مدینہ میں اسلامی یونیورسٹی کے زیر اہتمام “سعودی عرب کی فکری انحرافات کے مقابلے کی کوششیں” کے عنوان سے بین الاقوامی کانفرنس جاری ہے، جس میں اسلامی امور، دعوہ اور رہنمائی کی وزارت شرکت کر رہی ہے۔ کانفرنس میں 34 ممالک کی نمائندگی کرنے والے 30 سے زائد مفتیان کرام اور 54 مقررین شریک ہیں، جبکہ دو دنوں پر محیط نو علمی نشستیں فکری انحرافات کے مقابلے کے طریقوں پر غور و خوض کے لیے مختص کی گئی ہیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 28 ستمبر 2026 کو بیان کیا، کانفرنس کا انعقاد اسلامی یونیورسٹی مدینہ نے کیا ہے اور اس کا مرکزی موضوع مملکت کی فکری انحرافات کے خلاف کوششوں کا جائزہ لینا ہے۔ یہ نشستیں نہ صرف فکری انحرافات کے مقابلے کے عملی راستوں پر بات کر رہی ہیں بلکہ مملکت کی جانب سے شعور و آگاہی اور فکری تحفظ کو فروغ دینے کے لیے کی جانے والی کوششوں اور اقدامات کا جائزہ بھی پیش کر رہی ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک ہی کانفرنس میں 34 ممالک کے علماء اور مفکرین ایک ہی چھت کے نیچے جمع ہو کر فکری تحفظ کے موضوع پر غور کر رہے ہیں؟ ایسے اجتماعات میں مختلف مکاتب فکر کے نمائندوں کی موجودگی کس طرح مشترکہ حکمت عملی کی تشکیل میں مدد دیتی ہے؟ اور کیا یہ کثیر القومی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ فکری انحرافات کا مسئلہ کسی ایک خطے یا ملک تک محدود نہیں؟
وزارت اسلامی امور، دعوہ اور رہنمائی کانفرنس کے ساتھ ساتھ منعقد ہونے والی نمائش میں بھی اپنا پویلین لگا رہی ہے، جس میں اس کے ملکی اور بین الاقوامی پروگراموں کو پیش کیا جا رہا ہے۔ ان پروگراموں کا مقصد دینی شعور، اعتدال اور توازن کو فروغ دینا اور فکری تحفظ کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ انتہا پسندی، شدت پسندی اور منحرف نظریات کے خلاف خبردار کرنا بھی شامل ہے۔ نمائش میں آنے والے زائرین میں 300 نسخے قرآن مجید کے بھی تقسیم کیے جا رہے ہیں۔
کیا آپ نے غور کیا ہے کہ وزارت کی جانب سے نمائش میں قرآنی نسخوں کی تقسیم اور دینی شعور کے فروغ کے پروگرام ایک ہی پیغام کے دو رخ ہیں؟ اعتدال اور توازن کی ترویج میں ایسی اشاعتی و تعلیمی سرگرمیوں کا کیا کردار ہے؟ اور کیا انتہا پسندی کے خلاف آگاہی صرف تقریروں سے ممکن ہے یا عملی اقدامات بھی اتنے ہی ضروری ہیں؟
کانفرنس کے دو روزہ ایجنڈے میں نو علمی نشستیں شامل ہیں، جو فکری انحرافات کے مقابلے کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہیں۔ ان نشستوں میں مملکت کی کوششوں اور اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جن کا تعلق شعور و آگاہی اور فکری تحفظ کو فروغ دینے سے ہے۔ 30 سے زائد مفتیان کرام کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ علمی اور شرعی سطح پر اس موضوع کو کس قدر سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
