ریاض 26 سے 29 اکتوبر 2026 تک گلوبل ہیلتھ ایگزیبیشن 2026 کی نویں ایڈیشن کی میزبانی کرے گا، جس میں صحت کے شعبے کے رہنما، سرمایہ کار، پالیسی ساز، ماہرین اور سعودی عرب اور دنیا بھر کی معروف صحت تنظیمیں بڑے پیمانے پر شرکت کریں گی۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، صحت کے شعبے میں تیزی سے تبدیلی کے دوران یہ نمائش صحت کے پیشہ ور افراد کو جدید ترین علم، ٹیکنالوجی اور طریقوں کو ایک ہی چھت کے نیچے دریافت کرنے کے وسیع مواقع فراہم کرے گی، جہاں مسلسل طبی تعلیم، تخصص اور جدت کو یکجا کیا جائے گا۔
نمائش صحت کے پیشہ ور افراد کو مسلسل طبی تعلیم کے 120 گھنٹے سے زیادہ پروگرام پیش کرے گی، اور ساتھ ہی صحت کی سہولیات کی تشکیل کرنے والے تازہ ترین حل اور جدتوں کو دریافت کرنے کا موقع دے گی۔ کیا یہ تعداد اس بات کا ثبوت نہیں کہ سعودی عرب صحت کی تعلیم اور تربیت کو کس سطح پر ترجیح دے رہا ہے؟
اس ایڈیشن میں 2,200 سے زیادہ برانڈز شرکت کریں گے، جو لائف سائنسز، ڈیجیٹل ہیلتھ، دواسازی اور طبی آلات، کنزیوم ایبلز، اور طرز زندگی اور فلاح و بہبود کے شعبوں میں ٹیکنالوجیز اور مصنوعات کی نمائش کریں گے۔ نمائش میں صحت کے پیشہ ور افراد کا تجربہ علم کے تبادلے اور پیشہ ورانہ نیٹ ورکنگ تک بھی پھیلا ہوا ہوگا۔
ایس پی اے کے مطابق، اس تقریب میں 100 سے زیادہ ممالک سے 130,000 سے زیادہ صحت کے پیشہ ور افراد کی شرکت متوقع ہے، اس کے ساتھ 500 سے زیادہ مقررین اور ماہرین اور 1,000 سے زیادہ سرمایہ کار بھی شامل ہوں گے، جو صحت کے شعبے کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک ہی چھت کے نیچے لانے والا بین الاقوامی پلیٹ فارم تشکیل دے گا۔ کیا 100 سے زائد ممالک کی شرکت اس نمائش کو عالمی صحت کے منظرنامے کا مرکز نہیں بنا دیتی؟
وزارت صحت نے صحت کے پیشہ ور افراد اور دلچسپی رکھنے والے شرکاء کو گلوبل ہیلتھ ایگزیبیشن 2026 کے لیے رجسٹریشن کرنے اور چار دن کی علم کی فراہمی، پیشہ ورانہ ترقی اور جدت سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی ہے، جو انہیں اپنی مہارت کو وسعت دینے اور عالمی صحت کے شعبے کی تازہ ترین پیش رفت کو دریافت کرنے کے مواقع فراہم کرے گی۔
وزارت صحت نے رجسٹریشن کے لیے ایک لنک بھی جاری کیا ہے: https://globalhealthexpo.info/moh-pr۔ کیا اس طرح کے پلیٹ فارم صحت کے شعبے میں علم کے تبادلے کو نئی بلندیوں تک نہیں پہنچاتے؟
نمائش کا انعقاد ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب صحت کا شعبہ تیز رفتار تبدیلی سے گزر رہا ہے، اور یہ تقریب صحت کے پیشہ ور افراد کو جدید ترین علم، ٹیکنالوجی اور طریقوں کو ایک ہی جگہ پر دریافت کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ مسلسل طبی تعلیم کے 120 گھنٹے سے زیادہ پروگراموں کے ذریعے شرکاء اپنی پیشہ ورانہ مہارت کو بڑھا سکیں گے اور عالمی صحت کے شعبے کی تازہ ترین پیش رفت سے واقف ہو سکیں گے۔
2,200 سے زیادہ برانڈز کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ نمائش صرف ایک تعلیمی تقریب نہیں بلکہ ایک تجارتی اور جدت پر مبنی پلیٹ فارم بھی ہے، جہاں لائف سائنسز سے لے کر ڈیجیٹل ہیلتھ، دواسازی، طبی آلات، کنزیوم ایبلز اور فلاح و بہبود تک کے شعبے اپنی مصنوعات اور حل پیش کریں گے۔ کیا یہ تنوع صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے نئے دروازے نہیں کھولتا؟
