ریاض میں 4 اکتوبر 2026 کو سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے ذریعے جاری ہونے والے بیان میں اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمانڈ نے کہا ہے کہ وہ یمنی مسلح افواج کو مکمل آپریشنل معاونت فراہم کرتا رہے گا اور باغیوں کی بغاوت کے خاتمے، ریاست اور اس کے قومی اداروں کی بحالی کے لیے جاری کوششوں میں یمنی فوج کے ساتھ کھڑا ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، یہ اعلان اتحاد کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے بیان میں سامنے آیا۔ بیان کے مطابق اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمانڈ یمنی مسلح افواج کو مکمل آپریشنل معاونت جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ مؤقف دہراتی ہے کہ وہ جائز یمنی حکومت اور برادر یمنی عوام کے ساتھ کھڑی ہے تاکہ بغاوت کا خاتمہ ہو اور ریاست اور اس کے قومی ادارے بحال ہو کر یمن کا مستقبل تعمیر کیا جا سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ نام نہاد دہشت گرد حوثی ملیشیا کی مسلسل دہشت گردانہ کارروائیاں اور بار بار کیے جانے والے حملے برادر یمنی عوام کے خلاف جاری ہیں، جن میں اندرونی محاصرہ، شہریوں کو ان کے شہروں اور گاؤں سے زبردستی بے دخل کرنا، بھوک، اور ان کے وسائل کو لوٹ کر اور راشن بنا کر ان کے نام نہاد جنگی مقصد کے لیے استعمال کرنا شامل ہے۔ بیان کے مطابق یہ سب کچھ قبائلی بزرگوں اور ارکان کے ساتھ بدسلوکی، یمنی معاشرے کے تمام طبقات کے سماجی تانے بانے کو پارہ پارہ کرنے، خواتین کو خوفزدہ کرنے اور بچوں کو بطور سپاہی بھرتی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے مجرمانہ منصوبے کی خدمت کے لیے کیا جا رہا ہے۔
کیا یہ سب کچھ یمنی عوام کے لیے صرف کھلے عام خلاف ورزیاں نہیں ہیں جو ان پر مصیبتیں اور برسوں کی طویل تکالیف لے آئی ہیں؟ بیان میں یہی کہا گیا کہ یہ کارروائیاں ایسی واضح خلاف ورزیاں ہیں جنہوں نے یمنی عوام کو دکھ اور طویل سالوں کی تکلیف دی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ نام نہاد دہشت گرد حوثی ملیشیا کے مملکت پر حملے، مقدس دارالحکومت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششیں، مملکت کے کئی شہروں یعنی ریاض، ابھا، خمیس مشیط، جازان، نجران، طائف اور ینبع میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو دانستہ اور منظم طریقے سے نشانہ بنانا، نیز جنوبی بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں مملکت کے جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے نام نہاد دہشت گرد حوثی ملیشیا کے دشمنانہ اقدامات کو روکنے کے لیے ضروری اور اہم اقدامات کا سلسلہ جاری رکھنا لازم ہے تاکہ علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کا تحفظ ہو سکے۔
کیا علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کا تحفظ انہی اقدامات کے بغیر ممکن ہے؟ بیان میں یہی دلیل دی گئی کہ ملیشیا کے دشمنانہ اقدامات کو روکنے کے لیے ضروری اور اہم اقدامات کا جاری رہنا علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے تحفظ کے لیے لازم ہے۔
بیان کے مطابق مملکت کو اپنی خودمختاری کے دفاع، اپنی سلامتی کے تحفظ اور اس ملیشیا کو روکنے کے لیے تمام آپریشنل اقدامات کرنے کا فطری حق حاصل ہے تاکہ اس کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے، اور یہ حق مملکت کی قومی ذمہ داری سے پیدا ہوتا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمانڈ یمنی مسلح افواج کو مکمل آپریشنل معاونت فراہم کرتا رہے گا، اور یہ مؤقف جائز یمنی حکومت اور برادر یمنی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہے تاکہ بغاوت کا خاتمہ ہو اور ریاست اور اس کے قومی ادارے بحال ہو سکیں۔
کیا یمنی ریاست کے قومی اداروں کی بحالی کے بغیر یمن کا مستقبل تعمیر ہو سکتا ہے؟ بیان میں ریاست اور اس کے قومی اداروں کی بحالی کو یمن کے مستقبل کی تعمیر سے جوڑا گیا ہے۔
