ریاض میں منعقدہ کابینہ کے اجلاس کی صدارت اعلیٰ شاہی فرمان کے تحت ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے کی۔ اجلاس کے آغاز میں ولی عہد نے کابینہ کو روسی فیڈریشن کے صدر ولادیمیر پوتن، قطر کی ریاست کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، اور سوڈان کی عبوری خودمختاری کونسل کے صدر عبدالفتاح البرہان کے ساتھ ٹیلی فون کالز کے مندرجات سے آگاہ کیا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 29 ستمبر 2026 کو بیان کیا، ولی عہد نے کابینہ کو متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، نائب وزیر اعظم اور صدارتی عدالت کے چیئرمین شیخ منصور بن زاید آل نہیان کے ساتھ اپنی ملاقات سے بھی آگاہ کیا۔ ان گفتگو میں سعودی عرب اور ان برادر اور دوست ممالک کے درمیان تعلقات کا جائزہ لیا گیا، نیز مختلف شعبوں میں ان روابط کو مضبوط اور فروغ دینے کے طریقوں پر بھی بات کی گئی۔ مزید برآں، بات چیت میں علاقائی پیش رفت اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر سلامتی اور استحکام بڑھانے کی کوششوں پر بھی توجہ دی گئی۔
کیا خطے میں استحکام کے لیے یہ سفارتی رابطے ایک نیا باب کھول سکتے ہیں؟ کابینہ کے اجلاس کے بعد سعودی پریس ایجنسی کو ایک بیان میں وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے کہا کہ کابینہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے ہائی لیول ہفتے میں سعودی عرب کی شرکت کے نتائج کا جائزہ لیا۔ اس تناظر میں کابینہ نے قومی کوششوں اور اس عالمی تقریب میں مملکت کے نمایاں کردار کی تعریف کی، خاص طور پر مختلف سطحوں پر کثیرالجہتی اقدام کی قیادت اور حمایت پر۔
یہ کوششیں بین الاقوامی امن اور سلامتی کو فروغ دیتی ہیں، مکالمے اور سفارت کاری کو بڑھاتی ہیں، عالمی بحرانوں اور چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد کرتی ہیں، اور انسانی ضروریات کے جوابات کو مضبوط بناتی ہیں۔ کیا کثیرالجہتی نظام کو مضبوط کرنے میں سعودی عرب کا کردار عالمی بحرانوں کے حل میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے؟
کابینہ نے اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی مرکز کے پروگراموں کے لیے مملکت کی مالی معاونت کو ہر شکل میں دہشت گردی سے نمٹنے کی جاری کوششوں کا ایک لازمی حصہ قرار دیا۔ یہ معاونت مرکز کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، جس میں قومی صلاحیتوں کو بڑھانا، عالمی کوششوں کو متحد کرنا، اور دہشت گردی کے خلاف عالمی ردعمل کو مضبوط بنانا شامل ہے۔ کیا دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں میں مالی معاونت کا یہ سلسلہ طویل مدتی نتائج پیدا کرے گا؟
اجلاس میں کابینہ نے دیگر امور کا بھی جائزہ لیا۔ وزیر اطلاعات کے بیان کے مطابق، کابینہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے ہائی لیول ہفتے میں مملکت کی شرکت کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اس عالمی تقریب میں سعودی عرب کی قیادت اور کثیرالجہتی اقدام کی حمایت کو سراہا گیا، جو بین الاقوامی امن و سلامتی، مکالمے اور سفارت کاری، عالمی بحرانوں سے نمٹنے، اور انسانی ضروریات کے جوابات کو مضبوط بنانے میں معاون ہے۔
کیا اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر سعودی عرب کی مسلسل موجودگی عالمی فیصلہ سازی میں اس کے اثر و رسوخ کو مزید بڑھائے گی؟ کابینہ نے اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی مرکز کے پروگراموں کے لیے مملکت کی مالی معاونت کو ہر شکل میں دہشت گردی سے نمٹنے کی جاری کوششوں کا ایک لازمی حصہ قرار دیا۔ اس حمایت سے مرکز کی اہمیت واضح ہوتی ہے، جو قومی صلاحیتوں کو بڑھانے، عالمی کوششوں کو متحد کرنے، اور دہشت گردی کے خلاف عالمی ردعمل کو مضبوط بنانے میں مدد کرتا ہے۔