کیا آپ سوچتے ہیں کہ مفتیان کرام اور ماہرین تعلیم کی مشترکہ نشستیں فکری انحرافات کے اسباب کی گہرائی تک پہنچنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں؟ علمی نشستوں کے نتائج کو عملی پالیسیوں میں کیسے ڈھالا جا سکتا ہے؟ اور کیا ایسی کانفرنسوں کے بعد آنے والی نسلوں کے لیے کوئی واضح روڈ میپ سامنے آتا ہے؟
اسلامی یونیورسٹی مدینہ کا کردار اس کانفرنس کی میزبانی میں مرکزی ہے، جو علمی و تعلیمی ادارے کی حیثیت سے اس موضوع پر اپنی ذمہ داری ادا کر رہی ہے۔ یونیورسٹی کے زیر اہتمام ہونے سے کانفرنس کو علمی حلقوں میں ایک خاص وزن حاصل ہوتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر سے 54 مقررین اس میں شریک ہوئے ہیں۔
کیا آپ کے خیال میں علمی اداروں کی میزبانی میں ہونے والی ایسی کانفرنسوں کا اثر عام حکومتی اجلاسوں سے زیادہ دیرپا ہوتا ہے؟ یونیورسٹی کیمپس میں ہونے والی گفتگو کس طرح طلبہ اور نوجوان نسل تک پہنچتی ہے؟ اور کیا تعلیمی ادارے فکری تحفظ کے میدان میں حکومتوں کے ساتھ مل کر زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں؟
وزارت کا نمائشی پویلین اس بات کا عکاس ہے کہ دینی شعور کی ترویج صرف لیکچرز اور تقاریر تک محدود نہیں بلکہ اسے عملی پروگراموں اور اشاعتی مواد کے ذریعے بھی آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ پویلین میں وزارت کے ملکی و بین الاقوامی پروگراموں کی نمائش کی جا رہی ہے، جو اعتدال اور توازن کے پیغام کو عام کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ 300 نسخے قرآن مجید کی تقسیم کس طرح ایک علامتی اقدام سے بڑھ کر عملی دعوت کا ذریعہ بن سکتی ہے؟ نمائش میں آنے والے غیر ملکی مہمانوں تک یہ پیغام کس طرح پہنچتا ہے؟ اور کیا ایسی نمائشوں کو مزید شہروں اور بین الاقوامی مقامات تک پھیلایا جانا چاہیے؟
فکری انحرافات کے مقابلے کا موضوع آج کے دور میں اس لیے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے منحرف نظریات تیزی سے پھیلتے ہیں۔ ایسے میں مملکت کی کوششیں اور اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اس چیلنج کا مقابلہ علمی اور فکری بنیادوں پر کیا جا رہا ہے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ڈیجیٹل دور میں فکری تحفظ کا تحفظ روایتی طریقوں سے کیسے ممکن ہے؟ کیا کانفرنس میں جدید ذرائع ابلاغ کے چیلنجز پر بھی بات ہو رہی ہے؟ اور کیا نوجوان نسل کو اس گفتگو میں شامل کیے بغیر کوئی حکمت عملی کامیاب ہو سکتی ہے؟
کانفرنس کا انعقاد مدینہ منورہ میں ہونا بذات خود ایک اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ شہر اسلامی تاریخ اور علم کا مرکز رہا ہے۔ یہاں سے اٹھنے والی آواز کو عالمی سطح پر قبولیت حاصل ہوتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ مختلف ممالک کے علماء اس دعوت کو قبول کرتے ہوئے مدینہ پہنچے ہیں۔
کیا آپ کے خیال میں مدینہ جیسے علمی مرکز سے اٹھنے والا پیغام زیادہ مؤثر ہوتا ہے؟ مختلف اسلامی مکاتب فکر کے نمائندوں کا ایک ہی مقام پر جمع ہونا کس طرح باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دیتا ہے؟ اور کیا ایسی کوششیں امت مسلمہ کے اندر اتحاد کی راہ ہموار کرتی ہیں؟