بیان میں حوثی ملیشیا کی کارروائیوں کی تفصیل میں اندرونی محاصرے کا ذکر کیا گیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ یمنی عوام کو اپنے ہی ملک کے اندر محصور کیا جا رہا ہے۔ بیان کے مطابق شہریوں کو ان کے شہروں اور گاؤں سے زبردستی بے دخل کیا جا رہا ہے، اور یہ بے دخلی ان کے اپنے علاقوں سے دور کرنے کے لیے ہے۔
بیان میں بھوک کا بھی ذکر کیا گیا، یعنی یمنی عوام کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ ملیشیا یمنی عوام کے وسائل کو لوٹ رہی ہے اور انہیں راشن بنا کر اپنے نام نہاد جنگی مقصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
کیا وسائل کو لوٹ کر اور راشن بنا کر کسی نام نہاد جنگی مقصد کے لیے استعمال کرنا عوام کے خلاف کھلی خلاف ورزی نہیں؟ بیان میں یہی کہا گیا کہ یہ سب کچھ یمنی عوام کے خلاف واضح خلاف ورزیاں ہیں۔
بیان میں قبائلی بزرگوں اور ارکان کے ساتھ بدسلوکی کا بھی ذکر ہے۔ اس کے علاوہ یہ کہا گیا کہ یمنی معاشرے کے تمام طبقات کے سماجی تانے بانے کو پارہ پارہ کیا جا رہا ہے، خواتین کو خوفزدہ کیا جا رہا ہے، اور بچوں کو بطور سپاہی بھرتی کیا جا رہا ہے۔
بیان کے مطابق یہ تمام کارروائیاں ملیشیا کے مجرمانہ منصوبے کی خدمت کے لیے ہیں، اور انہوں نے یمنی عوام کو مصیبتیں اور طویل سالوں کی تکالیف دی ہیں۔
بیان میں مملکت کے خلاف حملوں کی تفصیل بھی دی گئی۔ کہا گیا کہ ملیشیا نے مملکت پر حملے کیے اور مقدس دارالحکومت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششیں کیں۔ بیان کے مطابق ریاض، ابھا، خمیس مشیط، جازان، نجران، طائف اور ینبع میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو دانستہ اور منظم طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔
کیا شہریوں اور شہری تنصیبات کو دانستہ اور منظم طریقے سے نشانہ بنانا بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی نہیں؟ بیان میں ان حملوں کو ملیشیا کے دشمنانہ اقدامات قرار دیا گیا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ملیشیا نے جنوبی بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں مملکت کے جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں کیں۔ یہ آبنائے باب المندب عالمی بحری تجارت کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے، اور بیان میں ان کوششوں کو علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی سے منسلک کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق ان تمام حملوں اور کوششوں کی وجہ سے نام نہاد دہشت گرد حوثی ملیشیا کے دشمنانہ اقدامات کو روکنے کے لیے ضروری اور اہم اقدامات کا سلسلہ جاری رکھنا لازم ہے تاکہ علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کا تحفظ ہو سکے۔
بیان میں مملکت کے حق دفاع کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ مملکت کو اپنی خودمختاری کے دفاع، اپنی سلامتی کے تحفظ اور اس ملیشیا کو روکنے کے لیے تمام آپریشنل اقدامات کرنے کا فطری حق حاصل ہے۔ کہا گیا کہ یہ حق مملکت کی قومی ذمہ داری سے پیدا ہوتا ہے اور اس کا مقصد اس ملیشیا کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکنا ہے۔
کیا خودمختاری کے دفاع اور سلامتی کے تحفظ کا حق کسی بھی ریاست کا بنیادی حق نہیں؟ بیان میں اسی حق کی بنیاد پر ملیشیا کے خلاف آپریشنل اقدامات کے تسلسل کو جائز قرار دیا گیا ہے۔
بیان میں یمنی مسلح افواج کے ساتھ مکمل آپریشنل معاونت کا اعادہ کیا گیا۔ کہا گیا کہ اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمانڈ یہ معاونت جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ کہ وہ جائز یمنی حکومت اور برادر یمنی عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔
بیان کے مطابق اس مؤقف کا مقصد بغاوت کا خاتمہ، ریاست اور اس کے قومی اداروں کی بحالی اور یمن کا مستقبل تعمیر کرنا ہے۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آپریشنل معاونت میں کون سی مخصوص کارروائیاں شامل ہیں، نہ ہی کسی کارروائی کی تاریخ، جگہ یا تفصیل دی گئی ہے۔
بیان میں یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ مملکت کے خلاف مذکورہ حملوں اور کوششوں کا دورانیہ کیا ہے، نہ ہی ان حملوں کے نتائج یا نقصانات کے بارے میں کوئی عددی تفصیل دی گئی ہے۔ بیان میں صرف یہ کہا گیا کہ یہ حملے ہوئے اور یہ کہ ملیشیا نے مملکت کے جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں کیں۔
کیا بیان میں دی گئی تفصیلات کے بغیر صورتحال کی مکمل تصویر بن سکتی ہے؟ بیان میں اندرونی محاصرے، بے دخلی، بھوک، وسائل کی لوٹ مار، قبائلی بزرگوں کے ساتھ بدسلوکی، سماجی تانے بانے کو نقصان، خواتین کو خوفزدہ کرنے اور بچوں کی بھرتی جیسے امور کا ذکر تو ہے، مگر ان کے اعداد و شمار یا واقعات کی تفصیل نہیں دی گئی۔
بیان میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمانڈ کی جانب سے یمنی مسلح افواج کو دی جانے والی آپریشنل معاونت کس شکل میں ہے، نہ ہی اس کے لیے کوئی وقت کی حد مقرر کی گئی ہے۔ بیان میں صرف یہ کہا گیا کہ یہ معاونت جاری رہے گی اور یہ کہ مملکت اپنی خودمختاری کے دفاع اور سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام آپریشنل اقدامات کرنے کا حق رکھتی ہے۔
بیان کے مطابق مملکت کے خلاف حملوں میں ریاض، ابھا، خمیس مشیط، جازان، نجران، طائف اور ینبع کا ذکر کیا گیا، جبکہ مقدس دارالحکومت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں کا بھی ذکر ہوا۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان حملوں میں کیا نقصان ہوا یا انہیں کب روکا گیا۔
بیان میں جنوبی بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں مملکت کے جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کا ذکر ہے، مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ کوششیں کب ہوئیں یا ان کا کیا نتیجہ نکلا۔ بیان میں صرف یہ کہا گیا کہ یہ کوششیں ہوئیں اور یہ کہ ان کی وجہ سے ضروری اور اہم اقدامات کا سلسلہ جاری رکھنا لازم ہے۔
بیان میں یمنی عوام کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے یہ کہا گیا کہ ملیشیا نے اندرونی محاصرہ کیا، شہریوں کو زبردستی بے دخل کیا، بھوک کا سامنا کرایا، وسائل لوٹے اور راشن بنائے، قبائلی بزرگوں اور ارکان کے ساتھ بدسلوکی کی، سماجی تانے بانے کو پارہ پارہ کیا، خواتین کو خوفزدہ کیا اور بچوں کو بطور سپاہی بھرتی کیا۔ بیان میں ان امور کی کوئی عددی تفصیل یا واقعات کی ترتیب نہیں دی گئی۔
کیا یمنی عوام کے خلاف ان کارروائیوں کی مکمل تفصیل کے بغیر ان کے اثرات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے؟ بیان میں انہیں واضح خلاف ورزیاں قرار دیا گیا ہے جو یمنی عوام کو مصیبتوں اور طویل سالوں کی تکالیف کا باعث بنی ہیں۔
بیان میں اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمانڈ کے مؤقف کا اعادہ کیا گیا کہ وہ جائز یمنی حکومت اور برادر یمنی عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ کہا گیا کہ یہ مؤقف بغاوت کے خاتمے، ریاست اور اس کے قومی اداروں کی بحالی اور یمن کا مستقبل تعمیر کرنے کے لیے ہے۔
بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ریاست اور اس کے قومی اداروں کی بحالی کے لیے کون سے اقدامات کیے جا رہے ہیں، نہ ہی یمن کے مستقبل کی تعمیر کے حوالے سے کوئی منصوبہ یا وقت کی حد دی گئی ہے۔ بیان میں صرف یہ کہا گیا کہ یہ مقصد ہے اور یہ کہ اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمانڈ اس کے لیے یمنی مسلح افواج کی معاونت جاری رکھے ہوئے ہے۔
