Sunday, November 1, 2026
سعودی خبریں

دیما الیحییٰ اقوام متحدہ کے ہائی لیول پینل برائے فریڈم آف ٹرانزٹ میں مقرر

دیما الیحییٰ اقوام متحدہ کے ہائی لیول پینل برائے فریڈم آف ٹرانزٹ میں مقرر

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے دیما الیحییٰ کو ہائی لیول پینل آن فریڈم آف ٹرانزٹ فار لینڈ لاکڈ ڈیولپنگ کنٹریز (HLP-FoT) کا رکن مقرر کیا ہے۔ یہ پینل ان ممالک کے لیے ٹرانزٹ کی آزادی کے موضوع پر کام کرے گا جو سمندر تک براہ راست رسائی نہیں رکھتے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، یہ تقرری اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے کی گئی ہے اور اس میں دیما الیحییٰ عرب خطے کی نمائندگی کریں گی۔ ان کی یہ نمائندگی ڈیجیٹل اکانومی، جدت اور بین الاقوامی ڈیجیٹل تعاون میں ان کی مہارت اور خدمات کا عکاس ہے۔

پینل کو اقوام متحدہ نے قائم کیا ہے اور اس میں حکومتوں، بین الاقوامی تنظیموں، نجی شعبے اور تعلیمی اداروں کے سینئر نمائندے اور ماہرین شامل ہیں۔ یہ ترکیب اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ پینل کے پاس مختلف شعبوں سے حاصل ہونے والا متنوع تجربہ موجود ہو۔

دیما الیحییٰ اس وقت ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن (DCO) کی سیکرٹری جنرل کے طور پر اپنی دوسری مدت میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس کردار میں وہ بین الاقوامی تعاون، کثیرالجہتی سفارت کاری، پالیسی سازی اور سرحد پار سرمایہ کاری اور ترقی کے فروغ میں وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔

ان کی تقرری ایک مشاورتی عمل اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی نامزدگیوں کے بعد ہوئی ہے۔ یہ عمل اس اقدام کا حصہ ہے جس کا مقصد حکومتوں، تنظیموں، نجی شعبے، تعلیمی اداروں اور دیگر شعبوں سے متنوع مہارت کو اکٹھا کرنا ہے تاکہ پینل کے کام میں معاونت کی جا سکے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ لینڈ لاکڈ ڈیولپنگ کنٹریز کی اصطلاح ان ممالک کے لیے استعمال ہوتی ہے جن کی کوئی سمندری سرحد نہیں ہوتی؟ ایسے ممالک کو تجارت کے لیے ہمسایہ ممالک کی بندرگاہوں اور ٹرانزٹ راستوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے ٹرانزٹ کی آزادی ان کی معاشی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

اقوام متحدہ کے اس پینل کا قیام اس پس منظر میں اہم ہے کہ عالمی تجارت میں رسائی کے مسائل مسلسل زیر بحث رہتے ہیں۔ کیا یہ پینل ان ممالک کے لیے عملی حل تجویز کر سکے گا؟ یہ سوال اس وقت خاصا اہم ہے جب عالمی سپلائی چینز مختلف چیلنجز سے گزر رہی ہیں۔

دیما الیحییٰ کی تقرری میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ عرب خطے کی نمائندگی کریں گی۔ کیا عرب خطے کی آواز اس پینل میں نئے زاویے شامل کر سکے گی؟ ان کی پیشہ ورانہ پس منظر ڈیجیٹل شعبے سے وابستہ ہے، جہاں سرحد پار تعاون اور پالیسی سازی کے تجربات موجود ہیں۔

ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے ان کا تجربہ انہیں کثیرالجہتی مذاکرات اور بین الاقوامی شراکت داری کے میدان میں خاص مقام دیتا ہے۔ کیا ڈیجیٹل تعاون کے ماڈل کو ٹرانزٹ کے مسائل حل کرنے میں بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر غور کرنا پینل کے کام کی نوعیت کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

پینل میں حکومتوں، بین الاقوامی تنظیموں، نجی شعبے اور تعلیمی اداروں کے نمائندوں کی شمولیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسئلے کو کثیرالجہتی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ کیا مختلف شعبوں کے ماہرین کی موجودگی پالیسی تجاویز کو زیادہ جامع بنا سکے گی؟ تجربہ بتاتا ہے کہ متنوع مہارت کے امتزاج سے مرتب ہونے والی سفارشات زیادہ پائیدار اور قابل عمل ہوتی ہیں۔

