شام کے صوبوں حمص، درعا اور دیر الزور میں تعلیمی اور سماجی عمارتوں کی تعمیرِ نو کے لیے مرکز ملک سلمان برائے امداد اور انسانی تعاون نے ایک سول سوسائٹی تنظیم کے ساتھ مشترکہ ایگزیکٹو پروگرام پر دستخط کیے ہیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 11 اگست 2026 کو بیان کیا، اس پروگرام پر دستخط مرکز کے آپریشنز اور پروگرامز کے اسسٹنٹ جنرل سپروائزر انجینئر احمد بن علی البیز نے کیے۔ اس منصوبے سے براہ راست 4,941 افراد اور بالواسطہ 21,515 افراد مستفید ہوں گے۔
اس پروگرام میں 4 اسکولوں اور 3 سماجی مراکز کی جامع تعمیرِ نو، سولر انرجی سسٹمز کی تنصیب اور بنیادی فرنیچر و آلات کی فراہمی شامل ہے۔
یہ منصوبہ شام میں تعلیمی اثاثوں کی بحالی کے پروگرام کا حصہ ہے، جس کے تحت مختلف صوبوں میں 53 اسکولوں کی تعمیرِ نو، تعمیر اور تجهیز کا کام جاری ہے۔ یہ اقدامات شام میں تعلیمی اور سماجی اداروں کے کردار کو بحال کرنے اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
شام میں تعمیرِ نو کے پروگرام میں کیا شامل ہے؟ اس پروگرام میں 4 اسکولوں اور 3 سماجی مراکز کی جامع تعمیرِ نو شامل ہے۔ اس کے علاوہ سولر انرجی سسٹمز کی تنصیب اور ضروری فرنیچر و آلات کی فراہمی بھی کی جائے گی۔
اس منصوبے سے کتنے لوگ مستفید ہوں گے؟ ایس پی اے کے مطابق اس منصوبے سے براہ راست 4,941 افراد اور بالواسطہ 21,515 افراد کو فائدہ پہنچے گا۔ یہ کام حمص، درعا اور دیر الزور کے صوبوں میں کیا جائے گا۔
تعلیمی اثاثوں کی بحالی کے مجموعی پروگرام کی کیا صورتحال ہے؟ یہ منصوبہ ایک بڑے پروگرام کا حصہ ہے جس کے تحت شام کے مختلف صوبوں میں 53 اسکولوں کی تعمیر، تعمیرِ نو اور تجهیز کا کام فی الحال جاری ہے۔
اس پروگرام پر دستخط کس نے کیے؟ اس مشترکہ ایگزیکٹو پروگرام پر مرکز ملک سلمان کے آپریشنز اور پروگرامز کے اسسٹنٹ جنرل سپروائزر انجینئر احمد بن علی البیز نے دستخط کیے۔