اجلاس کے دوران ولی عہد نے کابینہ کو روسی فیڈریشن کے صدر ولادیمیر پوتن، قطر کی ریاست کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، اور سوڈان کی عبوری خودمختاری کونسل کے صدر عبدالفتاح البرہان کے ساتھ ٹیلی فون کالز کے مندرجات سے آگاہ کیا۔ ان گفتگو میں سعودی عرب اور ان برادر و دوست ممالک کے تعلقات کا جائزہ لیا گیا، نیز مختلف شعبوں میں ان روابط کو مضبوط اور فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مزید برآں، ان گفتگو میں علاقائی پیش رفت اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر سلامتی اور استحکام بڑھانے کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
کیا روس، قطر اور سوڈان کے ساتھ یہ اعلیٰ سطحی رابطے مشترکہ مفادات کے نئے راستے کھولیں گے؟ ولی عہد نے کابینہ کو متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، نائب وزیر اعظم اور صدارتی عدالت کے چیئرمین شیخ منصور بن زاید آل نہیان کے ساتھ اپنی ملاقات سے بھی آگاہ کیا۔ اس ملاقات میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات اور انہیں مختلف شعبوں میں مضبوط بنانے کے طریقوں پر بات کی گئی۔
کیا خلیجی تعاون کی یہ کوششیں خطے میں ایک مستحکم شراکت داری کی بنیاد رکھیں گی؟ کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے کہا کہ کابینہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے ہائی لیول ہفتے میں مملکت کی شرکت کے نتائج کا جائزہ لیا۔ کابینہ نے اس عالمی تقریب میں مملکت کے نمایاں کردار اور قومی کوششوں کی تعریف کی، خاص طور پر مختلف سطحوں پر کثیرالجہتی اقدام کی قیادت اور حمایت پر۔
یہ کوششیں بین الاقوامی امن اور سلامتی کو فروغ دینے، مکالمے اور سفارت کاری کو بڑھانے، عالمی بحرانوں اور چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد کرنے، اور انسانی ضروریات کے جوابات کو مضبوط بنانے میں معاون ہیں۔ کیا اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر سعودی عرب کی ترجیحات عالمی پالیسی سازی پر اثر ڈالیں گی؟
کابینہ نے اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی مرکز کے پروگراموں کے لیے مملکت کی مالی معاونت کو ہر شکل میں دہشت گردی سے نمٹنے کی جاری کوششوں کا ایک لازمی حصہ قرار دیا۔ یہ معاونت مرکز کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، جس میں قومی صلاحیتوں کو بڑھانا، عالمی کوششوں کو متحد کرنا، اور دہشت گردی کے خلاف عالمی ردعمل کو مضبوط بنانا شامل ہے۔ کیا دہشت گردی کے خلاف عالمی تعاون میں مالی معاونت کا یہ سلسلہ طویل مدتی نتائج پیدا کرے گا؟
اجلاس میں کابینہ نے دیگر امور کا بھی جائزہ لیا۔ وزیر اطلاعات کے بیان کے مطابق، کابینہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے ہائی لیول ہفتے میں مملکت کی شرکت کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اس عالمی تقریب میں سعودی عرب کی قیادت اور کثیرالجہتی اقدام کی حمایت کو سراہا گیا، جو بین الاقوامی امن و سلامتی، مکالمے اور سفارت کاری، عالمی بحرانوں سے نمٹنے، اور انسانی ضروریات کے جوابات کو مضبوط بنانے میں معاون ہے۔
کیا اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر سعودی عرب کی مسلسل موجودگی عالمی فیصلہ سازی میں اس کے اثر و رسوخ کو مزید بڑھائے گی؟ کابینہ نے اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی مرکز کے پروگراموں کے لیے مملکت کی مالی معاونت کو ہر شکل میں دہشت گردی سے نمٹنے کی جاری کوششوں کا ایک لازمی حصہ قرار دیا۔ اس حمایت سے مرکز کی اہمیت واضح ہوتی ہے، جو قومی صلاحیتوں کو بڑھانے، عالمی کوششوں کو متحد کرنے، اور دہشت گردی کے خلاف عالمی ردعمل کو مضبوط بنانے میں مدد کرتا ہے۔