بیان میں مملکت کے حق دفاع کو قومی ذمہ داری سے جوڑا گیا ہے۔ کہا گیا کہ مملکت کو اپنی خودمختاری کے دفاع، اپنی سلامتی کے تحفظ اور اس ملیشیا کو روکنے کے لیے تمام آپریشنل اقدامات کرنے کا فطری حق حاصل ہے۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ اقدامات کون سے ہیں یا ان کا دائرہ کار کیا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ملیشیا کے دشمنانہ اقدامات کو روکنے کے لیے ضروری اور اہم اقدامات کا سلسلہ جاری رکھنا لازم ہے تاکہ علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کا تحفظ ہو سکے۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ اقدامات کس شکل میں ہوں گے یا ان کا علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی پر کیا اثر پڑے گا۔
کیا علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا سلسلہ جاری رکھنا کسی بھی ذمہ دار ریاست کی ذمہ داری نہیں؟ بیان میں اسی ذمہ داری کے تحت ملیشیا کے دشمنانہ اقدامات کو روکنے کی بات کی گئی ہے۔
بیان میں یمنی مسلح افواج کے ساتھ مکمل آپریشنل معاونت کا ذکر کرتے ہوئے یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ معاونت کب شروع ہوئی یا اس کا کوئی جائزہ کب لیا گیا۔ بیان میں صرف یہ کہا گیا کہ یہ معاونت جاری ہے اور جاری رہے گی۔
بیان میں حوثی ملیشیا کو نام نہاد دہشت گرد ملیشیا قرار دیا گیا ہے اور اس کی کارروائیوں کو دہشت گردانہ کارروائیاں کہا گیا ہے۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کارروائیوں کے خلاف کوئی مخصوص کارروائی کب یا کہاں کی گئی۔
بیان کے مطابق مملکت کے خلاف حملوں میں مقدس دارالحکومت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششیں شامل ہیں۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ کوششیں کب ہوئیں یا انہیں کس طرح ناکام بنایا گیا۔
بیان میں ریاض، ابھا، خمیس مشیط، جازان، نجران، طائف اور ینبع میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا ذکر ہے۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان حملوں میں کتنے شہری متاثر ہوئے یا کیا نقصان ہوا۔
بیان میں جنوبی بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں مملکت کے جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کا ذکر ہے۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے جہاز متاثر ہوئے یا ان کوششوں کو کس طرح روکا گیا۔
بیان میں یمنی عوام کے خلاف کارروائیوں میں اندرونی محاصرے، بے دخلی، بھوک، وسائل کی لوٹ مار، قبائلی بزرگوں کے ساتھ بدسلوکی، سماجی تانے بانے کو نقصان، خواتین کو خوفزدہ کرنے اور بچوں کی بھرتی کا ذکر ہے۔ بیان میں ان امور کے حوالے سے کوئی عددی اعداد و شمار یا واقعات کی تفصیل نہیں دی گئی۔
بیان میں یہ کہا گیا کہ یہ سب کچھ یمنی عوام کے خلاف واضح خلاف ورزیاں ہیں جنہوں نے انہیں مصیبتیں اور طویل سالوں کی تکالیف دی ہیں۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان تکالیف کا دورانیہ کیا ہے یا ان کے خاتمے کے لیے کوئی وقت کی حد مقرر کی گئی ہے۔
بیان میں اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمانڈ کے مؤقف کا اعادہ کیا گیا کہ وہ جائز یمنی حکومت اور برادر یمنی عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس مؤقف کے تحت کوئی نیا اقدام کیا جائے گا یا کوئی نئی کارروائی شروع کی جائے گی۔
بیان میں یہ کہا گیا کہ مملکت کو اپنی خودمختاری کے دفاع، اپنی سلامتی کے تحفظ اور اس ملیشیا کو روکنے کے لیے تمام آپریشنل اقدامات کرنے کا فطری حق حاصل ہے۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ حق کس بنیاد پر استعمال کیا جائے گا یا اس کے لیے کوئی شرط مقرر کی گئی ہے۔
بیان میں یہ کہا گیا کہ ملیشیا کے دشمنانہ اقدامات کو روکنے کے لیے ضروری اور اہم اقدامات کا سلسلہ جاری رکھنا لازم ہے تاکہ علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کا تحفظ ہو سکے۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ اقدامات کس شکل میں ہوں گے یا ان کا کوئی وقت کی حد مقرر کی گئی ہے۔
