Saturday, October 31, 2026
عمومی

مسجد الحرام کے امام نے جمعہ کے خطبے میں سچی توبہ اور اخلاقی جوابدہی پر زور دیا

مسجد الحرام کے امام نے جمعہ کے خطبے میں سچی توبہ اور اخلاقی جوابدہی پر زور دیا

مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کے جمعہ کے خطبے میں امام شیخ فیصل غزاوی نے کہا کہ انسان فطرتاً کمزوری، خواہشات اور لغزشوں کی طرف مائل ہے، اور کمال صرف خالق ہی کا ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 2 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، شیخ فیصل غزاوی نے جمعہ کے خطبے میں یہ بات واضح کی کہ لغزش انسان کی فطری کمزوری ہے، لیکن اصل قصور بغیر پچھتاوے یا اصلاح کی کوشش کے غلطی پر ڈٹے رہنے میں ہے۔

انہوں نے نمازیوں سے کہا کہ وہ غلطی میں پھنسے رہنے کے بجائے اخلاقی حوصلہ پیدا کریں اور جب بھی لغزش ہو، فوراً اٹھ کھڑے ہوں اور اصلاح کی طرف بڑھیں۔ کیا انسان اپنی لغزشوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے، یا وہ انہیں نظر انداز کر کے آگے بڑھ جاتا ہے؟

امام نے مومنین کو ہدایت کی کہ وہ اپنی گفتار و کردار پر غور کرتے ہوئے مسلسل خود احتسابی کریں۔ انہوں نے کہا کہ نیک اعمال کو مضبوط کرنا، کوتاہیوں کی تلافی کرنا، شک کی صورت میں درست علم حاصل کرنا، اور قابل ملامت اعمال کو ترک کر کے سچا پچھتاوا ظاہر کرنا خود احتسابی کا حصہ ہے۔

کیا ہم روزانہ اپنے الفاظ اور اعمال کا جائزہ لیتے ہیں، یا یہ کام صرف خاص مواقع پر کرتے ہیں؟ شیخ غزاوی نے اس بات پر زور دیا کہ انسان کا کمال تک پہنچنا ممکن نہیں، کیونکہ کمال صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ یہ تصور انسان کو تکبر سے بچاتا ہے اور اسے عاجزی کی طرف راغب کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب انسان کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے تو اسے چاہیے کہ وہ فوراً اصلاح کی طرف قدم بڑھائے، نہ کہ تاخیر کرے۔ کیا تاخیر انسان کو مزید گمراہی کی طرف نہیں لے جاتی؟

خطبے میں یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ خود احتسابی کا عمل صرف ماضی پر نظر ڈالنا نہیں، بلکہ آئندہ کے لیے بہتری کی راہ ہموار کرنا ہے۔ امام نے کہا کہ جب انسان کو کسی معاملے میں شک ہو تو اسے چاہیے کہ وہ مستند علم کی طرف رجوع کرے، تاکہ وہ غلط فہمیوں اور شبہات سے محفوظ رہے۔

کیا ہم شک کی حالت میں علم حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یا اندازوں پر اکتفا کرتے ہیں؟ انہوں نے مزید کہا کہ سچا پچھتاوا وہ ہے جس میں قابل ملامت اعمال کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے۔

مسجد الحرام میں جمعہ کے خطبے کا یہ پیغام ایسے وقت میں سامنے آیا جب دنیا بھر کے مسلمان اخلاقی اور روحانی تربیت کی اہمیت پر غور کر رہے ہیں۔ شیخ فیصل غزاوی نے نمازیوں کو یاد دلایا کہ انسان کی فطرت میں کمزوری شامل ہے، لیکن اس کمزوری کا جواز بنانا درست نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اصل فرق یہ ہے کہ انسان اپنی غلطی سے سبق سیکھتا ہے یا نہیں۔ کیا ہم اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہیں، یا وہی غلطیاں بار بار دہراتے ہیں؟

