Tuesday, October 20, 2026
سعودی خبریں

او آئی سی کے رکن ممالک نے سائبر سیکیورٹی کونسل کی میزبانی ریاض کو سونپ دی

او آئی سی کے رکن ممالک نے سائبر سیکیورٹی کونسل کی میزبانی ریاض کو سونپ دی

ریاض میں قائم ہونے والی تنظیم اسلامی تعاون (او آئی سی) کی سائبر سیکیورٹی وزراء کونسل کے جنرل سیکرٹریٹ اور ایگزیکٹو آفس کی سربراہی میزبان ملک کا نمائندہ کرے گا، اور یہ کونسل او آئی سی کا ذیلی ادارہ اور سائبر سیکیورٹی سے متعلق امور میں تنظیم کا مرکزی حوالہ ہوگی۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 19 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کے 52ویں اجلاس نے سعودی عرب کی تجویز پر سائبر سیکیورٹی کے وزراء کی کونسل کے قیام کی منظوری دی۔ یہ کونسل او آئی سی کی پہلی سائبر سیکیورٹی وزارتی کونسل ہے، اور اس کا قیام تنظیم کے رکن ممالک میں سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اجتماعی اقدام ہے۔

کونسل کا مقصد رکن ممالک میں سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانا، ان کے اہم مفادات اور قومی سلامتی کا تحفظ، تعاون کو گہرا کرنا، اور سائبر سیکیورٹی سے متعلق بین الاقوامی تنظیموں میں ان کے مفادات کا تحفظ ہے۔ کیا یہ ایک ایسا قدم ہے جو اسلامی دنیا کو سائبر خطرات کے خلاف ایک متحد محاذ فراہم کرے گا؟

نیشنل سائبر سیکیورٹی اتھارٹی کے گورنر ماجد المزید نے کہا کہ سعودی عرب کی تجویز دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے سائبر خطرات کے تناظر میں سامنے آئی ہے جو قوموں کے اہم مفادات، اہم انفراسٹرکچر، ترجیحی شعبوں اور حکومتی خدمات و سرگرمیوں کے لیے خطرات پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے رکن ممالک میں سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا اور اسے معاشی ترقی، سماجی بہبود اور انفرادی خوشحالی کا کلیدی محرک قرار دیا، نیز بین الاقوامی امن و سلامتی کا بنیادی ستون۔

المزید نے سائبر سیکیورٹی کے شعبے کے لیے سعودی قیادت کی مضبوط حمایت پر اظہار تشکر کیا اور نیشنل سائبر سیکیورٹی اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ارکان کا شکریہ ادا کیا، جس کی سربراہی وزیر مملکت اور کابینہ کے رکن مساعد العیبان کر رہے ہیں، ان کی مسلسل توجہ اور نگرانی پر۔ کیا اس طرح کی اعلیٰ سطحی نگرانی اس شعبے کی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھ سکتی ہے؟

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب سائبر اسپیس کے استحکام کو مضبوط بنانے، علاقائی اور بین الاقوامی سائبر سیکیورٹی اداروں کی میزبانی، اور اس شعبے میں حکمت عملی اقدامات کی حمایت کے لیے طویل بین الاقوامی اقدامات کا ریکارڈ رکھتا ہے۔ ریاض کا او آئی سی سائبر سیکیورٹی وزارتی کونسل کے ہیڈ کوارٹر کے طور پر انتخاب اس ریکارڈ کا تسلسل ہے۔

کونسل او آئی سی کا ذیلی ادارہ ہوگی اور سائبر سیکیورٹی سے متعلق امور میں تنظیم کا مرکزی حوالہ ہوگی۔ اس کا جنرل سیکرٹریٹ اور ایگزیکٹو آفس ریاض میں قائم ہوگا، اور ہر ایک کی سربراہی میزبان ملک کا نمائندہ کرے گا۔ کونسل او آئی سی کے رکن ممالک کے سائبر سیکیورٹی حکام پر مشتمل ہوگی۔ کیا رکن ممالک کے مختلف سائبر سیکیورٹی فریم ورک کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ممکن ہوگا؟

یہ فیصلہ او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کے 52ویں اجلاس میں منظور کیا گیا، جو سعودی عرب کی تجویز پر مبنی تھا۔ کونسل کے قیام کا مقصد رکن ممالک کے درمیان تعاون کو گہرا کرنا اور بین الاقوامی تنظیموں میں ان کے مفادات کا تحفظ ہے جو سائبر سیکیورٹی سے متعلق امور پر کام کرتی ہیں۔

المزید کے مطابق، سائبر خطرات عالمی سطح پر بڑھ رہے ہیں اور یہ قوموں کے اہم مفادات، اہم انفراسٹرکچر، ترجیحی شعبوں اور حکومتی خدمات و سرگرمیوں کے لیے خطرات پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رکن ممالک میں سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانا معاشی ترقی، سماجی بہبود اور انفرادی خوشحالی کا کلیدی محرک ہے، اور یہ بین الاقوامی امن و سلامتی کا بنیادی ستون بھی ہے۔ کیا سائبر سیکیورٹی کو معاشی ترقی سے جوڑنا رکن ممالک کی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی لائے گا؟

