بوٹسوانا کے 16 سالہ محمد سیان تندیل مکہ مکرمہ میں 46 ویں کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل کمپٹیشن فار میمورائزنگ، ریسائٹنگ اینڈ انٹرپریٹنگ دی ہولی قرآن میں شرکت کے لیے پہنچے ہیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 13 اگست 2026 کو بیان کیا، محمد تندیل جنوبی افریقہ کے بوٹسوانا کے ایک چھوٹے سے قصبے میں اپنے پاکستانی استاد کے واحد طالب علم تھے، جہاں وہ صبح سے غروب آفتاب تک قرآن کریم کی حفظ و تدریس میں مصروف رہتے تھے۔
محمد تندیل نے بتایا کہ ہم جماعتوں کی عدم موجودگی اور مقابلے کے ماحول کی کمی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا، تاہم اس تنہائی نے ان کی توجہ اور لگن کو مزید بڑھایا۔ انہیں بوٹسوانا کے گرینڈ مفتی نے اس سال کے مقابلے کے لیے نامزد کیا، جس کے لیے انہوں نے اپنے ایک پڑوسی سے تحریک لی جس نے 2019 میں اسی مقابلے میں شرکت کی تھی۔
وہ اپنے والدین کے ہمراہ سعودی عرب پہنچے ہیں اور انہوں نے خانہ کعبہ کی پہلی جھلک دیکھنے پر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ رپورٹ میں مقابلے کے نتائج یا انعامات کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔
محمد تندیل کون ہیں اور وہ کہاں سے آئے ہیں؟ محمد سیان تندیل جنوبی افریقہ کے ملک بوٹسوانا کے ایک چھوٹے سے قصبے کے رہنے والے 16 سالہ طالب علم ہیں۔ وہ مکہ مکرمہ میں 46 ویں کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل قرآن کمپٹیشن میں شرکت کے لیے اپنے والدین کے ہمراہ سعودی عرب آئے ہیں۔
محمد تندیل کی تعلیم و تربیت کیسی رہی؟ محمد تندیل اپنے پاکستانی استاد کے واحد طالب علم تھے اور صبح سے غروب آفتاب تک ایک اسٹڈی سرکل میں قرآن کریم حفظ کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم جماعتوں کی کمی ایک چیلنج تھا، لیکن اس نے ان کی توجہ اور لگن میں اضافہ کیا۔
انہیں مقابلے کے لیے کس نے نامزد کیا؟ محمد تندیل کو بوٹسوانا کے گرینڈ مفتی نے اس سال کے عالمی مقابلے میں شرکت کے لیے نامزد کیا۔ انہوں نے اس موقع کے لیے اپنے ایک پڑوسی سے تحریک لی جس نے 2019 میں اسی مقابلے میں شرکت کی تھی۔