ریاض میں UNESCO کے مصنوعی ذہانت (AI) کے اخلاقیات پر چوتھے عالمی فورم کے دوسرے دن 18 خصوصی ورکشاپس اور سیشنز منعقد کیے گئے، جس میں بین الاقوامی حکام، تکنیکی ماہرین اور ادارہ جاتی رہنماؤں نے شرکت کی۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 16 ستمبر 2026 کو بیان کیا، اس موقع پر عالمی گورننس، AI تیاری اور ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دینے کے لیے UNESCO کے نئے ٹولز بھی لانچ کیے گئے۔
سیشنز میں ذمہ دارانہ AI کے نفاذ کے اہم پہلوؤں پر توجہ دی گئی، جن میں بچوں اور نوجوانوں کی ڈیجیٹل حفاظت، صحت کی دیکھ بھال کی گورننس، تعلیم، اخلاقی معیارات، اور ثقافتی و لسانی تنوع کے ساتھ ساتھ فرق کو کم کرنا شامل تھا۔ مزید برآں، embodied AI ایپلی کیشنز اور عجائب گھروں میں اخلاقی AI کے انضمام کا جائزہ لیا گیا۔
سعودی ڈیٹا اور AI اتھارٹی نے شمولیت، تعلیم، حفاظت، لسانی تحفظ اور embodied AI پر پینلز میں حصہ لیا۔ دیگر شرکاء میں وزارت انصاف، ہیومن رائٹس کمیشن، King Abdulaziz City for Science and Technology، پبلک ہیلتھ اتھارٹی، King Salman Global Academy for Arabic Language، ہیریٹیج کمیشن اور نیشنل میوزیم شامل تھے۔
UNESCO فورم کے دوسرے دن کیا سرگرمیاں ہوئیں؟ ریاض میں منعقدہ اس فورم کے دوسرے دن 18 خصوصی ورکشاپس اور سیشنز کیے گئے، جن میں بین الاقوامی ماہرین اور حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر عالمی گورننس، AI تیاری اور ماحولیاتی پائیداری کے لیے UNESCO کے نئے ٹولز بھی متعارف کرائے گئے۔
سیشنز میں کن اہم موضوعات پر بات کی گئی؟ سیشنز میں بچوں اور نوجوانوں کی ڈیجیٹل حفاظت، صحت کی گورننس، تعلیم، اخلاقی معیارات اور لسانی تنوع جیسے موضوعات پر بحث ہوئی۔ اس کے علاوہ embodied AI ایپلی کیشنز اور عجائب گھروں میں AI کے اخلاقی استعمال کا جائزہ لیا گیا۔
کن سعودی اداروں نے اس فورم میں حصہ لیا؟ سعودی ڈیٹا اور AI اتھارٹی نے شمولیت اور لسانی تحفظ جیسے پینلز میں شرکت کی۔ دیگر اداروں میں وزارت انصاف، ہیومن رائٹس کمیشن، King Abdulaziz City for Science and Technology، پبلک ہیلتھ اتھارٹی، King Salman Global Academy for Arabic Language، ہیریٹیج کمیشن اور نیشنل میوزیم شامل تھے۔