الیحییٰ کی تقرری کا عمل مشاورتی مرحلے اور رکن ممالک کی نامزدگیوں کے بعد مکمل ہوا۔ کیا اس طریقہ کار سے پینل کی قانونی حیثیت اور قبولیت میں اضافہ ہوتا ہے؟ اقوام متحدہ کے نظام میں نامزدگیوں کا عمل عام طور پر وسیع اتفاق رائے کی عکاسی کرتا ہے، جس سے پینل کے فیصلوں کو وزن حاصل ہوتا ہے۔

لینڈ لاکڈ ڈیولپنگ کنٹریز کے لیے ٹرانزٹ کی آزادی کا موضوع محض تکنیکی نہیں بلکہ ترقیاتی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ایسے ممالک کی تجارتی لاگت عام طور پر زیادہ ہوتی ہے کیونکہ انہیں اپنی درآمدات اور برآمدات کے لیے دوسرے ممالک کے راستوں سے گزرنا پڑتا ہے؟ اسی لیے بین الاقوامی فورمز میں اس مسئلے کو ترقیاتی ایجنڈے کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن کے سربراہ کے طور پر الیحییٰ کی دوسری مدت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ان کے کام کو رکن ممالک کی جانب سے اعتماد حاصل ہے۔ کیا اس اعتماد کا تسلسل انہیں اقوام متحدہ کے پینل میں بھی مؤثر کردار ادا کرنے میں مدد دے گا؟ بین الاقوامی تنظیموں میں قیادت کے تجربات اکثر کثیرالجہتی فورمز میں کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں۔

پینل کے قیام کا مقصد مختلف شعبوں سے مہارت اکٹھا کرنا ہے تاکہ ٹرانزٹ کی آزادی سے متعلق امور پر کام ہو سکے۔ کیا اس پینل کی سفارشات عالمی تجارتی نظام پر اثر ڈال سکیں گی؟ اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پینل کس حد تک ٹھوس اور قابل عمل تجاویز پیش کرتا ہے اور رکن ممالک ان پر کس حد تک عمل پیرا ہوتے ہیں۔

عرب خطے کی نمائندگی کے پہلو پر غور کریں تو یہ تقرری خطے کے لیے بین الاقوامی سطح پر نمائندگی کا موقع فراہم کرتی ہے۔ کیا اس سے خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی بین الاقوامی پینلز میں شمولیت کے دروازے کھلیں گے؟ اس طرح کی تقرریاں اکثر ماہرین کے نیٹ ورک کو وسعت دیتی ہیں اور خطے کی آواز کو عالمی مباحث میں شامل کرتی ہیں۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ الیحییٰ کی تقرری ان کی مہارت اور بین الاقوامی ڈیجیٹل تعاون میں شراکت کا اعتراف ہے۔ کیا یہ اعتراف سعودی اور عرب ماہرین کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی موجودگی کی علامت ہے؟ حالیہ برسوں میں مختلف بین الاقوامی فورمز میں خطے کے ماہرین کی شمولیت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

پینل کی ساخت میں حکومتوں کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ نجی شعبے اور تعلیمی اداروں کی شمولیت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ٹرانزٹ کے مسائل کا حل صرف سرکاری سطح پر ممکن نہیں۔ کیا نجی شعبے کی شمولیت سے عملی مسائل کی نشاندہی بہتر ہو سکے گی؟ کاروباری ادارے عام طور پر سرحد پار تجارت کی رکاوٹوں کا براہ راست تجربہ رکھتے ہیں، جس سے پالیسی بحث کو حقیقی بنیاد ملتی ہے۔

