Sunday, October 18, 2026
سائنس

اسلامی یونیورسٹی مدینہ QS عرب ریجن یونیورسٹی رینکنگ 2027 میں 32 مقامات آگے بڑھ گئی

اسلامی یونیورسٹی مدینہ QS عرب ریجن یونیورسٹی رینکنگ 2027 میں 32 مقامات آگے بڑھ گئی

اسلامی یونیورسٹی مدینہ QS عرب ریجن یونیورسٹی رینکنگ 2027 میں 32 مقامات آگے بڑھ کر 118ویں سے 86ویں نمبر پر آ گئی ہے، جو سعودی یونیورسٹیوں میں سب سے بڑی اور عرب یونیورسٹیوں میں دوسری سب سے بڑی بہتری ہے۔ یہ درجہ بندی عالمی اعلیٰ تعلیم تجزیاتی ادارے QS نے 15 اکتوبر کو جاری کی۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 16 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یونیورسٹی نے قومی سطح پر سعودی یونیورسٹیوں میں آٹھ مقامات کی بہتری ریکارڈ کی، یعنی 28ویں سے 20ویں نمبر پر پہنچی، جبکہ سرکاری یونیورسٹیوں میں پانچ مقامات آگے بڑھ کر 22ویں سے 17ویں نمبر پر آئی۔ یونیورسٹی کا مجموعی اسکور 29.1 سے بڑھ کر 37 پوائنٹس ہو گیا، جو 27.1 فیصد اضافہ ہے اور قابل موازنہ ڈیٹا رکھنے والی سعودی یونیورسٹیوں میں مجموعی اسکور کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔

کیا یہ پیش رفت صرف ایک عددی چھلانگ ہے یا اس کے پیچھے تعلیمی معیار کی حقیقی تبدیلی کارفرما ہے؟ یونیورسٹی نے رینکنگ کے 10 اشاریوں میں سے آٹھ میں بہتری ظاہر کی، جو اس کی تعلیمی، تحقیقی اور بین الاقوامی کارکردگی میں پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے، نیز تعلیمی نتائج کے معیار کو بہتر بنانے اور قومی و عرب سطح پر اپنی مسابقت کو مضبوط کرنے کی کوششوں کا اظہار کرتی ہے۔

قومی اور عرب سطح پر مسابقت

عرب ریجن یونیورسٹی رینکنگ میں 32 مقامات کی بہتری کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی یونیورسٹی مدینہ نے خطے کی بڑی یونیورسٹیوں کے مقابلے میں اپنی پوزیشن نمایاں طور پر بہتر کی ہے۔ یہ بہتری سعودی یونیورسٹیوں میں سب سے بڑی قرار دی گئی ہے، جبکہ عرب یونیورسٹیوں میں یہ دوسری سب سے بڑی بہتری ہے۔ کیا خطے کی دیگر یونیورسٹیاں بھی اسی رفتار سے آگے بڑھ رہی ہیں یا مدینہ کی یونیورسٹی نے اپنا الگ راستہ بنایا ہے؟

قومی سطح پر آٹھ مقامات کی بہتری، یعنی 28ویں سے 20ویں نمبر تک پہنچنا، سعودی یونیورسٹیوں کے درمیان مقابلے کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح سرکاری یونیورسٹیوں میں 22ویں سے 17ویں نمبر تک پانچ مقامات کی چھلانگ سرکاری تعلیمی اداروں کے درمیان بہتری کی دوڑ کا حصہ ہے۔ کیا یہ بہتری مستقل بنیادوں پر برقرار رہ سکے گی؟

مجموعی اسکور میں 29.1 سے 37 پوائنٹس تک کا اضافہ، جو 27.1 فیصد بنتا ہے، اسے قابل موازنہ ڈیٹا رکھنے والی سعودی یونیورسٹیوں میں سب سے بڑا اضافہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یونیورسٹی کی کارکردگی میں مقداری اور معیاری دونوں سطحوں پر بہتری آئی ہے۔ کیا اسکور میں یہ اضافہ تعلیمی نتائج کے معیار میں حقیقی بہتری کا عکس ہے؟

یونیورسٹی نے رینکنگ کے 10 اشاریوں میں سے آٹھ میں بہتری درج کی۔ یہ اشاریے تعلیمی، تحقیقی اور بین الاقوامی کارکردگی سے متعلق ہیں۔ آٹھ اشاریوں میں بہتری کا مطلب ہے کہ یونیورسٹی نے صرف ایک شعبے میں نہیں بلکہ متعدد جہتوں میں ترقی کی ہے۔ کیا یہ کثیر الجہتی بہتری ادارے کی طویل المدتی حکمت عملی کا نتیجہ ہے؟

یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر صالح العقلہ نے سعودی قیادت کا اعلیٰ تعلیم کے مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ کامیابی ادارہ جاتی کوششوں اور فیکلٹی ممبران، محققین، عملے اور طلبہ کی شراکت کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کی جاری ترقی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے اسٹریٹجک اہداف حاصل کرے گی اور سعودی وژن 2030 کے مطابق دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں اپنا مقام مضبوط کرے گی۔

ڈاکٹر صالح العقلہ کے بیان میں یہ بات نمایاں ہے کہ کامیابی کو اجتماعی کوشش قرار دیا گیا، جس میں فیکلٹی، محققین، عملہ اور طلبہ سب شامل ہیں۔ کیا ادارہ جاتی کوششوں کو اس طرح تسلیم کرنا تعلیمی ترقی کے لیے ضروری ہے؟

یونیورسٹی کی جانب سے سعودی وژن 2030 کے ساتھ ہم آہنگی کا ذکر بھی کیا گیا۔ وژن 2030 کے تحت اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں معیار اور مسابقت کو بہتر بنانے پر زور دیا جاتا ہے۔ یونیورسٹی کا یہ عزم کہ وہ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں اپنا مقام مضبوط کرے گی، اس قومی وژن کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ کیا قومی وژن کے ساتھ انفرادی اداروں کی ہم آہنگی طویل المدتی نتائج پیدا کرتی ہے؟

QS کی جانب سے 15 اکتوبر کو جاری کردہ یہ درجہ بندی 2027 کے لیے ہے، جبکہ یونیورسٹی کی 2026 کی درجہ بندی میں 118ویں نمبر پر تھی۔ ایک سال کے عرصے میں 32 مقامات کی بہتری یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی منظم کوششوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ کیا ایک سال میں اتنی بڑی چھلانگ ادارہ جاتی اصلاحات کا نتیجہ ہے؟

یونیورسٹی نے تعلیمی، تحقیقی اور بین الاقوامی کارکردگی میں پیش رفت کو نمایاں کیا ہے۔ ان تینوں شعبوں میں بہتری کا مطلب ہے کہ یونیورسٹی نے صرف تدریسی معیار پر توجہ نہیں دی بلکہ تحقیق اور بین الاقوامی تعاون پر بھی کام کیا۔ کیا تحقیقی اور بین الاقوامی پہلوؤں پر توجہ تعلیمی درجہ بندی میں بہتری کے لیے لازمی ہے؟

یونیورسٹی کی جانب سے تعلیمی نتائج کے معیار کو بہتر بنانے اور قومی و عرب سطح پر مسابقت مضبوط کرنے کی کوششوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ دونوں پہلو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، کیونکہ معیار میں بہتری مسابقت کو بڑھاتی ہے۔ کیا معیار اور مسابقت کے درمیان یہ تعلق تمام تعلیمی اداروں پر لاگو ہوتا ہے؟

رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی نے آٹھ اشاریوں میں بہتری درج کی، جبکہ دو اشاریوں میں بہتری کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ مجموعی طور پر پیش رفت ہوئی لیکن کچھ پہلوؤں میں مزید کام کی گنجائش موجود ہے۔ کیا درجہ بندی کے اشاریوں میں مسلسل بہتری کے لیے جاری کوششیں ضروری ہیں؟

سعودی قیادت کی جانب سے اعلیٰ تعلیم کے مسلسل تعاون کا ذکر یونیورسٹی کے صدر نے کیا۔ اس تعاون میں مالی معاونت، پالیسی حمایت اور ادارہ جاتی رہنمائی شامل ہو سکتی ہے۔ کیا حکومتی تعاون کے بغیر تعلیمی ادارے اس سطح کی بہتری حاصل کر سکتے ہیں؟

یونیورسٹی کے صدر نے فیکلٹی ممبران، محققین، عملے اور طلبہ کی شراکت کو بھی سراہا۔ یہ اجتماعی کوششوں کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ تعلیمی ادارے کی کامیابی صرف انتظامیہ کی کوششوں سے نہیں ہوتی۔ کیا اجتماعی کوششوں کو تسلیم کرنا مزید بہتری کی ترغیب دیتا ہے؟

