ریاض میں ای ٹی ای سی کے ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ سچویشن روم کو او ای سی ڈی کے ڈائریکٹر فار ایجوکیشن اینڈ اسکلز اور او ای سی ڈی کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی مشیر برائے تعلیمی پالیسی اینڈریاس شلیکر نے دیگر ممالک کے لیے نمونہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جن تعلیمی نظاموں کے ساتھ کام کرتے ہیں، ان میں سے بیشتر کے پاس اس کا کوئی موازنہ کرنے والا ماڈل موجود نہیں ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 18 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ بات انہوں نے ای ٹی ای سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ڈاکٹر خالد بن عبداللہ الصابتی کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی، جس میں انہیں کمیشن کے اس طریقہ کار پر بریفنگ دی گئی جس کے تحت تشخیص اور جانچ کے اعداد و شمار کا انتظام کیا جاتا ہے، نیز ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ سچویشن روم کے ڈیش بورڈز اور تجزیاتی صلاحیتوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔
شلیکر نے وضاحت کی کہ ای ٹی ای سی کی خصوصیت صرف منظم تشخیص اور جانچ کے ذریعے معلومات پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، بلکہ تعلیمی عمل اور طریقوں کو بہتر بنانے کے لیے اعداد و شمار کا تجزیہ اور استعمال کرنے کی اس کی صلاحیت بھی ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ بہت سے دوسرے تعلیمی نظاموں میں اعداد و شمار بکھرے ہوئے، مختلف نظاموں میں الگ تھلگ، یا مؤثر طریقے سے استعمال کیے بغیر محفوظ رہتے ہیں۔
انہوں نے اعداد و شمار کو علم میں تبدیل کرنے میں ای ٹی ای سی کی نمایاں پیش رفت کو اجاگر کیا اور کہا کہ انہوں نے اپنے مسلسل دوروں کے دوران اس کی صلاحیتوں میں بنیادی تبدیلی دیکھی ہے۔ اپنے پچھلے دورے کے دوران، ای ٹی ای سی تعلیمی نظام کی آنکھیں اور کان کہلانے والا نظام تیار کر رہی تھی، یعنی کارکردگی اور سیکھنے کے نتائج کی نگرانی کے لیے درکار پیمائش کے اوزار اور اشاریے قائم کر رہی تھی۔ آج کمیشن اس نظام کا دماغ تیار کر رہی ہے، جس کی نمائندگی وہ بنیادی ڈھانچہ اور صلاحیتیں کرتی ہیں جو نتائج کی تشریح، ان پر اثر انداز ہونے والے عوامل کو سمجھنے اور جدید ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لانے کے لیے درکار ہیں۔
کیا تعلیمی نظاموں کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ بکھرے ہوئے اعداد و شمار کو ایک ہی تجزیاتی فریم ورک میں سمو سکیں؟ شلیکر کے مطابق، یہی وہ چیلنج ہے جس کا سامنا ان کے کام کرنے والے بیشتر تعلیمی نظاموں کو ہے۔ ان کے نزدیک ای ٹی ای سی کا ماڈل اس لیے مختلف ہے کہ وہ متعدد ذرائع سے معلومات کو یکجا کر کے جامع تجزیوں اور بصیرتوں میں تبدیل کرتا ہے جو تعلیمی کارکردگی میں بہتری کی راہ ہموار کرتی ہیں۔
