Tuesday, October 20, 2026
سعودی خبریں

جازان، عسیر، الباحہ اور مکہ میں تیز بارش اور سیلاب کا امکان، نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کی پیش گوئی

جازان، عسیر، الباحہ اور مکہ کے علاقوں کے کچھ حصوں میں درمیانی سے تیز بارش ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں سیلابی ریلے آ سکتے ہیں، اور اس کے ساتھ اولے اور تیز جھکڑ چلنے کا بھی امکان ہے۔ یہ پیش گوئی نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی نے منگل کے دن کے موسمی حالات کے حوالے سے جاری کی ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 20 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کے مطابق ان علاقوں کے کچھ حصوں کے ساتھ ساتھ مشرقی اور تبوک علاقوں کے ساحلی علاقوں میں دھند بھی بن سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مدینہ، القصیم، حائل، الجوف، شمالی سرحدات اور مشرقی علاقوں کے کچھ حصوں میں گرج چمک کے ساتھ بادل چھا سکتے ہیں اور گرد اڑانے والی ہوائیں چل سکتی ہیں۔ یہ پیش گوئی ایک ہی دن کے اندر مختلف علاقوں میں مختلف موسمی مظاہر کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

کیا ایک ہی دن میں ملک کے مختلف حصوں میں بارش، دھند اور گرد آلود ہواؤں کا بیک وقت امکان موسمی نظام کی پیچیدگی کو ظاہر نہیں کرتا؟ نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی نے بحیرہ احمر اور خلیج عرب دونوں کے لیے ہوا اور لہروں کی تفصیل بھی جاری کی ہے۔

بحیرہ احمر میں شمالی حصے میں ہوائیں شمال مغربی سے شمالی سمت میں 20 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ درمیانی حصے میں ہوائیں شمال مغربی سے شمالی سمت میں 20 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ جنوبی حصے میں ہوائیں شمال مغربی سے جنوب مغربی سمت میں 15 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔

بحیرہ احمر میں لہروں کی بلندی آدھے میٹر سے لے کر دو میٹر سے زیادہ تک رہے گی، اور سمندر پرسکون سے لے کر متلاطم تک رہے گا۔ کیا 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے والی ہواؤں اور دو میٹر سے بلند لہروں کے پیش نظر سمندری راستوں پر احتیاط کی ضرورت نہیں؟

خلیج عرب میں شمالی حصے میں ہوائیں شمال مغربی سے شمال مشرقی سمت میں 10 سے 25 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ جنوبی حصے میں ہوائیں مشرقی سے شمال مشرقی سمت میں 10 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ خلیج عرب میں بھی لہروں کی بلندی آدھے میٹر سے لے کر دو میٹر سے زیادہ تک رہے گی، اور سمندر پرسکون سے لے کر متلاطم تک رہے گا۔

یہ پیش گوئی ظاہر کرتی ہے کہ ملک کے اندرونی اور ساحلی دونوں حصے ایک ہی دن میں مختلف موسمی اثرات سے گزر سکتے ہیں۔ جازان، عسیر، الباحہ اور مکہ میں بارش کے ساتھ اولے پڑنے اور تیز جھکڑ چلنے کا امکان ہے، جبکہ انہی علاقوں کے کچھ حصوں میں دھند بھی بن سکتی ہے۔

دوسری طرف مشرقی اور تبوک علاقوں کے ساحلی علاقوں میں دھند کے بننے کا امکان ہے۔ کیا ساحلی علاقوں میں دھند اور اندرونی علاقوں میں گرد آلود ہواؤں کا ایک ساتھ ذکر موسمی تبدیلی کی رفتار کو واضح کرتا ہے؟

مدینہ، القصیم، حائل، الجوف، شمالی سرحدات اور مشرقی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بادل چھانے اور گرد اڑانے والی ہواؤں کا امکان ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں بارش کا ذکر نہیں کیا گیا، بلکہ صرف بادلوں اور گرد آلود ہواؤں کا ذکر ہے۔

نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کی یہ پیش گوئی منگل کے دن کے لیے جاری کی گئی ہے اور اس میں بحیرہ احمر اور خلیج عرب دونوں کے سمندری حالات شامل ہیں۔ بحیرہ احمر کے شمالی، درمیانی اور جنوبی حصوں کے لیے الگ الگ ہوا کی رفتار اور سمت بتائی گئی ہے، جبکہ خلیج عرب کے لیے شمالی اور جنوبی حصوں کی تفصیل دی گئی ہے۔

کیا سمندری حالات کی یہ تفصیلی تقسیم ماہی گیروں اور سمندری سفر کرنے والوں کے لیے بروقت معلومات فراہم کرتی ہے؟ بحیرہ احمر کے جنوبی حصے میں ہوا کی رفتار 15 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک بتائی گئی ہے، جو اس دن کے دوران سب سے زیادہ رفتار ہے۔

