Saturday, October 24, 2026
سعودی خبریں

انسانی حقوق کمیشن نے حوثی ملیشیا کے سعودی عرب اور شہریوں پر حملوں کی مذمت کی

انسانی حقوق کمیشن نے حوثی ملیشیا کے سعودی عرب اور شہریوں پر حملوں کی مذمت کی

ریاض میں انسانی حقوق کمیشن کے بورڈ نے حوثی ملیشیا کے سعودی عرب کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کی ہے، جن میں شہریوں، شہری و اقتصادی تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو دانستہ نشانہ بنانا شامل ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 11 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، بورڈ نے اسلامی مقدس مقامات اور مساجد، بالخصوص حرمین شریفین، جو زمین پر اسلام کے مقدس ترین مقامات ہیں، کو نشانہ بنانے والے حملوں کی بھی مذمت کی۔

بورڈ نے زور دیا کہ یہ دہشت گرد گروہ شہری اہداف پر مجرمانہ حملوں کے ذریعے معصوم لوگوں کو نشانہ بنانے کے ارادے پر قائم ہے۔ کیا کوئی بھی معاشرہ ایسے حملوں کو نظر انداز کر سکتا ہے جو روزمرہ زندگی کے مراکز کو نشانہ بناتے ہیں؟

کمیشن نے واضح کیا کہ یہ دہشت گردانہ حملے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں، خاص طور پر شہریوں اور شہری اہداف کے تحفظ کے اصولوں کی۔ حملوں سے ہونے والی اموات، زخمیوں اور مادی نقصان ان کی شدت اور سنگین نتائج کو ظاہر کرتے ہیں۔

بورڈ نے زور دیا کہ شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کو کسی بھی بہانے سے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر شہریوں کا تحفظ بین الاقوامی قانون کا بنیادی ستون ہے تو پھر ایسی خلاف ورزیوں پر خاموشی کیوں دیکھی جاتی ہے؟

کمیشن نے سعودی حکومت کی وسیع کوششوں کو سراہا جو مملکت کی سلامتی کے تحفظ اور شہریوں، رہائشیوں اور اسلامی مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے کی جا رہی ہیں۔ اس نے حکومت کی ان کوششوں کی بھی تعریف کی جو ایسے دہشت گردانہ حملوں کا مقابلہ کرنے، جان و مال کے تحفظ اور ان کے نتائج سے نمٹنے کے لیے ضروری وسائل کو متحرک کرنے سے متعلق ہیں۔

بورڈ نے بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں اور میکانزم پر زور دیا کہ وہ ان حملوں کے جواب میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ کیا بین الاقوامی ادارے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مزید تاخیر کا جواز پیش کر سکتے ہیں جب شہریوں کی جانیں داؤ پر لگی ہوں؟

کمیشن نے خبردار کیا کہ ایسے حملے حوثی ملیشیا کی بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون سے واضح بے توقیری کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت سعودی عرب کے اپنے دفاع کے موروثی حق کا بھی اعادہ کیا۔

انسانی حقوق کمیشن نے مختلف شعبوں اور میدانوں میں سعودی فوجیوں کی قربانیوں اور کوششوں کو سراہا جو وطن کے دفاع اور اس کی سلامتی اور صلاحیتوں کے تحفظ سے متعلق ہیں۔ اس نے ان کی ہمت، قابلیت اور چوکسی کی تعریف کی۔ کیا کوئی قوم اپنے محافظوں کی قربانیوں کو فراموش کر سکتی ہے جو سرحدوں اور محاذوں پر کھڑے ہیں؟

بورڈ نے اسلامی مقدس مقامات، بالخصوص حرمین شریفین کو نشانہ بنانے والے حملوں کو بے مثال قرار دیا اور کہا کہ یہ اسلام کے مقدس ترین مقامات کی توہین ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں شہری اہداف کو نشانہ بنانے کے واقعات جاری ہیں۔

کمیشن نے اپنے بیان میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے پہلو کو خصوصی طور پر اجاگر کیا، کیونکہ ایسے حملے نہ صرف جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ معاشی استحکام اور عوامی خدمات کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ کیا معاشی تنصیبات پر حملے عام شہریوں کی روزی روٹی کو براہ راست متاثر نہیں کرتے؟

بورڈ کے مطابق حملوں کے نتیجے میں ہونے والی اموات، زخمی اور مادی نقصان ان کے سنگین نتائج کی نشاندہی کرتے ہیں، اور یہی عوامل بین الاقوامی قانون کے تحت ان کی مذمت کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ شہریوں اور شہری سہولیات کو نشانہ بنانے کو کسی بھی بہانے سے جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

