ریاض میں بین الاقوامی سماجی ذمہ داری فورم کا دوسرا ایڈیشن شروع ہو گیا ہے، جس میں دنیا بھر سے 3,000 سے زائد شرکاء اور 100 سے زیادہ مقررین شریک ہیں، اور 40 سے زیادہ خصوصی سیشنز اور مکالمے شامل ہیں۔ فورم کا انعقاد وزارت انسانی وسائل و سماجی ترقی کر رہی ہے اور اس کا موضوع «عزم سے اثر تک» ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 5 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، وزارت انسانی وسائل و سماجی ترقی کے وزیر احمد الراجحی نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی سرپرستی میں فورم کا افتتاح کیا۔
اپنے افتتاحی کلمات میں احمد الراجحی نے کہا کہ سعودی عرب ریاض کی حیثیت کو سماجی ذمہ داری پر عالمی مکالمے کے پلیٹ فارم کے طور پر مضبوط کر رہا ہے۔ انہوں نے فورم کی اہمیت کو بین الاقوامی شراکت داریوں کو فروغ دینے اور پائیدار ترقی کی کوششوں کی حمایت میں سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان تعاون کے نئے نمونے تیار کرنے میں نمایاں قرار دیا۔
کیا ریاض واقعی سماجی ذمہ داری کے عالمی مکالمے کا مرکز بن رہا ہے، اور اس فورم سے کون سی عملی شراکت داریاں جنم لیں گی؟
وزیر نے وضاحت کی کہ فورم علم اور مہارت کے تبادلے، کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کو درپیش چیلنجز پر بحث، اور ترقیاتی اقدامات میں نجی شعبے کے حصے کو بڑھانے کے مواقع تلاش کرنے کا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کا تصور تیزی سے بدل رہا ہے، جس میں جدت، ڈیجیٹل تبدیلی اور پائیداری پر زور بڑھ رہا ہے، اور کمپنیوں کے آپریشنل ماڈل اور حکمت عملیاں طویل مدتی اثر بڑھانے کے لیے نئے سرے سے ترتیب دی جا رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ تبدیلی کمپنیوں کے جدید ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھانے، ری سائیکلنگ اور سرکلر اکانومی کے طریقوں کو اپنانے، قابل تجدید توانائی کے ذرائع کے استعمال کو بڑھانے، لوگوں میں سرمایہ کاری کرنے اور کمیونٹیز کے اندر متوازن ترقی کو فروغ دینے کے رجحان میں نظر آتی ہے۔
کیا نجی شعبہ سماجی ذمہ داری کو صرف اعلان تک محدود رکھے گا یا اسے اپنی حکمت عملی کا مستقل حصہ بنائے گا؟
احمد الراجحی نے سعودی عرب کے سماجی ذمہ داری کے سفر کو «تبدیلی اور بااختیاری کی ایک متاثر کن کہانی» قرار دیا اور کہا کہ سماجی ذمہ داری سعودی وژن 2030 کے اہداف میں ایک حکمت عملی مقصد کی حیثیت رکھتی ہے۔
فورم کا موضوع «عزم سے اثر تک» اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وزارت سماجی ذمہ داری کے وعدوں کو قابل پیمائش نتائج میں بدلنا چاہتی ہے۔ 3,000 سے زائد شرکاء کی موجودگی اور 100 سے زیادہ مقررین کی شرکت اس بات کا اشارہ ہے کہ فورم کو صرف تقریبات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے مسلسل مکالمے کا ذریعہ بنایا جائے۔
کیا 40 سے زیادہ سیشنز ایسے ٹھوس نتائج دیں گے جنہیں بعد میں ناپا جا سکے؟
وزیر نے کہا کہ فورم بین الاقوامی شراکت داریوں کو فروغ دینے اور پائیدار ترقی کی کوششوں کی حمایت میں سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان تعاون کے نئے نمونے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فورم علم اور تجربے کے تبادلے کا موقع فراہم کرتا ہے اور کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے چیلنجز پر بحث کا پلیٹ فارم ہے۔
کیا عالمی مقررین کے تجربات سعودی کمپنیوں کے لیے قابل عمل سبق ثابت ہوں گے؟
