مکہ مکرمہ میں خادم الحرمین الشریفین پروگرام برائے عمرہ و زیارت کے چوتھے گروپ کے 250 مرد و خواتین عمرہ ادا کرنے والوں نے مسجد الحرام میں جمعہ کی نماز ادا کی، جو 21 ممالک سے تعلق رکھنے والی نمایاں اسلامی شخصیات پر مشتمل ہیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 16 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ پروگرام 1448 ہجری کے لیے وزارت اسلامی امور، دعوت و ارشاد کے زیرِ انتظام چلایا جا رہا ہے، اور مہمانوں نے نماز سکون اور خشوع و خضوع کے روحانی ماحول میں ادا کی، جہاں نمازیوں کے لیے جامع خدمات اور سہولیات فراہم کی گئیں۔
مسجد الحرام کے امام شیخ عبداللہ الجہنی نے جمعہ کا خطبہ دیا۔ خطبے میں اسلام میں نماز کی اہمیت، روحانی بہبود کی پرورش میں اس کے کردار، اچھے اخلاق کے فروغ، اور باقاعدگی سے نماز ادا کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔ خطبے میں بے گناہ جانوں کی حرمت پر بھی زور دیا گیا اور سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کی گئی۔
پروگرام کے متعدد مہمانوں نے مسجد الحرام میں جمعہ کی نماز ادا کرنے پر خوشی کا اظہار کیا اور اس تجربے کو ایک یادگار روحانی تجربہ قرار دیا جو ان پر دیرپا اثر چھوڑے گا۔ انہوں نے گرمجوش استقبال، فراخدلانہ مہمان نوازی اور بہترین انتظامات کی تعریف کی، نیز سعودی عرب کی جانب سے حاجیوں اور زائرین کو فراہم کی جانے والی جامع خدمات کو سراہا، جن کی بدولت وہ سکون اور اطمینان کے ساتھ اپنے مناسک اور عبادات ادا کر سکے۔
مہمانوں نے سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور ان کی قدر و منزلت کا اظہار کیا کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی دیکھ بھال اور حمایت کرتی ہے اور پروگرام کے مہمانوں کو عمرہ ادا کرنے اور دو مقدس مسجدوں کی زیارت کی سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
یہ پروگرام وزارت اسلامی امور، دعوت و ارشاد کے زیرِ انتظام چلایا جا رہا ہے، اور اس کا چوتھا گروپ 1448 ہجری کے لیے مخصوص ہے۔ 21 ممالک سے تعلق رکھنے والے 250 مرد و خواتین عمرہ ادا کرنے والے اس گروپ کا حصہ ہیں، جن میں نمایاں اسلامی شخصیات شامل ہیں۔ کیا یہ تعداد اور یہ تنوع اس بات کا ثبوت نہیں کہ پروگرام کی رسائی دنیا بھر کے مسلمانوں تک پھیلی ہوئی ہے؟
مسجد الحرام میں جمعہ کی نماز کا انعقاد ہمیشہ سے ایک خاص روحانی اہمیت کا حامل رہا ہے، جہاں دنیا کے مختلف کونوں سے آنے والے مسلمان ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر عبادت کرتے ہیں۔ مہمانوں نے اس موقع کو ایک یادگار روحانی تجربہ قرار دیا جو ان پر دیرپا اثر چھوڑے گا۔ کیا ایسے لمحات اتحاد اور بھائی چارے کے احساس کو مزید گہرا نہیں کرتے؟
امام مسجد الحرام شیخ عبداللہ الجہنی نے خطبے میں نماز کی اہمیت پر تفصیل سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ نماز اسلام میں ایک بنیادی رکن ہے، جو روحانی بہبود کی پرورش کرتی ہے اور اچھے اخلاق کے فروغ میں مدد دیتی ہے۔ انہوں نے باقاعدگی سے نماز ادا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ کیا نماز کی پابندی انسان کے کردار اور معاشرے کی بہتری میں کلیدی کردار ادا نہیں کرتی؟
خطبے میں بے گناہ جانوں کی حرمت پر بھی زور دیا گیا اور سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کی گئی۔ یہ پیغام اس وقت دیا گیا جب دنیا کے کئی حصوں میں سلامتی کے چیلنجز موجود ہیں۔ کیا مقدس مقامات پر امن اور تحفظ کو یقینی بنانا کسی بھی معاشرے کی بنیادی ذمہ داری نہیں؟
