Sunday, November 8, 2026
سعودی خبریں

الجبیر نے اقوام متحدہ کے اتحادِ تہذیبوں گروپ آف فرینڈز اجلاس سے خطاب کیا

الجبیر نے اقوام متحدہ کے اتحادِ تہذیبوں گروپ آف فرینڈز اجلاس سے خطاب کیا

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر اتحادِ تہذیبوں (UNAOC) گروپ آف فرینڈز کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے سعودی عرب کی طرف سے وزیر مملکت برائے امور خارجہ، کابینہ کے رکن اور موسمیاتی ایلچی عادل الجبیر نے خطاب کیا۔ یہ اجلاس 26 ستمبر 2026 کو نیویارک میں منعقد ہوا۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، عادل الجبیر نے اپنے خطاب میں مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے اور بقائے باہمی کو فروغ دینے کے لیے مملکت کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اتحاد کے اس کردار کی تعریف کی جو وہ باہمی تفہیم کو آگے بڑھانے، نفرت انگیز تقریر کا مقابلہ کرنے اور مذہبی مقامات اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے ادا کرتا ہے۔

کیا مختلف عقائد کے پیروکاروں کے درمیان مکالمہ آج کے عالمی منظرنامے میں پہلے سے کہیں زیادہ ضروری نہیں ہو گیا؟ الجبیر نے ان کوششوں کے لیے مملکت کی حمایت کا خاکہ پیش کیا، جو اس یقین پر مبنی ہے کہ مکالمہ، بقائے باہمی، مذاہب کا احترام اور ثقافتی تنوع سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں۔

انہوں نے نوٹ کیا کہ اتحادِ تہذیبوں کا 11واں عالمی فورم، جس کی میزبانی مملکت نے دسمبر 2025 میں ریاض میں وسیع بین الاقوامی شرکت کے ساتھ کی، اس کے قیام کے دو عشرے بعد اتحاد کی کامیابیوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ کیا دو دہائیوں کے بعد اس فورم کے نتائج کا جائزہ لینا اس کے بنیادی مقاصد کے حصول کی سمت میں ایک اہم موڑ نہیں؟

عادل الجبیر نے فورم کے حتمی اعلامیے کی پیروی کی اہمیت پر زور دیا، جس میں کثیرالجہتی عمل، بین الاقوامی قانون اور متنوع عقائد اور ثقافتوں کے درمیان مسلسل مکالمے کے لیے مشترکہ وعدوں کی تجدید شامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مکالمہ تنوع کے تحفظ، تنازعات کی روک تھام، رواداری کو فروغ دینے، ہم آہنگ معاشروں کی تعمیر اور امن کو آگے بڑھانے کے لیے سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔

کیا نفرت انگیز تقریر اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کے واقعات کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر بین الاقوامی برادری کے لیے متحد ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت نہیں؟ الجبیر نے اپنے خطاب کے اختتام پر اتحاد کی تعمیری کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے مملکت کے عزم کا اعادہ کیا اور امن، رواداری، بقائے باہمی اور باہمی احترام کی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے رکن ممالک اور متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ مسلسل تعاون کا عہد کیا۔

یہ اجلاس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں منعقد ہوا، جہاں عالمی رہنما مختلف بین الاقوامی مسائل پر تبادلہ خیال کے لیے جمع ہوئے۔ سعودی عرب کی شرکت اس بات کا عکاس ہے کہ مملکت عالمی سطح پر مکالمے اور رواداری کے فروغ کے لیے کس طرح فعال کردار ادا کر رہی ہے۔

کیا بین الاقوامی فورمز پر اس طرح کے بیانات صرف رسمی کارروائی ہوتے ہیں یا ان کے پیچھے حقیقی تبدیلی لانے کا ارادہ مضمر ہوتا ہے؟ الجبیر کا خطاب اس تناظر میں اہم ہے کہ یہ اتحادِ تہذیبوں کے قیام کے دو عشرے بعد اس کے کام کا جائزہ لینے اور آئندہ کے لیے ترجیحات کا تعین کرنے کے موقع پر دیا گیا۔

سعودی عرب نے دسمبر 2025 میں ریاض میں اتحادِ تہذیبوں کے 11ویں عالمی فورم کی میزبانی کی تھی، جس میں وسیع بین الاقوامی شرکت ہوئی۔ اس فورم نے اتحاد کی کامیابیوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا، اور اس کے حتمی اعلامیے میں مشترکہ وعدوں کی تجدید پر زور دیا گیا۔

کیا ریاض میں منعقدہ اس فورم کے نتائج کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ٹھوس میکانزم موجود ہیں؟ الجبیر نے اس بات پر زور دیا کہ فورم کے حتمی اعلامیے کی پیروی کرنا اور کثیرالجہتی عمل، بین الاقوامی قانون اور مکالمے کے لیے وعدوں کی تجدید کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مکالمہ تنوع کے تحفظ کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے، اور یہ تنازعات کی روک تھام، رواداری کے فروغ، ہم آہنگ معاشروں کی تعمیر اور امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ موقف سعودی عرب کی اس پالیسی سے ہم آہنگ ہے جو مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان احترام اور تفہیم پر زور دیتی ہے۔

