Sunday, October 25, 2026
سعودی خبریں

کویت نے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی حملے کی شدید مذمت کی

کویت نے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی حملے کی شدید مذمت کی

کویت کی وزارت خارجہ نے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ ریاض پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید مذمت اور مذمت کا اظہار کیا ہے، جس کے نتیجے میں شہریوں بشمول مسافروں اور ایئرپورٹ عملے کے افراد کے جانی نقصان اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے ہیں، اور ایئرپورٹ کے آپریشنز کو عارضی طور پر معطل کرنا پڑا ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، کویت کی وزارت خارجہ نے آج جاری کردہ ایک بیان میں، جسے کویت نیوز ایجنسی (کے یو این اے) نے بھی نشر کیا، اس بات کی تصدیق کی کہ یہ حملہ بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اس طرح کے منظم دشمنانہ اقدامات کا بار بار ہونا جو شہری تنصیبات اور اہم سہولیات کو نشانہ بناتے ہیں، ایک خطرناک اضافہ ہے اور ہوا بازی اور شہریوں کی حفاظت کے لیے براہ راست خطرہ ہے، جس کے لیے ضروری ہے کہ ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

وزارت نے کویت کی سعودی عرب کی حمایت اور اس کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ اور اس کے شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا، اور اس بات پر زور دیا کہ مملکت کی سلامتی کویت اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کی سلامتی کا اٹوٹ حصہ ہے۔

وزارت نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرے اور ان بار بار ہونے والے حملوں کے خلاف سخت موقف اختیار کرے، شہری بنیادی ڈھانچے اور شہری ہوا بازی کی سہولیات کے تحفظ کو یقینی بنائے، مستقبل میں ایسے واقعات کو روکے، اور ذمہ داروں کو ان کے اعمال کے لیے مکمل طور پر جوابدہ ٹھہرائے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کے نتیجے میں ایئرپورٹ کے آپریشنز کو عارضی طور پر معطل کرنا پڑا، جس سے مسافروں اور عملے کو براہ راست متاثر ہونا پڑا۔ کیا ہوا بازی کی سہولیات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کے تحت قابل قبول قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا شہری تنصیبات پر حملے عالمی برادری کے لیے ایک واضح پیغام نہیں ہیں؟

کویت کی وزارت خارجہ کے مطابق، اس حملے میں شہریوں بشمول مسافروں اور ایئرپورٹ عملے کے افراد شامل تھے، جن کا تعلق سعودی عرب اور مختلف دیگر قومیتوں سے تھا۔ وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے حملے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ کیا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کے باوجود ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جا رہا ہے؟

بیان میں کہا گیا کہ اس طرح کے منظم دشمنانہ اقدامات کا بار بار ہونا ایک خطرناک اضافہ ہے اور ہوا بازی اور شہریوں کی حفاظت کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ وزارت نے واضح کیا کہ یہ حملے نہ صرف شہری تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں بلکہ ہوا بازی کی حفاظت کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔ کیا ہوا بازی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری کے پاس کوئی مؤثر طریقہ کار موجود ہے؟

کویت نے سعودی عرب کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مملکت کی سلامتی کویت اور جی سی سی ممالک کی سلامتی کا اٹوٹ حصہ ہے۔ یہ بیان خلیجی تعاون کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے کی سلامتی باہم جڑی ہوئی ہے۔ کیا خلیجی ممالک کی مشترکہ سلامتی کے لیے مزید مربوط اقدامات کی ضرورت نہیں؟

وزارت نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرے اور ان بار بار ہونے والے حملوں کے خلاف سخت موقف اختیار کرے۔ اس مطالبے میں شہری بنیادی ڈھانچے اور شہری ہوا بازی کی سہولیات کے تحفظ کو یقینی بنانا، مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنا، اور ذمہ داروں کو ان کے اعمال کے لیے مکمل طور پر جوابدہ ٹھہرانا شامل ہے۔ کیا عالمی برادری ان مطالبات کو پورا کرنے کے لیے تیار ہے؟

یہ بیان کویت نیوز ایجنسی (کے یو این اے) کے ذریعے بھی نشر کیا گیا، جس سے اس کی اہمیت مزید واضح ہوتی ہے۔ کویت کی وزارت خارجہ نے اس حملے کو بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ کیا اس طرح کے بیانات خطے میں استحکام کے لیے کوئی عملی حل فراہم کرتے ہیں؟

کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ ریاض کا اہم ترین ہوائی اڈہ ہے، اور اس پر حملے کے نتیجے میں ایئرپورٹ کے آپریشنز کو عارضی طور پر معطل کرنا پڑا۔ اس سے نہ صرف مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ایئرپورٹ کے عملے کو بھی متاثر ہونا پڑا۔ کیا ہوا بازی کے بنیادی ڈھانچے کو اس طرح کے حملوں سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے؟

کویت کی وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے حملے شہریوں کی حفاظت کے لیے براہ راست خطرہ ہیں اور ان کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ وزارت نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ شہری بنیادی ڈھانچے اور شہری ہوا بازی کی سہولیات کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ کیا اس طرح کے مطالبات کے باوجود شہری تنصیبات پر حملے روکے جا سکتے ہیں؟

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ مملکت کی سلامتی کویت اور جی سی سی ممالک کی سلامتی کا اٹوٹ حصہ ہے، جو خلیجی تعاون کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔ کویت نے سعودی عرب کے تمام اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا جو اس کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ اور اس کے شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے۔ کیا خلیجی ممالک کی مشترکہ سلامتی کے لیے مزید تعاون کی ضرورت ہے؟

واضح رہے کہ یہ بیان سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے ذریعے جاری کیا گیا، جس میں کویت کی وزارت خارجہ کے موقف کی مکمل تفصیل موجود ہے۔ وزارت نے اس حملے کو بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔ کیا بین الاقوامی برادری اس طرح کے حملوں کے خلاف متحد ہو سکتی ہے؟

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حملے میں کتنے افراد ہلاک یا زخمی ہوئے، نہ ہی ایئرپورٹ کے آپریشنز کب بحال ہوئے۔ ایس پی اے نے یہ بھی نہیں بتایا کہ حملے کی ذمہ داری کس نے قبول کی یا اس کے بعد کیا اقدامات کیے گئے۔ کیا اس طرح کی معلومات کی کمی عوامی تحفظ کے لیے تشویش کا باعث نہیں؟

کویت نے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے پر کیا ردعمل دیا؟ کویت کی وزارت خارجہ نے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ ریاض پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید مذمت اور مذمت کی۔ وزارت نے اسے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ حملے کے نتیجے میں شہریوں بشمول مسافروں اور ایئرپورٹ عملے کے افراد کے جانی نقصان اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے، اور ایئرپورٹ کے آپریشنز کو عارضی طور پر معطل کرنا پڑا۔

حملے میں کون متاثر ہوا اور اس کے کیا نتائج برآمد ہوئے؟ کویت کی وزارت خارجہ کے مطابق، حملے میں شہریوں بشمول مسافروں اور ایئرپورٹ عملے کے افراد شامل تھے، جن کا تعلق سعودی عرب اور مختلف دیگر قومیتوں سے تھا۔ اس حملے کے نتیجے میں جانی نقصان اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔ وزارت نے بتایا کہ اس حملے کی وجہ سے ایئرپورٹ کے آپریشنز کو عارضی طور پر معطل کرنا پڑا، جس سے مسافروں اور عملے کو براہ راست مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

کویت نے عالمی برادری سے کیا مطالبہ کیا؟ کویت کی وزارت خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرے اور ان بار بار ہونے والے حملوں کے خلاف سخت موقف اختیار کرے۔ وزارت نے کہا کہ شہری بنیادی ڈھانچے اور شہری ہوا بازی کی سہولیات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، مستقبل میں ایسے واقعات کو روکا جائے، اور ذمہ داروں کو ان کے اعمال کے لیے مکمل طور پر جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

کویت نے سعودی عرب کی حمایت کا اعادہ کیسے کیا؟ کویت کی وزارت خارجہ نے سعودی عرب کی حمایت اور اس کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ اور اس کے شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا۔ وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ مملکت کی سلامتی کویت اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کی سلامتی کا اٹوٹ حصہ ہے، جو خلیجی تعاون کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔

اس بیان کو کس ذریعے جاری کیا گیا؟ کویت کی وزارت خارجہ کا یہ بیان آج جاری کیا گیا اور اسے کویت نیوز ایجنسی (کے یو این اے) نے بھی نشر کیا۔ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بھی اس بیان کو رپورٹ کیا۔ بیان میں وزارت نے اس حملے کو بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔

رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں ہیں؟ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حملے میں کتنے افراد ہلاک یا زخمی ہوئے، نہ ہی ایئرپورٹ کے آپریشنز کب بحال ہوئے۔ ایس پی اے نے یہ بھی نہیں بتایا کہ حملے کی ذمہ داری کس نے قبول کی یا اس کے بعد کیا اقدامات کیے گئے۔ اس طرح کی معلومات کی کمی عوامی تحفظ کے لیے تشویش کا باعث ہو سکتی ہے۔