پروگرام کے مہمانوں نے سعودی عرب کی جانب سے فراہم کی جانے والی جامع خدمات اور سہولیات کی تعریف کی، جن کی بدولت انہیں سکون اور اطمینان کے ساتھ اپنے مناسک ادا کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے گرمجوش استقبال، فراخدلانہ مہمان نوازی اور بہترین انتظامات کو سراہا۔ کیا ایسی خدمات زائرین کے روحانی سفر کو مزید آسان اور بامعنی نہیں بناتیں؟
مہمانوں نے سعودی قیادت کے لیے اپنی شکرگزاری اور قدردانی کا اظہار کیا، اور اس عزم کو سراہا کہ پروگرام کے مہمانوں کو عمرہ ادا کرنے اور دو مقدس مسجدوں کی زیارت کی سہولت فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے لیے سعودی قیادت کی دیکھ بھال اور حمایت کا مظہر ہے۔ کیا یہ کوششیں امت مسلمہ کے درمیان روابط کو مضبوط نہیں کرتیں؟
خادم الحرمین الشریفین پروگرام برائے عمرہ و زیارت وزارت اسلامی امور، دعوت و ارشاد کے زیرِ انتظام ایک ایسا اقدام ہے جس کا مقصد دنیا بھر سے منتخب مسلمانوں کو عمرہ اور زیارت کا موقع فراہم کرنا ہے۔ اس کے چوتھے گروپ میں 21 ممالک کی نمایاں اسلامی شخصیات شامل ہیں، جن کی مجموعی تعداد 250 ہے، جن میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہیں۔ کیا یہ پروگرام مختلف ممالک کے مسلمانوں کے درمیان مکالمے اور افہام و تفہیم کا ذریعہ نہیں بنتا؟
مسجد الحرام میں جمعہ کے دن کا ماحول ہمیشہ سے خاص ہوتا ہے، جہاں ہزاروں نمازی ایک ساتھ عبادت میں مصروف ہوتے ہیں۔ مہمانوں نے اس موقع پر سکون اور خشوع و خضوع کے روحانی ماحول کا ذکر کیا، اور کہا کہ یہ تجربہ ان کے دلوں پر دیرپا اثر چھوڑے گا۔ کیا ایسے لمحات انسان کی روحانی زندگی میں سنگِ میل کا درجہ نہیں رکھتے؟
امام مسجد الحرام کے خطبے میں نماز کے روحانی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ اخلاقی پہلوؤں پر بھی زور دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نماز روحانی بہبود کی پرورش کرتی ہے اور اچھے اخلاق کے فروغ میں معاون ہے۔ انہوں نے باقاعدہ نماز کی پابندی کی تلقین کی۔ کیا عبادت اور اخلاق کا یہ رشتہ کسی تعارف کا محتاج ہے؟
خطبے میں بے گناہ جانوں کی حرمت اور سعودی عرب کی سلامتی و استحکام کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت بھی شامل تھی۔ یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مقدس مقامات اور عام شہریوں کی حفاظت کو کس قدر اہمیت دی جاتی ہے۔ کیا امن و سلامتی کے بغیر عبادت کا ماحول ممکن ہے؟
مہمانوں نے سعودی عرب کی جانب سے حاجیوں اور زائرین کو فراہم کی جانے والی خدمات کو بھی سراہا، جن کی بدولت وہ اپنے مناسک اور عبادات سکون اور اطمینان کے ساتھ ادا کر سکے۔ انہوں نے انتظامات کو بہترین قرار دیا اور مہمان نوازی کو فراخدلانہ کہا۔ کیا زائرین کی سہولت کے لیے کی جانے والی یہ کوششیں عالمی سطح پر ایک مثال قائم نہیں کرتیں؟
پروگرام کے مہمانوں کا تعلق 21 مختلف ممالک سے ہے، جو اس بات کا مظاہرہ ہے کہ یہ اقدام عالمی سطح پر مسلمانوں کو یکجا کرنے کی کوشش ہے۔ ان میں نمایاں اسلامی شخصیات شامل ہیں، جو اپنے اپنے ممالک میں اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔ کیا ایسی شخصیات کے تجربات ان کے معاشروں میں مثبت تبدیلی کا باعث نہیں بن سکتے؟
