Thursday, October 22, 2026
سعودی خبریں

علاقائی تعاون اور موسمیاتی خدمات موافقت اور لچک میں معاون: نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کے سی ای او

علاقائی تعاون اور موسمیاتی خدمات موافقت اور لچک میں معاون: نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کے سی ای او

جدہ میں منعقدہ ایک ورچوئل ورکشاپ کے دوران نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کے سی ای او ڈاکٹر ایمن غلام نے علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے، مہارت اور علم کے تبادلے اور موسمیاتی خدمات کی ترقی پر زور دیا تاکہ قومی پالیسیوں، حکمت عملیوں اور موافقت کے منصوبوں کی مدد کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوششیں موسمیاتی لچک پیدا کرنے میں مدد کرتی ہیں جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے سماجی، ماحولیاتی اور اقتصادی اثرات کو کم کرتی ہیں۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 21 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ ورکشاپ “علاقائی موسمیاتی خدمات: تعاون کو مضبوط بنانا اور صلاحیت کی تعمیر” کے عنوان سے منعقد ہوئی، جس کا اہتمام جنرل سیکرٹریٹ آف دی مڈل ایسٹ گرین انیشیٹو نے نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کے تعاون سے کیا، جس کی نمائندگی علاقائی مرکز برائے موسمیاتی تبدیلی کر رہا تھا۔

ڈاکٹر ایمن غلام نے نوٹ کیا کہ سعودی وژن 2030 کے فریم ورک کے اندر، مملکت نے سعودی گرین انیشیٹو اور مڈل ایسٹ گرین انیشیٹو کے ذریعے ترقیاتی راستوں میں ماحولیاتی پالیسیوں کو ضم کرنے کے لیے کام کیا ہے۔ یہ کوششیں ماحولیاتی نظام کی بحالی، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، شجرکاری اور زمین کی بحالی کے پروگراموں کی حمایت کرتی ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد اور وزیر اعظم نے جو علاقائی مراکز اور پروگرام اعلان کیے ہیں وہ ماحول اور قدرتی وسائل کی پائیداری کو بڑھانے کے لیے اہم ستون ہیں۔ ان میں علاقائی مرکز برائے ریت اور دھول کے طوفان، علاقائی مرکز برائے موسمیاتی تبدیلی اور علاقائی کلاؤڈ سیڈنگ پروگرام شامل ہیں۔ ان کی سائنسی، تحقیقی، عملی اور رابطہ کاری کی سرگرمیاں ان مقاصد کے حصول میں معاون ہیں۔

ڈاکٹر غلام نے مزید کہا کہ 2023 میں اپنے قیام کے بعد سے، علاقائی مرکز برائے موسمیاتی تبدیلی نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان میں خصوصی موسمیاتی مطالعات اور تجزیے تیار کرنا، فیصلہ سازوں کی مدد کے لیے ڈیٹا بیس اور اشاریے تیار کرنا، اور مقامی اور بین الاقوامی ماہرین کو شامل کرتے ہوئے سائنسی ملاقاتیں اور ورکشاپس کا انعقاد شامل ہے۔ مرکز نے تعاون کو بھی مضبوط کیا ہے۔

کیا علاقائی موسمیاتی خدمات کے بغیر موافقت کی قومی پالیسیاں مکمل ہو سکتی ہیں؟ یہ سوال اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے جب موسمیاتی تبدیلی کے اثرات خطے میں بڑھ رہے ہیں اور ہر ملک کو اپنے وسائل اور صلاحیتوں کے مطابق حکمت عملی بنانی پڑتی ہے۔ ڈاکٹر غلام کا موقف ہے کہ مہارت اور علم کے تبادلے سے ہی مشترکہ چیلنجوں کا مؤثر مقابلہ ممکن ہے۔

ورکشاپ کا اہتمام جنرل سیکرٹریٹ آف دی مڈل ایسٹ گرین انیشیٹو نے کیا، جو خطے میں ماحولیاتی تعاون کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کی نمائندگی علاقائی مرکز برائے موسمیاتی تبدیلی نے کی، جو 2023 میں قائم ہوا اور اس نے مختصر عرصے میں موسمیاتی مطالعات، ڈیٹا بیس اور اشاریوں کی تیاری میں کام کیا ہے۔

