اسلامی ترقیاتی بینک گروپ (IsDB Group) نے انڈونیشیا کے ساتھ 2026-2030 کے لیے رکن ملک پارٹنرشپ اسٹریٹیجی (MCPS) کا آغاز کیا ہے، جس کے لیے تقریباً 2.56 بلین ڈالر کا اشاراتی مالیاتی لفافہ مختص کیا گیا ہے۔ یہ اعلان جمعرات کے روز کیا گیا اور اس کا مقصد اگلے پانچ سالوں میں انڈونیشیا کی ترقیاتی ترجیحات کی حمایت کرنا ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، یہ پارٹنرشپ اسٹریٹیجی انڈونیشیا کی حکومت کے تعاون سے تیار کی گئی ہے اور یہ اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کی جانب سے ملک کی ترقیاتی کوششوں میں معاونت کے لیے رہنما اصول فراہم کرے گی۔ اسٹریٹیجی کا عنوان “Supporting Inclusive and Sustainable Economic Transformation for a Prosperous and Resilient Indonesia” ہے، یعنی ایک خوشحال اور مضبوط انڈونیشیا کے لیے جامع اور پائیدار اقتصادی تبدیلی کی حمایت۔
اس اسٹریٹیجی کے دو بنیادی ستون ہیں۔ پہلا ستون “Infrastructure for Connectivity, Resilience, and Industrial Upgrading” یعنی رابطے، مضبوطی اور صنعتی ترقی کے لیے بنیادی ڈھانچہ ہے، جس میں نقل و حمل اور رابطہ، خوراک کی سلامتی اور زراعت، پائیدار ماہی گیری اور بلیو اکانومی، توانائی کی سلامتی اور توانائی کی منتقلی شامل ہیں۔ دوسرا ستون “Developing the Workforce for Indonesia’s Next Stage of Transformation” یعنی انڈونیشیا کے اگلے مرحلے کی تبدیلی کے لیے افرادی قوت کی ترقی ہے، جو مضبوط صحت کے نظام اور تعلیم و ہنر کی توسیع پر مرکوز ہے۔
کیا یہ دو ستون انڈونیشیا کی طویل المدتی ترقیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ اسٹریٹیجی کا دورانیہ 2030 تک پھیلا ہوا ہے اور اس میں متعدد شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔
دونوں ستونوں میں اسلامی مالیات، موسمیاتی اقدامات اور خواتین و نوجوانوں کی بااختیاری سے متعلق کراس کٹنگ شعبے بھی شامل ہیں۔ یہ پارٹنرشپ اسٹریٹیجی انڈونیشیا کے قومی درمیانی مدت ترقیاتی منصوبے 2025-2029 اور اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کے 10 سالہ اسٹریٹیجک فریم ورک 2026-2035 کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
کیا اسلامی مالیات کے ذریعے انڈونیشیا کی معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے؟ اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کی جانب سے اسلامی مالیات کو کراس کٹنگ شعبے کے طور پر شامل کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ اس شعبے کو ترقیاتی ایجنڈے کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
یہ پارٹنرشپ 2030 تک جاری رہے گی اور اس کا مقصد رابطے اور انضمام کو بہتر بنانا، خوراک اور توانائی کے نظام کی مضبوطی کو بڑھانا اور خواتین و نوجوانوں کے لیے مواقع کو وسعت دینا ہے۔
انڈونیشیا کی معیشت جنوب مشرقی ایشیا میں سب سے بڑی معیشت ہے اور اس کی آبادی 270 ملین سے زیادہ ہے۔ اس تناظر میں 2.56 بلین ڈالر کا اشاراتی مالیاتی لفافہ ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے، تاہم یہ رقم کس طرح تقسیم ہوگی اور کن منصوبوں پر خرچ ہوگی، اس بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
کیا 2.56 بلین ڈالر کی رقم انڈونیشیا کی بنیادی ڈھانچے کی ضروریات کے لیے کافی ہے؟ یہ رقم اشاراتی ہے، یعنی یہ حتمی نہیں بلکہ متوقع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں اس میں تبدیلی ممکن ہے۔
اسٹریٹیجی کے پہلے ستون میں نقل و حمل اور رابطہ ایک اہم شعبہ ہے۔ انڈونیشیا ایک جزیرہ نما ملک ہے جس میں 17,000 سے زیادہ جزیرے ہیں، اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اس کے لیے ایک مستقل چیلنج رہی ہے۔ بندرگاہوں، سڑکوں اور ہوائی اڈوں کی بہتری کے ذریعے مختلف جزیروں کے درمیان رابطہ مضبوط کیا جا سکتا ہے۔
خوراک کی سلامتی اور زراعت بھی اس ستون کا حصہ ہے۔ انڈونیشیا کی زرعی معیشت بڑی تعداد میں لوگوں کو روزگار فراہم کرتی ہے، اور خوراک کی درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے زرعی پیداوار میں اضافہ ضروری ہے۔
