سعودی عرب میں سال 2023 کے دوران سرخ گوشت کی پیداوار 270,000 ٹن سے تجاوز کر گئی ہے، جس کا مقصد مقامی پیداوار میں اضافہ اور غذائی تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 6 مارچ 2025 کو بیان کیا، وزارت ماحول، پانی اور زراعت کے مطابق یہ ترقی سعودی ویژن 2030 کے اہداف کے مطابق ہے۔
وزارت کے مطابق مملکت نے سرخ گوشت میں 61 فیصد خود کفالتی کی شرح حاصل کر لی ہے، جس سے درآمدات پر انحصار کم ہوا ہے۔ اس اضافے کی وجہ لائیوسٹاک سیکٹر کی ترقی، مقامی بریڈرز کے لیے تعاون اور جدید پیداواری ٹیکنالوجیز کا استعمال ہے، خاص طور پر رمضان کی مارکیٹ کی طلب کو پورا کرنے کے لیے۔
مملکت کے لائیوسٹاک انوینٹری میں 20.6 ملین سے زائد بھیڑیں، 7.4 ملین بکریاں، 502,000 گائیں اور 2.2 ملین اونٹ شامل ہیں۔
سعودی عرب میں سرخ گوشت کی پیداوار کتنی ہے؟ وزارت ماحول، پانی اور زراعت کے مطابق سال 2023 میں سرخ گوشت کی پیداوار 270,000 ٹن سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس پیداوار کے ذریعے مملکت نے سرخ گوشت میں 61 فیصد خود کفالتی کی شرح حاصل کی ہے۔
پیداوار میں اضافے کی وجوہات کیا ہیں؟ اس اضافے کی وجوہات میں لائیوسٹاک سیکٹر کی ترقی، مقامی بریڈرز کے لیے فراہم کردہ تعاون اور جدید لائیوسٹاک پیداواری ٹیکنالوجیز کا استعمال شامل ہے۔ یہ اقدامات خاص طور پر رمضان کی مارکیٹ کی طلب کو پورا کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔
مملکت میں لائیوسٹاک کی تعداد کیا ہے؟ سعودی عرب کی لائیوسٹاک انوینٹری میں 20.6 ملین سے زائد بھیڑیں، 7.4 ملین بکریاں، 502,000 گائیں اور 2.2 ملین اونٹ شامل ہیں۔ یہ سیکٹر مقامی مارکیٹ کی ترقی اور غذائی تحفظ کا اہم ذریعہ ہے۔