ملاقات میں شلیکر کو کمیشن کے اس نقطہ نظر پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جس کے تحت تشخیص اور جانچ کے اعداد و شمار کا انتظام کیا جاتا ہے۔ انہیں ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ سچویشن روم کے ڈیش بورڈز اور تجزیاتی صلاحیتوں کا بھی معائنہ کروایا گیا۔ یہ وہی پہلو ہیں جنہیں انہوں نے دوسرے تعلیمی نظاموں کے مقابلے میں نمایاں قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے تعلیمی نظاموں میں اعداد و شمار الگ تھلگ نظاموں میں بکھرے رہتے ہیں یا انہیں محفوظ تو کر لیا جاتا ہے مگر مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کیا جاتا۔ کیا صرف اعداد و شمار جمع کر لینا تعلیمی بہتری کے لیے کافی ہے؟ شلیکر کا جواب واضح ہے کہ نہیں۔ ان کے مطابق اصل فرق اعداد و شمار کو سمجھنے، ان کا تجزیہ کرنے اور انہیں تعلیمی عمل کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنے میں ہے۔
ای ٹی ای سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ڈاکٹر خالد بن عبداللہ الصابتی کے ساتھ اس ملاقات میں کمیشن کی جانب سے اپنایا گیا طریقہ کار سامنے آیا۔ شلیکر نے کمیشن کی ان صلاحیتوں کا معائنہ کیا جو تشخیص اور جانچ کے اعداد و شمار کے انتظام سے متعلق ہیں۔ انہیں سچویشن روم کے ڈیش بورڈز اور تجزیاتی صلاحیتوں کی عملی جھلک بھی دکھائی گئی۔
شلیکر نے اپنے دوروں کے تسلسل میں ہونے والی تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ای ٹی ای سی کی صلاحیتوں میں بنیادی تبدیلی دیکھی ہے۔ پہلے مرحلے میں کمیشن تعلیمی نظام کی آنکھیں اور کان کہلانے والا ڈھانچہ تیار کر رہی تھی، یعنی کارکردگی اور سیکھنے کے نتائج کی نگرانی کے لیے پیمائش کے اوزار اور اشاریے قائم کر رہی تھی۔ کیا کسی بھی تعلیمی نظام کے لیے پیمائش کے بغیر بہتری ممکن ہے؟ ان کے بیان کا مفہوم یہ ہے کہ پیمائش پہلا اور ناگزیر قدم ہے۔
آج کمیشن اس نظام کا دماغ تیار کر رہی ہے۔ اس سے مراد وہ بنیادی ڈھانچہ اور صلاحیتیں ہیں جو نتائج کی تشریح، ان پر اثر انداز ہونے والے عوامل کو سمجھنے اور جدید ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لانے کے لیے درکار ہیں۔ شلیکر کے مطابق یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ای ٹی ای سی دوسرے تعلیمی نظاموں سے آگے نکلتی نظر آتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ای ٹی ای سی کی خصوصیت صرف معلومات پیدا کرنے میں نہیں بلکہ ان معلومات کو تعلیمی عمل اور طریقوں کی بہتری کے لیے استعمال کرنے میں ہے۔ کیا دوسرے ممالک بھی اپنے تعلیمی نظاموں کے لیے ایسا ہی تجزیاتی ڈھانچہ بنا سکتے ہیں؟ شلیکر کے مطابق ان کے تجربے میں بیشتر نظاموں کے پاس اس کا موازنہ کرنے والا ماڈل موجود نہیں، جو ای ٹی ای سی کے تجربے کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے تعلیمی نظاموں میں اعداد و شمار بکھرے ہوئے، مختلف نظاموں میں الگ تھلگ، یا مؤثر استعمال کے بغیر محفوظ رہتے ہیں۔ اس کے برعکس ای ٹی ای سی متعدد ذرائع سے معلومات کو یکجا کر کے جامع تجزیوں اور بصیرتوں میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کیا یہی یکجا کرنے کی صلاحیت تعلیمی پالیسی سازی کا سب سے بڑا تقاضا ہے؟