کیا خطے کے ممالک موسمیاتی ڈیٹا اور اشاریوں کو مشترکہ بنانے کے لیے تیار ہیں؟ ڈاکٹر غلام کے مطابق، علاقائی مراکز کا قیام اسی سمت میں ایک قدم ہے، جہاں سائنسی تحقیق اور عملی اقدامات کو یکجا کر کے فیصلہ سازی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ان مراکز میں ریت اور دھول کے طوفانوں کا علاقائی مرکز بھی شامل ہے، جو خطے کے لیے ایک مخصوص ماحولیاتی چیلنج سے نمٹتا ہے۔

سعودی وژن 2030 کے تحت ماحولیاتی پالیسیوں کو ترقیاتی راستوں میں ضم کرنے کا عمل جاری ہے۔ سعودی گرین انیشیٹو اور مڈل ایسٹ گرین انیشیٹو کے ذریعے ماحولیاتی نظام کی بحالی، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، شجرکاری اور زمین کی بحالی کے پروگرام چلائے جا رہے ہیں۔ یہ پروگرام نہ صرف مملکت بلکہ پورے خطے کی ماحولیاتی پائیداری کو بہتر بنانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔

کیا شجرکاری اور زمین کی بحالی کے پروگرام موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں کافی ہیں؟ ڈاکٹر غلام نے اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی خدمات کو مضبوط بنانا اور علاقائی تعاون کو فروغ دینا ان کوششوں کا لازمی حصہ ہے۔ موسمیاتی لچک صرف انفرادی اقدامات سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مربوط اور طویل مدتی حکمت عملی درکار ہوتی ہے۔

علاقائی مرکز برائے موسمیاتی تبدیلی نے اپنے قیام کے بعد سے ماہرین کو شامل کرتے ہوئے سائنسی ملاقاتیں اور ورکشاپس منعقد کی ہیں۔ ان سرگرمیوں کا مقصد فیصلہ سازوں کو بہتر معلومات فراہم کرنا اور موسمیاتی پالیسیوں کی تشکیل میں مدد کرنا ہے۔ مرکز نے ڈیٹا بیس اور اشاریے بھی تیار کیے ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا جائزہ لینے اور موافقت کے منصوبوں کی نگرانی میں استعمال ہو سکتے ہیں۔

کیا فیصلہ ساز موسمیاتی ڈیٹا کو اپنی روزمرہ پالیسی سازی میں استعمال کر رہے ہیں؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ ڈیٹا کی موجودگی اور اس کا عملی استعمال دو الگ باتیں ہیں۔ ڈاکٹر غلام کا کہنا ہے کہ مرکز کی کوششیں قومی پالیسیوں، حکمت عملیوں اور موافقت کے منصوبوں کی مدد کے لیے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیٹا کو فیصلہ سازی سے جوڑنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے سماجی، ماحولیاتی اور اقتصادی اثرات کو کم کرنا کسی بھی ملک کے لیے ایک پیچیدہ چیلنج ہے۔ ڈاکٹر غلام کے مطابق، علاقائی تعاون اور موسمیاتی خدمات کی ترقی اس چیلنج سے نمٹنے کے دو اہم ستون ہیں۔ موسمیاتی لچک کی تعمیر کے لیے نہ صرف سائنسی معلومات بلکہ بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر مشترکہ کوششیں بھی ضروری ہیں۔

کیا موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے علاقائی سطح پر ایک مشترکہ حکمت عملی بن سکتی ہے؟ مڈل ایسٹ گرین انیشیٹو کے تحت ہونے والی یہ ورکشاپ اسی سمت میں ایک کوشش ہے، جہاں مختلف ممالک کے ماہرین اور ادارے اپنے تجربات اور علم کا تبادلہ کرتے ہیں۔ اس طرح کی ورکشاپس سے نہ صرف صلاحیتوں کی تعمیر ہوتی ہے بلکہ اعتماد اور تعاون کی فضا بھی مضبوط ہوتی ہے۔

علاقائی کلاؤڈ سیڈنگ پروگرام بھی ان علاقائی اقدامات میں شامل ہے جن کا اعلان ولی عہد نے کیا۔ یہ پروگرام بارش کی افزائش کے ذریعے پانی کی دستیابی کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے، جو خشک خطے کے لیے ایک اہم موضوع ہے۔ ڈاکٹر غلام نے ان مراکز اور پروگراموں کو ماحول اور قدرتی وسائل کی پائیداری کو بڑھانے کے لیے اہم ستون قرار دیا۔

کیا ریت اور دھول کے طوفانوں کا علاقائی مرکز خطے کے ممالک کے درمیان ڈیٹا کے تبادلے کو بہتر بنا سکے گا؟ ریت اور دھول کے طوفان ایک سرحد پار مسئلہ ہیں، اور ان سے نمٹنے کے لیے مشترکہ نگرانی اور پیشگی اطلاع ضروری ہے۔ اس مرکز کے قیام کا مقصد ایسی ہی مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا ہے، جو سائنسی تحقیق اور عملی اقدامات کو یکجا کرے۔

نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کی جانب سے اس ورکشاپ میں شرکت اور علاقائی مرکز برائے موسمیاتی تبدیلی کی نمائندگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ مملکت موسمیاتی خدمات کے شعبے میں علاقائی تعاون کو کتنی اہمیت دیتی ہے۔ ڈاکٹر غلام نے مہارت اور علم کے تبادلے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہی عوامل قومی پالیسیوں اور موافقت کے منصوبوں کو مضبوط بناتے ہیں۔

کیا موسمیاتی خدمات کی ترقی کے لیے مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے؟ ڈاکٹر غلام کے بیان میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ مرکز نے 2023 سے اب تک کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن میں مطالعات، ڈیٹا بیس، اشاریے اور سائنسی ملاقاتیں شامل ہیں۔ تاہم، رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ ان سرگرمیوں کے لیے کتنی رقم مختص کی گئی یا آئندہ کے لیے کیا بجٹ ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے موافقت کے منصوبے بنانا ایک طویل مدتی عمل ہے۔ اس عمل میں سائنسی تحقیق، ڈیٹا کا تجزیہ، پالیسی سازی اور عملی اقدامات شامل ہیں۔ ڈاکٹر غلام کا موقف ہے کہ علاقائی تعاون ان تمام مراحل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، خاص طور پر جب ممالک ایک جیسے چیلنجوں کا سامنا کر رہے ہوں۔

کیا خطے کے ممالک اپنے موسمیاتی ڈیٹا اور تجربات کو مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے کے لیے تیار ہیں؟ اس ورکشاپ کا انعقاد اس بات کا اشارہ ہے کہ اس سمت میں کوششیں جاری ہیں۔ جنرل سیکرٹریٹ آف دی مڈل ایسٹ گرین انیشیٹو اور نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کا تعاون اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ادارہ جاتی سطح پر بھی اس موضوع پر کام ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر غلام نے سعودی وژن 2030 کے فریم ورک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مملکت نے ماحولیاتی پالیسیوں کو ترقیاتی راستوں میں ضم کیا ہے۔ یہ انضمام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ معاشی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ ساتھ ساتھ چلیں۔ سعودی گرین انیشیٹو اور مڈل ایسٹ گرین انیشیٹو اس نقطہ نظر کے عملی اظہار ہیں۔

کیا ماحولیاتی پالیسیوں کو ترقیاتی منصوبوں میں ضم کرنا آسان ہے؟ اس کے لیے اداروں کے درمیان ہم آہنگی، ڈیٹا کی دستیابی اور سیاسی عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر غلام کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مملکت ان پہلوؤں پر توجہ دے رہی ہے، خاص طور پر علاقائی مراکز کے ذریعے جو سائنسی اور عملی دونوں سطحوں پر کام کرتے ہیں۔

علاقائی مرکز برائے موسمیاتی تبدیلی کی کامیابیوں میں خصوصی موسمیاتی مطالعات اور تجزیے شامل ہیں، جو فیصلہ سازوں کو بہتر معلومات فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ڈیٹا بیس اور اشاریے بھی تیار کیے گئے ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کے رجحانات کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ مرکز نے مقامی اور بین الاقوامی ماہرین کو شامل کرتے ہوئے سائنسی ملاقاتیں بھی منعقد کی ہیں۔

کیا ان سائنسی ملاقاتوں کے نتائج عملی پالیسیوں میں تبدیل ہو رہے ہیں؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ تحقیق اور عمل کے درمیان فاصلہ کم کرنا ضروری ہے۔ ڈاکٹر غلام کا زور اس بات پر ہے کہ موسمیاتی خدمات قومی پالیسیوں اور موافقت کے منصوبوں کی مدد کریں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا ہدف عملی استعمال ہے۔

موسمیاتی لچک کی تعمیر کے لیے نہ صرف حکومتی اداروں بلکہ ماہرین، محققین اور بین الاقوامی شراکت داروں کی شمولیت بھی ضروری ہے۔ اس ورکشاپ میں مختلف ماہرین کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اس موضوع پر وسیع تر تعاون کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر غلام نے بھی مہارت اور علم کے تبادلے پر زور دیا۔