پائیدار ماہی گیری اور بلیو اکانومی کا ذکر بھی اسی ستون میں کیا گیا ہے۔ انڈونیشیا کے سمندری وسائل وسیع ہیں، اور ان کے پائیدار استعمال سے معاشی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
توانائی کی سلامتی اور توانائی کی منتقلی کا شعبہ بھی پہلے ستون کا حصہ ہے۔ انڈونیشیا کو اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے اور قابل تجدید توانائی کی طرف منتقلی کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
کیا توانائی کی منتقلی کے منصوبے انڈونیشیا کے لیے قابل عمل ہیں؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ توانائی کی منتقلی میں بڑی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی درکار ہوتی ہے۔
دوسرے ستون میں صحت کے نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ انڈونیشیا کی صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے اور ان کی رسائی کو بڑھانے کی ضرورت ہے، خاص طور پر دور دراز علاقوں میں۔
تعلیم اور ہنر کی ترقی بھی دوسرے ستون کا اہم جزو ہے۔ انڈونیشیا کی افرادی قوت کو جدید صنعتوں کی ضروریات کے مطابق تیار کرنے کے لیے تعلیمی نظام میں بہتری اور ہنر کی تربیت ضروری ہے۔
کیا انڈونیشیا کی افرادی قوت کو ہنر کی تربیت کے ذریعے عالمی منڈی کے لیے تیار کیا جا سکتا ہے؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ انڈونیشیا کی معیشت کو اعلیٰ قیمت والی صنعتوں کی طرف منتقل ہونے کے لیے ہنر مند افرادی قوت کی ضرورت ہے۔
خواتین اور نوجوانوں کی بااختیاری دونوں ستونوں میں شامل ہے۔ انڈونیشیا کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، اور ان کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ خواتین کی معاشی شرکت کو بڑھانا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
اسلامی مالیات کو کراس کٹنگ شعبے کے طور پر شامل کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلامی ترقیاتی بینک گروپ اپنی مالیاتی مصنوعات کے ذریعے انڈونیشیا کی ترقی میں معاونت کرے گا۔ انڈونیشیا میں اسلامی مالیات کی صنعت پہلے سے موجود ہے، اور اس کے مزید فروغ کی گنجائش ہے۔
موسمیاتی اقدامات بھی کراس کٹنگ شعبے کا حصہ ہیں۔ انڈونیشیا کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا ہے، اور اس کے لیے موافقت اور تخفیف کے اقدامات کی ضرورت ہے۔
کیا موسمیاتی اقدامات کے لیے مختص وسائل انڈونیشیا کی ضروریات کے مطابق ہوں گے؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔
یہ پارٹنرشپ اسٹریٹیجی انڈونیشیا کے قومی درمیانی مدت ترقیاتی منصوبے 2025-2029 کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کی معاونت انڈونیشیا کی اپنی ترقیاتی ترجیحات کے مطابق ہوگی۔
اس کے علاوہ یہ اسٹریٹیجی اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کے 10 سالہ اسٹریٹیجک فریم ورک 2026-2035 کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے۔ یہ فریم ورک گروپ کی طویل المدتی ترجیحات کا تعین کرتا ہے۔
کیا یہ ہم آہنگی دونوں فریقوں کے لیے مؤثر تعاون کی ضمانت دیتی ہے؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ ترقیاتی تعاون کی کامیابی کا انحصار دونوں فریقوں کی مشترکہ ترجیحات پر ہوتا ہے۔
اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کا صدر دفتر جدہ، سعودی عرب میں ہے، اور یہ اعلان جدہ سے جاری کیا گیا۔ گروپ مختلف رکن ممالک میں ترقیاتی منصوبوں کی مالی معاونت کرتا ہے۔
انڈونیشیا اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کا ایک اہم رکن ملک ہے، اور یہ پارٹنرشپ اسٹریٹیجی اس تعاون کو مزید مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ 2.56 بلین ڈالر کی رقم کن مخصوص منصوبوں پر خرچ ہوگی، نہ ہی اس کی تقسیم کا کوئی شیڈول دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کسی مخصوص منصوبے کی تکمیل کی تاریخ یا اس کے نفاذ کے طریقہ کار کا ذکر بھی نہیں کیا گیا۔
