الجوف کے علاقے میں زیتون کے پریسوں نے اکتوبر 2026 میں زیتون کی فصل وصول کرنا اور پھل کو تیل میں تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے، جس سے بڑے زرعی منصوبوں اور چھوٹے کسانوں کی بھرپور پیداوار سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ یہ سیزن خطے کی سعودی عرب کے نمایاں زیتون اور زیتون کے تیل پیدا کرنے والے علاقوں میں حیثیت کو مزید مضبوط کرتا ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 20 اکتوبر 2026 کو سکاکا سے بیان کیا، الجوبہ پریس، جو الجوف ملٹی پرپز کوآپریٹو سوسائٹی چلاتی ہے، ایک مربوط پیداواری عمل کی پیروی کرتا ہے جو زیتون وصول کرنے اور کنویئر سسٹم کے ذریعے مختلف مراحل سے گزرنے سے شروع ہوتا ہے۔
اس عمل میں سب سے پہلے ہوا کے ذریعے نجاست، پتے اور چھوٹی شاخیں نکالی جاتی ہیں، اس کے بعد زیتون کو دھویا جاتا ہے اور گوندھا جاتا ہے۔ پھر تیل نکالا جاتا ہے، پانی سے الگ کیا جاتا ہے، صاف کیا جاتا ہے اور استعمال کے لیے پیک کیا جاتا ہے۔ کیا یہ جاننا دلچسپ نہیں کہ ایک زیتون کا پھل کتنی بار تبدیل ہو کر ہماری خوراک کا حصہ بنتا ہے؟
الجوف زیتون پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ڈاکٹر بسام العویش نے وضاحت کی کہ سعودی عرب میں زیتون کی کاشت گزشتہ تین دہائیوں کے دوران نمایاں طور پر پھیلی ہے، خاص طور پر شمالی سعودی عرب میں۔ الجوف کے علاقے میں زیتون کے درختوں کی تعداد 30 ملین سے تجاوز کر چکی ہے، جو 20,000 ہیکٹر سے زیادہ رقبے پر محیط ہیں، اور اس کی تخمینی معاشی قدر تقریباً 500 ملین سعودی ریال ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2025 میں زیتون کی پیداوار 160,000 ٹن سے تجاوز کر گئی، جس میں تقریباً 25,000 ٹن زیتون کا تیل شامل ہے، جبکہ 2006 میں زیتون کے تیل کی مقدار تقریباً 3,000 ٹن تھی، جو اس شعبے کی ترقی اور بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔ کیا یہ اعداد و شمار خود اس بات کی گواہی نہیں دیتے کہ دو دہائیوں میں کتنی بڑی تبدیلی آئی ہے؟
العویش نے مزید کہا کہ الجوف کا علاقہ شمالی سعودی عرب میں زیتون کے تیل کی پیداوار کا تقریباً 80 فیصد حصہ رکھتا ہے، جس کی حمایت اس کی وسیع زرعی زمین، کاشت کی جانے والی زیتون کی اقسام کے تنوع اور زیتون کی کاشت اور تیل کی پیداوار میں جمع شدہ مہارت سے حاصل ہوتی ہے۔
انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ زیتون کی اقسام کا تنوع اور پریسنگ اور پیداواری عمل میں پیش رفت فصل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے اور مقامی مصنوعات کی اضافی قدر بڑھانے میں مدد کرتی ہے۔ یہ کوششیں زرعی سرگرمیوں اور متعلقہ صنعتوں کی ترقی کی حمایت کرتی ہیں۔
زیتون کے پریسوں کا یہ سیزن اکتوبر میں شروع ہوا، جب کسان اور بڑے زرعی منصوبے اپنی فصل پریسوں تک پہنچاتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ زیتون کی فصل کا وقت ہر سال کسانوں کے لیے کتنی محنت اور امید کا موسم ہوتا ہے؟
الجوبہ پریس کا مربوط نظام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ زیتون کے پھل کو وصولی سے لے کر پیکنگ تک ہر مرحلے پر احتیاط سے سنبھالا جائے۔ ہوا کے ذریعے صفائی، دھلائی، گوندھنے، تیل نکالنے، پانی سے علیحدگی، تطہیر اور پیکنگ کے مراحل اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ تیار شدہ تیل صاف اور معیاری ہو۔
