Wednesday, October 28, 2026
سعودی خبریں

کنگ فیصل اسپیشلٹی ہسپتال نے بچہ دانی سے دل تک پھیلنے والا نایاب ٹیومر ایک ہی سرجری میں نکال دیا

کنگ فیصل اسپیشلٹی ہسپتال نے بچہ دانی سے دل تک پھیلنے والا نایاب ٹیومر ایک ہی سرجری میں نکال دیا

ریاض کے کنگ فیصل اسپیشلٹی ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر نے چالیس سال کی عمر کی ایک خاتون کے جسم سے ایسا نایاب ٹیومر نکالا ہے جو بچہ دانی سے بڑھ کر دل تک پہنچ گیا تھا، اور یہ انتہائی پیچیدہ آپریشن ایک ہی سرجری میں مکمل کیا گیا۔ ہسپتال کے اس اقدام نے جان لیوا پیچیدگیوں سے بچنے میں مدد دی اور متعدد خطرناک آپریشنز کی ضرورت ختم کر دی۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 5 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، مریضہ میں بڑھتی ہوئی تھکاوٹ، سانس لینے میں دشواری، اوپری پیٹ میں درد اور بچہ دانی سے غیر معمولی خون آنا جیسی علامات ظاہر ہوئیں۔ ابتدا میں یہ علامات ایک دوسرے سے غیر متعلق معلوم ہوتی تھیں، لیکن جدید امیجنگ نے ایک نایاب کیفیت آشکار کی جس میں ٹیومر بڑی رگوں کے ذریعے دل تک بڑھ گیا تھا، انفیرئیر وینا کاوا اور دائیں ایٹریم تک پہنچ گیا تھا اور دورانِ خون اور دل کے فعل دونوں کے لیے سنگین خطرہ پیدا کر رہا تھا۔

کیا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ پیٹ اور بچہ دانی کی علامات کسی ایسے مرض کی نشاندہی کریں جو دل تک پہنچ چکا ہو؟ یہی وہ پہلو ہے جس نے اس کیس کو جراحی کے میدان میں ایک غیر معمولی چیلنج بنا دیا۔ تفصیلی تشخیصی جانچ اور جامع جائزے کے بعد ماہرین کی ایک کثیر الشعبہ ٹیم نے اس انتہائی نایاب اور مشکل ترین جراحی کیس کے لیے ایک جامع علاج کا منصوبہ تیار کیا۔ اس ٹیم میں دل کی سرجری، ہیپاٹوپینکریٹیکو بلیری سرجری، گائناکولوجک آنکولوجی سرجری، دل کی اینستھیزیا اور انتہائی نگہداشت کے ماہرین شامل تھے۔

سولہ گھنٹے سے زائد جاری رہنے والا آپریشن

مریضہ کا آپریشن غیر معمولی طور پر پیچیدہ تھا اور سولہ گھنٹے سے زائد جاری رہا۔ جراحی ٹیم نے وہ ٹیومر نکالا جو شرونی سے خون کی نالیوں کے ذریعے دل تک پھیل چکا تھا، اور اس میں جگر کی رگوں اور بڑی خون کی نالیوں تک اس کی توسیع بھی شامل تھی۔ ٹیم نے بچہ دانی میں ٹیومر کی اصل جڑ کو بھی مکمل طور پر نکالا اور دل کی متاثرہ دیوار اور خون کی نالیوں کی تعمیرِ نو کی۔

کیا ایک ہی آپریشن میں یہ سب کچھ انجام دینا مریضہ کے لیے فیصلہ کن فرق ثابت ہوا؟ ایس پی اے کے مطابق، اس طریقہ کار نے مریضہ کو متعدد خطرناک آپریشنز سے بچایا، پیچیدگیوں کا خطرہ کم کیا اور تیز بحالی میں مدد دی۔ عام طور پر ایسے کیسز میں مریضوں کو وقت کے ساتھ کئی آپریشنز سے گزرنا پڑتا ہے، جن میں بحالی طویل ہوتی ہے اور جسمانی و جذباتی بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ اس مربوط طریقہ کار نے یہ بوجھ کم کیا اور علاج کا زیادہ محفوظ اور زیادہ موثر راستہ فراہم کیا۔

مریضہ کی علامات میں تھکاوٹ، سانس کی قلت، اوپری پیٹ کا درد اور غیر معمولی uterine bleeding شامل تھیں۔ یہ علامات جب الگ الگ دیکھی جائیں تو کسی عام بیماری کا گمان ہوتا ہے، مگر امیجنگ نے بتایا کہ ٹیومر بڑی رگوں کے راستے دل تک جا پہنچا ہے۔ کیا یہی وہ لمحہ نہیں جب تشخیص کا ہر مرحلہ فیصلہ کن بن جاتا ہے؟ انفیرئیر وینا کاوا اور دائیں ایٹریم تک پہنچنے کا مطلب یہ تھا کہ دورانِ خون اور دل کے فعل دونوں کو خطرہ لاحق ہے، اور اسی لیے علاج کے منصوبے میں دل، جگر، بچہ دانی اور انتہائی نگہداشت کے ماہرین کو ایک ساتھ لانا ضروری تھا۔

