ریاض میں نیشنل سینٹر فار ویجیٹیشن کور ڈیولپمنٹ اینڈ کمبیٹنگ ڈیزرٹیفیکیشن (این سی وی سی) نے زرعی جنگلات کے عمل کے منصوبے کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد ماحولیاتی پائیداری، سماجی ترقی اور معاشی ترقی کو بڑھانا ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 26 مارچ 2025 کو بیان کیا، یہ منصوبہ زرعی جنگلات کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے، عالمی بہترین طریقوں کو اپنانے اور پائیدار جنگلات کے انتظام کو یقینی بنانے کے لیے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی پر مرکوز ہے۔ یہ سعودی وژن 2030 کے اہداف میں حصہ ڈالتا ہے، پائیدار ماحولیاتی طریقوں کو فروغ دیتا ہے اور صحرا بندی کا مقابلہ کرتا ہے۔
اس منصوبے کے ایک حصے کے طور پر، این سی وی سی دسمبر 2024 میں سینٹر فار انٹرنیشنل فاریسٹری ریسرچ اینڈ ورلڈ ایگرو فاریسٹری (سیفور-آئی سی آر اے ایف) کے ساتھ دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت کو فعال کرے گا، تاکہ تحقیقی تعاون کو بڑھایا جا سکے اور زرعی جنگلات کی جدید تکنیکوں کو نافذ کیا جا سکے۔
یہ اقدام این سی وی سی کے وسیع تر مشن کا حصہ ہے، جس میں زمین کی بحالی، پودوں کی چادر کو بڑھانا، صحرا بندی کا مقابلہ کرنا، قدرتی مسکن کا تحفظ اور کاربن کے اخراج میں کمی شامل ہے۔ یہ منصوبہ لچکدار اور پائیدار جنگلاتی ماحولیاتی نظام کی ترقی اور پوری بادشاہت میں جنگلاتی علاقوں کے تحفظ اور بہتری کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
این سی وی سی جنگلات میں پائیدار پودوں کی چادر کے قیام کو بھی آگے بڑھا رہا ہے، جس میں 2030 تک 60 ملین درخت لگانے کا اقدام شامل ہے، جو 300,000 ہیکٹر کی بحالی کے برابر ہے۔ یہ مرکز ویجیٹیشن کور ڈیولپمنٹ اینڈ کمبیٹنگ ڈیزرٹیفیکیشن کے ایگزیکٹو ریگولیشنز کے تحت کام کرتا ہے، خاص طور پر جنگلات کے ضوابط سے متعلق آرٹیکل 6، جس کا مقصد پائیدار جنگلات کے انتظام کے لیے قومی منصوبہ تیار کرنا اور نافذ کرنا، جنگلات کا تحفظ اور ترقی، اور جنگلاتی زمینوں میں چرائی کو منظم کرنا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ زرعی جنگلات کیا ہے اور یہ روایتی جنگلات سے کیسے مختلف ہے؟ زرعی جنگلات ایک ایسا نظام ہے جس میں درختوں اور فصلوں یا مویشیوں کو ایک ہی زمین پر مل کر اگایا جاتا ہے، جس سے ماحولیاتی، سماجی اور معاشی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ یہ منصوبہ اس بات کا جائزہ لے گا کہ سعودی عرب میں اس وقت زرعی جنگلات کی کیا صورتحال ہے اور عالمی بہترین طریقوں کو کیسے اپنایا جا سکتا ہے۔
سعودی وژن 2030 کے تحت، مملکت ماحولیاتی پائیداری اور صحرا بندی کے خلاف جنگ کو ترجیح دے رہی ہے۔ این سی وی سی کا یہ منصوبہ ان کوششوں کا حصہ ہے، جو نہ صرف ماحول بلکہ معیشت اور سماجی ترقی کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ صحرا بندی سعودی عرب کے لیے کتنا بڑا چیلنج ہے؟ ملک کا بڑا حصہ خشک یا نیم خشک ہے، اور پودوں کی چادر کو بڑھانا اور زمین کی بحالی اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے اہم ہے۔