یہ بھی واضح نہیں کہ یہ رقم گرانٹ کی صورت میں ہوگی یا قرض کی صورت میں، اور نہ ہی اس کی واپسی کی شرائط کا کوئی ذکر ہے۔ رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ یہ ایک اشاراتی مالیاتی لفافہ ہے۔
کیا اسٹریٹیجی کے نفاذ کی نگرانی کے لیے کوئی طریقہ کار طے کیا گیا ہے؟ اس بارے میں بھی رپورٹ خاموش ہے۔
انڈونیشیا کے ساتھ یہ پارٹنرشپ اسٹریٹیجی 2026 سے 2030 تک پھیلی ہوئی ہے، اور اس کا مقصد رابطے اور انضمام کو بہتر بنانا، خوراک اور توانائی کے نظام کی مضبوطی کو بڑھانا اور خواتین و نوجوانوں کے لیے مواقع کو وسعت دینا ہے۔
یہ اہداف انڈونیشیا کی ترقیاتی ضروریات کے مطابق ہیں، تاہم ان کے حصول کے لیے درکار عملی اقدامات اور وسائل کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
مجموعی طور پر، اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کی جانب سے انڈونیشیا کے لیے 2.56 بلین ڈالر کا اشاراتی مالیاتی لفافہ اس بات کا اظہار ہے کہ گروپ انڈونیشیا کے ساتھ اپنے تعاون کو جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔ اسٹریٹیجی کے دو ستون اور کراس کٹنگ شعبے اس تعاون کے دائرہ کار کو واضح کرتے ہیں۔
اسلامی ترقیاتی بینک گروپ نے انڈونیشیا کے لیے کتنی رقم مختص کی ہے؟ اسلامی ترقیاتی بینک گروپ نے انڈونیشیا کے ساتھ 2026-2030 کی رکن ملک پارٹنرشپ اسٹریٹیجی کے لیے تقریباً 2.56 بلین ڈالر کا اشاراتی مالیاتی لفافہ مختص کیا ہے۔ یہ رقم اشاراتی ہے، یعنی حتمی نہیں۔ اسٹریٹیجی انڈونیشیا کی حکومت کے تعاون سے تیار کی گئی اور اس کا دورانیہ 2030 تک ہے۔ رپورٹ میں رقم کی تقسیم یا مخصوص منصوبوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔
اسٹریٹیجی کے دو ستون کون سے ہیں؟ پہلا ستون رابطے، مضبوطی اور صنعتی ترقی کے لیے بنیادی ڈھانچہ ہے، جس میں نقل و حمل، خوراک کی سلامتی، پائیدار ماہی گیری، توانائی کی سلامتی اور توانائی کی منتقلی شامل ہیں۔ دوسرا ستون افرادی قوت کی ترقی ہے، جو صحت کے نظام اور تعلیم و ہنر پر مرکوز ہے۔ دونوں ستونوں میں اسلامی مالیات، موسمیاتی اقدامات اور خواتین و نوجوانوں کی بااختیاری شامل ہیں۔
یہ اسٹریٹیجی کس قومی منصوبے کے ساتھ ہم آہنگ ہے؟ یہ پارٹنرشپ اسٹریٹیجی انڈونیشیا کے قومی درمیانی مدت ترقیاتی منصوبے 2025-2029 کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ اس کے علاوہ یہ اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کے 10 سالہ اسٹریٹیجک فریم ورک 2026-2035 کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے۔ اس ہم آہنگی کا مقصد یہ ہے کہ گروپ کی معاونت انڈونیشیا کی اپنی ترقیاتی ترجیحات کے مطابق ہو۔
اسٹریٹیجی کا دورانیہ کیا ہے اور اس کے اہداف کیا ہیں؟ یہ پارٹنرشپ 2030 تک جاری رہے گی۔ اس کے اہداف میں رابطے اور انضمام کو بہتر بنانا، خوراک اور توانائی کے نظام کی مضبوطی کو بڑھانا اور خواتین و نوجوانوں کے لیے مواقع کو وسعت دینا شامل ہے۔ یہ اسٹریٹیجی 2026 سے شروع ہو کر 2030 تک پھیلی ہوئی ہے اور اس کا عنوان ایک خوشحال اور مضبوط انڈونیشیا کے لیے جامع اور پائیدار اقتصادی تبدیلی کی حمایت ہے۔
اسٹریٹیجی میں اسلامی مالیات کا کیا کردار ہے؟ اسلامی مالیات کو دونوں ستونوں میں کراس کٹنگ شعبے کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی ترقیاتی بینک گروپ اپنی مالیاتی مصنوعات کے ذریعے انڈونیشیا کی ترقی میں معاونت کرے گا۔ انڈونیشیا میں اسلامی مالیات کی صنعت پہلے سے موجود ہے۔ رپورٹ میں اسلامی مالیات کے مخصوص منصوبوں یا ان کی رقم کا ذکر نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں کون سی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں؟ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ 2.56 بلین ڈالر کی رقم کن مخصوص منصوبوں پر خرچ ہوگی، نہ ہی اس کی تقسیم کا شیڈول دیا گیا ہے۔ کسی منصوبے کی تکمیل کی تاریخ، نفاذ کے طریقہ کار یا نگرانی کے نظام کا بھی ذکر نہیں ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ رقم گرانٹ کی صورت میں ہوگی یا قرض کی صورت میں، اور نہ ہی واپسی کی شرائط بتائی گئی ہیں۔