جدہ میں 26 سے 30 ستمبر تک جاری رہنے والی شماریاتی ملاقاتوں کے موقع پر جنرل اتھارٹی فار سٹیٹسٹکس (جی اے ایس ٹی اے ٹی) کے صدر فہد الدوسری نے انڈونیشیا، شام، عراق اور مصر کے شماریاتی حکام کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، ان گفتگو کا مرکز مردم شماری، شماریاتی گورننس، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی، صلاحیت سازی اور مہارت کے تبادلے پر تھا۔
کیا شماریاتی تعاون صرف اعداد و شمار کے تبادلے تک محدود ہے، یا یہ معیشتوں کے درمیان اعتماد کی تعمیر کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے؟
بات چیت میں انڈونیشیا کے ساتھ مفاہمت نامے کے مسودے پر پیش رفت، مصر کی 2028 کی مردم شماری کی ابتدائی تیاریوں اور مشترکہ مردم شماری کے طریقوں کی معاونت کے لیے ایک مشترکہ تکنیکی ٹیم کی تشکیل شامل تھی۔
ان نکات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعاون کی کوششیں محض رسمی ملاقاتوں تک محدود نہیں بلکہ عملی میدان میں مشترکہ کام کی طرف بڑھ رہی ہیں۔
الدوسری نے اسلامی ممالک کے شماریاتی، اقتصادی اور سماجی تحقیق و تربیتی مرکز (سیزرک) کی ڈائریکٹر جنرل زہرہ زمرد سلچوک کے ساتھ بھی شماریات میں مصنوعی ذہانت کے اطلاقات، ڈیجیٹل تبدیلی، تربیت اور مشترکہ شماریاتی منصوبوں پر بات کی۔
کیا مصنوعی ذہانت شماریاتی اداروں کو فیصلہ سازی میں زیادہ درست اور بروقت مدد فراہم کر سکتی ہے؟
ملاقات میں مرکز کو چھٹے اقوام متحدہ ورلڈ ڈیٹا فورم میں شرکت کی دعوت کا اعادہ بھی کیا گیا، جو نومبر 2026 میں ریاض میں منعقد ہونا ہے۔
یہ دعوت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ریاض بین الاقوامی شماریاتی مباحثوں میں ایک فعال میزبان کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
ان ملاقاتوں کا پس منظر یہ ہے کہ عالمی سطح پر اعداد و شمار کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے اور ممالک اپنی پالیسیوں کی بنیاد درست معلومات پر رکھنے کے خواہاں ہیں۔
کیا مشترکہ مردم شماری کے طریقے مختلف ممالک کے سماجی و اقتصادی تناظر کو یکساں طور پر سمجھ سکتے ہیں؟
انڈونیشیا کے ساتھ مفاہمت نامے کا مسودہ اگر حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو دونوں ممالک کے درمیان شماریاتی تبادلے کو ایک باقاعدہ فریم ورک مل سکتا ہے۔
مصر کی 2028 کی مردم شماری کی ابتدائی تیاریوں پر بات چیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعاون طویل المدتی منصوبہ بندی پر مبنی ہے۔
کیا مردم شماری کی تیاریوں میں بروقت مشاورت بعد کے مراحل میں غلطیوں کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے؟
مشترکہ تکنیکی ٹیم کی تشکیل اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ فریقین طریقہ کار کے فرق کو سمجھنے اور مشترکہ معیارات تلاش کرنے کے لیے تیار ہیں۔
سیزرک کے ساتھ بات چیت میں تربیت اور مشترکہ منصوبوں پر زور اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانا بھی ایجنڈے کا حصہ ہے۔
کیا تربیت کے بغیر جدید ٹیکنالوجی کے اطلاق سے مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکتے ہیں؟
ریاض میں نومبر 2026 میں ہونے والا چھٹا اقوام متحدہ ورلڈ ڈیٹا فورم اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جہاں مختلف ممالک کے ماہرین ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں گے۔
اس فورم میں سیزرک کی شرکت سے اسلامی ممالک کے درمیان ڈیٹا کے شعبے میں ہم آہنگی کو فروغ مل سکتا ہے۔
کیا بین الاقوامی فورمز میں شرکت سے شماریاتی اداروں کی عالمی سطح پر پہچان بہتر ہوتی ہے؟
جی اے ایس ٹی اے ٹی کی قیادت میں ہونے والی یہ ملاقاتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ سعودی عرب شماریاتی شعبے میں علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کو اہمیت دیتا ہے۔
ان ملاقاتوں میں کسی معاہدے کے حتمی ہونے یا کسی مخصوص رقم یا شیڈول کا ذکر نہیں کیا گیا، اور ایس پی اے کی رپورٹ میں ان تفصیلات کا ذکر نہیں ہے۔
جدہ میں کون سی ملاقاتیں ہوئیں؟ جنرل اتھارٹی فار سٹیٹسٹکس کے صدر فہد الدوسری نے انڈونیشیا، شام، عراق اور مصر کے شماریاتی حکام کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کیں۔ یہ ملاقاتیں 26 سے 30 ستمبر تک جدہ میں جاری شماریاتی سرگرمیوں کے موقع پر ہوئیں۔ گفتگو کا مرکز مردم شماری، گورننس، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تبدیلی تھا۔
انڈونیشیا اور مصر کے حوالے سے کیا پیش رفت ہوئی؟ بات چیت میں انڈونیشیا کے ساتھ مفاہمت نامے کے مسودے پر پیش رفت اور مصر کی 2028 کی مردم شماری کی ابتدائی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ مشترکہ مردم شماری کے طریقوں کی معاونت کے لیے ایک مشترکہ تکنیکی ٹیم کی تشکیل پر بھی بات ہوئی۔ ایس پی اے کے مطابق ان نکات پر تفصیلی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
سیزرک کے ساتھ کیا موضوعات زیر بحث آئے؟ الدوسری نے سیزرک کی ڈائریکٹر جنرل زہرہ زمرد سلچوک کے ساتھ شماریات میں مصنوعی ذہانت کے اطلاقات، ڈیجیٹل تبدیلی، تربیت اور مشترکہ شماریاتی منصوبوں پر بات کی۔ ملاقات میں مرکز کو نومبر 2026 میں ریاض میں ہونے والے چھٹے اقوام متحدہ ورلڈ ڈیٹا فورم میں شرکت کی دعوت کا بھی اعادہ کیا گیا۔
چھٹا اقوام متحدہ ورلڈ ڈیٹا فورم کب اور کہاں ہوگا؟ ایس پی اے کے مطابق چھٹا اقوام متحدہ ورلڈ ڈیٹا فورم نومبر 2026 میں ریاض میں منعقد ہوگا۔ اس ملاقات میں سیزرک کو اس فورم میں شرکت کی دعوت دوبارہ دی گئی۔ فورم کے ایجنڈے یا شرکاء کی مکمل فہرست رپورٹ میں نہیں دی گئی۔
ان ملاقاتوں کا کوئی مالی یا شیڈول پہلو بیان ہوا؟ رپورٹ میں کسی معاہدے کی حتمی منظوری، مالی رقم یا تکمیل کی تاریخ کا ذکر نہیں ہے۔ صرف یہ بتایا گیا کہ انڈونیشیا کے ساتھ مفاہمت نامے کا مسودہ زیر بحث ہے اور مصر کی 2028 کی مردم شماری کی ابتدائی تیاریوں پر بات ہوئی۔ باقی تفصیلات ایس پی اے نے فراہم نہیں کیں۔