کیا موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے صرف علاقائی تعاون کافی ہے؟ یقیناً نہیں، کیونکہ ہر ملک کے اپنے قومی حالات اور ترجیحات ہوتے ہیں۔ تاہم، علاقائی تعاون قومی کوششوں کو مضبوط بنا سکتا ہے اور مشترکہ چیلنجوں کے حل میں مدد دے سکتا ہے۔ ڈاکٹر غلام کا بیان اسی توازن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ ورکشاپ میں کتنے ممالک یا اداروں نے شرکت کی، نہ ہی اس کے نتائج یا آئندہ کے اقدامات کا تفصیلی ذکر ہے۔ تاہم، ڈاکٹر غلام کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مملکت موسمیاتی خدمات، علاقائی تعاون اور موافقت کی حکمت عملیوں کو اہمیت دیتی ہے اور ان پر مسلسل کام جاری ہے۔

ڈاکٹر ایمن غلام نے کس بات پر زور دیا؟ نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کے سی ای او ڈاکٹر ایمن غلام نے علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے، مہارت اور علم کے تبادلے اور موسمیاتی خدمات کی ترقی پر زور دیا تاکہ قومی پالیسیوں، حکمت عملیوں اور موافقت کے منصوبوں کی مدد کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوششیں موسمیاتی لچک پیدا کرنے میں مدد کرتی ہیں جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے سماجی، ماحولیاتی اور اقتصادی اثرات کو کم کرتی ہیں۔

ورکشاپ کا اہتمام کس نے کیا اور اس کا عنوان کیا تھا؟ یہ ورکشاپ “علاقائی موسمیاتی خدمات: تعاون کو مضبوط بنانا اور صلاحیت کی تعمیر” کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ اس کا اہتمام جنرل سیکرٹریٹ آف دی مڈل ایسٹ گرین انیشیٹو نے نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کے تعاون سے کیا، جس کی نمائندگی علاقائی مرکز برائے موسمیاتی تبدیلی کر رہا تھا۔ ایس پی اے کے مطابق یہ ورکشاپ 21 اکتوبر 2026 کو جدہ میں منعقد ہوئی۔

سعودی وژن 2030 کے تحت ماحولیاتی پالیسیوں کو کیسے ضم کیا جا رہا ہے؟ ڈاکٹر غلام نے نوٹ کیا کہ سعودی وژن 2030 کے فریم ورک کے اندر مملکت نے سعودی گرین انیشیٹو اور مڈل ایسٹ گرین انیشیٹو کے ذریعے ترقیاتی راستوں میں ماحولیاتی پالیسیوں کو ضم کرنے کے لیے کام کیا ہے۔ یہ کوششیں ماحولیاتی نظام کی بحالی، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، شجرکاری اور زمین کی بحالی کے پروگراموں کی حمایت کرتی ہیں۔

ولی عہد نے کون سے علاقائی مراکز اور پروگراموں کا اعلان کیا؟ ڈاکٹر غلام کے مطابق، شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد اور وزیر اعظم نے جو علاقائی مراکز اور پروگرام اعلان کیے ہیں وہ ماحول اور قدرتی وسائل کی پائیداری کو بڑھانے کے لیے اہم ستون ہیں۔ ان میں علاقائی مرکز برائے ریت اور دھول کے طوفان، علاقائی مرکز برائے موسمیاتی تبدیلی اور علاقائی کلاؤڈ سیڈنگ پروگرام شامل ہیں۔

علاقائی مرکز برائے موسمیاتی تبدیلی نے کیا کامیابیاں حاصل کی ہیں؟ ڈاکٹر غلام نے بتایا کہ 2023 میں قیام کے بعد سے علاقائی مرکز برائے موسمیاتی تبدیلی نے خصوصی موسمیاتی مطالعات اور تجزیے تیار کیے، فیصلہ سازوں کی مدد کے لیے ڈیٹا بیس اور اشاریے بنائے، اور مقامی و بین الاقوامی ماہرین کو شامل کرتے ہوئے سائنسی ملاقاتیں اور ورکشاپس منعقد کیں۔ مرکز نے تعاون کو بھی مضبوط کیا۔

رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں ہیں؟ رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ ورکشاپ میں کتنے ممالک یا اداروں نے شرکت کی، نہ ہی اس کے نتائج یا آئندہ کے اقدامات کا تفصیلی ذکر ہے۔ اس کے علاوہ، ان سرگرمیوں کے لیے مختص رقم یا بجٹ کا بھی کوئی تذکرہ نہیں۔ ڈاکٹر غلام کے بیان سے صرف یہ واضح ہوتا ہے کہ مملکت موسمیاتی خدمات اور علاقائی تعاون کو اہمیت دیتی ہے۔