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق کانفرنس میں 30 سے زائد مفتیان کرام، 54 مقررین اور 34 ممالک کی نمائندگی شامل ہے، جبکہ نو علمی نشستیں دو دنوں میں منعقد ہو رہی ہیں۔ وزارت کی شرکت نمائشی پویلین اور 300 قرآنی نسخوں کی تقسیم پر مشتمل ہے۔ رپورٹ میں کانفرنس کے اختتامی اعلانات، سفارشات یا ان نشستوں کے تفصیلی نتائج کا ذکر نہیں کیا گیا۔
کانفرنس کا اہتمام کس نے کیا اور کہاں ہو رہی ہے؟ کانفرنس اسلامی یونیورسٹی مدینہ کے زیر اہتمام مدینہ میں منعقد ہو رہی ہے اور اس کا موضوع سعودی عرب کی فکری انحرافات کے مقابلے کی کوششیں ہے۔ ایس پی اے کے مطابق وزارت اسلامی امور، دعوہ اور رہنمائی اس میں شرکت کر رہی ہے۔ کانفرنس میں 34 ممالک کی نمائندگی کرنے والے 30 سے زائد مفتیان کرام اور 54 مقررین شریک ہیں، جبکہ دو دنوں میں نو علمی نشستیں ہو رہی ہیں۔
کانفرنس میں کتنے ممالک اور مقررین شریک ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق کانفرنس میں 34 ممالک کی نمائندگی کرنے والے 54 مقررین اور 30 سے زائد مفتیان کرام شریک ہیں۔ دو دنوں پر محیط ایجنڈے میں نو علمی نشستیں شامل ہیں، جن میں فکری انحرافات کے مقابلے کے طریقوں پر بات کی جا رہی ہے اور مملکت کی کوششوں اور اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں شرکاء کے نام یا ان کے اداروں کی تفصیل نہیں دی گئی۔
وزارت نمائش میں کیا پیش کر رہی ہے؟ وزارت اسلامی امور، دعوہ اور رہنمائی کانفرنس کے ساتھ منعقد ہونے والی نمائش میں اپنا پویلین لگا رہی ہے، جس میں اس کے ملکی اور بین الاقوامی پروگرام پیش کیے جا رہے ہیں۔ ان پروگراموں کا مقصد دینی شعور، اعتدال اور توازن کو فروغ دینا اور فکری تحفظ کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ انتہا پسندی، شدت پسندی اور منحرف نظریات کے خلاف خبردار کرنا بھی شامل ہے۔ نمائش میں 300 نسخے قرآن مجید کے بھی تقسیم کیے جا رہے ہیں۔
علمی نشستوں میں کیا موضوعات زیر بحث ہیں؟ کانفرنس کی نو علمی نشستیں دو دنوں میں منعقد ہو رہی ہیں اور ان میں فکری انحرافات کے مقابلے کے طریقوں پر غور و خوض کیا جا رہا ہے۔ نشستوں میں مملکت کی کوششوں اور اقدامات کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے، جن کا تعلق شعور و آگاہی اور فکری تحفظ کو فروغ دینے سے ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں نشستوں کے انفرادی عنوانات، مقررین کے نام یا سفارشات کی تفصیل نہیں دی گئی۔
کانفرنس کے انعقاد کا مقام مدینہ کیوں اہم ہے؟ کانفرنس مدینہ میں اسلامی یونیورسٹی کے زیر اہتمام ہو رہی ہے، جو علمی و تعلیمی اعتبار سے ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق کانفرنس کا موضوع مملکت کی فکری انحرافات کے مقابلے کی کوششیں ہیں اور اس میں 34 ممالک کے 54 مقررین شریک ہیں۔ مدینہ میں مختلف ممالک کے علماء کا جمع ہونا اس موضوع پر عالمی سطح پر توجہ کی عکاسی کرتا ہے۔ رپورٹ میں اس انتخاب کی وجوہات بیان نہیں کی گئیں۔





