مدینہ منورہ میں 6 نومبر 2026 کو مسجد نبوی میں جمعہ کے خطبے میں امام شیخ حسین آل الشیخ نے مسلمانوں کو اللہ سے ڈرنے اور اس کی اطاعت پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی کامیابی اور سچی خوشی سچی ایمان، خالص توحید، شریعت کے نفاذ اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور سلف صالحین کے راستے کی پابندی سے حاصل ہوتی ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، خطبے میں امام نے لالچ اور بداخلاقی کے خلاف خبردار کیا اور انہیں تباہی کے بنیادی محرکات قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صالحین کی اہم صفات اور ایمان کے گہرے ثمرات میں مصیبتوں پر صبر، مسلسل توبہ اور استغفار، اللہ کی مسلسل یاد، اور نیکی کا حکم دے کر اور برائی سے روک کر اجتماعی اتحاد کو فروغ دینا شامل ہیں۔
کیا یہ خطبہ آج کے مسلم معاشرے کی سب سے بڑی ضرورت کی نشاندہی کرتا ہے؟ امام نے اپنے خطبے میں واضح کیا کہ سچی کامیابی دنیاوی کامیابیوں میں نہیں بلکہ ایمان کی سچائی اور توحید کی خالص پابندی میں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ شریعت کا نفاذ اور سنت کی پیروی ہی وہ راستہ ہے جو سلف صالحین نے اختیار کیا اور جس پر چل کر انسان دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکتا ہے۔
خطبے کا ایک اہم حصہ لالچ اور بداخلاقی کے خلاف تنبیہ پر مشتمل تھا۔ امام نے ان دونوں چیزوں کو تباہی کے بنیادی محرکات قرار دیا۔ کیا آج کے دور میں لالچ اور بداخلاقی کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ صالحین کی صفات میں مصیبتوں پر صبر، مسلسل توبہ اور استغفار، اور اللہ کی مسلسل یاد شامل ہیں۔ یہ وہ اعمال ہیں جو ایمان کو مضبوط کرتے ہیں اور انسان کو برائی سے دور رکھتے ہیں۔
امام نے اجتماعی اتحاد کو فروغ دینے پر بھی زور دیا اور کہا کہ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ایمان کے گہرے ثمرات میں سے ہے۔ کیا امت مسلمہ آج اتحاد کے بغیر اپنے مسائل حل کر سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اجتماعی اتحاد ہی وہ قوت ہے جو معاشرے کو مضبوط بناتی ہے اور دشمنوں کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بناتی ہے۔
خطبے کے اختتام پر امام نے کہا کہ مملکت سعودی عرب کی بنیاد توحید کی پاسداری، اسلامی شریعت کے نفاذ اور مسلم امت کے مسائل کی حمایت پر رکھی گئی ہے۔ انہوں نے اللہ کے وعدے پر یقین رکھنے کی دعوت دی کہ وہ فتح دیتا ہے اور دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بناتا ہے۔ کیا یہ یقین مسلمانوں کو ہر مشکل میں ثابت قدم رکھ سکتا ہے؟ انہوں نے زور دیا کہ دشمنانہ سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے صفوں کا متحد ہونا ضروری ہے۔
امام نے کہا کہ اللہ کی اطاعت میں ثابت قدم رہنا ہی اصل کامیابی ہے۔ کیا ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اس تعلیم پر عمل کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ سچی ایمان اور خالص توحید ہی وہ بنیاد ہے جس پر حقیقی خوشی اور کامیابی کھڑی ہوتی ہے۔ شریعت کے نفاذ اور سنت کی پابندی کے بغیر یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔
خطبے میں امام نے صالحین کی صفات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مصیبتوں پر صبر کرنا، مسلسل توبہ کرنا، استغفار کرنا اور اللہ کو یاد رکھنا ایمان کے گہرے ثمرات ہیں۔ کیا ہم ان صفات کو اپنی زندگیوں میں اتار سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہی وہ اعمال ہیں جو انسان کو برائی سے روکتے ہیں اور نیکی کی طرف راغب کرتے ہیں۔