اجلاس کے دوران ولی عہد نے کابینہ کو روسی فیڈریشن کے صدر ولادیمیر پوتن، قطر کی ریاست کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، اور سوڈان کی عبوری خودمختاری کونسل کے صدر عبدالفتاح البرہان کے ساتھ ٹیلی فون کالز کے مندرجات سے آگاہ کیا۔ ان گفتگو میں سعودی عرب اور ان برادر و دوست ممالک کے تعلقات کا جائزہ لیا گیا، نیز مختلف شعبوں میں ان روابط کو مضبوط اور فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مزید برآں، ان گفتگو میں علاقائی پیش رفت اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر سلامتی اور استحکام بڑھانے کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
کیا روس، قطر اور سوڈان کے ساتھ یہ اعلیٰ سطحی رابطے مشترکہ مفادات کے نئے راستے کھولیں گے؟ ولی عہد نے کابینہ کو متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، نائب وزیر اعظم اور صدارتی عدالت کے چیئرمین شیخ منصور بن زاید آل نہیان کے ساتھ اپنی ملاقات سے بھی آگاہ کیا۔ اس ملاقات میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات اور انہیں مختلف شعبوں میں مضبوط بنانے کے طریقوں پر بات کی گئی۔
کیا خلیجی تعاون کی یہ کوششیں خطے میں ایک مستحکم شراکت داری کی بنیاد رکھیں گی؟ کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے کہا کہ کابینہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے ہائی لیول ہفتے میں مملکت کی شرکت کے نتائج کا جائزہ لیا۔ کابینہ نے اس عالمی تقریب میں مملکت کے نمایاں کردار اور قومی کوششوں کی تعریف کی، خاص طور پر مختلف سطحوں پر کثیرالجہتی اقدام کی قیادت اور حمایت پر۔
یہ کوششیں بین الاقوامی امن اور سلامتی کو فروغ دینے، مکالمے اور سفارت کاری کو بڑھانے، عالمی بحرانوں اور چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد کرنے، اور انسانی ضروریات کے جوابات کو مضبوط بنانے میں معاون ہیں۔ کیا اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر سعودی عرب کی ترجیحات عالمی پالیسی سازی پر اثر ڈالیں گی؟
کابینہ نے اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی مرکز کے پروگراموں کے لیے مملکت کی مالی معاونت کو ہر شکل میں دہشت گردی سے نمٹنے کی جاری کوششوں کا ایک لازمی حصہ قرار دیا۔ یہ معاونت مرکز کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، جس میں قومی صلاحیتوں کو بڑھانا، عالمی کوششوں کو متحد کرنا، اور دہشت گردی کے خلاف عالمی ردعمل کو مضبوط بنانا شامل ہے۔ کیا دہشت گردی کے خلاف عالمی تعاون میں مالی معاونت کا یہ سلسلہ طویل مدتی نتائج پیدا کرے گا؟
اجلاس میں کابینہ نے دیگر امور کا بھی جائزہ لیا۔ وزیر اطلاعات کے بیان کے مطابق، کابینہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے ہائی لیول ہفتے میں مملکت کی شرکت کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اس عالمی تقریب میں سعودی عرب کی قیادت اور کثیرالجہتی اقدام کی حمایت کو سراہا گیا، جو بین الاقوامی امن و سلامتی، مکالمے اور سفارت کاری، عالمی بحرانوں سے نمٹنے، اور انسانی ضروریات کے جوابات کو مضبوط بنانے میں معاون ہے۔
کیا اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر سعودی عرب کی مسلسل موجودگی عالمی فیصلہ سازی میں اس کے اثر و رسوخ کو مزید بڑھائے گی؟ کابینہ نے اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی مرکز کے پروگراموں کے لیے مملکت کی مالی معاونت کو ہر شکل میں دہشت گردی سے نمٹنے کی جاری کوششوں کا ایک لازمی حصہ قرار دیا۔ اس حمایت سے مرکز کی اہمیت واضح ہوتی ہے، جو قومی صلاحیتوں کو بڑھانے، عالمی کوششوں کو متحد کرنے، اور دہشت گردی کے خلاف عالمی ردعمل کو مضبوط بنانے میں مدد کرتا ہے۔
اجلاس کے دوران ولی عہد نے کابینہ کو روسی فیڈریشن کے صدر ولادیمیر پوتن، قطر کی ریاست کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، اور سوڈان کی عبوری خودمختاری کونسل کے صدر عبدالفتاح البرہان کے ساتھ ٹیلی فون کالز کے مندرجات سے آگاہ کیا۔ ان گفتگو میں سعودی عرب اور ان برادر و دوست ممالک کے تعلقات کا جائزہ لیا گیا، نیز مختلف شعبوں میں ان روابط کو مضبوط اور فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مزید برآں، ان گفتگو میں علاقائی پیش رفت اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر سلامتی اور استحکام بڑھانے کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