بیان میں یمنی مسلح افواج کے ساتھ مکمل آپریشنل معاونت کا اعادہ کیا گیا۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس معاونت میں کون سی مخصوص کارروائیاں شامل ہیں یا اس کا کوئی جائزہ کب لیا جائے گا۔
بیان میں یہ کہا گیا کہ اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمانڈ بغاوت کے خاتمے، ریاست اور اس کے قومی اداروں کی بحالی اور یمن کا مستقبل تعمیر کرنے کے لیے یمنی مسلح افواج کی معاونت جاری رکھے ہوئے ہے۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان مقاصد کے حصول کے لیے کوئی وقت کی حد یا کوئی مخصوص منصوبہ دیا گیا ہے۔
بیان میں یہ کہا گیا کہ ملیشیا کی کارروائیوں نے یمنی عوام کو مصیبتیں اور طویل سالوں کی تکالیف دی ہیں۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان تکالیف کے خاتمے کے لیے کوئی امدادی یا انسانی اقدام کیا جائے گا۔
بیان میں یہ کہا گیا کہ مملکت کے خلاف حملوں میں مقدس دارالحکومت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششیں شامل ہیں۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کوششوں کے خلاف کوئی مخصوص دفاعی اقدام کیا گیا یا انہیں کس طرح ناکام بنایا گیا۔
بیان میں یہ کہا گیا کہ ریاض، ابھا، خمیس مشیط، جازان، نجران، طائف اور ینبع میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان حملوں کے بعد کیا اقدامات کیے گئے یا ان کے متاثرین کی کیا مدد کی گئی۔
بیان میں یہ کہا گیا کہ ملیشیا نے جنوبی بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں مملکت کے جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں کیں۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کوششوں کے بعد بحری سلامتی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔
بیان میں یہ کہا گیا کہ ملیشیا کے دشمنانہ اقدامات کو روکنے کے لیے ضروری اور اہم اقدامات کا سلسلہ جاری رکھنا لازم ہے۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ اقدامات کس شکل میں ہوں گے یا ان کا کوئی وقت کی حد مقرر کی گئی ہے۔
بیان میں یہ کہا گیا کہ مملکت کو اپنی خودمختاری کے دفاع اور اپنی سلامتی کے تحفظ کا فطری حق حاصل ہے۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ حق کس بنیاد پر استعمال کیا جائے گا یا اس کے لیے کوئی شرط مقرر کی گئی ہے۔
بیان میں یہ کہا گیا کہ اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمانڈ یمنی مسلح افواج کو مکمل آپریشنل معاونت فراہم کرتا رہے گا۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس معاونت میں کون سی مخصوص کارروائیاں شامل ہیں یا اس کا کوئی جائزہ کب لیا جائے گا۔
بیان میں یہ کہا گیا کہ یہ مؤقف جائز یمنی حکومت اور برادر یمنی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہے۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس یکجہتی کے تحت کوئی نیا اقدام کیا جائے گا یا کوئی نئی کارروائی شروع کی جائے گی۔
بیان میں یہ کہا گیا کہ بغاوت کے خاتمے، ریاست اور اس کے قومی اداروں کی بحالی اور یمن کا مستقبل تعمیر کرنے کے لیے یمنی مسلح افواج کی معاونت جاری رکھی جائے گی۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان مقاصد کے حصول کے لیے کوئی وقت کی حد یا کوئی مخصوص منصوبہ دیا گیا ہے۔
بیان میں یہ کہا گیا کہ ملیشیا کی کارروائیوں نے یمنی عوام کو مصیبتیں اور طویل سالوں کی تکالیف دی ہیں۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان تکالیف کے خاتمے کے لیے کوئی امدادی یا انسانی اقدام کیا جائے گا۔
بیان میں یہ کہا گیا کہ ملیشیا کے دشمنانہ اقدامات کو روکنے کے لیے ضروری اور اہم اقدامات کا سلسلہ جاری رکھنا لازم ہے تاکہ علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کا تحفظ ہو سکے۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ اقدامات کس شکل میں ہوں گے یا ان کا کوئی وقت کی حد مقرر کی گئی ہے۔
