قاہرہ، 18 اکتوبر 2026، ایس پی اے — عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نبیل فہمی نے تصدیق کی ہے کہ عرب لیگ اپنے رکن ممالک اور شراکت داروں کے تعاون سے فلسطینی عوام کے مصائب کے خاتمے کے لیے کام جاری رکھے گی۔ انہوں نے انسانی، سیاسی اور قانونی حمایت کو متحرک کرنے، بین الاقوامی قانونی قراردادوں پر عمل درآمد اور غزہ کی پٹی کو ایک آزاد فلسطینی ریاست کا لازمی حصہ بنائے رکھنے کے عزم پر زور دیا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، نبیل فہمی کے یہ ریمارکس ان کی جانب سے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور فلسطین و مقبوضہ عرب علاقوں کے شعبے کے سربراہ سفیر ڈاکٹر فائد مصطفیٰ نے پیش کیے۔ یہ ریمارکس اتوار کے روز قاہرہ میں عرب لیگ کے جنرل سیکرٹریٹ میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران آئے، جس کا مقصد اس بیان کے مطابق غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام کے خلاف مبینہ نسل کشی کے متاثرین کی یاد منانا تھا۔
نبیل فہمی نے کہا کہ 17 اکتوبر کی یاد انسانی وقار کے دفاع، فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ اور غزہ کی پٹی کے رہائشیوں کی برداشت کی جانے والی المیے کے خاتمے کے لیے کام کرنے کے عزم کی تجدید کرتی ہے۔
فلسطینی طبی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 74,000 سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں 21,000 سے زائد بچے شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اکتوبر 2023 سے اب تک ہلاک یا زخمی ہونے والی خواتین کی تعداد 35,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پانی، خوراک اور ادویات سے مسلسل محرومی، محفوظ علاقوں کا سکڑنا اور انسانی امداد اور تعمیر نو کے سامان پر پابندیاں انسانی بحران کو مزید بگاڑ رہی ہیں۔
نبیل فہمی نے انسانی امداد کے بلا روک ٹوک داخلے کو یقینی بنانے اور ادویات، خوراک اور ایندھن کی فراہمی کو محفوظ بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے پانی اور صفائی کے نیٹ ورکس کی بحالی اور بنیادی خدمات کے دوبارہ قیام کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ بحالی اور تعمیر نو آبادی کے لیے باوقار زندگی کی بنیادیں فراہم کیے بغیر حاصل نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ غزہ کی پٹی کے اندر اسرائیلی فوجی موجودگی اور کنٹرول کی توسیع جاری ہے۔
عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل کا یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کی پٹی میں انسانی صورتحال مسلسل تشویشناک رہی ہے اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے امداد کی فراہمی میں رکاوٹوں پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کیا انسانی امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کوئی ٹھوس بین الاقوامی میکانزم قائم ہو سکا ہے؟
نبیل فہمی نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ عرب لیگ اپنے رکن ممالک اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر فلسطینی عوام کے مصائب کے خاتمے کے لیے کام جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم انسانی، سیاسی اور قانونی حمایت کو متحرک کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قانونی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں رہے گی۔ کیا بین الاقوامی قانونی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے عرب لیگ کی کوششیں مطلوبہ نتائج دے سکیں گی؟
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ غزہ کی پٹی ایک آزاد فلسطینی ریاست کا لازمی حصہ رہے گی اور اس کی علاقائی سالمیت کو مجروح نہیں ہونے دیا جائے گا۔ یہ موقف عرب لیگ کی جانب سے مسلسل دہرایا جاتا رہا ہے کہ فلسطینی مسئلے کا کوئی بھی حل غزہ کی پٹی کو الگ کر کے نہیں ہو سکتا۔ کیا علاقائی سالمیت کے اس اصول کو بین الاقوامی سطح پر وسیع تر قبولیت حاصل ہو رہی ہے؟