شلیکر نے ای ٹی ای سی کی اس پیش رفت کو سراہا جو اس نے ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ سچویشن روم کی تیاری میں حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جن تعلیمی نظاموں کے ساتھ کام کرتے ہیں ان میں سے بیشتر کے پاس اس کا کوئی موازنہ کرنے والا ماڈل نہیں ہے۔ ان کے مطابق کمیشن کی صلاحیت متعدد ذرائع سے معلومات کو یکجا کر کے جامع تجزیوں اور بصیرتوں میں تبدیل کرنے میں مضمر ہے جو تعلیمی کارکردگی میں بہتری کی معاونت کرتی ہیں۔
ملاقات کے دوران شلیکر کو کمیشن کے اس طریقہ کار پر بریفنگ دی گئی جس کے تحت تشخیص اور جانچ کے اعداد و شمار کا انتظام کیا جاتا ہے۔ انہیں سچویشن روم کے ڈیش بورڈز اور تجزیاتی صلاحیتوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔ یہ بریفنگ ای ٹی ای سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ڈاکٹر خالد بن عبداللہ الصابتی کے ساتھ ملاقات کے دوران دی گئی۔
شلیکر نے وضاحت کی کہ ای ٹی ای سی کی خصوصیت صرف منظم تشخیص اور جانچ کے ذریعے معلومات پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ ان کے مطابق اصل امتیاز تعلیمی عمل اور طریقوں کو بہتر بنانے کے لیے اعداد و شمار کا تجزیہ اور استعمال کرنے کی صلاحیت ہے۔ کیا اعداد و شمار کا محض ذخیرہ تعلیمی معیار کو بلند کر سکتا ہے؟ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ محض ذخیرہ کافی نہیں۔
انہوں نے اپنے مسلسل دوروں کے دوران ای ٹی ای سی کی صلاحیتوں میں بنیادی تبدیلی کا مشاہدہ کیا۔ پچھلے دورے میں کمیشن تعلیمی نظام کی آنکھیں اور کان کہلانے والا ڈھانچہ تیار کر رہی تھی، یعنی کارکردگی اور سیکھنے کے نتائج کی نگرانی کے لیے پیمائش کے اوزار اور اشاریے قائم کر رہی تھی۔ آج وہی کمیشن اس نظام کا دماغ تیار کر رہی ہے، یعنی نتائج کی تشریح، اثر انداز عوامل کی تفہیم اور جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال کے لیے درکار بنیادی ڈھانچہ اور صلاحیتیں۔
شلیکر کے مطابق بہت سے تعلیمی نظاموں میں اعداد و شمار مختلف نظاموں میں الگ تھلگ رہتے ہیں یا انہیں مؤثر طریقے سے استعمال کیے بغیر محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ ای ٹی ای سی کا ماڈل اس لیے نمایاں ہے کہ وہ معلومات کو یکجا کر کے جامع تجزیوں اور بصیرتوں میں ڈھالتا ہے۔ کیا یہ ماڈل دوسرے ممالک کے لیے قابل نقل ہے؟ شلیکر نے اسے دیگر ممالک کے لیے نمونہ قرار دیا ہے۔
ملاقات میں ای ٹی ای سی کے اس نقطہ نظر پر روشنی ڈالی گئی جس کے تحت تشخیص اور جانچ کے اعداد و شمار کا انتظام ہوتا ہے۔ سچویشن روم کے ڈیش بورڈز اور تجزیاتی صلاحیتوں کا معائنہ بھی اسی سلسلے کا حصہ تھا۔ انہی پہلوؤں کی بنیاد پر شلیکر نے کمیشن کی پیش رفت کو سراہا۔
شلیکر نے کہا کہ ای ٹی ای سی صرف معلومات پیدا نہیں کرتی بلکہ انہیں تعلیمی عمل اور طریقوں کی بہتری کے لیے استعمال بھی کرتی ہے۔ ان کے مطابق یہی صلاحیت اسے دوسرے نظاموں سے ممتاز کرتی ہے۔ کیا تعلیمی اصلاحات کا انحصار اسی قسم کی تجزیاتی صلاحیت پر ہے؟ ان کے بیان کا رخ اسی طرف ہے۔