دسمبر 2024 میں این سی وی سی اور سیفور-آئی سی آر اے ایف کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ اس منصوبے کے تحت اس یادداشت کو فعال کیا جائے گا تاکہ تحقیقی تعاون کو فروغ دیا جا سکے اور جدید زرعی جنگلات کی تکنیکیں اپنائی جا سکیں۔ سیفور-آئی سی آر اے ایف ایک بین الاقوامی تحقیقی ادارہ ہے جو جنگلات اور زرعی جنگلات کے شعبے میں کام کرتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ بین الاقوامی تحقیقی تعاون سے سعودی عرب کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟ اس سے عالمی تجربات اور بہترین طریقوں تک رسائی حاصل ہوتی ہے، جو مقامی حالات کے مطابق ڈھالے جا سکتے ہیں۔
این سی وی سی کا مشن صرف زرعی جنگلات تک محدود نہیں ہے۔ یہ زمین کی بحالی، پودوں کی چادر کو بڑھانے، صحرا بندی کا مقابلہ کرنے، قدرتی مسکن کے تحفظ اور کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔ یہ منصوبہ لچکدار اور پائیدار جنگلاتی ماحولیاتی نظام کی ترقی میں معاون ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ جنگلات کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں کیسے مدد کرتے ہیں؟ درخت فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور اسے اپنے تنوں، شاخوں اور جڑوں میں ذخیرہ کرتے ہیں، جس سے گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار کم ہوتی ہے۔
این سی وی سی کی ایک اور اہم کوشش 2030 تک 60 ملین درخت لگانے کا اقدام ہے، جو 300,000 ہیکٹر زمین کی بحالی کے برابر ہے۔ یہ اقدام جنگلات میں پائیدار پودوں کی چادر کے قیام کی طرف ایک قدم ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ 60 ملین درخت لگانے کا مطلب کیا ہے؟ یہ ایک بہت بڑا ہدف ہے جو پورے ملک میں پودوں کی چادر کو نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے، بشرطیکہ درخت صحیح طریقے سے لگائے اور ان کی دیکھ بھال کی جائے۔
یہ مرکز ویجیٹیشن کور ڈیولپمنٹ اینڈ کمبیٹنگ ڈیزرٹیفیکیشن کے ایگزیکٹو ریگولیشنز کے تحت کام کرتا ہے۔ خاص طور پر آرٹیکل 6 جنگلات کے ضوابط سے متعلق ہے، جس کا مقصد پائیدار جنگلات کے انتظام کے لیے قومی منصوبہ تیار کرنا اور نافذ کرنا، جنگلات کا تحفظ اور ترقی، اور جنگلاتی زمینوں میں چرائی کو منظم کرنا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ چرائی کو منظم کرنا کیوں ضروری ہے؟ بے قابو چرائی نوجوان درختوں اور پودوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جس سے جنگلات کی بحالی کے منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔
یہ منصوبہ سعودی عرب میں زرعی جنگلات کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے۔ پائیدار جنگلات کے انتظام کو یقینی بنانے کے لیے نجی شعبے کی شرکت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا اس منصوبے کے اہداف میں شامل ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ زرعی جنگلات میں سرمایہ کاری کیوں فائدہ مند ہو سکتی ہے؟ یہ نہ صرف ماحولیاتی فوائد فراہم کرتی ہے بلکہ معاشی طور پر بھی منافع بخش ہو سکتی ہے، جیسے لکڑی، پھل، اور دیگر مصنوعات کی پیداوار کے ذریعے۔
سعودی عرب میں زرعی جنگلات کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینا اس منصوبے کا پہلا قدم ہے۔ اس جائزے سے یہ معلوم ہوگا کہ کون سے علاقے موزوں ہیں، کون سی تکنیکیں پہلے سے استعمال ہو رہی ہیں، اور کہاں بہتری کی ضرورت ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ سعودی عرب میں زرعی جنگلات کی روایات کتنی پرانی ہیں؟ اگرچہ جدید زرعی جنگلات ایک نیا تصور ہو سکتا ہے، لیکن درختوں کے ساتھ کھیتی باڑی کے روایتی طریقے صدیوں سے استعمال ہو رہے ہیں۔