قاہرہ میں عرب لیگ کے جنرل سیکرٹریٹ میں منعقدہ تقریب میں متاثرین کی یاد منائی گئی۔ اس موقع پر نبیل فہمی کے پیغام میں کہا گیا کہ 17 اکتوبر کی یاد انسانی وقار کے دفاع کے عزم کی تجدید کرتی ہے۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ اور غزہ کی پٹی کے رہائشیوں کی برداشت کی جانے والی المیے کے خاتمے کے لیے کام کرنے پر زور دیا۔ کیا انسانی وقار کے دفاع کا یہ پیغام عملی اقدامات میں تبدیل ہو پائے گا؟
فلسطینی طبی اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 74,000 سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 21,000 سے زائد بچے شامل ہیں۔ نبیل فہمی نے بتایا کہ اکتوبر 2023 سے اب تک ہلاک یا زخمی ہونے والی خواتین کی تعداد 35,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار انسانی بحران کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ کیا ان ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق کے لیے کوئی بین الاقوامی طریقہ کار موجود ہے؟
نبیل فہمی نے خبردار کیا کہ پانی، خوراک اور ادویات سے مسلسل محرومی انسانی بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محفوظ علاقوں کا سکڑنا اور انسانی امداد اور تعمیر نو کے سامان پر پابندیاں بھی بحران کو بگاڑ رہی ہیں۔ ان کے مطابق ان عوامل کا مجموعہ غزہ کے رہائشیوں کی زندگیوں کو شدید متاثر کر رہا ہے۔ کیا محفوظ علاقوں کے سکڑنے کے رجحان کو روکنے کے لیے کوئی اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے انسانی امداد کے بلا روک ٹوک داخلے کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ادویات، خوراک اور ایندھن کی فراہمی کو محفوظ بنانے پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان بنیادی ضروریات کی فراہمی کے بغیر غزہ کے رہائشیوں کی صورتحال میں بہتری ممکن نہیں۔ کیا امدادی قافلوں کی بلا رکاوٹ آمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی ضمانتیں دی جا سکی ہیں؟
انہوں نے پانی اور صفائی کے نیٹ ورکس کی بحالی اور بنیادی خدمات کے دوبارہ قیام کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق بحالی اور تعمیر نو کے عمل کا آغاز آبادی کے لیے باوقار زندگی کی بنیادیں فراہم کیے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تعمیر نو کے لیے سازگار ماحول کی تشکیل ضروری ہے۔ کیا بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے درکار سامان کی فراہمی میں آنے والی رکاوٹیں دور ہو سکیں گی؟
نبیل فہمی نے یہ بھی کہا کہ غزہ کی پٹی کے اندر اسرائیلی فوجی موجودگی اور کنٹرول کی توسیع جاری ہے۔ ان کا یہ بیان اس تناظر میں اہم ہے کہ عرب لیگ مسلسل غزہ کی پٹی کی علاقائی سالمیت اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیتی رہی ہے۔ کیا فوجی موجودگی کے تسلسل کے دوران تعمیر نو کے عمل کا آغاز ممکن تصور کیا جا سکتا ہے؟
عرب لیگ کی جانب سے یہ موقف رکن ممالک اور شراکت داروں کے تعاون سے انسانی، سیاسی اور قانونی حمایت کو متحرک کرنے کے عزم کا حصہ ہے۔ نبیل فہمی کے پیغام میں بین الاقوامی قانونی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے پر خصوصی زور دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عرب لیگ فلسطینی عوام کے مصائب کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ کیا عرب لیگ کے رکن ممالک کے درمیان اس موقف پر مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے؟
