پیرس میں منعقدہ انٹرنیشنل فیڈریشن آف عریبین ہارس ریسنگ اتھارٹیز (IFAHR) کی 29ویں جنرل اسمبلی میں سعودی عرب نے شرکت کی، اور اس موقع پر ریاض ریسنگ سیزن کے کیلنڈر میں شامل دو ریسوں کو بین الاقوامی درجہ بندی میں ترقی دی گئی۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، جاکی کلب آف سعودی عربیہ کے سی ای او پرنس سلمان بن عبداللہ بن سلمان بن محمد آل سعود نے کلب کی ایگزیکٹو ٹیم کے ہمراہ ہفتے کے روز اس جنرل اسمبلی میں شرکت کی، جو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں منعقد ہوئی۔
جنرل اسمبلی میں عربی گھوڑوں کی ریسنگ سے متعلق متعدد موضوعات پر بات چیت کی گئی، جن میں رکن ممالک اور تنظیموں کے درمیان تعاون اور رابطہ کاری کو مضبوط بنانے کے طریقے، اس کھیل کو مزید ترقی دینا اور اس کی بین الاقوامی موجودگی کو بڑھانا شامل تھا۔ کیا یہ ایک ایسا موقع نہیں جہاں عالمی سطح پر عربی گھوڑوں کی ریسنگ کی سمت کا تعین ہوتا ہے؟
اجلاس کے دوران دو ریسوں کو بین الاقوامی درجہ بندی میں اپ گریڈ کیا گیا۔ امام ترکی بن عبداللہ تلوار کو گروپ 3 سے گروپ 2 میں ترقی دی گئی، جبکہ شہزادی نوری بنت عبدالرحمٰن بن فیصل کپ کو لسٹڈ اسٹیٹس سے گروپ 3 میں اپ گریڈ کیا گیا۔ یہ دونوں ریسیں ریاض ریسنگ سیزن کے کیلنڈر کا حصہ ہیں۔
جاکی کلب آف سعودی عربیہ کے ترجمان فیصل العطاوی نے کہا: “دو ریسوں کی بین الاقوامی اپ گریڈنگ سعودی عرب میں عربی گھوڑوں کی ریسنگ کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے اور یہ اس کے جدید تنظیمی اور تکنیکی معیارات کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ سیزن کے مقابلے کو بڑھاتی ہے اور سعودی عرب میں عربی گھوڑوں کی ریسنگ کی عالمی موجودگی کو مضبوط کرتی ہے۔”
یہ اپ گریڈنگ کس طرح سعودی عرب کی گھڑ دوڑ کی صنعت کے لیے ایک نیا باب کھولتی ہے؟ کیا بین الاقوامی درجہ بندی میں یہ ترقی ریاض سیزن میں شرکت کرنے والے گھوڑوں اور تربیت کاروں کے لیے زیادہ مواقع پیدا کرے گی؟
IFAHR ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جو عربی گھوڑوں کی ریسنگ کے شعبے میں رکن ممالک اور تنظیموں کے درمیان تعاون اور رابطہ کاری کو فروغ دیتا ہے۔ اس کی جنرل اسمبلی ہر سال منعقد ہوتی ہے، جس میں رکن ممالک کے نمائندے شرکت کرتے ہیں اور اس کھیل کی ترقی اور بین الاقوامی موجودگی کے حوالے سے فیصلے کرتے ہیں۔ اس سال یہ اجلاس پیرس میں ہوا، جہاں سعودی وفد نے کلب کی ایگزیکٹو ٹیم کے ساتھ شرکت کی۔
سعودی عرب میں عربی گھوڑوں کی ریسنگ کو خاصی اہمیت حاصل ہے، اور ریاض ریسنگ سیزن خطے کے نمایاں ایونٹس میں شمار ہوتا ہے۔ امام ترکی بن عبداللہ تلوار اور شہزادی نوری بنت عبدالرحمٰن بن فیصل کپ اس سیزن کی اہم ریسیں ہیں، جنہیں اب بین الاقوامی سطح پر زیادہ تسلیم کیا جائے گا۔ کیا یہ ترقی سعودی عرب کو عالمی گھڑ دوڑ کے نقشے پر مزید نمایاں کرے گی؟
ترجمان فیصل العطاوی کے مطابق، ان اپ گریڈنگز سے سیزن کا مقابلہ بڑھے گا اور سعودی عرب میں عربی گھوڑوں کی ریسنگ کی عالمی موجودگی مضبوط ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ پیش رفت سعودی عرب کے جدید تنظیمی اور تکنیکی معیارات کی عکاسی کرتی ہے۔