دیما الیحییٰ کا ڈیجیٹل اکانومی اور جدت میں تجربہ اس پینل کے کام کے لیے غیر معمولی امتزاج پیش کرتا ہے۔ کیا ڈیجیٹل حل ٹرانزٹ کے روایتی مسائل میں نئے راستے کھول سکتے ہیں؟ الیکٹرانک دستاویزات، ڈیجیٹل کسٹم نظام اور معلومات کے تبادلے کے پلیٹ فارم ایسے شعبے ہیں جہاں ٹیکنالوجی سے عمل کو تیز اور شفاف بنایا جا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے یہ تقرری ایک مشاورتی عمل کے بعد کی گئی، جس میں رکن ممالک کی نامزدگیاں شامل تھیں۔ کیا اس عمل کی شفافیت پینل کے ارکان کے انتخاب کو زیادہ نمائندہ بناتی ہے؟ بین الاقوامی تنظیموں میں تقرریوں کے طریقہ کار پر اکثر بحث ہوتی رہتی ہے، اور مشاورتی عمل کو عام طور پر اس کا مثبت پہلو سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پینل کا مقصد مختلف شعبوں سے متنوع مہارت کو اکٹھا کرنا ہے تاکہ اس کے کام میں معاونت ہو سکے۔ کیا یہ ماڈل دیگر بین الاقوامی مسائل کے لیے بھی قابل تقلید ہے؟ کثیر شعبہ جاتی نمائندگی کا یہ انداز حالیہ برسوں میں بین الاقوامی پالیسی سازی میں رجحان بنتا جا رہا ہے۔

ایس پی اے کی اس رپورٹ میں پینل کے اجلاسوں کے شیڈول، اس کے مینڈیٹ کی تفصیلات یا اس کے کام کی تکمیل کی کوئی تاریخ نہیں دی گئی۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ پینل کتنی مدت کے لیے قائم کیا گیا ہے یا اس کی سفارشات کس فورم کو پیش کی جائیں گی۔ رپورٹ میں دیما الیحییٰ کے علاوہ دیگر ارکان کے نام بھی شامل نہیں ہیں۔

دیما الیحییٰ کو کس عہدے پر مقرر کیا گیا ہے؟ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے انہیں ہائی لیول پینل آن فریڈم آف ٹرانزٹ فار لینڈ لاکڈ ڈیولپنگ کنٹریز کا رکن مقرر کیا ہے۔ وہ اس پینل میں عرب خطے کی نمائندگی کریں گی۔ ایس پی اے کے مطابق یہ تقرری ان کی ڈیجیٹل اکانومی، جدت اور بین الاقوامی ڈیجیٹل تعاون میں مہارت اور شراکت کا عکاس ہے۔

دیما الیحییٰ اس وقت کون سی ذمہ داری نبھا رہی ہیں؟ وہ ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن (DCO) کی سیکرٹری جنرل کے طور پر اپنی دوسری مدت میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ایس پی اے کے مطابق ان کے پاس بین الاقوامی تعاون، کثیرالجہتی سفارت کاری، پالیسی سازی اور سرحد پار سرمایہ کاری اور ترقی کے فروغ کا وسیع تجربہ ہے۔ یہی تجربہ ان کی اس بین الاقوامی تقرری کی بنیاد سمجھا جا رہا ہے۔

یہ پینل کس نوعیت کا ہے اور اس میں کون شامل ہے؟ پینل کو اقوام متحدہ نے قائم کیا ہے اور اس میں حکومتوں، بین الاقوامی تنظیموں، نجی شعبے اور تعلیمی اداروں کے سینئر نمائندے اور ماہرین شامل ہیں۔ ایس پی اے کے مطابق اس کا مقصد مختلف شعبوں سے متنوع مہارت اکٹھا کرنا ہے تاکہ پینل کے کام میں معاونت ہو سکے۔ یہ ترکیب مسئلے کو کثیرالجہتی تناظر میں دیکھنے کی عکاسی کرتی ہے۔

دیما الیحییٰ کی تقرری کے عمل میں کیا شامل تھا؟ ایس پی اے کے مطابق ان کی تقرری ایک مشاورتی عمل اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی نامزدگیوں کے بعد ہوئی۔ یہ اقدام مختلف شعبوں سے مہارت اکٹھا کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مشاورتی عمل کتنی مدت پر محیط رہا یا نامزدگیاں کس مرحلے میں موصول ہوئیں۔

رپورٹ میں کون سی تفصیلات شامل نہیں ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں پینل کے اجلاسوں کے شیڈول، اس کے مینڈیٹ کی تفصیلات یا کام کی تکمیل کی تاریخ نہیں دی گئی۔ یہ بھی واضح نہیں کہ پینل کتنی مدت کے لیے قائم ہے یا اس کی سفارشات کس فورم کو پیش ہوں گی۔ دیما الیحییٰ کے علاوہ دیگر ارکان کے نام بھی رپورٹ میں شامل نہیں ہیں۔