یونیورسٹی کے اسٹریٹجک اہداف کا ذکر بھی بیان میں شامل ہے۔ اسٹریٹجک اہداف کی تکمیل کے لیے منصوبہ بندی، عمل درآمد اور جائزہ لینے کا عمل ضروری ہوتا ہے۔ یونیورسٹی کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ وہ اپنے اسٹریٹجک اہداف حاصل کرے گی۔ کیا واضح اسٹریٹجک اہداف تعلیمی بہتری کے لیے بنیادی شرط ہیں؟

رینکنگ میں 86ویں نمبر پر پہنچنا یونیورسٹی کے لیے ایک اہم مقام ہے، لیکن اس سے آگے بھی بہت سی یونیورسٹیاں موجود ہیں۔ یونیورسٹی کا عزم ہے کہ وہ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں اپنا مقام مضبوط کرے گی۔ کیا عرب ریجن رینکنگ میں بہتری عالمی درجہ بندی میں بھی بہتری کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے؟

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یونیورسٹی نے کن دو اشاریوں میں بہتری درج نہیں کی، نہ ہی یہ کہ آئندہ سال کے لیے کوئی مخصوص ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ یونیورسٹی کی جانب سے اٹھائے گئے مخصوص اقدامات کیا تھے جن کے نتیجے میں یہ بہتری آئی۔ یہ تفصیلات رپورٹ کا حصہ نہیں ہیں۔

اسلامی یونیورسٹی مدینہ نے QS عرب ریجن یونیورسٹی رینکنگ 2027 میں کتنی بہتری حاصل کی؟ یونیورسٹی 118ویں نمبر سے 32 مقامات آگے بڑھ کر 86ویں نمبر پر آ گئی۔ یہ سعودی یونیورسٹیوں میں سب سے بڑی اور عرب یونیورسٹیوں میں دوسری سب سے بڑی بہتری ہے۔ درجہ بندی QS نے 15 اکتوبر کو جاری کی۔ یونیورسٹی کا مجموعی اسکور 29.1 سے 37 پوائنٹس ہو گیا، جو 27.1 فیصد اضافہ ہے۔

قومی سطح پر یونیورسٹی کی پوزیشن میں کیا تبدیلی آئی؟ سعودی یونیورسٹیوں میں یونیورسٹی آٹھ مقامات آگے بڑھ کر 28ویں سے 20ویں نمبر پر آئی۔ سرکاری یونیورسٹیوں میں پانچ مقامات کی بہتری کے ساتھ 22ویں سے 17ویں نمبر پر پہنچی۔ مجموعی اسکور میں 27.1 فیصد اضافہ قابل موازنہ ڈیٹا رکھنے والی سعودی یونیورسٹیوں میں سب سے بڑا قرار دیا گیا۔

یونیورسٹی نے رینکنگ کے کتنے اشاریوں میں بہتری درج کی؟ یونیورسٹی نے رینکنگ کے 10 اشاریوں میں سے آٹھ میں بہتری ظاہر کی۔ یہ بہتری تعلیمی، تحقیقی اور بین الاقوامی کارکردگی میں پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔ یونیورسٹی نے تعلیمی نتائج کے معیار کو بہتر بنانے اور قومی و عرب سطح پر مسابقت مضبوط کرنے کی کوششیں کیں۔ رپورٹ میں ان دو اشاریوں کا ذکر نہیں جن میں بہتری نہیں ہوئی۔

یونیورسٹی کے صدر نے اس کامیابی پر کیا کہا؟ صدر ڈاکٹر صالح العقلہ نے سعودی قیادت کا اعلیٰ تعلیم کے مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی ادارہ جاتی کوششوں اور فیکلٹی ممبران، محققین، عملے اور طلبہ کی شراکت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی کے اسٹریٹجک اہداف حاصل کرنے اور سعودی وژن 2030 کے مطابق عالمی سطح پر مقام مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

یہ درجہ بندی کب جاری ہوئی اور کس نے جاری کی؟ یہ درجہ بندی عالمی اعلیٰ تعلیم تجزیاتی ادارے QS نے 15 اکتوبر کو جاری کی۔ یہ QS عرب ریجن یونیورسٹی رینکنگ 2027 ہے۔ ایس پی اے نے 16 اکتوبر 2026 کو اس کی اطلاع دی۔ یونیورسٹی 2026 کی درجہ بندی میں 118ویں نمبر پر تھی اور 2027 میں 86ویں نمبر پر آئی۔