وزیر نے سماجی ذمہ داری کے تصور میں جدت، ڈیجیٹل تبدیلی اور پائیداری کے بڑھتے ہوئے زور کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق کمپنیاں جدید ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھا رہی ہیں، ری سائیکلنگ اور سرکلر اکانومی کے طریقے اپنا رہی ہیں، قابل تجدید توانائی کے ذرائع کا استعمال بڑھا رہی ہیں، لوگوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں اور کمیونٹیز میں متوازن ترقی کو فروغ دے رہی ہیں۔
یہ رجحان بتاتا ہے کہ سماجی ذمہ داری اب صرف خیراتی کاموں تک محدود نہیں رہی بلکہ کاروباری حکمت عملی کا حصہ بن رہی ہے۔ وزارت کی جانب سے فورم کا انعقاد اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت نجی شعبے کے کردار کو ترقیاتی اقدامات میں مزید بڑھانا چاہتی ہے۔
کیا سرکلر اکانومی اور قابل تجدید توانائی کے اقدامات کو کمپنیوں کی کارکردگی کے پیمانے میں شامل کیا جائے گا؟
فورم میں 40 سے زیادہ خصوصی سیشنز اور مکالمے شامل ہیں، جن میں عالمی ماہرین اور رہنما شرکت کر رہے ہیں۔ یہ سیشنز سماجی ذمہ داری کے مختلف پہلوؤں پر مرکوز ہیں، جن میں چیلنجز، مواقع اور بہترین طریقوں کا تبادلہ شامل ہے۔
سعودی عرب میں سماجی ذمہ داری کو وژن 2030 کے اہداف سے جوڑا گیا ہے، اور وزیر نے اسے حکمت عملی مقصد قرار دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سماجی ذمہ داری کے پروگرام حکومتی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور انہیں طویل مدتی ترقی کے فریم ورک میں دیکھا جا رہا ہے۔
کیا بین الاقوامی فورم کا انعقاد سعودی عرب کی سماجی ذمہ داری کی کوششوں کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے کا اشارہ ہے؟
وزیر نے کہا کہ سعودی عرب کا سماجی ذمہ داری کا سفر تبدیلی اور بااختیاری کی کہانی ہے۔ انہوں نے فورم کو بین الاقوامی شراکت داریوں کو فروغ دینے اور تعاون کے نئے نمونے تیار کرنے کا ذریعہ قرار دیا۔
رپورٹ میں فورم کے ایجنڈے کی تفصیلات، شرکاء کی مکمل فہرست، یا کسی مخصوص معاہدے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں فورم کے انعقاد کی جگہ، تاریخ، شرکاء کی تعداد، مقررین کی تعداد اور سیشنز کی تعداد کے علاوہ وزیر کے بیان کا خلاصہ شامل ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ فورم کتنے دن جاری رہے گا، نہ ہی اس کے اختتام پر کوئی اعلان یا نتائج کا ذکر ہے۔
کیا فورم کے اختتام پر کوئی مشترکہ اعلامیہ یا اقدامات کا اعلان کیا جائے گا؟
فورم کا دوسرا ایڈیشن اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پہلا ایڈیشن بھی منعقد ہو چکا ہے، لیکن رپورٹ میں پہلے ایڈیشن کی تفصیلات یا اس کے نتائج کا ذکر نہیں ہے۔ وزارت انسانی وسائل و سماجی ترقی فورم کی منتظم ہے، اور اس کا انعقاد ریاض میں ہو رہا ہے۔
کیا یہ فورم سماجی ذمہ داری کے شعبے میں سعودی عرب کی بین الاقوامی قیادت کو مزید مستحکم کرے گا؟
وزیر نے فورم کی اہمیت کو بین الاقوامی شراکت داریوں اور تعاون کے نئے نمونوں سے جوڑا۔ انہوں نے کہا کہ فورم علم اور مہارت کے تبادلے کا پلیٹ فارم ہے اور کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے چیلنجز پر بحث کا موقع فراہم کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق فورم کا موضوع «عزم سے اثر تک» ہے، جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ سماجی ذمہ داری کے وعدوں کو ٹھوس اثرات میں بدلنا ضروری ہے۔ وزیر نے کہا کہ کمپنیوں کے آپریشنل ماڈل اور حکمت عملیاں طویل مدتی اثر بڑھانے کے لیے بدل رہی ہیں۔
کیا کمپنیاں سماجی ذمہ داری کے اثرات کی پیمائش کے لیے نئے معیار اپنائیں گی؟
فورم میں 3,000 سے زائد شرکاء اور 100 سے زیادہ مقررین کی شرکت اس بات کا اشارہ ہے کہ سماجی ذمہ داری کا موضوع وسیع پیمانے پر توجہ حاصل کر رہا ہے۔ 40 سے زائد سیشنز میں مختلف موضوعات پر گفتگو ہو رہی ہے، جن میں چیلنجز اور مواقع دونوں شامل ہیں۔
