کویت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کی جانب سے جاری کردہ اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے جس میں 13 جولائی سے سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے میزائل حملوں اور 22 جولائی سے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کی گئی ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 9 اگست 2026 کو بیان کیا، کویتی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، بالخصوص قرارداد 2216، اور جمہوریہ یمن کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کا احترام ضروری ہے۔
کویت نے علاقائی سلامتی اور بحری جہ رانی کے حقوق کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے کیے گئے تمام اقدامات کی حمایت کی ہے۔
بیان میں یمن کی قانونی حکومت اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے کی کوششوں کی حمایت کی گئی ہے تاکہ یمن میں امن، سلامتی اور استحکام قائم کیا جا سکے۔
کویت نے سلامتی کونسل کے بیان میں کن نکات کی حمایت کی؟ کویت نے بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قرارداد 2216، اور جمہوریہ یمن کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے احترام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس کے علاوہ بحری جہ رانی کے حقوق اور علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات کو مسترد کیا ہے۔
حوثی ملیشیا کے حملوں کی تفصیلات کیا ہیں؟ سلامتی کونسل کے بیان کے مطابق حوثی ملیشیا نے 13 جولائی سے سعودی عرب پر میزائل حملے کیے ہیں، جبکہ 22 جولائی سے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کویت نے ان حملوں کی مذمت کرنے والے بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔
سعودی عرب اور یمن کے حوالے سے کویت کا کیا موقف ہے؟ کویت نے سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے کیے گئے تمام اقدامات کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ ساتھ ہی یمن کی قانونی حکومت اور اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کی امن کوششوں کی حمایت کی ہے۔