Thursday, October 29, 2026
سعودی خبریں

ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے ریاض میں خود چلنے والی ڈیلیوری سروس کا پہلا پائلٹ منصوبہ شروع کر دیا

ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے ریاض میں خود چلنے والی ڈیلیوری سروس کا پہلا پائلٹ منصوبہ شروع کر دیا

ریاض کے الفلاح ضلع سے خود چلنے والی ڈیلیوری گاڑیوں کا پہلا پائلٹ منصوبہ شروع ہوا ہے، جسے ٹرانسپورٹ جنرل اتھارٹی (ٹی جی اے) نے شروع کیا ہے۔ یہ گاڑیاں ایک مخصوص جغرافیائی علاقے کے اندر کام کریں گی، اور سروس کا آغاز الیکٹرانک آرڈر سے ہوتا ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 5 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، ٹی جی اے اس منصوبے کو ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے اور اختراعی حل کو فعال کرنے کی کوششوں کا حصہ قرار دیتی ہے۔

منصوبے کا طریقہ کار یہ ہے کہ گاہک آرڈر الیکٹرانک طور پر دیتا ہے، پھر وہ سامان ایک گاڑی پر لوڈ کیا جاتا ہے جو خود مختار انداز میں اسے وصول کنندہ تک پہنچاتی ہے۔ کیا یہی وہ سادہ راستہ ہے جس پر روزمرہ ڈیلیوری کا مستقبل کھڑا ہو سکتا ہے؟

یہ گاڑیاں لیول 4 خود مختار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی استعمال کرتی ہیں، جن میں 360 ڈگری سینسر کوریج شامل ہے۔ اس کے ساتھ ریموٹ آپریشنز سینٹر سے حقیقی وقت میں نگرانی کی سہولت بھی موجود ہے، اور ہنگامی صورت حال میں فوری طور پر رکنے کی صلاحیت بھی۔ کیا ایسی کئی حفاظتی تہیں شہری سڑکوں پر اعتماد پیدا کرنے کے لیے کافی ہیں؟

ٹی جی اے کا ہدف ہے کہ الیکٹرک بیڑے کے استعمال سے ڈیلیوری کے اخراجات میں 85 فیصد تک کمی لائی جائے۔ یہ بیڑا آپریشن کے دوران صفر کاربن اخراج پیدا کرتا ہے اور سڑک پر شور بھی کم کرتا ہے۔ کیا اخراجات میں اتنی بڑی کمی شہری ڈیلیوری کی معیشت ہی بدل دے گی؟

پائلٹ منصوبے کا دائرہ کار فی الحال ایک مخصوص جغرافیائی زون تک محدود ہے، جس کا آغاز ریاض کے الفلاح ضلع سے ہوتا ہے۔ یہی وہ پہلا قدم ہے جسے ٹی جی اے جدید ٹیکنالوجی اپنانے کی عملی مثال قرار دیتی ہے۔ کیا ایک ضلع سے شروع ہونے والا تجربہ پورے شہر کے لیے نمونہ بن سکتا ہے؟

ٹی جی اے کے مطابق یہ منصوبہ ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس شعبوں میں اختراعی حل کو فعال کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ خود مختار ڈیلیوری گاڑیوں کا نظام آرڈر، لوڈنگ اور ترسیل کے مرحلوں کو یکجا کرتا ہے، جبکہ نگرانی کا کام ریموٹ آپریشنز سینٹر کے ذریعے ہوتا ہے۔ کیا یہ ماڈل روایتی ڈیلیوری کے عمل کو آسان بنا سکتا ہے؟

لیول 4 ٹیکنالوجی کا مطلب یہ ہے کہ گاڑی مخصوص حالات میں خود مختار طور پر کام کرتی ہے، جبکہ 360 ڈگری سینسر کوریج اسے اردگرد کے ماحول کا مکمل احساس دیتی ہے۔ ہنگامی صورت حال میں فوری رکنے کی صلاحیت اور ریموٹ نگرانی اس نظام کے حفاظتی پہلوؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ کیا صفر اخراج اور کم شور والا بیڑا شہری ماحول کے لیے دوہرا فائدہ ہے؟

ٹی جی اے نے اخراجات میں 85 فیصد تک کمی کے ہدف کا ذکر کیا ہے، جو الیکٹرک بیڑے کے استعمال سے جڑا ہے۔ یہ بیڑا آپریشن کے دوران کاربن اخراج پیدا نہیں کرتا اور سڑک پر شور کم کرتا ہے۔ کیا یہ ہدف ڈیلیوری کمپنیوں کے لیے لاگت اور ماحول دونوں کے لحاظ سے کشش رکھتا ہے؟

