Saturday, October 24, 2026
معیشت

سعودی عرب 2026 مارش سی ایف اے انسٹیٹیوٹ گلوبل پنشن انڈیکس میں خلیج میں اول، عالمی سطح پر 12ویں نمبر پر

سعودی عرب 2026 مارش سی ایف اے انسٹیٹیوٹ گلوبل پنشن انڈیکس میں خلیج میں اول، عالمی سطح پر 12ویں نمبر پر

سعودی عرب 2026 مارش سی ایف اے انسٹیٹیوٹ گلوبل پنشن انڈیکس میں 55 پنشن نظاموں میں سے عالمی سطح پر 12ویں نمبر پر رہا اور خلیج تعاون کونسل کے تمام رکن ممالک میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ریاض سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مملکت کا مجموعی اسکور 100 میں سے 73.2 تک پہنچ گیا، جو 2025 میں 67.6 تھا۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 23 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ مسلسل بہتری کا سلسلہ ہے جس کے تحت مملکت 2022 سے اب تک 15 مقامات آگے بڑھ چکی ہے۔ کیا یہ رفتار آنے والے برسوں میں بھی برقرار رہ سکے گی؟

انڈیکس تین بنیادی ستونوں پر مبنی ہے۔ انٹیگریٹی سب انڈیکس، جو ریگولیٹری گورننس، اراکین سے رابطے اور شرکاء کے حقوق کا جائزہ لیتا ہے، میں سعودی عرب نے 83.5 اسکور حاصل کیا جو گزشتہ سال سے 9.3 پوائنٹس زیادہ ہے۔ اس کارکردگی پر مملکت کو A ریٹنگ ملی، جو اس زمرے میں سب سے بلند درجہ بندی ہے۔

پائیداری یعنی Sustainability کا اسکور 54.6 سے بڑھ کر 61.2 پوائنٹس ہو گیا، جبکہ Adequacy یعنی کفایت 75 سے بڑھ کر 77.2 رہی۔ مجموعی طور پر مملکت کو B گریڈ حاصل رہا۔ کیا کفایت اور پائیداری کے شعبوں میں مزید بہتری کے لیے نئے اقدامات کی ضرورت ہے؟

73.2 کے اسکور کے ساتھ سعودی عرب نے B بینڈ میں شامل کئی قائم بین الاقوامی پنشن نظاموں سے بہتر کارکردگی دکھائی، جن میں برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، بیلجیم، آئرلینڈ اور ہانگ کانگ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مملکت نے تمام شریک خلیجی ممالک میں سرفہرست مقام برقرار رکھا۔

انڈیکس میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ سعودی عرب کی پیش رفت مسلسل گورننس اصلاحات، ریگولیٹری بہتری، ڈیٹا کی جدید کاری اور اسکیموں کے مستفیدین کے لیے مضبوط تحفظات کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ کیا ڈیٹا کی جدید کاری سے شرکاء کے فیصلوں میں بھی واضح فرق آئے گا؟

رپورٹ کے مطابق یہ نتائج قومی سماجی بیمہ کے ماحولیاتی نظام میں جاری جدید کاری کی عکاسی کرتے ہیں، جس کی قیادت سوشل انشورنس کر رہی ہے اور جس کا مقصد فوائد کی کفایت کو بڑھانا اور طویل مدتی مالی پائیداری کو محفوظ بنانا ہے۔

مارش سی ایف اے انسٹیٹیوٹ گلوبل پنشن انڈیکس کا یہ 18واں ایڈیشن موناش سینٹر فار فنانشل اسٹڈیز کے تعاون سے شائع کیا گیا ہے اور یہ دنیا کی دو تہائی آبادی کو محیط ریٹائرمنٹ نظاموں کا جائزہ لیتا ہے، جس میں 50 سے زیادہ ذیلی اشاریے شامل ہیں۔

انٹیگریٹی میں A ریٹنگ کا مطلب یہ ہے کہ ریگولیٹری فریم ورک، اراکین تک معلومات کی رسائی اور شرکاء کے حقوق کے تحفظ کے پہلوؤں میں مملکت کو سب سے بلند درجہ بندی حاصل ہوئی۔ کیا یہ درجہ بندی طویل مدت میں برقرار رکھنے کے لیے نگرانی کے مزید طریقے اپنانے ہوں گے؟

گزشتہ سال کے مقابلے میں مجموعی اسکور میں 5.6 پوائنٹس کا اضافہ ہوا، جبکہ انٹیگریٹی میں 9.3 پوائنٹس، پائیداری میں 6.6 پوائنٹس اور کفایت میں 2.2 پوائنٹس کی بہتری ریکارڈ ہوئی۔ یہ تینوں ستونوں میں یکساں مثبت رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔ کیا تینوں ستونوں میں متوازن ترقی کا یہ نمونہ دیگر ممالک کے لیے بھی قابل تقلید ہے؟