انہوں نے اپنے دوروں کے تسلسل میں ہونے والی تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلے مرحلے میں پیمائش کے اوزار اور اشاریے قائم کیے گئے، جبکہ آج نتائج کی تشریح اور اثر انداز عوامل کی تفہیم پر کام ہو رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجیز کو بھی اس مقصد کے لیے بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ سچویشن روم کے ڈیش بورڈز کتنے عرصے میں تیار ہوئے یا ان کے پیچھے کون سی مخصوص ٹیکنالوجیز کارفرما ہیں۔
رپورٹ کے مطابق شلیکر نے ای ٹی ای سی کی اس صلاحیت کو نمایاں کیا جو متعدد ذرائع سے معلومات کو یکجا کر کے جامع تجزیوں اور بصیرتوں میں تبدیل کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صلاحیت تعلیمی کارکردگی میں بہتری کی معاونت کرتی ہے۔ ملاقات میں انہیں کمیشن کے اعداد و شمار کے انتظام کے طریقہ کار کی تفصیل بھی دی گئی۔
شلیکر کے مطابق بیشتر تعلیمی نظاموں میں ایسا موازنہ کرنے والا ماڈل موجود نہیں۔ انہوں نے یہ بات ای ٹی ای سی کے ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ سچویشن روم کی تیاری میں ہونے والی پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہی۔ ان کے نزدیک کمیشن کی صلاحیت معلومات کو یکجا کرنے اور انہیں جامع تجزیوں میں ڈھالنے میں مضمر ہے۔
ملاقات میں شلیکر کو کمیشن کے اس طریقہ کار پر بریفنگ دی گئی جس کے تحت تشخیص اور جانچ کے اعداد و شمار کا انتظام کیا جاتا ہے۔ انہیں سچویشن روم کے ڈیش بورڈز اور تجزیاتی صلاحیتوں کا بھی معائنہ کروایا گیا۔ یہ ملاقات ای ٹی ای سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ڈاکٹر خالد بن عبداللہ الصابتی کے ساتھ ہوئی۔
شلیکر نے وضاحت کی کہ ای ٹی ای سی کی خصوصیت صرف منظم تشخیص اور جانچ کے ذریعے معلومات پیدا کرنے میں نہیں۔ ان کے مطابق اصل بات تعلیمی عمل اور طریقوں کو بہتر بنانے کے لیے اعداد و شمار کا تجزیہ اور استعمال ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ بہت سے دوسرے نظاموں میں اعداد و شمار بکھرے، الگ تھلگ یا غیر مؤثر استعمال کے ساتھ محفوظ رہتے ہیں۔
انہوں نے اعداد و شمار کو علم میں تبدیل کرنے میں ای ٹی ای سی کی نمایاں پیش رفت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے مسلسل دوروں کے دوران اس کی صلاحیتوں میں بنیادی تبدیلی دیکھی۔ پچھلے دورے میں کمیشن تعلیمی نظام کی آنکھیں اور کان تیار کر رہی تھی، یعنی پیمائش کے اوزار اور اشاریے۔ آج وہ نظام کا دماغ تیار کر رہی ہے، یعنی نتائج کی تشریح، اثر انداز عوامل کی تفہیم اور جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال کی صلاحیت۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں اس ملاقات کے مقام یا دورانیے، ای ٹی ای سی کے سچویشن روم کے ڈیش بورڈز کی تعداد، یا اس بات کا ذکر نہیں کہ شلیکر کے مطابق کن ممالک کے نظاموں میں ایسا ماڈل موجود نہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ آئندہ کسی مرحلے میں اس ماڈل کو دوسرے ممالک کے ساتھ شیئر کرنے کا کوئی منصوبہ ہے یا نہیں۔
