Monday, September 14, 2026
Uncategorized

سعودی عرب کی جانب سے کلمبیا کے جولان فیصلے کی مذمت

سعودی عرب کی جانب سے کلمبیا کے جولان فیصلے کی مذمت

سعودی عرب نے شام کے مقبوضہ جولان پر اسرائیل کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کے کلمبیا کے فیصلے کی مذمت اور مخالفت کا اظہار کیا ہے، اور اسے بین الاقوامی قوانین اور متعلقہ قراردادوں کے منافی قرار دیا ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 11 اگست 2026 کو بیان کیا، سعودی عرب نے زور دیا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کے قوانین، خاص طور پر 1981 کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 497 کے خلاف ہے، جس کے مطابق مقبوضہ جولان پر اسرائیلی قوانین، عدالتی دائرہ اختیار اور انتظامیہ کا نفاذ کالعدم اور قانونی اثر سے خالی ہے۔

سعودی عرب کا موقف ہے کہ اس طرح کے اقدامات امن کے حصول میں مدد نہیں کرتے بلکہ بین الاقوامی برادری کے موقف کے منافی ہیں اور خطے میں امن کی کوششوں کو کمزور کرتے ہیں۔

سعودی عرب نے اپنے اس مستقل موقف کا اعادہ کیا ہے کہ جولان ایک عربی شامی اور مقبوضہ زمین ہے، اور اس کی قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش سے کوئی حق پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی ایسی کارروائیوں کو قانونی حیثیت ملتی ہے۔

سعودی عرب نے کلمبیا کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے موقف پر نظرثانی کرے، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے اور خطے میں عادلانہ اور پائیدار امن و استحکام کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے۔

سعودی عرب نے کلمبیا کے فیصلے پر کیا ردعمل دیا؟ سعودی عرب نے مقبوضہ جولان پر اسرائیل کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کے کلمبیا کے اقدام کی مذمت کی ہے۔ سعودی عرب کے مطابق یہ فیصلہ بین الاقوامی قوانین اور بین الاقوامی قانونی حیثیت کی متعلقہ قراردادوں کے منافی ہے۔

سعودی عرب نے کس عالمی قرارداد کا حوالہ دیا؟ سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1981 کی قرارداد نمبر 497 کا حوالہ دیا ہے۔ اس قرارداد کے تحت مقبوضہ جولان پر اسرائیل کے قوانین، انتظامیہ اور عدالتی دائرہ اختیار کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔

جولان کے بارے میں سعودی عرب کا موقف کیا ہے؟ سعودی عرب کا مستقل موقف ہے کہ جولان ایک عربی شامی اور مقبوضہ سرزمین ہے۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس کی قانونی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے کیا گیا کوئی بھی فیصلہ یا اقدام اسے قانونی حیثیت نہیں دیتا۔