انڈیکس میں 55 پنشن نظاموں کا موازنہ کیا گیا اور سعودی عرب کا 12واں عالمی مقام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مملکت ان نظاموں میں شامل ہے جو دنیا کی دو تہائی آبادی کا احاطہ کرتے ہیں۔ خلیجی سطح پر پہلی پوزیشن مملکت کی علاقائی پیش رفت کو نمایاں کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بہتری کی وجوہات میں گورننس اصلاحات، ریگولیٹری بہتری، ڈیٹا کی جدید کاری اور مستفیدین کے تحفظات شامل ہیں۔ ان عوامل کا تعلق براہ راست سماجی بیمہ کے ماحولیاتی نظام کی جدید کاری سے جوڑا گیا ہے، جس کی قیادت سوشل انشورنس کر رہی ہے۔ کیا ان اصلاحات کا اثر آئندہ ایڈیشن میں مزید واضح ہوگا؟

2022 سے 15 مقامات کی پیش رفت کو رپورٹ میں مسلسل بہتری کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ 2025 میں مجموعی اسکور 67.6 تھا جو 2026 میں 73.2 ہو گیا، جبکہ انٹیگریٹی 2025 کے مقابلے میں 9.3 پوائنٹس بڑھی۔ یہ اعداد و شمار مملکت کے نظام میں جاری تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

B گریڈ مجموعی درجہ بندی ہے، جبکہ انٹیگریٹی میں A ریٹنگ سب سے بلند درجہ ہے۔ کفایت کا اسکور 77.2 اور پائیداری کا اسکور 61.2 ہے۔ یہ تفصیلات انڈیکس کے تینوں ستونوں میں مملکت کی پوزیشن کو واضح کرتی ہیں۔ کیا کفایت کے شعبے میں 77.2 کا اسکور طویل مدتی ضروریات پورا کرنے کے لیے کافی ہے؟

انڈیکس موناش سینٹر فار فنانشل اسٹڈیز کے تعاون سے شائع ہوا اور یہ 18واں ایڈیشن ہے۔ اس میں 50 سے زیادہ ذیلی اشاریے شامل ہیں جو ریٹائرمنٹ نظاموں کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس وسیع فریم ورک کی بدولت مختلف ممالک کے نظاموں کا موازنہ ممکن ہوتا ہے۔

سعودی عرب نے برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، بیلجیم، آئرلینڈ اور ہانگ کانگ جیسے قائم نظاموں سے بہتر اسکور حاصل کیا، جو B بینڈ میں شامل ہیں۔ یہ موازنہ مملکت کی بین الاقوامی پوزیشن کو نمایاں کرتا ہے۔ کیا یہ موازنہ سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کے لیے بھی اہم اشارہ ہے؟

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان اصلاحات کے تحت کسی مخصوص اسکیم میں کیا تبدیلی آئی، نہ ہی شرکاء کی تعداد یا مالیاتی ذخائر کے اعداد و شمار دیے گئے۔ اسی طرح انڈیکس میں یہ تفصیل موجود نہیں کہ ہر ذیلی اشاریے میں مملکت کا درجہ کیا رہا۔

سوشل انشورنس کی قیادت میں جاری جدید کاری کا مقصد فوائد کی کفایت بڑھانا اور طویل مدتی مالی پائیداری محفوظ بنانا بتایا گیا ہے۔ انڈیکس کے مطابق گورننس، ریگولیشن، ڈیٹا اور تحفظات کے شعبوں میں بہتری نے مجموعی اسکور کو آگے بڑھایا۔ کیا ان شعبوں میں شفاف رپورٹنگ سے اعتماد مزید بڑھے گا؟

خلیجی ممالک میں پہلی پوزیشن کے ساتھ سعودی عرب نے خطے میں اپنا مقام برقرار رکھا، جبکہ عالمی سطح پر 12واں مقام 55 نظاموں میں حاصل ہوا۔ 2026 کا ایڈیشن 23 اکتوبر 2026 کو ریاض سے جاری ہوا اور اس میں مملکت کے اسکور میں گزشتہ سال کے مقابلے میں واضح اضافہ دکھایا گیا۔

انڈیکس کے مطابق مجموعی اسکور 73.2، انٹیگریٹی 83.5، پائیداری 61.2 اور کفایت 77.2 رہا۔ ان اعداد و شمار کے ساتھ مملکت نے B گریڈ برقرار رکھا اور انٹیگریٹی میں A ریٹنگ حاصل کی۔ کیا آنے والے ایڈیشن میں مجموعی گریڈ میں بھی بہتری متوقع ہے؟

رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ 15 مقامات کی پیش رفت کن سالوں میں کیسے تقسیم ہوئی، نہ ہی ہر سال کے اسکور کی تفصیل دی گئی۔ اسی طرح یہ بھی ذکر نہیں کہ دیگر خلیجی ممالک کے اسکور کیا رہے۔

انڈیکس کا دائرہ کار دنیا کی دو تہائی آبادی پر محیط ریٹائرمنٹ نظاموں کا جائزہ ہے، جس میں 50 سے زیادہ ذیلی اشاریے شامل ہیں۔ موناش سینٹر فار فنانشل اسٹڈیز کے تعاون سے شائع ہونے والا یہ 18واں ایڈیشن مملکت کی کارکردگی کو بین الاقوامی تناظر میں پیش کرتا ہے۔

سعودی عرب کی پیش رفت کو رپورٹ میں مسلسل گورننس اصلاحات، ریگولیٹری بہتری، ڈیٹا کی جدید کاری اور مستفیدین کے مضبوط تحفظات سے جوڑا گیا ہے۔ یہ عوامل قومی سماجی بیمہ کے ماحولیاتی نظام کی جدید کاری کا حصہ بتائے گئے ہیں، جس کی قیادت سوشل انشورنس کر رہی ہے۔

انٹیگریٹی میں 83.5 کا اسکور اور A ریٹنگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ریگولیٹری گورننس، اراکین سے رابطے اور شرکاء کے حقوق کے پہلوؤں میں مملکت کو سب سے بلند درجہ ملا۔ کیا اس درجے کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل جائزے ضروری ہوں گے؟

پائیداری میں 61.2 اور کفایت میں 77.2 کے اسکور کے ساتھ مجموعی B گریڈ برقرار رہا۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی اسکور 2025 کے 67.6 سے بڑھ کر 73.2 ہوا، جو 5.6 پوائنٹس کا اضافہ ہے۔

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ انڈیکس کے تحت کسی مخصوص پالیسی میں کیا تبدیلی تجویز کی گئی، نہ ہی آئندہ کے اہداف کا کوئی ہندسہ دیا گیا۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ 2022 کے اسکور کا تناسب کیا تھا۔

خلیج تعاون کونسل کے ممالک میں پہلی پوزیشن اور عالمی سطح پر 12واں مقام مملکت کے پنشن نظام کی بین الاقوامی پہچان کو ظاہر کرتا ہے۔ 55 نظاموں میں یہ مقام 2026 کے ایڈیشن میں حاصل ہوا، جس میں مملکت کا اسکور 73.2 رہا۔

انڈیکس میں برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، بیلجیم، آئرلینڈ اور ہانگ کانگ جیسے نظام B بینڈ میں شامل ہیں، جن سے سعودی عرب نے بہتر کارکردگی دکھائی۔ یہ موازنہ مملکت کی پوزیشن کو واضح کرتا ہے۔ کیا اس سے بین الاقوامی تعاون کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے؟

رپورٹ کے مطابق بہتری کے محرکات میں گورننس اصلاحات، ریگولیٹری بہتری، ڈیٹا کی جدید کاری اور مستفیدین کے تحفظات شامل ہیں۔ ان عوامل کا تعلق سماجی بیمہ کے ماحولیاتی نظام کی جدید کاری سے ہے، جس کا مقصد کفایت بڑھانا اور طویل مدتی مالی پائیداری محفوظ بنانا ہے۔

انڈیکس کا 18واں ایڈیشن موناش سینٹر فار فنانشل اسٹڈیز کے تعاون سے شائع ہوا اور اس میں 50 سے زیادہ ذیلی اشاریے شامل ہیں۔ یہ فریم ورک دنیا کی دو تہائی آبادی کو محیط ریٹائرمنٹ نظاموں کا جائزہ لیتا ہے۔

رپورٹ میں یہ تفصیل موجود نہیں کہ ہر ذیلی اشاریے میں مملکت کا درجہ کیا رہا، نہ ہی شرکاء کی تعداد یا مالیاتی ذخائر کے اعداد و شمار دیے گئے۔ اسی طرح یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ دیگر خلیجی ممالک کے اسکور کیا رہے۔

سعودی عرب کا مجموعی اسکور 73.2، انٹیگریٹی 83.5، پائیداری 61.2 اور کفایت 77.2 رہا، جبکہ مجموعی درجہ B اور انٹیگریٹی میں A ریٹنگ حاصل ہوئی۔ یہ نتائج 23 اکتوبر 2026 کو جاری رپورٹ میں پیش کیے گئے۔

2022 سے 15 مقامات کی پیش رفت اور 2025 کے 67.6 سے 2026 کے 73.2 تک کا سفر مملکت کے نظام میں جاری تبدیلیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ انڈیکس میں اس پیش رفت کو گورننس، ریگولیشن، ڈیٹا اور تحفظات سے منسلک کیا گیا ہے۔

