ریاض میں جمعرات 10 اکتوبر 2026 کو جاری ہونے والے اعلان کے مطابق، پاسپورٹ جنرل ڈائریکٹوریٹ اتوار 11 اکتوبر سے سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر موجود یمنی شہریوں کی حیثیت کو باقاعدہ بنانے کا عمل شروع کرے گا، جو دو ماہ پر محیط ہوگا اور مملکت کے تمام علاقوں میں متعلقہ حکام کے تعاون سے نافذ کیا جائے گا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، یہ اقدام وزارت داخلہ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی ہدایات کا ذکر ہے، اور یہ ہدایات یمنی صدارتی قیادت کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر رشاد محمد العلیمی کی درخواست کے جواب میں جاری کی گئی ہیں۔
ڈائریکٹوریٹ کے مطابق باقاعدگی کا یہ عمل چار اقسام پر لاگو ہوگا۔ پہلی قسم ان افراد کی ہے جو یمنی دستاویزات یا پاسپورٹ نہیں رکھتے۔ ایسے افراد کو چھ ماہ کا مفت وزٹ ویزا دیا جائے گا۔ انہیں ابشر پلیٹ فارم کے ذریعے اپائنٹمنٹ بک کرنا ہوگی، باقاعدگی کا مرکز منتخب کرنا ہوگا، اور مقررہ وقت اور مقام پر یمنی قومیت کے ثبوت کے ساتھ حاضر ہونا ہوگا، جیسے پاسپورٹ یا ان کے ملک کے سفارت خانے کی جاری کردہ سفری دستاویز۔
کیا یہ بات حیران کن نہیں کہ جن افراد کے پاس کوئی دستاویز ہی نہیں، ان کے لیے بھی راستہ کھلا رکھا گیا ہے؟
دوسری قسم ان افراد کی ہے جو میعاد ختم شدہ وزٹر آئی ڈی یا کسی بھی قسم کے ویزا کے حامل ہیں اور جن کا بایو میٹرک ڈیٹا پہلے ہی سعودی عرب کے نظاموں میں رجسٹرڈ ہے۔ ایسے افراد کے ویزا الیکٹرانک طور پر چھ ماہ کے لیے بڑھا دیے جائیں گے، اور انہیں پاسپورٹ آفس جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ تاہم اس کے لیے درست پاسپورٹ ہونا لازمی شرط ہے۔
تیسری قسم ان افراد کی ہے جن کے رہائشی اجازت نامے یعنی اقامہ کی میعاد ختم ہوچکی ہے مگر ان کی سفری دستاویزات درست ہیں۔ ایسے افراد وزارت داخلہ اور وزارت انسانی وسائل و سماجی ترقی کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ان آجروں میں منتقل ہوسکتے ہیں جنہیں ان کی خدمات کی ضرورت ہے۔ ان پلیٹ فارمز میں ابشر، پیشہ ور کارکنوں کے لیے قویٰ، اور گھریلو کارکنوں کے لیے مساند شامل ہیں۔ انہیں کسی سرکاری دفتر جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ جو افراد ملک چھوڑنا چاہیں، وہ حتمی ایگزٹ ویزا حاصل کرسکتے ہیں، اور اس پر سعودی عرب میں دوبارہ داخلے کی کوئی پابندی نہیں ہوگی۔
کیا یہ سہولت ان کارکنوں کے لیے ایک نیا آغاز ثابت ہوسکتی ہے جو برسوں سے قانونی حیثیت کے بغیر زندگی گزار رہے تھے؟
چوتھی قسم ان افراد کی ہے جنہیں کام سے غیر حاضر رپورٹ کیا گیا ہے اور جن کی سفری دستاویزات درست ہیں۔ ایسے افراد اپنی حیثیت درست کرسکتے ہیں، یعنی رپورٹ منسوخ کروا کر پیشہ ور کارکنوں کے لیے قویٰ یا گھریلو کارکنوں کے لیے مساند کے ذریعے دوسرے آجروں میں منتقل ہوسکتے ہیں۔
ڈائریکٹوریٹ نے بتایا کہ 23 مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ تاہم دستیاب معلومات میں یہ تفصیل شامل نہیں کہ یہ مراکز کس کس شہر یا علاقے میں واقع ہیں، نہ ہی ہر مرکز کی گنجائش یا عملے کی تعداد کے بارے میں کوئی عدد دیا گیا ہے۔
