Monday, October 19, 2026
سائنس

جمعادی الاولیٰ کا پہلا چوتھائی چاند شمالی سرحدی علاقے کے آسمان پر چمکا

جمعادی الاولیٰ کا پہلا چوتھائی چاند شمالی سرحدی علاقے کے آسمان پر چمکا

عرعر، 19 اکتوبر 2026 — جمعادی الاولیٰ 1448 ہجری کا پہلا چوتھائی چاند اتوار کی شام سعودی عرب کے شمالی سرحدی علاقے کے آسمان پر نمودار ہوا، جس میں سورج کی روشنی نے چاند کے نظر آنے والے نصف حصے کو روشن کیا اور فلکیات کے شوقین افراد کو چاند کی سطح کی خصوصیات اور خطوں کے مشاہدے اور عکس بندی کا موقع فراہم کیا۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، فلکیات اور خلائی کلب کے رکن عدنان خلیفہ نے بتایا کہ چاند نے رات 7:13 بجے سعودی وقت پر اپنے پہلے چوتھائی مرحلے کو پہنچا۔ یہ مرحلہ اس وقت ہوتا ہے جب چاند نئے چاند کے بعد سے زمین کے گرد اپنے مدار کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ مکمل کر لیتا ہے، جس سے یہ زمین سے دیکھنے پر آسمان میں سورج سے تقریباً 90 ڈگری کے فاصلے پر آ جاتا ہے۔

نتیجتاً، چاند کے زمین کی طرف والے حصے کا نصف روشن نظر آتا ہے، جبکہ دوسرا نصف تاریک رہتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ چاند کا یہ آدھا روشن اور آدھا تاریک منظر دراصل سورج، زمین اور چاند کے درمیان ایک نہایت درست ہندسی ترتیب کا نتیجہ ہے؟

خلیفہ نے نوٹ کیا کہ پہلا چوتھائی مرحلہ دوربینوں اور ٹیلی اسکوپوں کے ذریعے چاند کی سطح کے مشاہدے کے بہترین اوقات میں سے ایک ہے۔ روشن اور تاریک حصوں کے درمیان حد کے قریب ترچھے زاویے پر پڑنے والی سورج کی روشنی روشنی اور سائے کے حیران کن تضادات پیدا کرتی ہے، جس سے چاند کے گڑھے، بلند علاقے اور پہاڑی سلسلے زیادہ واضح طور پر نظر آتے ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ چاند کی سطح پر نظر آنے والے یہ گڑھے اور پہاڑی سلسلے اربوں سال پرانے ہیں اور ان کی ساخت آج بھی سائنس دانوں کے لیے تحقیق کا موضوع ہے؟ اسی ترچھی روشنی کی وجہ سے ان کی گہرائی اور اونچائی کا اندازہ لگانا ممکن ہوتا ہے، جو عام طور پر پورے چاند کی روشنی میں دھندلا جاتا ہے۔

اس مرحلے کے دوران، چاند غروب آفتاب کے بعد آسمان میں بلند نظر آتا ہے اور رات کے ابتدائی اوقات تک نظر آتا رہتا ہے، پھر آدھی رات کے قریب غروب ہو جاتا ہے۔ خلیفہ نے وضاحت کی کہ آنے والے دنوں میں چاند کا نظر آنے والا حصہ بتدریج بڑھتا رہے گا یہاں تک کہ چاند اپنے پورے مرحلے تک پہنچ جائے گا۔

کیا آپ نے کبھی رات کے مختلف اوقات میں چاند کی پوزیشن میں ہونے والی اس بتدریج تبدیلی کو غور سے دیکھا ہے؟ یہ تبدیلی دراصل چاند کے زمین کے گرد مدار کی رفتار اور سورج کے ساتھ اس کے بدلتے زاویے کی عکاسی کرتی ہے، جو ہر رات آسمان پر ایک مختلف منظر پیش کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چاند کے بدلتے مراحل کا مشاہدہ فلکیات کے بارے میں عوام کی سمجھ کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جس سے شوقین افراد کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے کہ وہ آسمانی اجسام کی عکس بندی کریں اور چاند کے زمین کے گرد مدار سے وابستہ مظاہر کے بارے میں مزید جانیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ چاند کے مراحل کا مشاہدہ کرنا فلکیات سیکھنے کا سب سے آسان اور کم خرچ طریقہ ہے؟ نہ کسی مہنگی دوربین کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ کسی خاص جگہ کی، صرف صاف آسمان اور تھوڑا سا وقت کافی ہے۔