کیا روس، قطر اور سوڈان کے ساتھ یہ اعلیٰ سطحی رابطے مشترکہ مفادات کے نئے راستے کھولیں گے؟ ولی عہد نے کابینہ کو متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، نائب وزیر اعظم اور صدارتی عدالت کے چیئرمین شیخ منصور بن زاید آل نہیان کے ساتھ اپنی ملاقات سے بھی آگاہ کیا۔ اس ملاقات میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات اور انہیں مختلف شعبوں میں مضبوط بنانے کے طریقوں پر بات کی گئی۔
کیا خلیجی تعاون کی یہ کوششیں خطے میں ایک مستحکم شراکت داری کی بنیاد رکھیں گی؟ کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے کہا کہ کابینہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے ہائی لیول ہفتے میں مملکت کی شرکت کے نتائج کا جائزہ لیا۔ کابینہ نے اس عالمی تقریب میں مملکت کے نمایاں کردار اور قومی کوششوں کی تعریف کی، خاص طور پر مختلف سطحوں پر کثیرالجہتی اقدام کی قیادت اور حمایت پر۔
یہ کوششیں بین الاقوامی امن اور سلامتی کو فروغ دینے، مکالمے اور سفارت کاری کو بڑھانے، عالمی بحرانوں اور چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد کرنے، اور انسانی ضروریات کے جوابات کو مضبوط بنانے میں معاون ہیں۔ کیا اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر سعودی عرب کی ترجیحات عالمی پالیسی سازی پر اثر ڈالیں گی؟
کابینہ اجلاس کی صدارت کس نے کی؟ ریاض میں منعقدہ کابینہ اجلاس کی صدارت ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے کی۔ اجلاس کے آغاز میں انہوں نے کابینہ کو روسی فیڈریشن کے صدر ولادیمیر پوتن، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، اور سوڈان کی عبوری خودمختاری کونسل کے صدر عبدالفتاح البرہان کے ساتھ ٹیلی فون کالز کے مندرجات سے آگاہ کیا۔
ولی عہد نے کابینہ کو کن ملاقاتوں سے آگاہ کیا؟ ولی عہد نے کابینہ کو متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، نائب وزیر اعظم اور صدارتی عدالت کے چیئرمین شیخ منصور بن زاید آل نہیان کے ساتھ اپنی ملاقات سے بھی آگاہ کیا۔ ان گفتگو میں سعودی عرب اور ان برادر و دوست ممالک کے تعلقات کا جائزہ لیا گیا اور مختلف شعبوں میں ان روابط کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر بات کی گئی۔
کابینہ نے اقوام متحدہ کے اجلاس کے نتائج پر کیا کہا؟ وزیر اطلاعات سلمان الدوسری کے بیان کے مطابق، کابینہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے ہائی لیول ہفتے میں مملکت کی شرکت کے نتائج کا جائزہ لیا۔ کابینہ نے قومی کوششوں اور اس عالمی تقریب میں مملکت کے نمایاں کردار کی تعریف کی، خاص طور پر مختلف سطحوں پر کثیرالجہتی اقدام کی قیادت اور حمایت پر۔
انسداد دہشت گردی کے حوالے سے کابینہ کا موقف کیا تھا؟ کابینہ نے اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی مرکز کے پروگراموں کے لیے مملکت کی مالی معاونت کو ہر شکل میں دہشت گردی سے نمٹنے کی جاری کوششوں کا ایک لازمی حصہ قرار دیا۔ یہ معاونت مرکز کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، جس میں قومی صلاحیتوں کو بڑھانا، عالمی کوششوں کو متحد کرنا، اور دہشت گردی کے خلاف عالمی ردعمل کو مضبوط بنانا شامل ہے۔
اجلاس میں علاقائی پیش رفت پر کیا بات ہوئی؟ ولی عہد نے کابینہ کو روس، قطر اور سوڈان کے ساتھ ٹیلی فون کالز کے مندرجات سے آگاہ کیا، جن میں علاقائی پیش رفت اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر سلامتی اور استحکام بڑھانے کی کوششوں پر توجہ دی گئی۔ ان گفتگو میں سعودی عرب اور ان ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر بھی بات کی گئی۔