ڈاکٹر بسام العویش کے مطابق، سعودی عرب میں زیتون کی کاشت نے گزشتہ تین دہائیوں میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ شمالی سعودی عرب، خاص طور پر الجوف، اس ترقی کا مرکز رہا ہے۔ 30 ملین سے زائد درخت اور 20,000 ہیکٹر سے زیادہ رقبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ شعبہ کس قدر وسیع ہو چکا ہے۔ کیا یہ حیران کن نہیں کہ ایک علاقہ اتنے بڑے پیمانے پر زیتون کی پیداوار کر رہا ہے؟
2025 میں زیتون کی کل پیداوار 160,000 ٹن سے تجاوز کر گئی، جس میں 25,000 ٹن زیتون کا تیل شامل تھا۔ یہ اعداد و شمار 2006 کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہیں، جب صرف 3,000 ٹن تیل پیدا ہوتا تھا۔ یہ فرق نہ صرف پیداواری صلاحیت بلکہ ٹیکنالوجی اور مہارت میں بھی ترقی کو ظاہر کرتا ہے۔ کیا یہ ترقی سعودی زراعت کی کہانی کا ایک روشن باب نہیں؟
الجوف کا علاقہ شمالی سعودی عرب میں زیتون کے تیل کی پیداوار کا تقریباً 80 فیصد حصہ رکھتا ہے۔ اس کی وجوہات میں وسیع زرعی زمین، زیتون کی مختلف اقسام کی کاشت اور زیتون کی کاشت و تیل کی پیداوار میں جمع شدہ تجربہ شامل ہیں۔ یہ عوامل مل کر الجوف کو اس شعبے میں نمایاں مقام دیتے ہیں۔
زیتون کی اقسام کا تنوع اور پریسنگ کے جدید طریقے فصل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے میں مدد دیتے ہیں۔ اس سے مقامی مصنوعات کی اضافی قدر بڑھتی ہے اور زرعی سرگرمیوں کے ساتھ متعلقہ صنعتوں کی ترقی کو بھی فروغ ملتا ہے۔ کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ زیتون کی صنعت الجوف کی معیشت کا ایک اہم ستون بن چکی ہے؟
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، الجوبہ پریس الجوف ملٹی پرپز کوآپریٹو سوسائٹی کے زیر انتظام کام کرتا ہے۔ یہ پریس زیتون وصول کرنے سے لے کر تیل کی پیکنگ تک تمام مراحل خود انجام دیتا ہے، جس سے پیداوار کے معیار پر مکمل کنٹرول ممکن ہوتا ہے۔
زیتون کی فصل اکتوبر میں پریسوں تک پہنچنا شروع ہوتی ہے۔ بڑے زرعی منصوبے اور چھوٹے کسان دونوں اس سیزن سے مستفید ہوتے ہیں۔ چھوٹے کسانوں کے لیے یہ موقع ان کی محنت کا پھل اور آمدنی کا ذریعہ ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ایک چھوٹے کسان کے لیے اپنی فصل پریس تک پہنچانا کتنی اہمیت رکھتا ہے؟
ڈاکٹر العویش نے زیتون کی کاشت میں تین دہائیوں کی توسیع کا ذکر کرتے ہوئے شمالی سعودی عرب کو خاص طور پر نمایاں قرار دیا۔ ان کے مطابق الجوف میں درختوں کی تعداد 30 ملین سے زیادہ ہے اور رقبہ 20,000 ہیکٹر سے تجاوز کر چکا ہے، جس کی تخمینی معاشی قدر 500 ملین ریال ہے۔
2006 میں زیتون کے تیل کی پیداوار صرف 3,000 ٹن تھی، جو 2025 میں بڑھ کر 25,000 ٹن ہو گئی۔ یہ اضافہ اس شعبے کی ترقی اور بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیت کو واضح کرتا ہے۔ کیا یہ اعداد و شمار مستقبل میں مزید ترقی کی امید نہیں دلاتے؟
الجوف کی زرعی زمین، زیتون کی مختلف اقسام اور جمع شدہ مہارت اسے شمالی سعودی عرب میں زیتون کے تیل کی پیداوار کا 80 فیصد حصہ دار بناتی ہیں۔ یہ تنوع اور مہارت مل کر مقامی مصنوعات کے معیار اور مقدار دونوں کو بہتر بناتی ہیں۔
زیتون کی پیداوار کے عمل میں ہوا کے ذریعے صفائی، دھلائی، گوندھنا، تیل نکالنا، پانی سے علیحدگی، تطہیر اور پیکنگ شامل ہیں۔ یہ تمام مراحل مل کر ایک مربوط نظام تشکیل دیتے ہیں جو الجوبہ پریس میں اپنایا جاتا ہے۔ کیا یہ نظام دیگر علاقوں کے لیے بھی نمونہ بن سکتا ہے؟
ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس سیزن میں کتنی مقدار میں زیتون کی توقع ہے، نہ ہی پریسوں کی تعداد یا ان کی روزانہ کی صلاحیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں تیل کی قیمتوں، برآمدات یا مقامی مارکیٹ میں فروخت کے اعداد و شمار بھی شامل نہیں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، زیتون کی کاشت اور تیل کی پیداوار میں ترقی زرعی سرگرمیوں اور متعلقہ صنعتوں کی حمایت کرتی ہے۔ یہ بات الجوف کے علاقے کی معیشت میں زیتون کے شعبے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