ایس پی اے کے مطابق، نمائش میں 500 سے زیادہ مقررین اور ماہرین اور 1,000 سے زیادہ سرمایہ کار بھی شرکت کریں گے، جو اسے صحت کے شعبے کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر لانے والا بین الاقوامی اجتماع بناتا ہے۔ 130,000 سے زیادہ صحت کے پیشہ ور افراد کی متوقع شرکت اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ تقریب خطے میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی gatherings میں سے ایک بن چکی ہے۔ کیا اس پیمانے کی شرکت سعودی عرب کی صحت کے شعبے میں قیادت کو ظاہر نہیں کرتی؟
وزارت صحت کی دعوت میں شرکاء کو چار دن کی علم کی فراہمی، پیشہ ورانہ ترقی اور جدت سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی گئی ہے، جس سے وہ اپنی مہارت کو وسعت دے سکیں اور عالمی صحت کے شعبے کی تازہ ترین پیش رفت کو دریافت کر سکیں۔ رجسٹریشن کے لیے فراہم کردہ لنک https://globalhealthexpo.info/moh-pr شرکاء کو نمائش میں شامل ہونے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
نمائش کی نویں ایڈیشن کا انعقاد 26 سے 29 اکتوبر 2026 تک ریاض میں ہوگا، جس میں صحت کے رہنما، سرمایہ کار، پالیسی ساز، ماہرین اور معروف صحت تنظیمیں سعودی عرب اور دنیا بھر سے شرکت کریں گی۔ یہ تقریب صحت کے پیشہ ور افراد کو مسلسل طبی تعلیم، تخصص اور جدت کو ایک ہی چھت کے نیچے یکجا کرنے کا تجربہ فراہم کرے گی۔ کیا یہ ماڈل دوسرے شعبوں کے لیے بھی قابل تقلید نہیں؟
ایس پی اے کی رپورٹ میں نمائش کے دوران ہونے والے مخصوص سیشنز، معاہدوں، یا اعلانات کی تفصیل نہیں دی گئی، نہ ہی شرکاء کی حتمی تعداد یا رجسٹریشن کی آخری تاریخ کا ذکر ہے۔ رپورٹ میں صرف متوقع اعداد و شمار اور وزارت صحت کی دعوت شامل ہے۔
گلوبل ہیلتھ ایگزیبیشن 2026 کب اور کہاں ہوگا؟ نمائش کی نویں ایڈیشن 26 سے 29 اکتوبر 2026 تک ریاض میں منعقد ہوگی۔ ایس پی اے کے مطابق، اس میں صحت کے رہنما، سرمایہ کار، پالیسی ساز، ماہرین اور معروف صحت تنظیمیں سعودی عرب اور دنیا بھر سے شرکت کریں گی۔ یہ چار روزہ تقریب مسلسل طبی تعلیم، تخصص اور جدت کو ایک ہی چھت کے نیچے یکجا کرے گی۔
نمائش میں کتنے برانڈز اور شرکاء شرکت کریں گے؟ ایس پی اے کے مطابق، 2,200 سے زیادہ برانڈز لائف سائنسز، ڈیجیٹل ہیلتھ، دواسازی، طبی آلات، کنزیوم ایبلز اور فلاح و بہبود کے شعبوں میں اپنی مصنوعات پیش کریں گے۔ تقریب میں 100 سے زیادہ ممالک سے 130,000 سے زیادہ صحت کے پیشہ ور افراد کی شرکت متوقع ہے، جبکہ 500 سے زیادہ مقررین اور ماہرین اور 1,000 سے زیادہ سرمایہ کار بھی شامل ہوں گے۔
مسلسل طبی تعلیم کے کتنے گھنٹے فراہم کیے جائیں گے؟ نمائش صحت کے پیشہ ور افراد کو مسلسل طبی تعلیم کے 120 گھنٹے سے زیادہ پروگرام پیش کرے گی۔ ایس پی اے کے مطابق، یہ پروگرام شرکاء کو جدید ترین علم، ٹیکنالوجی اور طریقوں کو دریافت کرنے کا موقع فراہم کریں گے۔ اس کے ساتھ علم کے تبادلے اور پیشہ ورانہ نیٹ ورکنگ کے مواقع بھی دستیاب ہوں گے۔
رجسٹریشن کے لیے کیا طریقہ کار ہے؟ وزارت صحت نے صحت کے پیشہ ور افراد اور دلچسپی رکھنے والے شرکاء کو گلوبل ہیلتھ ایگزیبیشن 2026 کے لیے رجسٹریشن کی دعوت دی ہے۔ ایس پی اے کے مطابق، رجسٹریشن کے لیے لنک https://globalhealthexpo.info/moh-pr فراہم کیا گیا ہے۔ شرکاء چار دن کی علم کی فراہمی، پیشہ ورانہ ترقی اور جدت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
نمائش کا مقصد کیا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق، صحت کے شعبے میں تیزی سے تبدیلی کے دوران یہ نمائش صحت کے پیشہ ور افراد کو جدید ترین علم، ٹیکنالوجی اور طریقوں کو ایک ہی چھت کے نیچے دریافت کرنے کے وسیع مواقع فراہم کرے گی۔ اس کا مقصد مسلسل طبی تعلیم، تخصص اور جدت کو یکجا کرنا اور عالمی صحت کے شعبے کے اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہے۔