سعودی عرب کی تجویز اس وقت سامنے آئی جب دنیا بھر میں سائبر خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ المزید نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب سائبر اسپیس کے استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے طویل بین الاقوامی اقدامات کا ریکارڈ رکھتا ہے، علاقائی اور بین الاقوامی سائبر سیکیورٹی اداروں کی میزبانی کرتا ہے، اور اس شعبے میں حکمت عملی اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے سائبر سیکیورٹی کے شعبے کے لیے سعودی قیادت کی مضبوط حمایت پر اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے نیشنل سائبر سیکیورٹی اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ارکان کا بھی شکریہ ادا کیا، جس کی سربراہی وزیر مملکت اور کابینہ کے رکن مساعد العیبان کر رہے ہیں، ان کی مسلسل توجہ اور نگرانی پر۔

کونسل کی تشکیل او آئی سی کے رکن ممالک کے سائبر سیکیورٹی حکام پر مشتمل ہوگی، اور یہ تنظیم کے اندر سائبر سیکیورٹی سے متعلق امور کا مرکزی حوالہ ہوگی۔ اس کا جنرل سیکرٹریٹ اور ایگزیکٹو آفس ریاض میں ہوگا، اور دونوں کی سربراہی میزبان ملک کا نمائندہ کرے گا۔ کیا یہ انتظام رکن ممالک کے درمیان فیصلہ سازی کو تیز کرے گا؟

یہ کونسل او آئی سی کا ذیلی ادارہ ہوگی، جس کا مطلب ہے کہ یہ تنظیم کے ڈھانچے کے اندر کام کرے گی اور اس کے فیصلے تنظیم کے فریم ورک کے مطابق ہوں گے۔ کونسل کا مقصد رکن ممالک میں سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانا، ان کے اہم مفادات اور قومی سلامتی کا تحفظ، تعاون کو گہرا کرنا، اور سائبر سیکیورٹی سے متعلق بین الاقوامی تنظیموں میں ان کے مفادات کا تحفظ ہے۔

المزید نے کہا کہ سعودی عرب کی تجویز دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے سائبر خطرات کے تناظر میں سامنے آئی۔ ان خطرات کا تعلق قوموں کے اہم مفادات، اہم انفراسٹرکچر، ترجیحی شعبوں اور حکومتی خدمات و سرگرمیوں سے ہے۔ انہوں نے رکن ممالک میں سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کو معاشی ترقی، سماجی بہبود اور انفرادی خوشحالی کا کلیدی محرک قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سائبر سیکیورٹی بین الاقوامی امن و سلامتی کا بنیادی ستون بھی ہے۔ کیا یہ تسلیم کرنا کہ سائبر سیکیورٹی امن و سلامتی کا ستون ہے، بین الاقوامی پالیسی سازی میں اس کے وزن کو بڑھائے گا؟

سعودی عرب کی جانب سے یہ تجویز نیشنل سائبر سیکیورٹی اتھارٹی کی قیادت میں پیش کی گئی، جس کے گورنر ماجد المزید ہیں۔ انہوں نے سعودی قیادت کی حمایت اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کی نگرانی کا ذکر کیا، جس کی سربراہی مساعد العیبان کر رہے ہیں۔

ریاض کا او آئی سی سائبر سیکیورٹی وزارتی کونسل کے ہیڈ کوارٹر کے طور پر انتخاب سعودی عرب کے اس ریکارڈ کا حصہ ہے جس میں وہ سائبر اسپیس کے استحکام کے لیے بین الاقوامی اقدامات کی قیادت کرتا رہا ہے، علاقائی اور بین الاقوامی سائبر سیکیورٹی اداروں کی میزبانی کرتا رہا ہے، اور اس شعبے میں حکمت عملی اقدامات کی حمایت کرتا رہا ہے۔

کونسل کے قیام کا فیصلہ او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کے 52ویں اجلاس میں ہوا، جو تنظیم کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز فورمز میں سے ایک ہے۔ یہ اجلاس رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی سطح پر ہوتا ہے اور تنظیم کے اہم فیصلے اسی میں کیے جاتے ہیں۔

کونسل کا جنرل سیکرٹریٹ اور ایگزیکٹو آفس ریاض میں قائم ہوگا، اور ہر ایک کی سربراہی میزبان ملک کا نمائندہ کرے گا۔ کونسل او آئی سی کے رکن ممالک کے سائبر سیکیورٹی حکام پر مشتمل ہوگی۔ یہ انتظام کونسل کو تنظیم کے اندر ایک منفرد مقام دیتا ہے، کیونکہ اس کا مرکزی دفتر اور ایگزیکٹو قیادت ایک ہی ملک میں مرکوز ہوگی۔

المزید نے کہا کہ سائبر خطرات دنیا بھر میں بڑھ رہے ہیں اور یہ قوموں کے اہم مفادات، اہم انفراسٹرکچر، ترجیحی شعبوں اور حکومتی خدمات و سرگرمیوں کے لیے خطرات پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے رکن ممالک میں سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا اور اسے معاشی ترقی، سماجی بہبود اور انفرادی خوشحالی کا کلیدی محرک قرار دیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سائبر سیکیورٹی بین الاقوامی امن و سلامتی کا بنیادی ستون ہے۔ کیا رکن ممالک اس کونسل کو اپنی قومی سائبر سیکیورٹی حکمت عملیوں کے ساتھ ہم آہنگ کر پائیں گے؟