یہ پورا عمل دو ماہ پر محیط ہے، یعنی اتوار 11 اکتوبر 2026 سے شروع ہوکر تقریباً دسمبر کے وسط تک جاری رہے گا۔ اس عرصے میں تمام علاقوں میں متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔
کیا دو ماہ کا یہ دورانیہ اتنی بڑی تعداد میں درخواستوں کے لیے کافی ہوگا؟
غور طلب بات یہ ہے کہ چاروں اقسام میں کسی بھی درخواست گزار کو باقاعدگی کے لیے کوئی فیس ادا کرنے کا ذکر نہیں ہے، سوائے اس کے کہ پہلی قسم کے افراد کو چھ ماہ کا مفت وزٹ ویزا دیا جائے گا۔ دوسری قسم میں ویزا الیکٹرانک طور پر بڑھایا جائے گا، تیسری اور چوتھی قسم میں منتقلی یا ایگزٹ ویزا کے مراحل ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مکمل ہوں گے۔
ابشر پلیٹ فارم اس عمل میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ پہلی قسم کے افراد کے لیے اپائنٹمنٹ بکنگ اسی پلیٹ فارم سے ہوگی، جبکہ دوسری قسم کے افراد کو پلیٹ فارم پر کسی قسم کی حاضری کی ضرورت نہیں۔ تیسری اور چوتھی قسم میں قویٰ اور مساند کا استعمال آجر کی تبدیلی کے لیے کیا جائے گا۔
کیا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بوجھ بڑھنے سے کارروائی میں تاخیر ہوسکتی ہے؟
قابل ذکر ہے کہ پہلی قسم میں یمنی قومیت کے ثبوت کے طور پر پاسپورٹ یا ملک کے سفارت خانے کی جاری کردہ سفری دستاویز قابل قبول ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جن افراد کے پاس اپنے ملک کا پاسپورٹ نہیں، وہ بھی سفارت خانے سے دستاویز حاصل کرکے اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
دوسری قسم میں بایو میٹرک ڈیٹا کی موجودگی شرط رکھی گئی ہے۔ اگر کسی فرد کا بایو میٹرک ڈیٹا سعودی نظاموں میں رجسٹرڈ نہ ہو تو وہ اس خودکار توسیع سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا، اور اسے دیگر اقسام کے تحت اپنی صورتحال دیکھنی ہوگی۔
تیسری قسم میں اقامہ کی میعاد ختم ہونے کے باوجود سفری دستاویز کا درست ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آجر کی تبدیلی کے لیے وزارت داخلہ اور وزارت انسانی وسائل و سماجی ترقی دونوں کے پلیٹ فارمز استعمال ہوں گے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عمل میں کئی ادارے شامل ہیں۔
کیا آجر وہ کارکن قبول کرنے کو تیار ہوں گے جن کا اقامہ پہلے ہی ختم ہوچکا ہے؟
چوتھی قسم ان افراد کے لیے ہے جنہیں کام سے غیر حاضر رپورٹ کیا گیا۔ ایسے افراد کے لیے رپورٹ منسوخ کروانا پہلا قدم ہوگا، اور اس کے بعد قویٰ یا مساند کے ذریعے دوسرے آجر میں منتقلی ممکن ہوگی۔ یہ بات اہم ہے کہ اس قسم میں بھی سفری دستاویزات کا درست ہونا شرط ہے۔
ڈائریکٹوریٹ نے واضح کیا کہ تیسری قسم کے تحت جو افراد ملک چھوڑنا چاہیں، وہ حتمی ایگزٹ ویزا لے سکتے ہیں اور اس پر دوبارہ داخلے کی کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ یہ بات ان افراد کے لیے خاصی اہمیت رکھتی ہے جو کسی وجہ سے مملکت میں رہنا نہیں چاہتے مگر قانونی حیثیت کے خدشے کے باعث واپس نہیں جاسکتے تھے۔
کیا حتمی ایگزٹ ویزا لینے والے افراد کو دوبارہ داخلے کی اجازت دینا ان کے لیے فیصلہ آسان بنا دے گا؟