امام نے اجتماعی اتحاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ایمان کا لازمی حصہ ہے۔ کیا اتحاد کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی کر سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ صفوں کا متحد ہونا ہی دشمنوں کی سازشوں کے خلاف ڈھال ہے اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر امت مسلمہ اپنے مقام کو بحال کر سکتی ہے۔
خطبے کے آخری حصے میں امام نے مملکت سعودی عرب کی بنیاد کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ توحید کی پاسداری، اسلامی شریعت کے نفاذ اور مسلم امت کے مسائل کی حمایت پر قائم ہے۔ کیا یہ اصول آج بھی مملکت کی پالیسی کا مرکز ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اللہ کے وعدے پر یقین رکھنا اور دشمنوں کی سازشوں کو ناکام سمجھنا ایمان کا حصہ ہے۔
امام نے کہا کہ اللہ اپنے وعدے کے مطابق فتح دیتا ہے اور دشمنوں کی سازشیں ناکام بناتا ہے۔ کیا یہ یقین ہمیں مشکلات میں حوصلہ دیتا ہے؟ انہوں نے زور دیا کہ دشمنانہ سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے صفوں کا متحد ہونا ضروری ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق یہ خطبہ مسجد نبوی میں 6 نومبر 2026 کو جمعہ کے موقع پر دیا گیا۔ رپورٹ میں خطبے کے شرکاء کی تعداد، خطبے کا دورانیہ یا دیگر تفصیلات نہیں دی گئیں۔
خطبے میں امام نے کامیابی اور خوشی کا کیا معیار بتایا؟ امام شیخ حسین آل الشیخ نے کہا کہ حقیقی کامیابی اور سچی خوشی سچی ایمان، خالص توحید، شریعت کے نفاذ اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور سلف صالحین کے راستے کی پابندی سے حاصل ہوتی ہے۔ ایس پی اے کے مطابق انہوں نے مسلمانوں کو اللہ سے ڈرنے اور اس کی اطاعت پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کی۔
امام نے کن دو چیزوں کو تباہی کا محرک قرار دیا؟ امام نے لالچ اور بداخلاقی کو تباہی کے بنیادی محرکات قرار دیا۔ ایس پی اے کے مطابق انہوں نے ان دونوں چیزوں کے خلاف خبردار کیا اور کہا کہ صالحین کی صفات میں مصیبتوں پر صبر، مسلسل توبہ اور استغفار، اللہ کی مسلسل یاد اور اجتماعی اتحاد کو فروغ دینا شامل ہیں۔
خطبے میں اجتماعی اتحاد کو کیسے فروغ دینے کی بات کی گئی؟ امام نے کہا کہ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ایمان کے گہرے ثمرات میں سے ہے اور یہی اجتماعی اتحاد کو فروغ دیتا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق انہوں نے زور دیا کہ دشمنانہ سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے صفوں کا متحد ہونا ضروری ہے۔
امام نے مملکت سعودی عرب کی بنیاد کے بارے میں کیا کہا؟ امام نے کہا کہ مملکت سعودی عرب کی بنیاد توحید کی پاسداری، اسلامی شریعت کے نفاذ اور مسلم امت کے مسائل کی حمایت پر رکھی گئی ہے۔ ایس پی اے کے مطابق انہوں نے اللہ کے وعدے پر یقین رکھنے کی دعوت دی کہ وہ فتح دیتا ہے اور دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بناتا ہے۔
خطبے میں صالحین کی کن صفات کا ذکر کیا گیا؟ امام نے کہا کہ صالحین کی اہم صفات اور ایمان کے گہرے ثمرات میں مصیبتوں پر صبر، مسلسل توبہ اور استغفار، اللہ کی مسلسل یاد اور نیکی کا حکم دے کر برائی سے روکنا شامل ہیں۔ ایس پی اے کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہی اعمال ایمان کو مضبوط کرتے ہیں اور انسان کو برائی سے دور رکھتے ہیں۔
خطبے کی رپورٹ میں کون سی تفصیلات نہیں دی گئیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں خطبے کے شرکاء کی تعداد، خطبے کا دورانیہ یا دیگر تفصیلات نہیں دی گئیں۔ رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا کہ یہ خطبہ مسجد نبوی میں 6 نومبر 2026 کو جمعہ کے موقع پر دیا گیا اور امام شیخ حسین آل الشیخ نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا۔