ای ٹی ای سی کے ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ سچویشن روم کو کس نے سراہا؟ او ای سی ڈی کے ڈائریکٹر فار ایجوکیشن اینڈ اسکلز اور او ای سی ڈی کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی مشیر برائے تعلیمی پالیسی اینڈریاس شلیکر نے ای ٹی ای سی کی اس پیش رفت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جن تعلیمی نظاموں کے ساتھ کام کرتے ہیں ان میں سے بیشتر کے پاس اس کا کوئی موازنہ کرنے والا ماڈل موجود نہیں۔ انہوں نے یہ بات ای ٹی ای سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ڈاکٹر خالد بن عبداللہ الصابتی کے ساتھ ملاقات میں کہی۔
شلیکر کے مطابق ای ٹی ای سی کی سب سے بڑی خصوصیت کیا ہے؟ شلیکر کے مطابق ای ٹی ای سی کی خصوصیت صرف منظم تشخیص اور جانچ کے ذریعے معلومات پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ اصل امتیاز تعلیمی عمل اور طریقوں کو بہتر بنانے کے لیے اعداد و شمار کا تجزیہ اور استعمال کرنے کی صلاحیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن متعدد ذرائع سے معلومات کو یکجا کر کے جامع تجزیوں اور بصیرتوں میں تبدیل کرتی ہے جو تعلیمی کارکردگی میں بہتری کی معاونت کرتی ہیں۔
دوسرے تعلیمی نظاموں میں اعداد و شمار کے حوالے سے کیا صورتحال بیان کی گئی؟ شلیکر نے نوٹ کیا کہ بہت سے دوسرے تعلیمی نظاموں میں اعداد و شمار بکھرے ہوئے، مختلف نظاموں میں الگ تھلگ، یا مؤثر طریقے سے استعمال کیے بغیر محفوظ رہتے ہیں۔ ان کے مطابق ان نظاموں میں اعداد و شمار کو سمجھنے اور بروئے کار لانے کی صلاحیت محدود ہے۔ اسی پس منظر میں انہوں نے ای ٹی ای سی کے ماڈل کو نمایاں قرار دیا اور کہا کہ بیشتر نظاموں کے پاس اس کا موازنہ کرنے والا ماڈل موجود نہیں۔
شلیکر نے ای ٹی ای سی کی صلاحیتوں میں کس قسم کی تبدیلی دیکھی؟ شلیکر نے کہا کہ انہوں نے اپنے مسلسل دوروں کے دوران ای ٹی ای سی کی صلاحیتوں میں بنیادی تبدیلی دیکھی۔ پچھلے دورے کے دوران کمیشن تعلیمی نظام کی آنکھیں اور کان کہلانے والا ڈھانچہ تیار کر رہی تھی، یعنی کارکردگی اور سیکھنے کے نتائج کی نگرانی کے لیے پیمائش کے اوزار اور اشاریے قائم کر رہی تھی۔ آج کمیشن اس نظام کا دماغ تیار کر رہی ہے، یعنی نتائج کی تشریح اور جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال کی صلاحیت۔
ملاقات میں شلیکر کو کن چیزوں کی بریفنگ دی گئی؟ ملاقات کے دوران شلیکر کو کمیشن کے اس طریقہ کار پر بریفنگ دی گئی جس کے تحت تشخیص اور جانچ کے اعداد و شمار کا انتظام کیا جاتا ہے۔ انہیں ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ سچویشن روم کے ڈیش بورڈز اور تجزیاتی صلاحیتوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔ یہ ملاقات ای ٹی ای سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ڈاکٹر خالد بن عبداللہ الصابتی کے ساتھ ہوئی۔
رپورٹ میں کون سی تفصیلات شامل نہیں ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس ملاقات کے مقام یا دورانیے کا ذکر نہیں ہے۔ سچویشن روم کے ڈیش بورڈز کی تعداد یا ان کے پیچھے کارفرما مخصوص ٹیکنالوجیز کی تفصیل بھی شامل نہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ شلیکر کے مطابق کن ممالک کے نظاموں میں ایسا ماڈل موجود نہیں، یا آئندہ اس ماڈل کو دوسرے ممالک کے ساتھ شیئر کرنے کا کوئی منصوبہ ہے یا نہیں۔