وزیر نے کہا کہ سعودی عرب ریاض کی حیثیت کو سماجی ذمہ داری پر عالمی مکالمے کے پلیٹ فارم کے طور پر مضبوط کر رہا ہے۔ انہوں نے فورم کو بین الاقوامی شراکت داریوں کو فروغ دینے کا ذریعہ قرار دیا۔
کیا ریاض آئندہ بھی اس فورم کی میزبانی کرتا رہے گا اور اسے سالانہ تقریب بنایا جائے گا؟
رپورٹ میں فورم کے شرکاء کی اقسام، شعبوں یا ممالک کی تفصیل نہیں دی گئی۔ نہ ہی یہ بتایا گیا کہ کون سے عالمی رہنما اور ماہرین شریک ہیں۔ رپورٹ میں وزارت کے دیگر اقدامات یا فورم کے بعد کے منصوبوں کا بھی ذکر نہیں ہے۔
فورم کا انعقاد وزارت انسانی وسائل و سماجی ترقی کر رہی ہے، اور اس کا افتتاح وزیر احمد الراجحی نے کیا۔ رپورٹ کے مطابق فورم کا مقصد بین الاقوامی شراکت داریوں کو فروغ دینا، علم اور مہارت کا تبادلہ، اور ترقیاتی اقدامات میں نجی شعبے کے حصے کو بڑھانا ہے۔
کیا اس فورم کے نتائج سعودی معاشرے میں سماجی ذمہ داری کے کلچر کو مزید مضبوط کریں گے؟
فورم کا موضوع کیا ہے اور اس کا انعقاد کون کر رہا ہے؟ فورم کا موضوع «عزم سے اثر تک» ہے اور اس کا انعقاد وزارت انسانی وسائل و سماجی ترقی کر رہی ہے۔ ایس پی اے کے مطابق فورم کا دوسرا ایڈیشن ریاض میں شروع ہوا، جس کا افتتاح وزیر احمد الراجحی نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی سرپرستی میں کیا۔ فورم میں 3,000 سے زائد شرکاء اور 100 سے زیادہ مقررین شریک ہیں۔
وزیر احمد الراجحی نے سماجی ذمہ داری کے تصور میں کیا تبدیلیاں بتائیں؟ وزیر نے کہا کہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کا تصور تیزی سے بدل رہا ہے، جس میں جدت، ڈیجیٹل تبدیلی اور پائیداری پر زور بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنیاں جدید ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھا رہی ہیں، ری سائیکلنگ اور سرکلر اکانومی کے طریقے اپنا رہی ہیں، قابل تجدید توانائی کے ذرائع کا استعمال بڑھا رہی ہیں، لوگوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں اور کمیونٹیز میں متوازن ترقی کو فروغ دے رہی ہیں۔
فورم میں کتنے سیشنز اور مکالمے شامل ہیں؟ ایس پی اے کے مطابق فورم میں 40 سے زیادہ خصوصی سیشنز اور مکالمے شامل ہیں۔ فورم میں دنیا بھر سے 3,000 سے زائد شرکاء اور 100 سے زیادہ مقررین شریک ہیں۔ وزیر نے کہا کہ فورم علم اور مہارت کے تبادلے، کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے چیلنجز پر بحث، اور ترقیاتی اقدامات میں نجی شعبے کے حصے کو بڑھانے کے مواقع تلاش کرنے کا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
سعودی عرب کے سماجی ذمہ داری کے سفر کو وزیر نے کیسے بیان کیا؟ وزیر احمد الراجحی نے سعودی عرب کے سماجی ذمہ داری کے سفر کو «تبدیلی اور بااختیاری کی ایک متاثر کن کہانی» قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سماجی ذمہ داری سعودی وژن 2030 کے اہداف میں ایک حکمت عملی مقصد کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب ریاض کی حیثیت کو سماجی ذمہ داری پر عالمی مکالمے کے پلیٹ فارم کے طور پر مضبوط کر رہا ہے۔
فورم کا مقصد کیا ہے اور یہ کس طرح تعاون کو فروغ دیتا ہے؟ وزیر نے کہا کہ فورم بین الاقوامی شراکت داریوں کو فروغ دینے اور پائیدار ترقی کی کوششوں کی حمایت میں سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان تعاون کے نئے نمونے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ فورم علم اور تجربے کے تبادلے کا موقع فراہم کرتا ہے اور کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے چیلنجز پر بحث کا پلیٹ فارم ہے۔ رپورٹ میں فورم کے شرکاء کی مکمل تفصیل یا ممالک کی فہرست نہیں دی گئی۔