کیا آج کی دنیا میں ثقافتی تنوع کو خطرات لاحق ہیں، اور کیا بین الاقوامی اتحاد ان خطرات کا مؤثر جواب دے سکتا ہے؟ الجبیر نے اتحادِ تہذیبوں کی ان کوششوں کی تعریف کی جو باہمی تفہیم کو فروغ دینے، نفرت انگیز تقریر کا مقابلہ کرنے اور مذہبی مقامات اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے کی جا رہی ہیں۔

سعودی عرب کی اس شرکت کو اس کے اس یقین کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مکالمہ، بقائے باہمی، مذاہب کا احترام اور ثقافتی تنوع سلامتی اور استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔ یہ اصول مملکت کی خارجہ پالیسی کے بنیادی ستونوں میں شامل ہیں۔

عادل الجبیر نے اپنے خطاب کے اختتام پر مملکت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اتحاد کی تعمیری کوششوں کو آگے بڑھائے گی اور امن، رواداری، بقائے باہمی اور باہمی احترام کی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے رکن ممالک اور متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔

کیا اس طرح کے عہدے عملی اقدامات میں تبدیل ہو سکتے ہیں، اور کیا رکن ممالک اس سمت میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں؟ یہ سوالات اس وقت اہم ہو جاتے ہیں جب عالمی برادری مختلف چیلنجوں کا سامنا کر رہی ہے جن میں ثقافتی اور مذہبی تفریق بھی شامل ہے۔

واضح رہے کہ یہ اجلاس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں منعقد ہوا، اور اس میں سعودی عرب کی نمائندگی وزیر مملکت برائے امور خارجہ، کابینہ کے رکن اور موسمیاتی ایلچی عادل الجبیر نے کی۔ رپورٹ میں اجلاس میں شریک دیگر ممالک کے نمائندوں کے نام، خطاب کا مکمل متن یا اس کے بعد اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیل نہیں دی گئی۔

عادل الجبیر نے اقوام متحدہ کے اتحادِ تہذیبوں اجلاس سے خطاب میں کون سے اہم نکات اٹھائے؟ عادل الجبیر نے مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے اور بقائے باہمی کو فروغ دینے کے لیے سعودی عرب کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اتحاد کے اس کردار کی تعریف کی جو وہ باہمی تفہیم کو آگے بڑھانے، نفرت انگیز تقریر کا مقابلہ کرنے اور مذہبی مقامات اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے ادا کرتا ہے۔ انہوں نے مکالمے کو تنوع کے تحفظ، تنازعات کی روک تھام، رواداری کے فروغ اور امن کے قیام کا سب سے مؤثر ذریعہ قرار دیا۔

اتحادِ تہذیبوں کا 11واں عالمی فورم کب اور کہاں منعقد ہوا؟ اتحادِ تہذیبوں کا 11واں عالمی فورم دسمبر 2025 میں ریاض میں منعقد ہوا، جس کی میزبانی سعودی عرب نے کی۔ اس فورم میں وسیع بین الاقوامی شرکت ہوئی اور یہ اتحاد کے قیام کے دو عشرے بعد اس کی کامیابیوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ عادل الجبیر نے فورم کے حتمی اعلامیے کی پیروی کی اہمیت پر زور دیا۔

الجبیر نے فورم کے حتمی اعلامیے کے حوالے سے کیا کہا؟ عادل الجبیر نے فورم کے حتمی اعلامیے کی پیروی کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ کثیرالجہتی عمل، بین الاقوامی قانون اور متنوع عقائد اور ثقافتوں کے درمیان مسلسل مکالمے کے لیے مشترکہ وعدوں کی تجدید ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مکالمہ تنوع کے تحفظ، تنازعات کی روک تھام، رواداری کو فروغ دینے، ہم آہنگ معاشروں کی تعمیر اور امن کو آگے بڑھانے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔

یہ اجلاس کہاں اور کس موقع پر منعقد ہوا؟ یہ اجلاس نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر منعقد ہوا۔ یہ 26 ستمبر 2026 کو ہوا اور اس میں سعودی عرب کی نمائندگی وزیر مملکت برائے امور خارجہ، کابینہ کے رکن اور موسمیاتی ایلچی عادل الجبیر نے کی۔ اجلاس اقوام متحدہ کے اتحادِ تہذیبوں گروپ آف فرینڈز کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے طور پر منعقد ہوا۔

سعودی عرب مکالمے اور رواداری کے فروغ کے لیے کس طرح کام کر رہا ہے؟ سعودی عرب اس یقین پر مبنی ہے کہ مکالمہ، بقائے باہمی، مذاہب کا احترام اور ثقافتی تنوع سلامتی اور استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔ عادل الجبیر نے اتحاد کی تعمیری کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے مملکت کے عزم کا اعادہ کیا اور امن، رواداری، بقائے باہمی اور باہمی احترام کی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے رکن ممالک اور متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا عہد کیا۔