عالمی بہترین طریقوں کو اپنانا اس منصوبے کا ایک اور اہم جزو ہے۔ دنیا بھر میں زرعی جنگلات کی کامیاب مثالیں موجود ہیں، جن سے سعودی عرب سیکھ سکتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ کون سے ممالک زرعی جنگلات میں سب سے آگے ہیں؟ برازیل، انڈونیشیا، کینیا اور بھارت جیسے ممالک نے اس شعبے میں قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں، حالانکہ ہر ملک کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔
یہ منصوبہ ماحولیاتی پائیداری کے ساتھ ساتھ سماجی ترقی کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔ زرعی جنگلات دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کر سکتا ہے اور مقامی کمیونٹیز کی آمدنی میں اضافہ کر سکتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ زرعی جنگلات سماجی ترقی میں کیسے کردار ادا کر سکتا ہے؟ یہ خوراک کی حفاظت، آمدنی کے تنوع، اور کمیونٹی کی مضبوطی میں مدد کر سکتا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں روایتی زراعت مشکل ہے۔
معاشی ترقی بھی اس منصوبے کا ایک ستون ہے۔ زرعی جنگلات سے لکڑی، غیر لکڑی کی مصنوعات، پھل، اور دیگر اشیاء کی پیداوار سے معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ زرعی جنگلات معیشت کو کس طرح متنوع بنا سکتا ہے؟ یہ تیل پر انحصار کم کرنے اور پائیدار معاشی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، جو سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق ہے۔
این سی وی سی کا یہ منصوبہ صحرا بندی کے خلاف جنگ کا حصہ ہے۔ صحرا بندی ایک ایسا عمل ہے جس میں زرخیز زمین خشک اور بنجر ہو جاتی ہے، جس سے ماحولیاتی اور معاشی نقصان ہوتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ صحرا بندی کو روکنے کے لیے درخت لگانا کیوں اہم ہے؟ درختوں کی جڑیں مٹی کو باندھے رکھتی ہیں، ہوا اور پانی کے کٹاؤ کو روکتی ہیں، اور مٹی کی نمی برقرار رکھنے میں مدد کرتی ہیں۔
قدرتی مسکن کا تحفظ بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔ جنگلات اور زرعی جنگلاتی نظام مختلف جانوروں اور پودوں کے لیے مسکن فراہم کرتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ سعودی عرب میں کون سی جنگلی حیات جنگلات پر منحصر ہے؟ عربی تیندوے، جنگلی بکریاں، اور مختلف پرندے جنگلاتی علاقوں میں پائے جاتے ہیں، اور ان کے مسکن کا تحفظ ضروری ہے۔
کاربن کے اخراج میں کمی بھی اس منصوبے کا ایک مقصد ہے۔ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں، جو گلوبل وارمنگ کا ایک بڑا سبب ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک درخت اپنی زندگی میں کتنا کاربن جذب کرتا ہے؟ یہ مقدار درخت کی قسم، عمر اور مقام پر منحصر ہے، لیکن ایک بالغ درخت سالانہ کئی کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر سکتا ہے۔
یہ منصوبہ پائیدار جنگلاتی ماحولیاتی نظام کی ترقی میں معاون ہے۔ لچکدار جنگلات وہ ہوتے ہیں جو موسمیاتی تبدیلیوں، بیماریوں اور دیگر خطرات کا مقابلہ کر سکیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ لچکدار جنگلات کیوں اہم ہیں؟ وہ ماحولیاتی خدمات فراہم کرتے رہتے ہیں، جیسے ہوا اور پانی کی صفائی، مٹی کی حفاظت، اور حیاتیاتی تنوع کی حمایت، حتیٰ کہ مشکلات کے باوجود۔