پہلا چوتھائی مرحلہ فلکیاتی اعتبار سے اس لیے بھی اہم ہے کہ اس وقت چاند کی سطح پر روشنی اور سائے کی حد بالکل واضح ہوتی ہے۔ یہ وہی حد ہے جسے انگریزی میں ٹرمینیٹر کہا جاتا ہے اور یہی وہ خطہ ہے جہاں سے چاند کی سطح کی بلندیوں اور گہرائیوں کا بہترین اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ چاند کی سطح پر موجود گڑھے اور پہاڑی سلسلے اس وقت زیادہ نمایاں کیوں نظر آتے ہیں جب چاند آدھا روشن ہو؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ سورج کی روشنی اس وقت سطح پر ترچھی پڑتی ہے، جس سے ہر اونچائی اور گہرائی اپنا سایہ بناتی ہے اور تصویر میں گہرائی پیدا ہوتی ہے۔

شمالی سرحدی علاقے کے آسمان پر اس مرحلے کا نمودار ہونا فلکیات کے شوقین افراد کے لیے ایک اور موقع تھا کہ وہ اپنی دوربینوں اور کیمراں کی مدد سے چاند کی سطح کے مناظر کو قلمبند کریں۔ عرعر اور اس کے گرد و نواح میں صاف آسمان نے مشاہدے کو مزید آسان بنا دیا۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ چاند کے مراحل کا تعین اسلامی کیلنڈر کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے؟ جمعادی الاولیٰ 1448 ہجری کا یہ پہلا چوتھائی مرحلہ اسی فلکیاتی ترتیب کا حصہ ہے جو ہر ماہ کے آغاز اور اختتام کا تعین کرنے میں مدد دیتا ہے۔

خلیفہ کے مطابق، چاند کے مراحل کا مشاہدہ نہ صرف سائنسی دلچسپی کا باعث ہے بلکہ یہ عوام میں فلکیات کے بارے میں آگاہی بڑھانے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ انہوں نے شوقین افراد کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ آسمانی اجسام کی عکس بندی کریں اور چاند کے زمین کے گرد مدار سے وابستہ مظاہر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں۔

کیا آپ نے کبھی رات کے آسمان کو ایک تعلیمی میدان کے طور پر دیکھا ہے؟ چاند کے مراحل، اس کی پوزیشن اور اس کی سطح کی تفصیلات سب مل کر ایک ایسا سبق بناتے ہیں جو کسی کتاب میں نہیں ملتا، لیکن ہر رات آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔

پہلے چوتھائی مرحلے کے بعد چاند کا روشن حصہ ہر رات بڑھتا جائے گا، یہاں تک کہ یہ اپنے پورے مرحلے تک پہنچ جائے گا۔ یہ بتدریج تبدیلی چاند کے زمین کے گرد مدار کی رفتار کو ظاہر کرتی ہے اور فلکیات کے شوقین افراد کے لیے مشاہدے کا ایک مسلسل سلسلہ فراہم کرتی ہے۔

کیا آپ نے کبھی ایک ہی مہینے میں چاند کی شکل میں ہونے والی تمام تبدیلیوں کو مسلسل نوٹ کیا ہے؟ اگر نہیں، تو یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو کسی بھی شوقین کے لیے فلکیات کی بنیادی سمجھ حاصل کرنے کا آسان ترین راستہ ہو سکتا ہے۔

