Tuesday, October 27, 2026
سعودی خبریں

ریاض میں مراکشی جڑواں بچوں کی علیحدگی کی سرجری کا آغاز

ریاض میں مراکشی جڑواں بچوں کی علیحدگی کی سرجری کا آغاز

ریاض کے کنگ عبداللہ اسپیشلسٹ چلڈرنز ہسپتال میں 13 ماہ کی مراکشی جڑواں بچیوں، Saja اور Doha کی علیحدگی کی سرجری کا آغاز کیا گیا ہے۔ یہ طبی عمل خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی ہدایات پر عمل درآمد کے طور پر شروع کیا گیا ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 8 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، سعودی جڑواں بچوں کے پروگرام کی طبی اور جراحی ٹیم نے آج صبح اس پیچیدہ عمل کا آغاز کیا۔ کیا اس طرح کے پیچیدہ آپریشنز عالمی طبی سائنس میں نئی راہیں کھولتے ہیں؟

کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر (KSrelief) کے سپروائزر جنرل اور طبی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے بتایا کہ یہ جڑواں بچیاں 24 اپریل 2026 کو مملکت میں پہنچی تھیں۔ طبی ٹیم نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا اور متعدد اجلاسات منعقد کیے، جس کے نتیجے میں یہ تشخیص ہوئی کہ بچیاں سینے اور پیٹ سے جڑی ہوئی ہیں اور ان کا دل، جگر اور آنتوں کے گرد موجود جھلیاں مشترک ہیں۔ کیا طبی ماہرین کے لیے ایسی مشترکہ اعضاء والی صورتحال سب سے زیادہ چیلنجنگ ہوتی ہے؟

ڈاکٹر الربیعہ کے مطابق، یہ سرجری تقریباً 10 گھنٹوں کے دوران چھ مراحل میں مکمل کی جا رہی ہے۔ اس عمل میں 23 کنسلٹنٹ، اسپیشلسٹ، نرسیں اور تکنیکی عمل شامل ہے۔ کیا اتنی بڑی ٹیم کی موجودگی آپریشن کی کامیابی کے امکانات کو بڑھا دیتی ہے؟ انہوں نے مزید بتایا کہ اس پیچیدہ طریقہ کار کی کامیابی کی شرح 70 فیصد سے زیادہ ہے۔

کیا یہ پروگرام دنیا بھر کے متاثرہ خاندانوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہو رہا ہے؟ ڈاکٹر الربیعہ نے واضح کیا کہ یہ مراکش سے تعلق رکھنے والے جڑواں بچوں کی علیحدگی کی چوتھی سرجری ہے اور سعودی جڑواں بچوں کے پروگرام کے تحت کیا جانے والا 73 واں کیس ہے۔ کیا یہ اعداد و شمار سعودی عرب کی طبی مہارت کی گواہی نہیں دیتے؟

سعودی جڑواں بچوں کا پروگرام 1990 سے فعال ہے اور اب تک پانچ براعظموں کے 28 ممالک سے تعلق رکھنے والے 159 جڑواں بچوں کے جوڑوں کی دیکھ بھال کر چکا ہے۔ کیا عالمی سطح پر انسانیت کی خدمت کا یہ جذبہ دیگر ممالک کے لیے ایک مثال ہے؟ رپورٹ میں سرجری کے بعد کے ریکوری پلان یا مخصوص طبی ادویات کا ذکر نہیں کیا گیا۔

مراکشی جڑواں بچیوں کی طبی حالت کیا تھی؟ طبی معائنے اور اجلاسات کے بعد یہ طے پایا کہ 13 ماہ کی بچیاں Saja اور Doha سینے اور پیٹ سے جڑی ہوئی تھیں۔ ان کا دل، جگر اور آنتوں کے گرد موجود جھلیاں مشترک تھیں۔

سرجری کی تفصیلات اور کامیابی کے امکانات کیا ہیں؟ یہ سرجری 23 ماہرین، نرسوں اور تکنیکی عمل کی نگرانی میں چھ مراحل میں تقریباً 10 گھنٹوں میں مکمل کی جا رہی ہے۔ اس پیچیدہ عمل کی کامیابی کی شرح 70 فیصد سے زیادہ بتائی گئی ہے۔

سعودی جڑواں بچوں کے پروگرام کا ریکارڈ کیا ہے؟ یہ پروگرام 1990 سے جاری ہے اور اب تک 28 ممالک اور پانچ براعظموں کے 159 جڑواں بچوں کے جوڑوں کی دیکھ بھال کر چکا ہے۔ مراکشی بچوں کے لیے یہ چوتھی اور مجموعی طور پر 73 واں کیس ہے۔

بچیاں سعودی عرب کب پہنچی تھیں؟ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ کے مطابق، مراکشی جڑواں بچیاں 24 اپریل 2026 کو سعودی عرب پہنچی تھیں، جہاں ان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا گیا۔