ڈاکٹر بسام العویش نے زیتون کی اقسام کے تنوع اور پریسنگ کے عمل میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوامل فصل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے اور مقامی مصنوعات کی اضافی قدر بڑھانے میں مدد کرتے ہیں۔
الجوف میں زیتون کے پریسوں کا یہ سیزن اکتوبر 2026 میں شروع ہوا اور یہ خطے کی زرعی سرگرمیوں کا ایک اہم حصہ ہے۔ کسان، کوآپریٹو سوسائٹیز اور بڑے منصوبے سب اس عمل میں شامل ہیں۔ کیا یہ سیزن الجوف کی زرعی کامیابی کی ایک اور مثال نہیں؟
ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ زیتون کی پیداوار میں اضافے کے پیچھے کون سے مخصوص عوامل کارفرما ہیں، نہ ہی مستقبل کے اہداف یا منصوبوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں صرف موجودہ اعداد و شمار اور عہدیدار کے بیان پر توجہ دی گئی ہے۔
الجوف میں زیتون کی کاشت کتنی پھیلی ہوئی ہے؟ ڈاکٹر بسام العویش کے مطابق الجوف کے علاقے میں زیتون کے درختوں کی تعداد 30 ملین سے تجاوز کر چکی ہے، جو 20,000 ہیکٹر سے زیادہ رقبے پر محیط ہیں۔ اس کی تخمینی معاشی قدر تقریباً 500 ملین سعودی ریال ہے۔ یہ اعداد و شمار گزشتہ تین دہائیوں کی توسیع کو ظاہر کرتے ہیں، خاص طور پر شمالی سعودی عرب میں۔
زیتون کے تیل کی پیداوار میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟ 2025 میں زیتون کی پیداوار 160,000 ٹن سے تجاوز کر گئی، جس میں تقریباً 25,000 ٹن زیتون کا تیل شامل تھا۔ 2006 میں یہ مقدار صرف 3,000 ٹن تھی۔ یہ فرق اس شعبے کی ترقی اور بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے، جیسا کہ ڈاکٹر بسام العویش نے ایس پی اے کو بتایا۔
الجوبہ پریس میں تیل بنانے کا عمل کیسے ہوتا ہے؟ الجوبہ پریس، جو الجوف ملٹی پرپز کوآپریٹو سوسائٹی چلاتی ہے، زیتون وصول کرنے کے بعد کنویئر سسٹم کے ذریعے مختلف مراحل سے گزارتی ہے۔ ہوا سے نجاست، پتے اور شاخیں نکالی جاتی ہیں، پھر دھلائی اور گوندھنے کے بعد تیل نکالا جاتا ہے، پانی سے الگ کیا جاتا ہے، صاف کیا جاتا ہے اور پیک کیا جاتا ہے۔
شمالی سعودی عرب میں الجوف کا کیا مقام ہے؟ ڈاکٹر بسام العویش کے مطابق الجوف کا علاقہ شمالی سعودی عرب میں زیتون کے تیل کی پیداوار کا تقریباً 80 فیصد حصہ رکھتا ہے۔ اس کی حمایت وسیع زرعی زمین، زیتون کی مختلف اقسام اور کاشت و پیداوار میں جمع شدہ مہارت سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ عوامل الجوف کو اس شعبے میں نمایاں مقام دیتے ہیں۔
زیتون کی اقسام کے تنوع کا کیا فائدہ ہے؟ ڈاکٹر بسام العویش نے بتایا کہ زیتون کی اقسام کا تنوع اور پریسنگ و پیداواری عمل میں پیش رفت فصل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے اور مقامی مصنوعات کی اضافی قدر بڑھانے میں مدد کرتی ہے۔ یہ کوششیں زرعی سرگرمیوں اور متعلقہ صنعتوں کی ترقی کی حمایت کرتی ہیں، جس سے خطے کی معیشت کو فائدہ پہنچتا ہے۔
کیا رپورٹ میں پیداوار کی مقدار یا قیمتوں کا ذکر ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس سیزن میں متوقع زیتون کی مقدار، پریسوں کی تعداد یا ان کی روزانہ صلاحیت کا ذکر نہیں ہے۔ تیل کی قیمتوں، برآمدات یا مقامی مارکیٹ میں فروخت کے اعداد و شمار بھی شامل نہیں ہیں۔ رپورٹ میں صرف موجودہ پیداواری اعداد و شمار اور عہدیدار کے بیان پر توجہ دی گئی ہے۔