خلیج عرب کے جنوبی حصے میں بھی ہوا کی رفتار 10 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ تک بتائی گئی ہے۔ دونوں سمندروں میں لہروں کی بلندی آدھے میٹر سے دو میٹر سے زیادہ تک رہے گی، اور دونوں جگہ سمندر کی حالت پرسکون سے متلاطم تک بتائی گئی ہے۔

کیا یہ ممکن ہے کہ ایک ہی دن میں کسی علاقے میں سیلابی ریلے آئیں اور دوسرے علاقے میں صرف گرد اڑے؟ نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کی رپورٹ کے مطابق جازان، عسیر، الباحہ اور مکہ میں درمیانی سے تیز بارش کے سبب سیلابی ریلے آ سکتے ہیں، اور اس کے ساتھ اولے اور تیز جھکڑ بھی چل سکتے ہیں۔

انہی علاقوں کے کچھ حصوں میں دھند بھی بن سکتی ہے۔ مشرقی اور تبوک علاقوں کے ساحلی علاقوں میں بھی دھند کا امکان ہے۔ اس کے برعکس مدینہ، القصیم، حائل، الجوف، شمالی سرحدات اور مشرقی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بادل چھا سکتے ہیں اور گرد اڑانے والی ہوائیں چل سکتی ہیں۔

یہ پیش گوئی سعودی عرب کے مختلف جغرافیائی خطوں میں موسمی تنوع کو نمایاں کرتی ہے۔ ایک طرف جنوب مغربی علاقوں میں بارش اور سیلاب کا خطرہ ہے، تو دوسری طرف شمالی اور مشرقی علاقوں میں گرد آلود ہواؤں کا امکان ہے۔ ساحلی علاقوں میں دھند کے ساتھ ساتھ سمندری حالات بھی مختلف رہیں گے۔

کیا موسمی پیش گوئی کے یہ مختلف پہلو عوام، کسانوں، ماہی گیروں اور مسافروں سب کے لیے یکساں اہمیت رکھتے ہیں؟ نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی نے بحیرہ احمر میں شمالی حصے کی ہواؤں کو شمال مغربی سے شمالی سمت میں 20 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بتایا ہے۔

درمیانی حصے میں ہوائیں شمال مغربی سے شمالی سمت میں 20 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ جنوبی حصے میں ہوائیں شمال مغربی سے جنوب مغربی سمت میں 15 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ خلیج عرب کے شمالی حصے میں ہوائیں شمال مغربی سے شمال مشرقی سمت میں 10 سے 25 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔

خلیج عرب کے جنوبی حصے میں ہوائیں مشرقی سے شمال مشرقی سمت میں 10 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ دونوں سمندروں میں لہروں کی بلندی آدھے میٹر سے دو میٹر سے زیادہ تک رہے گی اور سمندر پرسکون سے متلاطم تک رہے گا۔

کیا سمندری ہواؤں کی سمت اور رفتار میں یہ فرق بحیرہ احمر اور خلیج عرب کے درمیان جغرافیائی فرق کی عکاسی کرتا ہے؟ رپورٹ میں جازان، عسیر، الباحہ اور مکہ کے علاقوں میں بارش کے ساتھ اولے اور تیز جھکڑ چلنے کا ذکر ہے، جبکہ انہی علاقوں میں دھند کا بھی امکان بتایا گیا ہے۔

مشرقی اور تبوک علاقوں کے ساحلی علاقوں میں دھند کے امکان کا ذکر الگ سے کیا گیا ہے۔ مدینہ، القصیم، حائل، الجوف، شمالی سرحدات اور مشرقی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بادل اور گرد اڑانے والی ہواؤں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

یہ پیش گوئی منگل کے دن کے لیے ہے اور اس میں وقت کے حوالے سے مزید تفصیل نہیں دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق بحیرہ احمر اور خلیج عرب دونوں میں سمندر کی حالت پرسکون سے متلاطم تک رہے گی، جبکہ لہروں کی بلندی آدھے میٹر سے دو میٹر سے زیادہ تک بتائی گئی ہے۔

کیا لہروں کی بلندی میں یہ فرق سمندری سرگرمیوں کے لیے مختلف درجوں کی احتیاط کا تقاضا کرتا ہے؟ نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کی یہ رپورٹ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے ذریعے جاری کی گئی ہے، جس میں 20 اکتوبر 2026 کی تاریخ درج ہے۔

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ بارش کا آغاز کس وقت ہوگا، کتنی دیر جاری رہے گی، یا سیلابی ریلوں کا خطرہ کس شدت کا ہوگا۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ دھند کا اثر کس حد تک حد نگاہ کو متاثر کرے گا۔