اجلاس میں رکن ممالک اور تنظیموں کے درمیان تعاون اور رابطہ کاری کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر بھی غور کیا گیا، تاکہ اس کھیل کو مزید ترقی دی جا سکے اور اس کی بین الاقوامی موجودگی کو بڑھایا جا سکے۔ یہ بات کس حد تک بتاتی ہے کہ عربی گھوڑوں کی ریسنگ کو عالمی سطح پر مزید منظم اور پیشہ ورانہ بنانے کی کوششیں جاری ہیں؟
سعودی عرب کی اس شرکت کو اس تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ مملکت کھیلوں کے مختلف شعبوں میں بین الاقوامی سطح پر اپنی موجودگی کو مضبوط کر رہی ہے۔ گھڑ دوڑ کے میدان میں یہ شرکت اور دو ریسوں کی اپ گریڈنگ اس بات کا اشارہ ہے کہ سعودی عرب اس کھیل کی بین الاقوامی ترقی میں فعال کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔ کیا اس طرح کی بین الاقوامی شرکتوں سے سعودی عرب کے اندر بھی اس کھیل کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا؟
IFAHR کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی بات چیت اور فیصلے رکن ممالک کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں، جہاں وہ اپنے تجربات کا تبادلہ کر سکتے ہیں اور اس کھیل کے معیارات کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ سعودی وفد کی شرکت اس عمل کا حصہ ہے، جس میں کلب کی ایگزیکٹو ٹیم بھی شامل تھی۔
ریاض ریسنگ سیزن کے کیلنڈر میں شامل ریسوں کی بین الاقوامی درجہ بندی میں تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ ان مقابلوں میں حصہ لینے والے گھوڑوں اور ان کے مالکان کے لیے بین الاقوامی سطح پر زیادہ پوائنٹس اور شناخت دستیاب ہوگی۔ امام ترکی بن عبداللہ تلوار اب گروپ 2 میں شمار ہوگی، جو گروپ 3 سے ایک درجہ بلند ہے، جبکہ شہزادی نوری بنت عبدالرحمٰن بن فیصل کپ لسٹڈ سے گروپ 3 میں آ گئی ہے۔ کیا ان تبدیلیوں سے ان ریسوں میں بین الاقوامی گھوڑوں کی شرکت میں اضافہ ہوگا؟
سعودی عرب میں گھڑ دوڑ کی روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ اپ گریڈنگ ملکی سطح پر بھی اس کھیل کے فروغ میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ ترجمان کے بیان کے مطابق، یہ سیزن کے مقابلے کو بڑھانے اور عالمی موجودگی کو مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے۔
اجلاس میں عربی گھوڑوں کی ریسنگ کے حوالے سے تعاون اور رابطہ کاری کے علاوہ اس کھیل کی ترقی اور بین الاقوامی موجودگی کے موضوعات بھی شامل تھے۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ IFAHR کے پلیٹ فارم پر رکن ممالک مشترکہ مفادات کے تحت کام کر رہے ہیں۔ کیا اس طرح کے اجلاسوں سے عربی گھوڑوں کی ریسنگ کو ایک عالمی کھیل کے طور پر مزید تسلیم کیا جائے گا؟
سعودی وفد کی قیادت جاکی کلب آف سعودی عربیہ کے سی ای او پرنس سلمان بن عبداللہ بن سلمان بن محمد آل سعود کر رہے تھے، اور ان کے ہمراہ کلب کی ایگزیکٹو ٹیم بھی موجود تھی۔ یہ شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مملکت اس کھیل کے بین الاقوامی فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہونا چاہتی ہے۔
دو ریسوں کی اپ گریڈنگ کے علاوہ، اجلاس میں رکن ممالک اور تنظیموں کے درمیان تعاون بڑھانے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کا مقصد عربی گھوڑوں کی ریسنگ کو مزید منظم اور بین الاقوامی سطح پر مضبوط بنانا ہے۔
سعودی عرب کے لیے یہ اپ گریڈنگ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس سے ریاض ریسنگ سیزن کی ساکھ بین الاقوامی حلقوں میں بڑھے گی اور زیادہ غیر ملکی گھوڑے اور تربیت کار اس میں دلچسپی لیں گے۔ کیا یہ سیزن آئندہ برسوں میں مزید بین الاقوامی توجہ حاصل کرے گا؟
ترجمان فیصل العطاوی نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ یہ پیش رفت سعودی عرب میں عربی گھوڑوں کی ریسنگ کے لیے اہم ہے اور اس کے جدید معیارات کو ظاہر کرتی ہے۔ ان کے مطابق، اس سے سیزن کا مقابلہ بڑھے گا اور عالمی موجودگی مضبوط ہوگی۔
IFAHR کی جنرل اسمبلی کا انعقاد پیرس میں ہوا، جہاں مختلف ممالک کے نمائندے جمع ہوئے۔ اس اجلاس میں کیے گئے فیصلے رکن ممالک کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہوتے ہیں، اور ان کا مقصد اس کھیل کو بین الاقوامی سطح پر مزید مستحکم کرنا ہے۔
سعودی عرب کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ مملکت عربی گھوڑوں کی ریسنگ کے عالمی منظرنامے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ شرکت نہ صرف نمائندگی کے طور پر ہے بلکہ اس کے عملی نتائج بھی سامنے آئے ہیں، جن میں دو ریسوں کی اپ گریڈنگ شامل ہے۔
رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ اجلاس میں کتنے ممالک یا تنظیموں نے شرکت کی، نہ ہی اپ گریڈنگ کے عمل کی تفصیلات یا اس کے بعد کے اثرات کے بارے میں مزید معلومات دی گئی ہیں۔ تاہم، دستیاب معلومات کے مطابق، یہ پیش رفت سعودی عرب میں عربی گھوڑوں کی ریسنگ کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔
IFAHR کی 29ویں جنرل اسمبلی کہاں اور کب منعقد ہوئی؟ یہ جنرل اسمبلی پیرس، فرانس میں منعقد ہوئی، جس میں سعودی عرب نے شرکت کی۔ ایس پی اے کے مطابق، جاکی کلب آف سعودی عربیہ کے سی ای او پرنس سلمان بن عبداللہ بن سلمان بن محمد آل سعود نے کلب کی ایگزیکٹو ٹیم کے ہمراہ شرکت کی۔ اجلاس میں عربی گھوڑوں کی ریسنگ سے متعلق متعدد موضوعات پر بات چیت کی گئی۔
کس ریس کو کس درجہ بندی میں ترقی دی گئی؟ امام ترکی بن عبداللہ تلوار کو گروپ 3 سے گروپ 2 میں اپ گریڈ کیا گیا، جبکہ شہزادی نوری بنت عبدالرحمٰن بن فیصل کپ کو لسٹڈ اسٹیٹس سے گروپ 3 میں ترقی دی گئی۔ یہ دونوں ریسیں ریاض ریسنگ سیزن کے کیلنڈر کا حصہ ہیں۔ ایس پی اے کے مطابق یہ اپ گریڈنگ اجلاس کے دوران کی گئی۔
سعودی عرب کی نمائندگی کس نے کی؟ جاکی کلب آف سعودی عربیہ کے سی ای او پرنس سلمان بن عبداللہ بن سلمان بن محمد آل سعود نے کلب کی ایگزیکٹو ٹیم کے ہمراہ سعودی عرب کی نمائندگی کی۔ ایس پی اے کے مطابق انہوں نے ہفتے کے روز اس جنرل اسمبلی میں شرکت کی جو پیرس میں منعقد ہوئی۔
اجلاس میں کون سے موضوعات زیر بحث آئے؟ اجلاس میں عربی گھوڑوں کی ریسنگ سے متعلق متعدد موضوعات پر بات چیت کی گئی، جن میں رکن ممالک اور تنظیموں کے درمیان تعاون اور رابطہ کاری کو مضبوط بنانے کے طریقے، اس کھیل کو مزید ترقی دینا اور اس کی بین الاقوامی موجودگی کو بڑھانا شامل تھا۔ ایس پی اے کے مطابق یہ موضوعات اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ تھے۔
جاکی کلب کے ترجمان نے کیا کہا؟ جاکی کلب آف سعودی عربیہ کے ترجمان فیصل العطاوی نے کہا کہ دو ریسوں کی بین الاقوامی اپ گریڈنگ سعودی عرب میں عربی گھوڑوں کی ریسنگ کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے اور یہ اس کے جدید تنظیمی اور تکنیکی معیارات کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے سیزن کا مقابلہ بڑھے گا اور عالمی موجودگی مضبوط ہوگی۔