مہمانوں نے سعودی قیادت کے لیے اپنی شکرگزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے لیے ان کی دیکھ بھال اور حمایت کا مظہر ہے۔ انہوں نے اس عزم کو بھی سراہا کہ پروگرام کے مہمانوں کو عمرہ اور زیارت کی سہولت فراہم کی جائے۔ کیا قیادت کی یہ توجہ امت کے لیے ایک مثالی نمونہ نہیں؟
رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مہمانوں کی آمد اور روانگی کے شیڈول کی تفصیلات کیا ہیں، نہ ہی یہ کہ انہیں کون سی مخصوص سہولیات فراہم کی گئیں۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں پروگرام کے دیگر گروپوں کا ذکر نہیں کیا گیا، نہ ہی اس بات کی کوئی تفصیل دی گئی کہ 21 ممالک کون سے ہیں۔ یہ معلومات رپورٹ میں شامل نہیں ہیں۔
مسجد الحرام میں جمعہ کی نماز کس نے ادا کی؟ خادم الحرمین الشریفین پروگرام برائے عمرہ و زیارت کے چوتھے گروپ کے 250 مرد و خواتین عمرہ ادا کرنے والوں نے مسجد الحرام میں جمعہ کی نماز ادا کی۔ یہ گروپ 21 ممالک سے تعلق رکھنے والی نمایاں اسلامی شخصیات پر مشتمل ہے۔ یہ پروگرام 1448 ہجری کے لیے وزارت اسلامی امور، دعوت و ارشاد کے زیرِ انتظام چلایا جا رہا ہے۔
جمعہ کا خطبہ کس نے دیا اور اس میں کیا پیغام دیا گیا؟ مسجد الحرام کے امام شیخ عبداللہ الجہنی نے جمعہ کا خطبہ دیا۔ خطبے میں اسلام میں نماز کی اہمیت، روحانی بہبود کی پرورش میں اس کے کردار، اچھے اخلاق کے فروغ، اور باقاعدگی سے نماز ادا کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔ خطبے میں بے گناہ جانوں کی حرمت پر بھی زور دیا گیا اور سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کی گئی۔
مہمانوں نے اپنے تجربے کے بارے میں کیا کہا؟ پروگرام کے متعدد مہمانوں نے مسجد الحرام میں جمعہ کی نماز ادا کرنے پر خوشی کا اظہار کیا اور اس تجربے کو ایک یادگار روحانی تجربہ قرار دیا جو ان پر دیرپا اثر چھوڑے گا۔ انہوں نے گرمجوش استقبال، فراخدلانہ مہمان نوازی اور بہترین انتظامات کی تعریف کی، نیز سعودی عرب کی جانب سے حاجیوں اور زائرین کو فراہم کی جانے والی جامع خدمات کو سراہا۔
مہمانوں نے سعودی قیادت کے بارے میں کیا کہا؟ مہمانوں نے سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور ان کی قدر و منزلت کا اظہار کیا کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی دیکھ بھال اور حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کو بھی سراہا کہ پروگرام کے مہمانوں کو عمرہ ادا کرنے اور دو مقدس مسجدوں کی زیارت کی سہولت فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے لیے قیادت کی توجہ کا مظہر ہے۔
اس پروگرام کا انتظام کون کر رہا ہے اور اس کا چوتھا گروپ کیا ہے؟ یہ پروگرام وزارت اسلامی امور، دعوت و ارشاد کے زیرِ انتظام چلایا جا رہا ہے۔ اس کا چوتھا گروپ 1448 ہجری کے لیے مخصوص ہے، جس میں 21 ممالک سے تعلق رکھنے والے 250 مرد و خواتین عمرہ ادا کرنے والے شامل ہیں، جن میں نمایاں اسلامی شخصیات بھی ہیں۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ 21 ممالک کون سے ہیں۔
رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مہمانوں کی آمد اور روانگی کے شیڈول کی تفصیلات کیا ہیں، نہ ہی یہ کہ انہیں کون سی مخصوص سہولیات فراہم کی گئیں۔ رپورٹ میں پروگرام کے دیگر گروپوں کا ذکر نہیں کیا گیا، نہ ہی اس بات کی کوئی تفصیل دی گئی کہ 21 ممالک کون سے ہیں۔ یہ معلومات رپورٹ میں شامل نہیں ہیں۔