سعودی عرب نے اس تجویز کے ذریعے او آئی سی کے اندر سائبر سیکیورٹی کے موضوع کو ادارہ جاتی شکل دی ہے۔ کونسل کا قیام تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان تعاون کو گہرا کرنے اور بین الاقوامی تنظیموں میں ان کے مفادات کے تحفظ کے مقاصد کے تحت کیا گیا ہے۔

المزید نے سعودی قیادت کی حمایت پر اظہار تشکر کیا اور نیشنل سائبر سیکیورٹی اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا شکریہ ادا کیا، جس کی سربراہی مساعد العیبان کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سائبر اسپیس کے استحکام کے لیے طویل بین الاقوامی اقدامات کی قیادت کرتا رہا ہے۔

رپورٹ میں کونسل کے اجلاسوں کی تعدد، رکنیت کی تفصیلات، یا اس کے کام کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں مزید معلومات نہیں دی گئیں۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں کونسل کے قیام کی منظوری، اس کے مقاصد، اس کے جنرل سیکرٹریٹ اور ایگزیکٹو آفس کے مقام، اور المزید کے بیانات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

او آئی سی سائبر سیکیورٹی وزراء کونسل کا قیام کیسے عمل میں آیا؟ او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کے 52ویں اجلاس نے سعودی عرب کی تجویز پر سائبر سیکیورٹی کے وزراء کی کونسل کے قیام کی منظوری دی۔ یہ کونسل او آئی سی کا ذیلی ادارہ ہوگی اور سائبر سیکیورٹی سے متعلق امور میں تنظیم کا مرکزی حوالہ ہوگی۔ کونسل او آئی سی کے رکن ممالک کے سائبر سیکیورٹی حکام پر مشتمل ہوگی۔

کونسل کا صدر دفتر کہاں ہوگا اور اس کی قیادت کون کرے گا؟ کونسل کا جنرل سیکرٹریٹ اور ایگزیکٹو آفس ریاض میں قائم ہوگا، اور ہر ایک کی سربراہی میزبان ملک کا نمائندہ کرے گا۔ یہ کونسل او آئی سی کا ذیلی ادارہ ہوگی اور سائبر سیکیورٹی سے متعلق امور میں تنظیم کا مرکزی حوالہ ہوگی۔ کونسل او آئی سی کے رکن ممالک کے سائبر سیکیورٹی حکام پر مشتمل ہوگی۔

کونسل کے قیام کا مقصد کیا ہے؟ کونسل کا مقصد رکن ممالک میں سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانا، ان کے اہم مفادات اور قومی سلامتی کا تحفظ، تعاون کو گہرا کرنا، اور سائبر سیکیورٹی سے متعلق بین الاقوامی تنظیموں میں ان کے مفادات کا تحفظ ہے۔ یہ کونسل او آئی سی کا ذیلی ادارہ ہوگی اور سائبر سیکیورٹی سے متعلق امور میں تنظیم کا مرکزی حوالہ ہوگی۔

ماجد المزید نے سائبر خطرات کے بارے میں کیا کہا؟ نیشنل سائبر سیکیورٹی اتھارٹی کے گورنر ماجد المزید نے کہا کہ سعودی عرب کی تجویز دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے سائبر خطرات کے تناظر میں سامنے آئی ہے جو قوموں کے اہم مفادات، اہم انفراسٹرکچر، ترجیحی شعبوں اور حکومتی خدمات و سرگرمیوں کے لیے خطرات پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے رکن ممالک میں سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کو معاشی ترقی، سماجی بہبود اور انفرادی خوشحالی کا کلیدی محرک قرار دیا۔

سعودی عرب کے سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں کردار کا کیا ذکر ہوا؟ المزید نے کہا کہ سعودی عرب سائبر اسپیس کے استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے طویل بین الاقوامی اقدامات کی قیادت کرتا رہا ہے، علاقائی اور بین الاقوامی سائبر سیکیورٹی اداروں کی میزبانی کرتا رہا ہے، اور اس شعبے میں حکمت عملی اقدامات کی حمایت کرتا رہا ہے۔ ریاض کا او آئی سی سائبر سیکیورٹی وزارتی کونسل کے ہیڈ کوارٹر کے طور پر انتخاب اسی ریکارڈ کا حصہ ہے۔

سعودی قیادت اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کا کیا کردار بیان ہوا؟ المزید نے سائبر سیکیورٹی کے شعبے کے لیے سعودی قیادت کی مضبوط حمایت پر اظہار تشکر کیا اور نیشنل سائبر سیکیورٹی اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ارکان کا شکریہ ادا کیا، جس کی سربراہی وزیر مملکت اور کابینہ کے رکن مساعد العیبان کر رہے ہیں، ان کی مسلسل توجہ اور نگرانی پر۔