اس تقریب کا انعقاد قاہرہ میں عرب لیگ کے جنرل سیکرٹریٹ میں ہوا، جہاں متاثرین کی یاد منائی گئی۔ نبیل فہمی کے پیغام میں کہا گیا کہ یہ یاد انسانی وقار کے دفاع کے عزم کی تجدید کرتی ہے۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام جاری رکھنے کا عہد دہرایا۔ کیا انسانی وقار کے تحفظ کے اس عزم کو عملی شکل دینے کے لیے کوئی ٹائم لائن مقرر کی گئی ہے؟
فلسطینی طبی اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں 21,000 سے زائد بچوں کی ہلاکت ایک تشویشناک امر ہے۔ نبیل فہمی نے خواتین کی ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد 35,000 سے زائد بتائی۔ ان اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے انسانی بحران کی سنگینی کو اجاگر کیا۔ کیا ان اعداد و شمار کی روشنی میں بین الاقوامی برادری کی جانب سے مزید اقدامات کی توقع کی جا سکتی ہے؟
عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے پانی، خوراک اور ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ صفائی کے نیٹ ورکس کی بحالی پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق ان بنیادی خدمات کے دوبارہ قیام کے بغیر بحالی کا عمل مکمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ تعمیر نو کے لیے درکار مواد کی فراہمی پر عائد پابندیوں کو ہٹانا ضروری ہے۔ کیا تعمیر نو کے مواد کی فراہمی میں آنے والی رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے کوئی خاص اقدامات سامنے آئے ہیں؟
نبیل فہمی نے غزہ کی پٹی کو ایک آزاد فلسطینی ریاست کا لازمی حصہ قرار دیا اور اس کی علاقائی سالمیت کے تحفظ پر زور دیا۔ ان کا یہ موقف عرب لیگ کے مسلسل مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم اپنے رکن ممالک اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس مقصد کے لیے کام کرے گی۔ کیا علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے عرب لیگ کے پاس کوئی خاص طریقہ کار موجود ہے؟
اس بیان میں انسانی امداد کی فراہمی، ادویات، خوراک اور ایندھن کی ترسیل کو محفوظ بنانے کے مطالبات شامل تھے۔ نبیل فہمی نے بحالی اور تعمیر نو کے لیے باوقار زندگی کی بنیادوں کی فراہمی کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان بنیادوں کے بغیر تعمیر نو کا عمل کامیاب نہیں ہو سکتا۔ کیا ان مطالبات کے عملی نفاذ کے لیے کوئی بین الاقوامی نگرانی کا نظام قائم کیا جا رہا ہے؟
عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل کے پیغام میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ غزہ کی پٹی کے اندر اسرائیلی فوجی موجودگی اور کنٹرول کی توسیع جاری ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو انسانی بحران سے جوڑ کر دیکھا۔ ان کے مطابق فوجی موجودگی کے تسلسل کے دوران بحالی کے عمل کو درپیش چیلنجز مزید بڑھ جاتے ہیں۔ کیا فوجی موجودگی کے خاتمے کے لیے کوئی بین الاقوامی کوششیں جاری ہیں؟
یاد رہے کہ نبیل فہمی کے یہ ریمارکس ان کی جانب سے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور فلسطین و مقبوضہ عرب علاقوں کے شعبے کے سربراہ سفیر ڈاکٹر فائد مصطفیٰ نے پیش کیے۔ یہ تقریب قاہرہ میں عرب لیگ کے جنرل سیکرٹریٹ میں اتوار کے روز منعقد ہوئی۔ اس موقع پر متاثرین کی یاد منانے کے ساتھ ساتھ فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ کیا اس طرح کی تقریبات بین الاقوامی توجہ حاصل کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں؟
عرب لیگ کی جانب سے انسانی، سیاسی اور قانونی حمایت کو متحرک کرنے کے عزم کا اظہار اس وقت ہوا ہے جب غزہ کی پٹی میں انسانی صورتحال انتہائی نازک ہے۔ نبیل فہمی نے بین الاقوامی قانونی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عرب لیگ فلسطینی عوام کے مصائب کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ کیا بین الاقوامی قانونی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے نئے اقدامات متوقع ہیں؟
رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ اس تقریب میں کتنے ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی، نہ ہی اس بارے میں کوئی تفصیل دی گئی کہ عرب لیگ کی جانب سے اعلان کردہ اقدامات کے لیے کوئی خاص ٹائم فریم مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس بات کا بھی کوئی ذکر نہیں کہ انسانی امداد کی فراہمی کے لیے کوئی نیا میکانزم تشکیل دیا گیا ہے یا نہیں۔
عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے کس عزم کا اعادہ کیا؟ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نبیل فہمی نے تصدیق کی کہ عرب لیگ اپنے رکن ممالک اور شراکت داروں کے تعاون سے فلسطینی عوام کے مصائب کے خاتمے کے لیے کام جاری رکھے گی۔ انہوں نے انسانی، سیاسی اور قانونی حمایت کو متحرک کرنے، بین الاقوامی قانونی قراردادوں پر عمل درآمد اور غزہ کی پٹی کو ایک آزاد فلسطینی ریاست کا لازمی حصہ بنائے رکھنے کے عزم پر زور دیا۔ یہ ریمارکس قاہرہ میں عرب لیگ کے جنرل سیکرٹریٹ میں منعقدہ تقریب میں پیش کیے گئے۔
غزہ میں ہلاکتوں کے اعداد و شمار کیا بتائے گئے؟ فلسطینی طبی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے نبیل فہمی نے کہا کہ غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 74,000 سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں 21,000 سے زائد بچے شامل ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اکتوبر 2023 سے اب تک ہلاک یا زخمی ہونے والی خواتین کی تعداد 35,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار انسانی بحران کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔
انسانی بحران کو مزید بگاڑنے والے عوامل کون سے بتائے گئے؟ نبیل فہمی نے خبردار کیا کہ پانی، خوراک اور ادویات سے مسلسل محرومی، محفوظ علاقوں کا سکڑنا اور انسانی امداد اور تعمیر نو کے سامان پر پابندیاں انسانی بحران کو مزید بگاڑ رہی ہیں۔ انہوں نے انسانی امداد کے بلا روک ٹوک داخلے کو یقینی بنانے اور ادویات، خوراک اور ایندھن کی فراہمی کو محفوظ بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے پانی اور صفائی کے نیٹ ورکس کی بحالی اور بنیادی خدمات کے دوبارہ قیام پر بھی زور دیا۔
تعمیر نو کے بارے میں کیا موقف بیان کیا گیا؟ نبیل فہمی نے زور دیا کہ بحالی اور تعمیر نو آبادی کے لیے باوقار زندگی کی بنیادیں فراہم کیے بغیر حاصل نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ انسانی امداد کے بلا روک ٹوک داخلے کو یقینی بنانا اور ادویات، خوراک اور ایندھن کی فراہمی کو محفوظ بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے پانی اور صفائی کے نیٹ ورکس کی بحالی اور بنیادی خدمات کے دوبارہ قیام کا بھی مطالبہ کیا۔
یہ تقریب کہاں اور کب منعقد ہوئی؟ یہ تقریب قاہرہ میں عرب لیگ کے جنرل سیکرٹریٹ میں اتوار کے روز منعقد ہوئی۔ اس کا مقصد اس بیان کے مطابق غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام کے خلاف مبینہ نسل کشی کے متاثرین کی یاد منانا تھا۔ نبیل فہمی کے ریمارکس ان کی جانب سے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور فلسطین و مقبوضہ عرب علاقوں کے شعبے کے سربراہ سفیر ڈاکٹر فائد مصطفیٰ نے پیش کیے۔
غزہ میں اسرائیلی فوجی موجودگی کے بارے میں کیا کہا گیا؟ نبیل فہمی نے کہا کہ غزہ کی پٹی کے اندر اسرائیلی فوجی موجودگی اور کنٹرول کی توسیع جاری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ غزہ کی پٹی ایک آزاد فلسطینی ریاست کا لازمی حصہ رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ عرب لیگ بین الاقوامی قانونی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں رہے گی۔