ایس پی اے کی اس رپورٹ میں چاند کے پہلے چوتھائی مرحلے کے وقت، اس کی آسمان میں پوزیشن اور مشاہدے کی افادیت کے بارے میں تفصیلات دی گئی ہیں۔ رپورٹ میں اس مرحلے کے دوران درجہ حرارت، موسمی حالات یا مشاہدے کے لیے مخصوص مقامات کا ذکر نہیں کیا گیا۔

پہلا چوتھائی چاند کب اور کہاں نظر آیا؟ جمعادی الاولیٰ 1448 ہجری کا پہلا چوتھائی چاند اتوار کی شام سعودی عرب کے شمالی سرحدی علاقے کے آسمان پر نمودار ہوا۔ فلکیات اور خلائی کلب کے رکن عدنان خلیفہ کے مطابق چاند نے رات 7:13 بجے سعودی وقت پر اپنے پہلے چوتھائی مرحلے کو پہنچا۔ اس وقت سورج کی روشنی نے چاند کے نظر آنے والے نصف حصے کو روشن کیا جبکہ دوسرا نصف تاریک رہا۔

پہلا چوتھائی مرحلہ کیسے بنتا ہے؟ یہ مرحلہ اس وقت ہوتا ہے جب چاند نئے چاند کے بعد سے زمین کے گرد اپنے مدار کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ مکمل کر لیتا ہے۔ اس وقت چاند زمین سے دیکھنے پر آسمان میں سورج سے تقریباً 90 ڈگری کے فاصلے پر آ جاتا ہے۔ نتیجتاً چاند کے زمین کی طرف والے حصے کا نصف روشن نظر آتا ہے جبکہ باقی نصف تاریک رہتا ہے۔

یہ مرحلہ چاند کے مشاہدے کے لیے بہترین کیوں ہے؟ خلیفہ کے مطابق پہلا چوتھائی مرحلہ دوربینوں اور ٹیلی اسکوپوں کے ذریعے چاند کی سطح کے مشاہدے کے بہترین اوقات میں سے ایک ہے۔ روشن اور تاریک حصوں کے درمیان حد کے قریب ترچھے زاویے پر پڑنے والی سورج کی روشنی روشنی اور سائے کے تضادات پیدا کرتی ہے۔ اس سے چاند کے گڑھے، بلند علاقے اور پہاڑی سلسلے زیادہ واضح طور پر نظر آتے ہیں۔

اس مرحلے میں چاند آسمان پر کتنی دیر رہتا ہے؟ خلیفہ کے مطابق اس مرحلے کے دوران چاند غروب آفتاب کے بعد آسمان میں بلند نظر آتا ہے اور رات کے ابتدائی اوقات تک نظر آتا رہتا ہے۔ پھر یہ آدھی رات کے قریب غروب ہو جاتا ہے۔ آنے والے دنوں میں چاند کا نظر آنے والا حصہ بتدریج بڑھتا رہے گا یہاں تک کہ چاند اپنے پورے مرحلے تک پہنچ جائے گا۔

چاند کے مراحل کا مشاہدہ عوام کے لیے کیوں مفید ہے؟ خلیفہ نے کہا کہ چاند کے بدلتے مراحل کا مشاہدہ فلکیات کے بارے میں عوام کی سمجھ کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس سے شوقین افراد کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے کہ وہ آسمانی اجسام کی عکس بندی کریں۔ وہ چاند کے زمین کے گرد مدار سے وابستہ مظاہر کے بارے میں بھی مزید معلومات حاصل کر سکتے ہیں، جس سے فلکیات سے عوامی دلچسپی بڑھتی ہے۔

رپورٹ میں کون سی تفصیلات شامل نہیں کی گئیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں چاند کے پہلے چوتھائی مرحلے کا وقت، آسمان میں اس کی پوزیشن اور مشاہدے کی افادیت بیان کی گئی ہے۔ تاہم رپورٹ میں اس مرحلے کے دوران درجہ حرارت، موسمی حالات یا مشاہدے کے لیے مخصوص مقامات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس میں چاند کی سطح کے کسی خاص خطے یا عکس بندی کے نتائج کا بھی تذکرہ نہیں ہے۔