ہسپتال نے بتایا کہ تفصیلی تشخیصی جانچ اور جامع جائزے کے بعد ہی کثیر الشعبہ ٹیم نے علاج کا منصوبہ بنایا۔ اس ٹیم کی تشکیل میں دل کی سرجری، ہیپاٹوپینکریٹیکو بلیری سرجری، گائناکولوجک آنکولوجی سرجری، دل کی اینستھیزیا اور انتہائی نگہداشت کے شعبے شامل تھے۔ کیا یہ کثیر الشعبہ ہم آہنگی ہی ایسے کیسز میں کامیابی کی کلید ہے؟ سولہ گھنٹے سے زائد آپریشن کے دوران ٹیم نے شرونی سے خون کی نالیوں کے ذریعے دل تک پھیلے ٹیومر کو نکالا، جس میں جگر کی رگوں اور بڑی خون کی نالیوں تک اس کی توسیع شامل تھی۔

اس کے ساتھ ہی بچہ دانی میں ٹیومر کی اصل جڑ کو مکمل طور پر نکالا گیا اور دل کی متاثرہ دیوار اور خون کی نالیوں کی تعمیرِ نو کی گئی۔ ایس پی اے کے مطابق، ایک ہی آپریشن میں یہ سب کرنے سے مریضہ متعدد خطرناک سرجریوں سے بچ گئی، پیچیدگیوں کا خطرہ کم ہوا اور بحالی تیز ہوئی۔ کیا عام طور پر ایسے کیسز میں مریضوں کو کئی آپریشنز اور طویل بحالی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا؟ رپورٹ کے مطابق بہت سے ملتے جلتے کیسز میں مریضوں کو وقت کے ساتھ متعدد آپریشنز سے گزرنا پڑتا ہے، جن میں بحالی طویل ہوتی ہے اور جسمانی و جذباتی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

ہسپتال کے مطابق اس مربوط طریقہ کار نے یہ بوجھ کم کیا اور علاج کا زیادہ محفوظ اور زیادہ موثر راستہ فراہم کیا۔ یہ کیس کنگ فیصل اسپیشلٹی ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر کی نایاب اور پیچیدہ کیفیات کے انتظام میں صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ کیا یہی وجہ نہیں کہ ایسے ادارے پیچیدہ کیسز کے لیے مرجع سمجھے جاتے ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، اس کیس میں مریضہ کی عمر چالیس سال کے لگ بھگ بتائی گئی ہے، آپریشن سولہ گھنٹے سے زائد جاری رہا، اور علاج میں دل کی سرجری، ہیپاٹوپینکریٹیکو بلیری سرجری، گائناکولوجک آنکولوجی سرجری، دل کی اینستھیزیا اور انتہائی نگہداشت کے ماہرین شامل تھے۔

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مریضہ کو ہسپتال میں کب داخل کیا گیا، آپریشن کی تاریخ کیا تھی، ٹیومر کا سائز کتنا تھا، یا مریضہ کی موجودہ حالت کیا ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ ٹیومر کی قسم کیا تھی یا اس کی تشخیص کے لیے کون سی مخصوص امیجنگ تکنیک استعمال ہوئی۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ آپریشن کے بعد مریضہ کو کتنے دن انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا یا بحالی میں کتنا وقت لگا۔

اس کے علاوہ رپورٹ میں یہ تفصیل بھی موجود نہیں کہ ٹیم میں کتنے ماہرین شامل تھے یا آپریشن کے دوران کون سی مخصوص جراحی تکنیکیں استعمال کی گئیں۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ دل کی دیوار اور خون کی نالیوں کی تعمیرِ نو کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا گیا۔ ان تفصیلات کے بغیر بھی یہ واضح ہے کہ ایک ہی سرجری میں بچہ دانی سے دل تک پھیلے ٹیومر کا مکمل خاتمہ اور متاثرہ اعضاء کی تعمیرِ نو ایک غیر معمولی جراحی کامیابی ہے۔

کیا ایسے کیسز کی رپورٹنگ سے عام لوگوں کو یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ غیر معمولی علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے؟ مریضہ کی ابتدائی علامات تھکاوٹ، سانس کی قلت، اوپری پیٹ کا درد اور غیر معمولی خون آنا تھیں، اور یہی علامات جب ایک ساتھ ظاہر ہوں تو تفصیلی جانچ کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں۔ ہسپتال نے بتایا کہ جدید امیجنگ نے اس نایاب کیفیت کو آشکار کیا جس میں ٹیومر بڑی رگوں کے ذریعے دل تک پہنچا تھا۔ کیا یہی نہیں کہ بروقت تشخیص نے علاج کے لیے ایک مربوط منصوبہ بنانا ممکن کیا؟

