سعودی عرب نے مقبوضہ شام کے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کی خودمختاری کو تسلیم کرنے کے کولمبیا کے فیصلے کی مذمت کی ہے، جسے بین الاقوامی قانون اور متعلقہ قراردادوں کے منافی قرار دیا گیا ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 11 اگست 2026 کو بیان کیا، سعودی وزارت خارجہ کے مطابق یہ تسلیم کرنا اقوام متحدہ کی قراردادوں، خاص طور پر 1981 کی سلامتی کونسل کی قرارداد 497 کی براہ راست خلاف ورزی ہے، جس میں مقبوضہ شام کے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کے قوانین اور انتظامیہ کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔
سعودی عرب نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے موقف امن کے حصول میں مدد نہیں کرتے بلکہ یہ خطے میں امن کی کوششوں کو کمزور کرتے ہیں۔ مملکت نے اپنے موقف کی توثیق کی کہ گولان شام کے مقبوضہ عرب علاقے ہیں اور ان کی قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش جائز نہیں ہے۔
سعودی حکومت نے جمہوریہ کولمبیا کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے موقف پر نظر ثانی کرے اور بین الاقوامی قانون اور قراردادوں کی پاسداری کرتے ہوئے خطے میں سلامتی اور استحکام کے لیے اپنا تعاون جاری رکھے۔
سعودی عرب نے کولمبیا کے فیصلے کو کیوں مسترد کیا؟ سعودی عرب نے اس فیصلے کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی قرار دیا ہے۔ مملکت کے مطابق یہ اقدام سلامتی کونسل کی 1981 کی قرارداد 497 کی خلاف ورزی ہے، جس میں مقبوضہ شام کے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قوانین کے نفاذ کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔
گولان کی پہاڑیوں کے بارے میں سعودی عرب کا کیا موقف ہے؟ سعودی عرب کا موقف ہے کہ گولان شام کے مقبوضہ عرب علاقے ہیں۔ مملکت کے مطابق ان کی قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کے لیے کیے گئے کسی بھی اقدام یا فیصلے سے کوئی قانونی حق پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی ایسے اقدامات جائز ہو سکتے ہیں۔
سعودی وزارت خارجہ نے کولمبیا سے کیا مطالبہ کیا؟ سعودی وزارت خارجہ نے جمہوریہ کولمبیا کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے موجودہ موقف پر نظر ثانی کرے۔ ساتھ ہی کولمبیا سے بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرنے اور خطے میں عادلانہ اور پائیدار امن کے لیے کوششوں میں تعاون جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