انسانی حقوق کمیشن نے سعودی حکومت کی جانب سے سلامتی کے تحفظ، شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ اور اسلامی مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ اس نے ان کوششوں کو بھی تسلیم کیا جو دہشت گردانہ حملوں کا مقابلہ کرنے، جان و مال کے تحفظ اور ان کے نتائج سے نمٹنے کے لیے وسائل کو متحرک کرنے پر مرکوز ہیں۔

کمیشن نے بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں اور میکانزم سے مطالبہ کیا کہ وہ ان حملوں کے تناظر میں اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ کیا عالمی برادری کے پاس ان حملوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کا کوئی متبادل موجود ہے؟

بورڈ نے خبردار کیا کہ یہ حملے حوثی ملیشیا کے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون سے واضح عدم تعلق کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کا اعادہ کیا، جو کسی بھی ریاست کے لیے بین الاقوامی قانون کے تحت تسلیم شدہ حق ہے۔

کمیشن نے مختلف شعبوں میں سعودی فوجیوں کی قربانیوں اور کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کی ہمت، قابلیت اور چوکسی کو خراج تحسین پیش کیا۔ یہ تعریف وطن کے دفاع، اس کی سلامتی اور صلاحیتوں کے تحفظ کے تناظر میں کی گئی۔

انسانی حقوق کمیشن کا یہ بیان سعودی عرب کے انسانی حقوق کے ادارے کی جانب سے ایک واضح موقف کی عکاسی کرتا ہے، جس میں شہریوں کے تحفظ، اسلامی مقدس مقامات کی حرمت اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی پاسداری پر زور دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں حملوں کی مخصوص جگہوں، تاریخوں، ہلاکتوں کی تعداد یا نقصان کی تفصیلات نہیں دی گئیں، اور نہ ہی کسی مخصوص کارروائی کا ذکر کیا گیا۔

انسانی حقوق کمیشن نے کن حملوں کی مذمت کی؟ کمیشن کے بورڈ نے حوثی ملیشیا کے سعودی عرب کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کی، جن میں شہریوں، شہری و اقتصادی تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو دانستہ نشانہ بنانا شامل ہے۔ ایس پی اے کے مطابق بورڈ نے اسلامی مقدس مقامات اور مساجد، بالخصوص حرمین شریفین کو نشانہ بنانے والے حملوں کی بھی مذمت کی۔

کمیشن نے ان حملوں کو بین الاقوامی قانون کے حوالے سے کیسے بیان کیا؟ کمیشن نے کہا کہ یہ حملے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں، خاص طور پر شہریوں اور شہری اہداف کے تحفظ کے اصولوں کی۔ بورڈ کے مطابق حملوں سے ہونے والی اموات، زخمیوں اور مادی نقصان ان کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں، اور شہریوں کو نشانہ بنانے کو کسی بہانے جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

کمیشن نے سعودی حکومت کی کون سی کوششیں سراہیں؟ کمیشن نے سعودی حکومت کی ان وسیع کوششوں کو سراہا جو مملکت کی سلامتی، شہریوں، رہائشیوں اور اسلامی مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے کی جا رہی ہیں۔ اس نے ان کوششوں کی بھی تعریف کی جو دہشت گردانہ حملوں کا مقابلہ کرنے، جان و مال کے تحفظ اور ان کے نتائج سے نمٹنے کے لیے ضروری وسائل متحرک کرنے سے متعلق ہیں۔

کمیشن نے بین الاقوامی اداروں سے کیا مطالبہ کیا؟ کمیشن نے بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں اور میکانزم پر زور دیا کہ وہ ان حملوں کے جواب میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ بورڈ نے خبردار کیا کہ ایسے حملے حوثی ملیشیا کی بین الاقوامی قانون سے بے توقیری ظاہر کرتے ہیں، اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کا اعادہ کیا۔

کمیشن نے سعودی فوجیوں کے بارے میں کیا کہا؟ کمیشن نے مختلف شعبوں اور میدانوں میں سعودی فوجیوں کی قربانیوں اور کوششوں کو سراہا جو وطن کے دفاع اور اس کی سلامتی اور صلاحیتوں کے تحفظ سے متعلق ہیں۔ بورڈ نے ان کی ہمت، قابلیت اور چوکسی کی تعریف کی۔ یہ تعریف ایسے وقت میں سامنے آئی جب سرحدوں اور محاذوں پر دفاعی کوششیں جاری ہیں۔

رپورٹ میں کن تفصیلات کا ذکر نہیں کیا گیا؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں حملوں کی مخصوص جگہوں، تاریخوں، ہلاکتوں کی تعداد یا مادی نقصان کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔ نہ ہی کسی مخصوص کارروائی، فوجی جواب یا بین الاقوامی اداروں کے ردعمل کا ذکر کیا گیا۔ بیان میں صرف کمیشن کے موقف، مذمت اور بین الاقوامی قانون کے حوالوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