یہ اقدام وزارت داخلہ کے اعلان کے بعد عمل میں آ رہا ہے، اور وزارت داخلہ نے اسے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی ہدایات قرار دیا ہے۔ ہدایات یمنی صدارتی قیادت کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر رشاد محمد العلیمی کی درخواست کے جواب میں جاری کی گئیں۔
اس پس منظر میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ معاملہ دو طرفہ سطح پر زیر غور رہا ہے، اور اس کا تعلق یمنی شہریوں کی موجودگی سے ہے جو سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔ باقاعدگی کا عمل تمام علاقوں میں نافذ ہوگا، جس کا مطلب ہے کہ صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہے گا۔
تاہم دستیاب معلومات میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مجموعی طور پر کتنے افراد اس عمل سے مستفید ہوں گے، نہ ہی ہر قسم کے تحت کتنے افراد کے شامل ہونے کا امکان ہے۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ 23 مراکز کے علاوہ کوئی عارضی مرکز قائم کیا جائے گا یا نہیں۔
کیا ان 23 مراکز کی تفصیلات جاری نہ کرنا درخواست گزاروں کے لیے مشکلات پیدا کرے گا؟
پہلی قسم میں اپائنٹمنٹ لینے کا طریقہ کار یہ ہے کہ درخواست گزار ابشر کے ذریعے بکنگ کرے، باقاعدگی کا مرکز منتخب کرے، اور مقررہ وقت اور مقام پر یمنی قومیت کے ثبوت کے ساتھ حاضر ہو۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمل میں حاضری لازمی ہے، جبکہ دوسری قسم میں حاضری کی ضرورت نہیں۔
دوسری قسم کے افراد کے لیے یہ سہولت اس لیے ممکن ہے کہ ان کا بایو میٹرک ڈیٹا پہلے ہی نظام میں موجود ہے، اور ان کے پاس درست پاسپورٹ بھی ہے۔ ایسے افراد کا ویزا چھ ماہ کے لیے الیکٹرانک طور پر بڑھا دیا جائے گا، اور انہیں کسی دفتر جانے کی زحمت نہیں کرنی پڑے گی۔
تیسری قسم میں منتقلی کے لیے دو وزارتوں کے پلیٹ فارمز استعمال ہوں گے۔ پیشہ ور کارکنوں کے لیے قویٰ اور گھریلو کارکنوں کے لیے مساند کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس تقسیم سے اندازہ ہوتا ہے کہ کارکنوں کی اقسام کے مطابق راستے الگ رکھے گئے ہیں۔
کیا گھریلو کارکنوں کے لیے مساند اور پیشہ ور کارکنوں کے لیے قویٰ کا استعمال عمل کو آسان بنائے گا؟
چوتھی قسم میں بھی یہی دو پلیٹ فارم استعمال ہوں گے، یعنی قویٰ پیشہ ور کارکنوں کے لیے اور مساند گھریلو کارکنوں کے لیے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس قسم میں پہلے کام سے غیر حاضری کی رپورٹ منسوخ کروانا ہوگی، اور اس کے بعد منتقلی ممکن ہوگی۔
مجموعی طور پر یہ عمل چار الگ الگ راستے پیش کرتا ہے، جن میں سے ہر ایک کے اپنے تقاضے ہیں۔ کسی ایک راستے کی شرائط دوسرے پر لاگو نہیں ہوتیں، اور درخواست گزار کو اپنی صورتحال کے مطابق درست راستہ چننا ہوگا۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پہلی قسم میں چھ ماہ کا وزٹ ویزا مفت دیا جائے گا، جبکہ دیگر اقسام میں توسیع یا منتقلی کا ذکر ہے مگر فیس کا کوئی تذکرہ نہیں۔ دستیاب معلومات میں اس حوالے سے کوئی رقم یا ادائیگی کا طریقہ کار بیان نہیں کیا گیا۔
کیا مفت وزٹ ویزا دینے کا فیصلہ ان افراد کے لیے فوری ریلیف کا باعث بنے گا جو دستاویزات سے محروم ہیں؟
دو ماہ کی مدت اتوار 11 اکتوبر 2026 سے شروع ہوگی، اور یہ عمل تمام علاقوں میں متعلقہ حکام کے تعاون سے چلے گا۔ اس دوران درخواست گزاروں کو مشورہ دیا جائے گا کہ وہ مقررہ مراحل کی پاسداری کریں، تاکہ عمل میں رکاوٹ نہ آئے۔
تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اگر کوئی فرد دو ماہ کی مدت میں اپنی درخواست مکمل نہ کرسکے تو اس کا کیا انجام ہوگا، نہ ہی یہ کہ مدت میں توسیع کا کوئی امکان ہے یا نہیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ 23 مراکز کے علاوہ آن لائن سہولیات کس حد تک دستیاب ہوں گی۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ تفصیل موجود نہیں کہ باقاعدگی کے بعد ان افراد کی قانونی حیثیت مستقل بنیادوں پر کیسے طے ہوگی، نہ ہی یہ کہ چھ ماہ کے وزٹ ویزا کی مدت ختم ہونے پر کیا طریقہ کار اپنایا جائے گا۔ ان نکات کے بارے میں مزید معلومات کا انتظار ہے۔
باقاعدگی کا عمل کب شروع ہوگا اور کتنی مدت تک جاری رہے گا؟ پاسپورٹ جنرل ڈائریکٹوریٹ کے مطابق یہ عمل اتوار 11 اکتوبر 2026 سے شروع ہوگا اور دو ماہ پر محیط ہوگا۔ یہ مملکت کے تمام علاقوں میں متعلقہ حکام کے تعاون سے نافذ کیا جائے گا۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں مدت میں توسیع یا اس کے بعد کے مرحلے کا ذکر نہیں کیا گیا۔
کن افراد کو چھ ماہ کا مفت وزٹ ویزا ملے گا؟ وہ افراد جو یمنی دستاویزات یا پاسپورٹ نہیں رکھتے، انہیں چھ ماہ کا مفت وزٹ ویزا دیا جائے گا۔ انہیں ابشر پلیٹ فارم سے اپائنٹمنٹ بک کرنا ہوگی، باقاعدگی کا مرکز منتخب کرنا ہوگا، اور مقررہ وقت پر یمنی قومیت کے ثبوت کے ساتھ حاضر ہونا ہوگا، جیسے پاسپورٹ یا سفارت خانے کی جاری کردہ سفری دستاویز۔
میعاد ختم شدہ ویزا رکھنے والوں کو کیا سہولت دی جائے گی؟ جو افراد میعاد ختم شدہ وزٹر آئی ڈی یا کسی بھی قسم کے ویزا کے حامل ہیں اور جن کا بایو میٹرک ڈیٹا سعودی نظاموں میں رجسٹرڈ ہے، ان کے ویزا الیکٹرانک طور پر چھ ماہ کے لیے بڑھا دیے جائیں گے۔ انہیں پاسپورٹ آفس جانے کی ضرورت نہیں ہوگی، تاہم درست پاسپورٹ ہونا لازمی شرط ہے۔
اقامہ ختم ہونے والے افراد آجر کیسے تبدیل کرسکتے ہیں؟ جن افراد کے اقامہ کی میعاد ختم ہوچکی ہے مگر سفری دستاویزات درست ہیں، وہ وزارت داخلہ اور وزارت انسانی وسائل و سماجی ترقی کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے آجر تبدیل کرسکتے ہیں۔ پیشہ ور کارکنوں کے لیے قویٰ اور گھریلو کارکنوں کے لیے مساند استعمال ہوگا۔ انہیں سرکاری دفتر جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
کام سے غیر حاضر رپورٹ افراد کے لیے کیا طریقہ کار ہے؟ جن افراد کو کام سے غیر حاضر رپورٹ کیا گیا ہے اور جن کی سفری دستاویزات درست ہیں، وہ رپورٹ منسوخ کروا کر اپنی حیثیت درست کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد وہ قویٰ کے ذریعے پیشہ ور کارکنوں کے طور پر یا مساند کے ذریعے گھریلو کارکنوں کے طور پر دوسرے آجروں میں منتقل ہوسکتے ہیں۔
ملک چھوڑنے والوں کے لیے کیا شرائط ہیں؟ اقامہ کی میعاد ختم ہونے والے افراد میں سے جو ملک چھوڑنا چاہیں، وہ حتمی ایگزٹ ویزا حاصل کرسکتے ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ کے مطابق اس پر سعودی عرب میں دوبارہ داخلے کی کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ رپورٹ میں ایگزٹ ویزا کے لیے فیس یا اضافی شرائط کا ذکر نہیں کیا گیا۔