سعودی عرب میں جنگلاتی علاقوں کا تحفظ اور بہتری اس منصوبے کا حصہ ہے۔ ملک میں کچھ قدرتی جنگلات موجود ہیں، خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں، اور ان کی حفاظت اور توسیع ضروری ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ سعودی عرب میں کہاں جنگلات پائے جاتے ہیں؟ عسیر، الباحہ، اور جازان کے پہاڑی علاقوں میں کچھ جنگلات موجود ہیں، جنہیں تحفظ کی ضرورت ہے۔
این سی وی سی کا یہ منصوبہ سعودی وژن 2030 کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جو ماحولیاتی پائیداری، معاشی تنوع، اور سماجی ترقی پر زور دیتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ وژن 2030 میں ماحولیات کو کتنی اہمیت دی گئی ہے؟ وژن کے تحت کئی ماحولیاتی اقدامات شروع کیے گئے ہیں، جن میں گرین سعودی انیشی ایٹو اور مڈل ایسٹ گرین انیشی ایٹو شامل ہیں، جو پودے لگانے اور صحرا بندی کے خلاف جنگ پر مرکوز ہیں۔
یہ منصوبہ زرعی جنگلات کے شعبے میں تحقیق اور ترقی کو بھی فروغ دے گا۔ سیفور-آئی سی آر اے ایف کے ساتھ تعاون سے جدید تکنیکوں کا اطلاق ہوگا اور مقامی حالات کے مطابق تحقیق ہوگی۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ تحقیق زرعی جنگلات کی کامیابی میں کیا کردار ادا کرتی ہے؟ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کون سے درخت اور فصلیں ایک ساتھ بہترین اگتے ہیں، کس طرح پانی اور غذائی اجزاء کا انتظام کرنا ہے، اور کس طرح مقامی کمیونٹیز کو شامل کرنا ہے۔
اس منصوبے کا ایک اور پہلو سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہے۔ پائیدار جنگلات کے انتظام کے لیے نجی شعبے کی سرمایہ کاری ضروری ہے، اور یہ منصوبہ اس کے لیے سازگار ماحول بنانے کی کوشش کرے گا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ نجی شعبہ زرعی جنگلات میں کیسے حصہ لے سکتا ہے؟ وہ درخت لگانے، پروسیسنگ، اور مصنوعات کی مارکیٹنگ میں سرمایہ کاری کر سکتا ہے، جس سے روزگار اور آمدنی پیدا ہوتی ہے۔
سعودی عرب میں زرعی جنگلات کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے سے پتہ چلے گا کہ کون سے علاقے اس کے لیے موزوں ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں آب و ہوا اور مٹی کے حالات مختلف ہیں، اس لیے ہر علاقے کے لیے مخصوص طریقے اپنانے ہوں گے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ سعودی عرب میں کون سے علاقے زرعی جنگلات کے لیے زیادہ موزوں ہیں؟ جنوبی اور جنوب مغربی پہاڑی علاقے، جن میں زیادہ بارش ہوتی ہے، زیادہ موزوں ہو سکتے ہیں، جبکہ خشک علاقوں میں آبپاشی اور مناسب انواع کی ضرورت ہوگی۔
عالمی بہترین طریقوں کو اپنانے میں یہ دیکھا جائے گا کہ دوسرے ممالک نے کس طرح زرعی جنگلات کو کامیاب بنایا ہے۔ ان تجربات سے سیکھ کر سعودی عرب اپنے منصوبے کو بہتر بنا سکتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ عالمی سطح پر زرعی جنگلات کے کون سے ماڈل کامیاب رہے ہیں؟ ایگروفورسٹری، سلووپاسٹورل، اور ایگری سلوویکلچر جیسے ماڈل مختلف علاقوں میں کامیاب رہے ہیں، حالانکہ ان کی افادیت مقامی حالات پر منحصر ہے۔
یہ منصوبہ ماحولیاتی پائیداری، سماجی ترقی، اور معاشی ترقی کے تینوں پہلوؤں کو یکجا کرتا ہے۔ یہ ایک جامع نقطہ نظر ہے جو طویل مدتی فوائد فراہم کر سکتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ پائیدار ترقی کے تینوں ستون کیوں اہم ہیں؟ اگر صرف ماحولیاتی پہلو پر توجہ دی جائے تو معاشی اور سماجی فوائد نظر انداز ہو سکتے ہیں، اور اگر صرف معاشی پہلو پر توجہ دی جائے تو ماحول کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
