مقبوضہ یروشلم میں درجنوں اسرائیلی آباد کاروں نے مراکش گیٹ کے ذریعے کئی گروہوں کی شکل میں المسجد اقصیٰ کے صحن میں اشتعال انگیز دورے کیے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 12 اگست 2026 کو بیان کیا، اسرائیلی فوجی فورسز نے ان آباد کاروں کو تحفظ فراہم کیا اور گیٹوں پر سخت فوجی کنٹرول نافذ رکھا تاکہ زائرین اور نمازیوں کے داخلے کو روکا جا سکے۔
اسی روز یروشلم کے شمال میں ایک آباد کار چوکی کی توسیع کا کام شروع کیا گیا، جبکہ آباد کاری کی ترقی میں مدد کے لیے فلسطینی شہروں اور قصبوں پر اسرائیلی فوجی فورسز اور آباد کاروں کے حملوں میں اضافہ ہوا۔
ایک علیحدہ واقعے میں، نابلس کے مشرق میں واقع بلاتا پناہ گزین کیمپ کی مارکیٹ پر اسرائیلی فوجی فورسز کے چھاپے کے دوران زہریلی گیس کے باعث کئی فلسطینیوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
المسجد اقصیٰ میں کیا واقعہ پیش آیا؟ درجنوں اسرائیلی آباد کاروں نے مراکش گیٹ کے ذریعے المسجد اقصیٰ کے صحن میں اشتعال انگیز دورے کیے۔ اسرائیلی فوجی فورسز نے ان آباد کاروں کو تحفظ فراہم کیا اور نمازیوں و زائرین کے داخلے کے لیے سخت فوجی کنٹرول نافذ رکھا۔
یروشلم کے شمال میں کیا سرگرمیاں ہوئیں؟ اسرائیلی آباد کاروں نے یروشلم کے شمال میں ایک آباد کار چوکی کی توسیع شروع کی۔ اس کے ساتھ ہی آباد کاری کی ترقی کی حمایت میں فلسطینی شہروں اور قصبوں پر اسرائیلی فوجی فورسز اور آباد کاروں کے حملوں میں اضافہ ہوا۔
بلاتا پناہ گزین کیمپ میں کیا ہوا؟ نابلس کے مشرق میں واقع بلاتا پناہ گزین کیمپ کی مارکیٹ پر اسرائیلی فوجی فورسز نے چھاپہ مارا۔ اس کارروائی کے دوران زہریلی گیس کے استعمال سے کئی فلسطینیوں کو سانس لینے میں مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