امام نے زور دیا کہ مومن کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرے اور ان کی تلافی کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہا کہ نیک اعمال کو مضبوط کرنا اور برے اعمال کو ترک کرنا دونوں ایک ساتھ ضروری ہیں۔

کیا ہم صرف اپنے اچھے اعمال پر نظر رکھتے ہیں اور برے اعمال کو نظر انداز کر دیتے ہیں؟ خطبے میں یہ بھی بتایا گیا کہ جب انسان کو اپنی غلطی کا علم ہو جائے تو اسے چاہیے کہ وہ فوراً اصلاح کرے، کیونکہ تاخیر سے معاملہ مزید بگڑ سکتا ہے۔

شیخ غزاوی نے کہا کہ انسان کی کمزوری اور خواہشات اسے لغزش کی طرف لے جا سکتی ہیں، لیکن اس کا علاج یہ نہیں کہ وہ غلطی پر ڈٹ جائے۔ انہوں نے کہا کہ اصل قصور بغیر پچھتاوے کے غلطی پر قائم رہنا ہے۔

کیا ہم اپنی غلطیوں پر پچھتاوا محسوس کرتے ہیں، یا انہیں معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں؟ انہوں نے نمازیوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی گفتار و کردار کا مسلسل جائزہ لیں، کیونکہ یہی خود احتسابی کا اصل مفہوم ہے۔

امام نے کہا کہ جب انسان کو کسی معاملے میں شک ہو تو اسے چاہیے کہ وہ درست علم حاصل کرے، تاکہ وہ غلط راستے پر نہ چل پڑے۔ انہوں نے کہا کہ علم کی روشنی میں ہی انسان صحیح اور غلط میں تمیز کر سکتا ہے۔

کیا ہم اپنے شکوک و شبہات کو علم کے ذریعے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟ خطبے میں یہ نکتہ بھی نمایاں رہا کہ سچا پچھتاوا صرف زبانی اقرار نہیں، بلکہ قابل ملامت اعمال کو ترک کرنا ہے۔

شیخ فیصل غزاوی نے کہا کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی کوتاہیوں کی تلافی کرے اور نیک اعمال کو مضبوط کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں کام ایک ساتھ کرنے سے ہی انسان کی اصلاح ہوتی ہے۔

کیا ہم اپنی کوتاہیوں کی تلافی کے لیے عملی اقدام کرتے ہیں، یا صرف نیت پر اکتفا کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جب انسان کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے تو اسے چاہیے کہ وہ فوراً اٹھ کھڑا ہو اور اصلاح کی طرف بڑھے۔

امام نے کہا کہ انسان کی فطرت میں کمزوری ہے، لیکن یہ کمزوری اس کے لیے عذر نہیں بن سکتی۔ انہوں نے کہا کہ کمال صرف خالق ہی کا ہے، اور انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی حدود کو پہچانے۔

کیا ہم اپنی حدود کو پہچانتے ہیں، یا خود کو کامل سمجھنے لگتے ہیں؟ خطبے میں یہ بھی کہا گیا کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی گفتار و کردار پر غور کرے اور اپنی کوتاہیوں کو دور کرنے کی کوشش کرے۔

شیخ غزاوی نے کہا کہ جب انسان کو اپنی غلطی کا علم ہو جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے تسلیم کرے اور اس کی اصلاح کرے۔ انہوں نے کہا کہ غلطی پر ڈٹے رہنا ہی اصل قصور ہے۔

کیا ہم اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرے اور ان کی تلافی کرے، کیونکہ یہی خود احتسابی کا تقاضا ہے۔

امام نے کہا کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال کا مسلسل جائزہ لے اور اپنی کوتاہیوں کو دور کرنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل انسان کو بہتری کی طرف لے جاتا ہے۔

کیا ہم اپنے اعمال کا مسلسل جائزہ لیتے ہیں، یا یہ کام صرف رمضان میں کرتے ہیں؟ خطبے میں یہ بھی بتایا گیا کہ جب انسان کو کسی معاملے میں شک ہو تو اسے چاہیے کہ وہ درست علم حاصل کرے اور اہل علم سے رجوع کرے۔