این سی وی سی کا یہ منصوبہ سعودی عرب میں زرعی جنگلات کے شعبے میں ایک اہم قدم ہے۔ یہ نہ صرف موجودہ صورتحال کا جائزہ لے گا بلکہ مستقبل کے لیے منصوبہ بندی بھی کرے گا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس منصوبے کے کیا ممکنہ نتائج ہو سکتے ہیں؟ اس سے پودوں کی چادر میں اضافہ، صحرا بندی میں کمی، کاربن کے اخراج میں کمی، اور دیہی معیشت میں بہتری متوقع ہے، بشرطیکہ منصوبہ کامیابی سے نافذ ہو۔
رپورٹ میں اس منصوبے کے لیے مختص رقم، اس کے نفاذ کی تفصیلی ٹائم لائن، یا مخصوص اہداف کے بارے میں مزید معلومات نہیں دی گئیں۔ ایس پی اے نے یہ بھی نہیں بتایا کہ اس منصوبے کے تحت کتنے درخت لگائے جائیں گے یا کتنے ہیکٹر پر زرعی جنگلات کو فروغ دیا جائے گا، سوائے 60 ملین درختوں کے اقدام کے جو پہلے سے جاری ہے۔
زرعی جنگلات کے عمل کے منصوبے کا مقصد کیا ہے؟ یہ منصوبہ ماحولیاتی پائیداری، سماجی ترقی اور معاشی ترقی کو بڑھانے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ یہ زرعی جنگلات کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لے گا، عالمی بہترین طریقوں کو اپنائے گا اور پائیدار جنگلات کے انتظام کو یقینی بنانے کے لیے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ یہ سعودی وژن 2030 کے اہداف میں بھی حصہ ڈالتا ہے۔
این سی وی سی اور سیفور-آئی سی آر اے ایف کے درمیان تعاون کی کیا تفصیل ہے؟ این سی وی سی نے دسمبر 2024 میں سینٹر فار انٹرنیشنل فاریسٹری ریسرچ اینڈ ورلڈ ایگرو فاریسٹری (سیفور-آئی سی آر اے ایف) کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ اس منصوبے کے تحت اس یادداشت کو فعال کیا جائے گا تاکہ تحقیقی تعاون کو بڑھایا جا سکے اور زرعی جنگلات کی جدید تکنیکوں کو نافذ کیا جا سکے۔
60 ملین درخت لگانے کے اقدام کا کیا ہدف ہے؟ این سی وی سی 2030 تک 60 ملین درخت لگانے کا اقدام آگے بڑھا رہا ہے، جو 300,000 ہیکٹر زمین کی بحالی کے برابر ہے۔ یہ اقدام جنگلات میں پائیدار پودوں کی چادر کے قیام کی طرف ایک قدم ہے اور این سی وی سی کے وسیع تر مشن کا حصہ ہے جس میں زمین کی بحالی اور صحرا بندی کا مقابلہ شامل ہے۔
آرٹیکل 6 کے تحت این سی وی سی کے کیا فرائض ہیں؟ این سی وی سی ویجیٹیشن کور ڈیولپمنٹ اینڈ کمبیٹنگ ڈیزرٹیفیکیشن کے ایگزیکٹو ریگولیشنز کے تحت کام کرتا ہے، خاص طور پر آرٹیکل 6 جو جنگلات کے ضوابط سے متعلق ہے۔ اس کا مقصد پائیدار جنگلات کے انتظام کے لیے قومی منصوبہ تیار کرنا اور نافذ کرنا، جنگلات کا تحفظ اور ترقی، اور جنگلاتی زمینوں میں چرائی کو منظم کرنا ہے۔
یہ منصوبہ سعودی وژن 2030 سے کیسے جڑا ہے؟ یہ منصوبہ سعودی وژن 2030 کے اہداف میں حصہ ڈالتا ہے کیونکہ یہ پائیدار ماحولیاتی طریقوں کو فروغ دیتا ہے اور صحرا بندی کا مقابلہ کرتا ہے۔ وژن 2030 ماحولیاتی پائیداری، معاشی تنوع اور سماجی ترقی پر زور دیتا ہے، اور یہ منصوبہ ان تینوں پہلوؤں کو یکجا کرتا ہے۔
این سی وی سی کے وسیع تر مشن میں کیا شامل ہے؟ این سی وی سی کا وسیع تر مشن زمین کی بحالی، پودوں کی چادر کو بڑھانا، صحرا بندی کا مقابلہ کرنا، قدرتی مسکن کا تحفظ اور کاربن کے اخراج میں کمی شامل ہے۔ یہ منصوبہ لچکدار اور پائیدار جنگلاتی ماحولیاتی نظام کی ترقی اور پوری بادشاہت میں جنگلاتی علاقوں کے تحفظ اور بہتری کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