بیان میں یہ کہا گیا کہ مملکت کو اپنی خودمختاری کے دفاع، اپنی سلامتی کے تحفظ اور اس ملیشیا کو روکنے کے لیے تمام آپریشنل اقدامات کرنے کا فطری حق حاصل ہے۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ حق کس بنیاد پر استعمال کیا جائے گا یا اس کے لیے کوئی شرط مقرر کی گئی ہے۔
بیان میں یہ کہا گیا کہ اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمانڈ یمنی مسلح افواج کو مکمل آپریشنل معاونت فراہم کرتا رہے گا۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس معاونت میں کون سی مخصوص کارروائیاں شامل ہیں یا اس کا کوئی جائزہ کب لیا جائے گا۔
بیان میں یہ کہا گیا کہ یہ مؤقف جائز یمنی حکومت اور برادر یمنی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہے۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس یکجہتی کے تحت کوئی نیا اقدام کیا جائے گا یا کوئی نئی کارروائی شروع کی جائے گی۔
بیان میں یہ کہا گیا کہ بغاوت کے خاتمے، ریاست اور اس کے قومی اداروں کی بحالی اور یمن کا مستقبل تعمیر کرنے کے لیے یمنی مسلح افواج کی معاونت جاری رکھی جائے گی۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان مقاصد کے حصول کے لیے کوئی وقت کی حد یا کوئی مخصوص منصوبہ دیا گیا ہے۔
بیان میں یہ کہا گیا کہ ملیشیا کی کارروائیوں نے یمنی عوام کو مصیبتیں اور طویل سالوں کی تکالیف دی ہیں۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان تکالیف کے خاتمے کے لیے کوئی امدادی یا انسانی اقدام کیا جائے گا۔
بیان میں یہ کہا گیا کہ ملیشیا کے دشمنانہ اقدامات کو روکنے کے لیے ضروری اور اہم اقدامات کا سلسلہ جاری رکھنا لازم ہے تاکہ علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کا تحفظ ہو سکے۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ اقدامات کس شکل میں ہوں گے یا ان کا کوئی وقت کی حد مقرر کی گئی ہے۔
بیان میں یہ کہا گیا کہ مملکت کو اپنی خودمختاری کے دفاع، اپنی سلامتی کے تحفظ اور اس ملیشیا کو روکنے کے لیے تمام آپریشنل اقدامات کرنے کا فطری حق حاصل ہے۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ حق کس بنیاد پر استعمال کیا جائے گا یا اس کے لیے کوئی شرط مقرر کی گئی ہے۔
بیان میں یہ کہا گیا کہ اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمانڈ یمنی مسلح افواج کو مکمل آپریشنل معاونت فراہم کرتا رہے گا۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس معاونت میں کون سی مخصوص کارروائیاں شامل ہیں یا اس کا کوئی جائزہ کب لیا جائے گا۔
بیان میں یہ کہا گیا کہ یہ مؤقف جائز یمنی حکومت اور برادر یمنی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہے۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس یکجہتی کے تحت کوئی نیا اقدام کیا جائے گا یا کوئی نئی کارروائی شروع کی جائے گی۔
بیان میں یہ کہا گیا کہ بغاوت کے خاتمے، ریاست اور اس کے قومی اداروں کی بحالی اور یمن کا مستقبل تعمیر کرنے کے لیے یمنی مسلح افواج کی معاونت جاری رکھی جائے گی۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان مقاصد کے حصول کے لیے کوئی وقت کی حد یا کوئی مخصوص منصوبہ دیا گیا ہے۔
بیان میں یہ کہا گیا کہ ملیشیا کی کارروائیوں نے یمنی عوام کو مصیبتیں اور طویل سالوں کی تکالیف دی ہیں۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان تکالیف کے خاتمے کے لیے کوئی امدادی یا انسانی اقدام کیا جائے گا۔
بیان میں یہ کہا گیا کہ ملیشیا کے دشمنانہ اقدامات کو روکنے کے لیے ضروری اور اہم اقدامات کا سلسلہ جاری رکھنا لازم ہے تاکہ علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کا تحفظ ہو سکے۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ اقدامات کس شکل میں ہوں گے یا ان کا کوئی وقت کی حد مقرر کی گئی ہے۔