ایس پی اے کے مطابق، اس کیس میں کثیر الشعبہ ٹیم نے ایک جامع علاج کا منصوبہ تیار کیا اور اسے ایک ہی آپریشن میں نافذ کیا۔ آپریشن سولہ گھنٹے سے زائد جاری رہا، جس میں شرونی سے دل تک پھیلے ٹیومر کو نکالا گیا، بچہ دانی میں اس کی اصل جڑ کو مکمل طور پر ختم کیا گیا، اور دل کی متاثرہ دیوار اور خون کی نالیوں کی تعمیرِ نو کی گئی۔ ہسپتال کے مطابق اس طریقہ کار نے مریضہ کو متعدد خطرناک آپریشنز سے بچایا، پیچیدگیوں کا خطرہ کم کیا اور تیز بحالی میں مدد دی۔

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آپریشن کے بعد مریضہ کی حالت کیا رہی، نہ ہی یہ کہ اسے ہسپتال سے کب رخصت کیا گیا۔ یہ بھی واضح نہیں کہ ٹیومر کی تشخیص کے لیے کون سی لیبارٹری جانچ کی گئی یا اس کی نوعیت کیا تھی۔ ان تفصیلات کے بغیر بھی یہ کیس اس بات کی مثال ہے کہ نایاب اور پیچیدہ کیفیات میں کثیر الشعبہ تعاون اور ایک ہی مرحلے میں جامع علاج کس طرح مریض کے لیے محفوظ راستہ فراہم کر سکتا ہے۔

اس آپریشن میں کون سی طبی خصوصیات شامل تھیں؟ ایس پی اے کے مطابق ٹیم میں دل کی سرجری، ہیپاٹوپینکریٹیکو بلیری سرجری، گائناکولوجک آنکولوجی سرجری، دل کی اینستھیزیا اور انتہائی نگہداشت کے ماہرین شامل تھے۔ آپریشن سولہ گھنٹے سے زائد جاری رہا اور اس میں شرونی سے خون کی نالیوں کے ذریعے دل تک پھیلے ٹیومر کو نکالا گیا، بچہ دانی میں اس کی اصل جڑ ختم کی گئی اور دل کی متاثرہ دیوار اور خون کی نالیوں کی تعمیرِ نو کی گئی۔

مریضہ میں کون سی علامات ظاہر ہوئیں؟ ایس پی اے کے مطابق مریضہ کو بڑھتی ہوئی تھکاوٹ، سانس لینے میں دشواری، اوپری پیٹ میں درد اور بچہ دانی سے غیر معمولی خون آنا جیسی علامات تھیں۔ ابتدا میں یہ علامات ایک دوسرے سے غیر متعلق معلوم ہوتی تھیں، لیکن جدید امیجنگ نے بتایا کہ ٹیومر بڑی رگوں کے ذریعے دل تک بڑھ گیا تھا اور انفیرئیر وینا کاوا اور دائیں ایٹریم تک پہنچ گیا تھا، جس سے دورانِ خون اور دل کے فعل کو خطرہ تھا۔

ایک ہی سرجری میں علاج کے کیا فوائد بتائے گئے؟ ایس پی اے کے مطابق ایک ہی آپریشن میں ٹیومر نکالنے سے مریضہ متعدد خطرناک سرجریوں سے بچ گئی، پیچیدگیوں کا خطرہ کم ہوا اور بحالی تیز ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق بہت سے ملتے جلتے کیسز میں مریضوں کو وقت کے ساتھ کئی آپریشنز سے گزرنا پڑتا ہے، جن میں بحالی طویل ہوتی ہے اور جسمانی و جذباتی بوجھ بڑھ جاتا ہے، جبکہ اس مربوط طریقہ کار نے یہ بوجھ کم کیا۔

ٹیومر کہاں تک پھیلا ہوا تھا؟ ایس پی اے کے مطابق ٹیومر بچہ دانی سے بڑی رگوں کے ذریعے دل تک بڑھ گیا تھا اور انفیرئیر وینا کاوا اور دائیں ایٹریم تک پہنچ گیا تھا۔ آپریشن کے دوران ٹیم نے ٹیومر کو جگر کی رگوں اور بڑی خون کی نالیوں تک اس کی توسیع سمیت نکالا، بچہ دانی میں اس کی اصل جڑ مکمل طور پر ختم کی اور دل کی متاثرہ دیوار اور خون کی نالیوں کی تعمیرِ نو کی۔

رپورٹ میں کون سی تفصیلات نہیں دی گئیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مریضہ کو کب داخل کیا گیا، آپریشن کی تاریخ کیا تھی، ٹیومر کا سائز کتنا تھا یا مریضہ کی موجودہ حالت کیا ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ ٹیومر کی قسم کیا تھی، کون سی امیجنگ تکنیک استعمال ہوئی، ٹیم میں کتنے ماہرین شامل تھے یا بحالی میں کتنا وقت لگا۔