رپورٹ میں ہوا کی رفتار اور سمت کے اعداد و شمار دیے گئے ہیں، لیکن درجہ حرارت، نمی یا بارش کی مقدار کے بارے میں کوئی تفصیل شامل نہیں۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ کون سے شہر یا مقامات سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

کیا ان تفصیلات کی عدم موجودگی میں عوام کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا مشکل ہو جاتا ہے؟ رپورٹ میں سیلابی ریلوں، اولوں، تیز جھکڑوں، دھند، گرج چمک کے بادلوں اور گرد آلود ہواؤں کا ذکر ہے، مگر کسی قسم کے انتباہ یا وارننگ کی سطح کا ذکر نہیں کیا گیا۔

بحیرہ احمر کے شمالی حصے میں ہوا کی رفتار 20 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ، درمیانی حصے میں 20 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ، اور جنوبی حصے میں 15 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ بتائی گئی ہے۔ خلیج عرب کے شمالی حصے میں 10 سے 25 کلومیٹر فی گھنٹہ اور جنوبی حصے میں 10 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ بتائی گئی ہے۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بحیرہ احمر کے جنوبی حصے میں ہوا سب سے زیادہ تیز ہو سکتی ہے، جبکہ خلیج عرب کے شمالی حصے میں سب سے کم۔ کیا یہ فرق سمندری سفر کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے لیے فیصلہ کن نہیں؟

رپورٹ کے مطابق دونوں سمندروں میں لہروں کی بلندی آدھے میٹر سے دو میٹر سے زیادہ تک رہے گی، اور سمندر کی حالت پرسکون سے متلاطم تک بتائی گئی ہے۔ یہ پیش گوئی منگل کے دن کے لیے ہے اور اس میں مزید کوئی موسمی تفصیل شامل نہیں کی گئی۔

کس علاقے میں سیلابی ریلوں کا امکان ہے؟ نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کے مطابق جازان، عسیر، الباحہ اور مکہ کے علاقوں کے کچھ حصوں میں درمیانی سے تیز بارش ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں سیلابی ریلے آ سکتے ہیں۔ اس بارش کے ساتھ اولے اور تیز جھکڑ چلنے کا بھی امکان ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ بارش کا آغاز کس وقت ہوگا یا کتنی دیر جاری رہے گی۔

دھند کہاں بن سکتی ہے؟ رپورٹ کے مطابق جازان، عسیر، الباحہ اور مکہ کے علاقوں کے کچھ حصوں میں دھند بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مشرقی اور تبوک علاقوں کے ساحلی علاقوں میں بھی دھند کے بننے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ دھند کا اثر کس حد تک حد نگاہ کو متاثر کرے گا۔

کن علاقوں میں گرد آلود ہوائیں چل سکتی ہیں؟ مدینہ، القصیم، حائل، الجوف، شمالی سرحدات اور مشرقی علاقوں کے کچھ حصوں میں گرج چمک کے ساتھ بادل چھا سکتے ہیں اور گرد اڑانے والی ہوائیں چل سکتی ہیں۔ ان علاقوں کے لیے رپورٹ میں بارش کا ذکر نہیں کیا گیا، بلکہ صرف بادلوں اور گرد آلود ہواؤں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

بحیرہ احمر میں ہوا اور لہروں کی کیا صورتحال ہوگی؟ بحیرہ احمر کے شمالی حصے میں ہوائیں شمال مغربی سے شمالی سمت میں 20 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ، درمیانی حصے میں 20 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ، اور جنوبی حصے میں شمال مغربی سے جنوب مغربی سمت میں 15 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ لہروں کی بلندی آدھے میٹر سے دو میٹر سے زیادہ تک رہے گی اور سمندر پرسکون سے متلاطم تک رہے گا۔

خلیج عرب میں سمندری حالات کیسے رہیں گے؟ خلیج عرب کے شمالی حصے میں ہوائیں شمال مغربی سے شمال مشرقی سمت میں 10 سے 25 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ جنوبی حصے میں ہوائیں مشرقی سے شمال مشرقی سمت میں 10 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ لہروں کی بلندی آدھے میٹر سے دو میٹر سے زیادہ تک رہے گی اور سمندر پرسکون سے متلاطم تک رہے گا۔

رپورٹ میں کون سی تفصیلات شامل نہیں کی گئیں؟ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ بارش کا آغاز کس وقت ہوگا، کتنی دیر جاری رہے گی، یا سیلابی ریلوں کا خطرہ کس شدت کا ہوگا۔ درجہ حرارت، نمی یا بارش کی مقدار کے بارے میں بھی کوئی تفصیل شامل نہیں۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ کون سے شہر یا مقامات سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