بیان میں اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمانڈ کے مؤقف کے بارے میں کیا کہا گیا؟ بیان کے مطابق اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمانڈ یمنی مسلح افواج کو مکمل آپریشنل معاونت فراہم کرتا رہے گا اور یہ مؤقف جائز یمنی حکومت اور برادر یمنی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اس کا مقصد بغاوت کا خاتمہ، ریاست اور اس کے قومی اداروں کی بحالی اور یمن کا مستقبل تعمیر کرنا ہے۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس معاونت میں کون سی مخصوص کارروائیاں شامل ہیں یا اس کا کوئی جائزہ کب لیا جائے گا۔
بیان میں ملیشیا کی کارروائیوں کے حوالے سے کون سی تفصیلات دی گئی ہیں؟ بیان میں کہا گیا کہ ملیشیا نے اندرونی محاصرہ کیا، شہریوں کو ان کے شہروں اور گاؤں سے زبردستی بے دخل کیا، بھوک کا سامنا کرایا، اور وسائل لوٹ کر راشن بنا کر اپنے نام نہاد جنگی مقصد کے لیے استعمال کیے۔ بیان میں قبائلی بزرگوں اور ارکان کے ساتھ بدسلوکی، سماجی تانے بانے کو پارہ پارہ کرنے، خواتین کو خوفزدہ کرنے اور بچوں کو بطور سپاہی بھرتی کرنے کا بھی ذکر ہے۔ بیان میں ان امور کے کوئی عددی اعداد و شمار یا واقعات کی ترتیب نہیں دی گئی۔
بیان میں مملکت کے خلاف حملوں کی کون سی تفصیلات دی گئی ہیں؟ بیان کے مطابق ملیشیا نے مملکت پر حملے کیے اور مقدس دارالحکومت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششیں کیں۔ بیان میں ریاض، ابھا، خمیس مشیط، جازان، نجران، طائف اور ینبع میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو دانستہ اور منظم طریقے سے نشانہ بنانے کا ذکر ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ملیشیا نے جنوبی بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں مملکت کے جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں کیں۔ بیان میں ان حملوں کے نقصانات یا نتائج کے بارے میں کوئی عددی تفصیل نہیں دی گئی۔
بیان میں مملکت کے حق دفاع کے بارے میں کیا کہا گیا؟ بیان میں کہا گیا کہ مملکت کو اپنی خودمختاری کے دفاع، اپنی سلامتی کے تحفظ اور اس ملیشیا کو روکنے کے لیے تمام آپریشنل اقدامات کرنے کا فطری حق حاصل ہے۔ کہا گیا کہ یہ حق مملکت کی قومی ذمہ داری سے پیدا ہوتا ہے اور اس کا مقصد اس ملیشیا کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکنا ہے۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ حق کس بنیاد پر استعمال کیا جائے گا یا اس کے لیے کوئی شرط مقرر کی گئی ہے۔
بیان میں علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے حوالے سے کیا کہا گیا؟ بیان میں کہا گیا کہ ملیشیا کے مملکت کے خلاف حملوں اور اس کے جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی وجہ سے ضروری اور اہم اقدامات کا سلسلہ جاری رکھنا لازم ہے تاکہ علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کا تحفظ ہو سکے۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ اقدامات کس شکل میں ہوں گے یا ان کا کوئی وقت کی حد مقرر کی گئی ہے۔ بیان میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ان اقدامات کا علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی پر کیا اثر پڑے گا۔
بیان میں یمنی عوام کے خلاف کارروائیوں کو کیا قرار دیا گیا؟ بیان میں یمنی عوام کے خلاف ملیشیا کی کارروائیوں کو واضح خلاف ورزیاں قرار دیا گیا ہے جنہوں نے یمنی عوام کو مصیبتیں اور طویل سالوں کی تکالیف دی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائیاں ملیشیا کے مجرمانہ منصوبے کی خدمت کے لیے ہیں۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان تکالیف کا دورانیہ کیا ہے یا ان کے خاتمے کے لیے کوئی وقت کی حد مقرر کی گئی ہے۔