استنبول میں سعودی عرب، ترکی، مصر اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ اجلاس میں علاقائی مسائل پر غور کیا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں میں تعاون کا عزم ظاہر کیا۔ یہ اجلاس چاروں ممالک کے اس گروپ کے تحت ہوا جسے آر فور گروپ کہا جاتا ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 23 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیلی قبضہ خطے اور اس سے باہر عدم استحکام کا بنیادی ذریعہ ہے، اور اسرائیلی پالیسیاں عالمی رائے عامہ میں ناانصافی کا گہرا احساس پیدا کرتی ہیں۔
کیا عالمی برادری اس ناانصافی کے احساس کو عملی اقدام میں بدل سکتی ہے؟ وزرائے خارجہ نے مطالبہ کیا کہ دو ریاستی حل کو متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جلد از جلد نافذ کیا جائے۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کا اعادہ کیا، جن میں ان کا ناقابل تردید حق خودارادیت اور 4 جون 1967 کی لکیروں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار، قابل عمل اور متصل فلسطینی ریاست کا قیام شامل ہے، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو، اور یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہو تاکہ مشرق وسطیٰ میں جامع امن قائم ہو سکے۔
وزرائے خارجہ نے جاری اسرائیلی تشدد کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا، نیز یروشلم کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششوں کو بھی روکنے کا مطالبہ کیا، اور فلسطین میں مزید تباہی اور انسانی المیے کے خاتمے پر زور دیا۔ کیا یروشلم کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششیں خطے میں مزید کشیدگی کا سبب بن سکتی ہیں؟ انہوں نے مغربی کنارے اور یروشلم میں تمام سابقہ اور موجودہ آبادکاری کی سرگرمیوں کی مذمت کی، نیز فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کے تشدد کی بھی مذمت کی۔ انہوں نے غزہ میں انسانی امداد کے بلا تعطل بہاؤ اور تعمیر نو کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
یمن اور علاقائی سلامتی پر موقف
یمن کے حوالے سے وزرائے خارجہ نے حوثی ملیشیا کی ناقابل قبول کشیدگی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی، جس نے انسانی مصائب کو مزید گہرا کیا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے جاری حملوں کی بھی مذمت کی۔ کیا ان حملوں کے باوجود علاقائی سلامتی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہ سکتی ہیں؟
یہ اجلاس اس وقت ہوا جب خطے میں متعدد بحران ایک ساتھ جاری ہیں، اور چاروں ممالک نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کے مطابق امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنے مشترکہ مفاد کی بنیاد پر سفارتی کوششوں میں حصہ ڈالنے کے عزم کا اظہار کیا۔
وزرائے خارجہ کا یہ موقف کہ اسرائیلی قبضہ عدم استحکام کا بنیادی ذریعہ ہے، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ چاروں ممالک فلسطینی مسئلے کو خطے کے مرکزی مسئلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ کیا دو ریاستی حل کے بغیر مشرق وسطیٰ میں جامع امن ممکن ہے؟ انہوں نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی حمایت کو دہرایا، جو کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہے۔
غزہ کی صورتحال پر وزرائے خارجہ نے انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی اور تعمیر نو کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ کیا غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے جبکہ جاری تشدد جاری ہے؟ انہوں نے یروشلم کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششوں کی بھی مخالفت کی، اور مغربی کنارے و یروشلم میں آبادکاری کی سرگرمیوں اور آباد کاروں کے تشدد کی مذمت کی۔
یمن کے حوالے سے وزرائے خارجہ نے حوثی ملیشیا کی کشیدگی اور سعودی عرب کے خلاف حملوں کی شدید مذمت کی۔ کیا یمن میں انسانی بحران کے خاتمے کے لیے علاقائی تعاون کو تقویت دی جا سکتی ہے؟ انہوں نے انسانی مصائب کو گہرا کرنے والے عوامل کی نشاندہی کی اور اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔
یہ اجلاس استنبول میں ہوا، جہاں چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ کیا اس طرح کے کثیرالجہتی اجلاس خطے کے بحرانوں کے حل میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں؟ انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اجلاس میں کون سے دیگر ممالک یا ادارے شامل تھے، نہ ہی اس کے بعد کوئی مشترکہ بیان یا اعلان جاری ہوا۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں اجلاس کے دورانیے، شرکاء کی تعداد یا کسی مخصوص اقدام کے بارے میں تفصیلات موجود نہیں ہیں۔
وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت، دو ریاستی حل کی فوری عمل درآمد، یروشلم کی حیثیت کے تحفظ، غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی، اور یمن میں حوثی حملوں کی مذمت جیسے نکات پر اتفاق کیا۔ کیا ان مشترکہ موقف کو عملی شکل دینے کے لیے کوئی ٹائم لائن یا میکانزم بنایا گیا ہے؟ رپورٹ کے مطابق، وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بنیاد پر جامع امن کے حصول کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا۔
یہ اجلاس خطے میں جاری بحرانوں کے تناظر میں اہمیت کا حامل ہے، خاص طور پر فلسطین اور یمن کی صورتحال کے حوالے سے۔ چاروں ممالک نے اپنے مشترکہ مفاد اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی بنیاد پر امن و استحکام کے فروغ کے لیے تعاون جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ اجلاس کے بعد کوئی مشترکہ پریس کانفرنس ہوئی یا کوئی دستاویز جاری کی گئی۔
استنبول اجلاس میں کون سے ممالک شریک تھے؟ اجلاس میں سعودی عرب، ترکی، مصر اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔ انہیں آر فور گروپ کہا جاتا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ اجلاس 23 اکتوبر 2026 کو استنبول میں ہوا، جس میں علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزرائے خارجہ نے فلسطینی مسئلے پر کیا موقف اختیار کیا؟ وزرائے خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی قبضہ خطے میں عدم استحکام کا بنیادی ذریعہ ہے۔ انہوں نے دو ریاستی حل کی فوری عمل درآمد کا مطالبہ کیا اور 4 جون 1967 کی لکیروں پر مشرقی یروشلم کے ساتھ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی۔
غزہ کے حوالے سے کیا مطالبہ کیا گیا؟ وزرائے خارجہ نے غزہ میں انسانی امداد کے بلا تعطل بہاؤ اور تعمیر نو کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے جاری اسرائیلی تشدد کو فوری روکنے کا مطالبہ کیا اور فلسطین میں مزید تباہی اور انسانی المیے کے خاتمے پر زور دیا۔
یمن کے بارے میں اجلاس میں کیا کہا گیا؟ وزرائے خارجہ نے یمن میں حوثی ملیشیا کی ناقابل قبول کشیدگی کی شدید مذمت کی، جس نے انسانی مصائب کو گہرا کیا۔ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے جاری حملوں کی بھی مذمت کی اور علاقائی سلامتی کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔
کیا اجلاس میں کوئی مشترکہ اعلان جاری ہوا؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں علاقائی مسائل پر بات چیت ہوئی اور وزرائے خارجہ نے اپنے موقف کا اعادہ کیا۔ تاہم رپورٹ میں کسی مشترکہ بیان، اعلان یا پریس کانفرنس کا ذکر نہیں ہے، نہ ہی اجلاس کے دورانیے یا شرکاء کی تعداد بتائی گئی ہے۔