شیخ فیصل غزاوی نے کہا کہ سچا پچھتاوا وہ ہے جس میں انسان قابل ملامت اعمال کو ترک کر دے اور آئندہ ان سے باز رہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی اصلاح کا راستہ ہے۔

کیا ہم اپنے برے اعمال کو ترک کرنے کا عزم کرتے ہیں، یا وہی اعمال بار بار دہراتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی کمزوریوں کو پہچانے اور ان پر قابو پانے کی کوشش کرے۔

امام نے کہا کہ انسان کی کمزوری اور خواہشات اسے لغزش کی طرف لے جا سکتی ہیں، لیکن اس کا علاج یہ نہیں کہ وہ غلطی پر ڈٹ جائے۔ انہوں نے کہا کہ اصل قصور بغیر پچھتاوے کے غلطی پر قائم رہنا ہے۔

کیا ہم اپنی غلطیوں پر پچھتاوا محسوس کرتے ہیں، یا انہیں معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں؟ انہوں نے نمازیوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی گفتار و کردار کا مسلسل جائزہ لیں، کیونکہ یہی خود احتسابی کا اصل مفہوم ہے۔

رپورٹ میں خطبے کے شرکا کی تعداد، خطبے کا مکمل متن، یا دیگر تفصیلات نہیں دی گئیں۔

امام نے انسان کی فطرت کے بارے میں کیا کہا؟ امام شیخ فیصل غزاوی نے کہا کہ انسان فطرتاً کمزوری، خواہشات اور لغزشوں کی طرف مائل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمال صرف خالق ہی کا ہے، اور انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی حدود کو پہچانے۔ ایس پی اے کے مطابق انہوں نے یہ بات مسجد الحرام میں جمعہ کے خطبے میں کہی۔

امام کے مطابق اصل قصور کیا ہے؟ شیخ فیصل غزاوی نے کہا کہ لغزش انسان کی فطری کمزوری ہے، لیکن اصل قصور بغیر پچھتاوے یا اصلاح کی کوشش کے غلطی پر ڈٹے رہنے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان کو چاہیے کہ وہ غلطی میں پھنسے رہنے کے بجائے فوراً اٹھ کھڑا ہو اور اصلاح کی طرف بڑھے۔

خود احتسابی کے بارے میں کیا ہدایت دی گئی؟ امام نے مومنین کو ہدایت کی کہ وہ اپنی گفتار و کردار پر غور کرتے ہوئے مسلسل خود احتسابی کریں۔ انہوں نے کہا کہ نیک اعمال کو مضبوط کرنا، کوتاہیوں کی تلافی کرنا، شک کی صورت میں درست علم حاصل کرنا، اور قابل ملامت اعمال کو ترک کر کے سچا پچھتاوا ظاہر کرنا خود احتسابی کا حصہ ہے۔

سچے پچھتاوے کی کیا علامت بتائی گئی؟ شیخ فیصل غزاوی نے کہا کہ سچا پچھتاوا وہ ہے جس میں قابل ملامت اعمال کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صرف زبانی اقرار کافی نہیں، بلکہ انسان کو چاہیے کہ وہ برے اعمال کو چھوڑ دے اور آئندہ ان سے باز رہے۔

شک کی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟ امام نے کہا کہ جب انسان کو کسی معاملے میں شک ہو تو اسے چاہیے کہ وہ مستند علم کی طرف رجوع کرے۔ انہوں نے کہا کہ علم کی روشنی میں ہی انسان صحیح اور غلط میں تمیز کر سکتا ہے، اور اسی طرح وہ غلط فہمیوں اور شبہات سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

خطبے میں کیا تفصیلات نہیں دی گئیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں خطبے کے شرکا کی تعداد، خطبے کا مکمل متن، یا دیگر تفصیلات نہیں دی گئیں۔ رپورٹ میں صرف امام شیخ فیصل غزاوی کے بیان کردہ نکات شامل ہیں، جن میں انسان کی فطرت، خود احتسابی، اور سچے پچھتاوے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