے موسمیات کے مطابق خلیج عرب میں ہوائیں شمالی سے شمال مغربی سمت میں چلیں گی اور شام کے وقت جنوب مشرقی اور جنوبی سمت اختیار کر لیں گی، جن کی رفتار 10 سے 36 کلومیٹر فی گھنٹہ رہے گی۔ شمال مغربی سے شمالی ہوائیں دوپہر کے بعد مشرقی اور شمال مشرقی سمت میں بدلیں گی، جن کی رفتار 10 سے 35 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی۔ لہروں کی بلندی آدھے میٹر سے ڈیڑھ میٹر تک رہے گی اور سمندر نسبتاً پرسکون رہے گا۔
یہ پیش گوئی کب جاری کی گئی؟ قومی مرکز برائے موسمیات کی یہ پیش گوئی یکم اکتوبر 2026 کو جاری کی گئی۔ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق اس کا وقت مقامی وقت کے حساب سے صبح 09:03 اور گرین وچ مین ٹائم کے مطابق صبح 06:03 بتایا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ صورتحال کتنے دن جاری رہے گی۔