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ پائلٹ منصوبے میں کتنی گاڑیاں شامل ہیں، نہ یہ کہ تجربہ کتنی مدت تک جاری رہے گا۔ اسی طرح اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ سروس کب عام صارفین کے لیے وسیع پیمانے پر دستیاب ہوگی۔ کیا ان تفصیلات کے بغیر منصوبے کی رفتار کا اندازہ لگانا ممکن ہے؟

الفلاح ضلع میں آغاز کا مطلب یہ ہے کہ پہلا تجربہ ایک متعین علاقے میں ہوگا، جہاں گاڑیاں اپنے کام کا مظاہرہ کریں گی۔ ٹی جی اے کے مطابق یہ منصوبہ جدید ٹیکنالوجی اپنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ کیا علاقائی حدود میں کام کرنے والا نظام بعد میں بڑے پیمانے پر پھیلایا جا سکتا ہے؟

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق سروس کا عمل تین مراحل پر مشتمل ہے: الیکٹرانک آرڈر، گاڑی پر لوڈنگ، اور خود مختار ترسیل۔ ریموٹ آپریشنز سینٹر حقیقی وقت میں نگرانی کرتا ہے، جبکہ گاڑی ہنگامی حالت میں فوری رک سکتی ہے۔ کیا یہ تینوں مراحل مل کر ڈیلیوری کے روایتی طریقوں سے زیادہ قابلِ اعتماد بن سکتے ہیں؟

ٹی جی اے کا یہ اقدام ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی سمت اشارہ کرتا ہے۔ خود مختار ڈیلیوری گاڑیوں کا پائلٹ منصوبہ ریاض میں اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ قرار دیا گیا ہے۔ کیا یہ پہلا قدم آنے والے برسوں میں شہری نقل و حمل کے منظرنامے کو بدل دے گا؟

رپورٹ میں رقم، گاڑیوں کی تعداد، یا تجربے کی تکمیل کی تاریخ نہیں دی گئی۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ پائلٹ منصوبے کے نتائج کا جائزہ کس طریقے سے لیا جائے گا۔ کیا ایسی تفصیلات کے بغیر 85 فیصد کمی کے ہدف کی پیمائش ممکن ہوگی؟

پائلٹ منصوبہ کہاں اور کیسے شروع ہوا؟ ٹرانسپورٹ جنرل اتھارٹی نے ریاض کے الفلاح ضلع سے خود چلنے والی ڈیلیوری گاڑیوں کا پہلا پائلٹ منصوبہ شروع کیا ہے۔ یہ گاڑیاں ایک مخصوص جغرافیائی زون کے اندر کام کرتی ہیں۔ عمل کا آغاز الیکٹرانک آرڈر سے ہوتا ہے، پھر سامان گاڑی پر لوڈ کر کے وصول کنندہ تک خود مختار انداز میں پہنچایا جاتا ہے۔ ایس پی اے نے گاڑیوں کی تعداد یا تجربے کی مدت نہیں بتائی۔

گاڑیوں میں کون سی ٹیکنالوجی استعمال ہوتی ہے؟ یہ گاڑیاں لیول 4 خود مختار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی استعمال کرتی ہیں، جن میں 360 ڈگری سینسر کوریج شامل ہے۔ ریموٹ آپریشنز سینٹر سے حقیقی وقت میں نگرانی کی جاتی ہے، اور گاڑی ہنگامی صورت حال میں فوری طور پر رک سکتی ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہی تین خصوصیات نظام کے حفاظتی پہلوؤں کی بنیاد ہیں۔

اخراجات اور ماحول پر کیا اثر متوقع ہے؟ ٹی جی اے کا ہدف ہے کہ الیکٹرک بیڑے کے استعمال سے ڈیلیوری کے اخراجات میں 85 فیصد تک کمی لائی جائے۔ یہ بیڑا آپریشن کے دوران صفر کاربن اخراج پیدا کرتا ہے اور سڑک پر شور کم کرتا ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ ہدف کس مدت میں حاصل کیا جائے گا یا اس کی پیمائش کا طریقہ کیا ہوگا۔

منصوبے کا دائرہ کار کتنا وسیع ہے؟ پائلٹ منصوبہ فی الحال ایک مخصوص جغرافیائی زون تک محدود ہے، جس کا آغاز ریاض کے الفلاح ضلع سے ہوتا ہے۔ ٹی جی اے اسے ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیتی ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ سروس کب دیگر اضلاع یا شہروں تک پھیلائی جائے گی۔

رپورