سعودی ریڈ کریسنٹ اتھارٹی نے کارپوریٹ گورننس اور ادارہ جاتی ترقی کے شعبوں میں نتائج حاصل کیے ہیں، جس سے ایمبولینس خدمات، ہنگامی ردعمل کی تیاری اور رضاکارانہ تحریک میں بہتری آئی ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 11 اگست 2026 کو بیان کیا، یہ اقدامات ویژن 2030 کے اہداف کے مطابق بین الاقوامی انسانی پلیٹ فارمز پر مملکت کی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔
اتھارٹی کی 2025 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، حج سیزن 2026 کے دوران ایک جامع آپریشنل پلان نافذ کیا گیا۔ اس پلان میں زمینی، سمندری اور فضائی چیک پوائنٹس پر ہنگامی ردعمل کو تیز کرنا اور ان کیسز کے لیے ‘آن سائٹ ٹریٹمنٹ’ ماڈل استعمال کرنا شامل تھا جنہیں ہسپتال منتقل کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔
اس پلان کی تکمیل کے لیے 31 ہزار سے زائد ملازمین اور پیرامیڈیکس نے حصہ لیا، جن میں 6,846 فرنٹ لائن رسپانس اہلکار اور 2,300 سے زائد رضاکار شامل تھے۔ آپریشنز کے لیے 605 ایمبولینسز، 2,300 سے زائد معاون گاڑیاں، 27 تیز رفتار رسپانس گاڑیاں اور 3 ایئر ایمبولینس ہیلی کاپٹرز استعمال کیے گئے۔
خدمات کی فراہمی کے لیے 133 ایمبولینس اسٹیشنز، 71 تعیناتی پوائنٹس اور 14 ہنگامی امداد مراکز قائم کیے گئے۔ اس کے علاوہ ٹیموں کی تیاری کے لیے 23 فیلڈ مشقیں اور 11 تربیتی پروگرام منعقد کیے گئے۔
حج 2026 کے دوران کتنی افرادی قوت تعینات تھی؟ حج سیزن 2026 کے دوران 31 ہزار سے زائد ملازمین اور پیرامیڈیکس نے حصہ لیا۔ اس میں 6,846 براہ راست رسپانس اہلکار اور 2,300 سے زائد رضاکار شامل تھے تاکہ زائرین کو طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
آپریشنز کے لیے کون سی транспорт اور سہولیات استعمال ہوئیں؟ آپریشنز کے لیے 605 ایمبولینسز، 2,300 سے زائد معاون گاڑیاں، 27 تیز رفتار رسپانس گاڑیاں اور 3 ہیلی کاپٹرز استعمال کیے گئے۔ خدمات کی فراہمی کے لیے 133 ایمبولینس اسٹیشنز، 71 تعیناتی پوائنٹس اور 14 ہنگامی امداد مراکز قائم کیے گئے۔
طبی امداد کے لیے کون سا نیا ماڈل اپنایا گیا؟ سعودی ریڈ کریسنٹ نے ‘آن سائٹ ٹریٹمنٹ’ ماڈل اپنایا، جس کا مقصد ان مریضوں کا موقع پر علاج کرنا تھا جنہیں ہسپتال منتقل کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ زمینی، سمندری اور فضائی چیک پوائنٹس پر ردعمل کو تیز کیا گیا۔
ٹیموں کی تیاری کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ عملے کی تیاری اور مہارت بڑھانے کے لیے 23 فیلڈ مشقیں اور 11 خصوصی تربیتی پروگرام منعقد کیے گئے۔ یہ اقدامات ویژن 2030 کے اہداف کے مطابق ادارہ جاتی ترقی اور آپریشنل تیاری کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے۔