خلیجی سطح پر پہلی پوزیشن کے ساتھ مملکت نے تمام شریک خلیجی ممالک میں سرفہرست مقام برقرار رکھا، جبکہ عالمی سطح پر 12واں مقام 55 نظاموں میں حاصل ہوا۔ یہ کارکردگی B بینڈ میں شامل کئی قائم نظاموں سے بہتر رہی۔

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان اصلاحات کے تحت کسی مخصوص اسکیم میں کیا تبدیلی آئی، نہ ہی آئندہ کے اہداف کا کوئی ہندسہ دیا گیا۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ 2022 کے اسکور کا تناسب کیا تھا۔

انڈیکس کے مطابق مملکت کی پیش رفت مسلسل گورننس اصلاحات، ریگولیٹری بہتری، ڈیٹا کی جدید کاری اور مستفیدین کے مضبوط تحفظات کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ یہ نتائج قومی سماجی بیمہ کے ماحولیاتی نظام میں جاری جدید کاری کی عکاسی کرتے ہیں، جس کی قیادت سوشل انشورنس کر رہی ہے۔

سعودی عرب کا مجموعی اسکور کتنا رہا اور گزشتہ سال کے مقابلے میں کیا فرق آیا؟ 2026 مارش سی ایف اے انسٹیٹیوٹ گلوبل پنشن انڈیکس میں مملکت کا مجموعی اسکور 100 میں سے 73.2 رہا، جو 2025 کے 67.6 سے 5.6 پوائنٹس زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2022 سے اب تک مملکت 15 مقامات آگے بڑھ چکی ہے۔ مجموعی درجہ بندی B برقرار رہی، جبکہ انٹیگریٹی میں A ریٹنگ حاصل ہوئی۔

انڈیکس کے تین ستونوں میں مملکت کی کارکردگی کیسی رہی؟ انٹیگریٹی سب انڈیکس میں سعودی عرب نے 83.5 اسکور حاصل کیا جو گزشتہ سال سے 9.3 پوائنٹس زیادہ ہے اور اس پر A ریٹنگ ملی۔ پائیداری کا اسکور 54.6 سے بڑھ کر 61.2 ہو گیا، جبکہ کفایت 75 سے بڑھ کر 77.2 رہی۔ تینوں ستونوں میں بہتری ریکارڈ ہوئی اور مجموعی B گریڈ برقرار رہا۔

سعودی عرب نے کن بین الاقوامی پنشن نظاموں سے بہتر کارکردگی دکھائی؟ 73.2 کے اسکور کے ساتھ مملکت نے B بینڈ میں شامل کئی قائم نظاموں سے بہتر کارکردگی دکھائی، جن میں برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، بیلجیم، آئرلینڈ اور ہانگ کانگ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مملکت نے تمام شریک خلیجی ممالک میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ عالمی سطح پر 55 نظاموں میں مملکت 12ویں نمبر پر رہی۔

انڈیکس میں بہتری کی کن وجوہات کا ذکر کیا گیا؟ رپورٹ کے مطابق مملکت کی پیش رفت مسلسل گورننس اصلاحات، ریگولیٹری بہتری، ڈیٹا کی جدید کاری اور اسکیموں کے مستفیدین کے لیے مضبوط تحفظات کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ یہ نتائج قومی سماجی بیمہ کے ماحولیاتی نظام میں جاری جدید کاری کی عکاسی کرتے ہیں، جس کی قیادت سوشل انشورنس کر رہی ہے اور جس کا مقصد فوائد کی کفایت بڑھانا اور طویل مدتی مالی پائیداری محفوظ بنانا ہے۔

یہ انڈیکس کیا ہے اور اس کا دائرہ کار کتنا وسیع ہے؟ مارش سی ایف اے انسٹیٹیوٹ گلوبل پنشن انڈیکس کا یہ 18واں ایڈیشن موناش سینٹر فار فنانشل اسٹڈیز کے تعاون سے شائع کیا گیا ہے۔ یہ دنیا کی دو تہائی آبادی کو محیط ریٹائرمنٹ نظاموں کا جائزہ لیتا ہے اور اس میں 50 سے زیادہ ذیلی اشاریے شامل ہیں۔ 2026 کے ایڈیشن میں مجموعی طور پر 55 پنشن نظاموں کا موازنہ کیا گیا۔

رپورٹ میں کون سی تفصیلات شامل نہیں کی گئیں؟ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان اصلاحات کے تحت کسی مخصوص اسکیم میں کیا تبدیلی آئی، نہ ہی شرکاء کی تعداد یا مالیاتی ذخائر کے اعداد و شمار دیے گئے۔ اسی طرح ہر ذیلی اشاریے میں مملکت کا درجہ، دیگر خلیجی ممالک کے اسکور اور 2022 کے اسکور کا تناسب بھی شامل نہیں کیا گیا۔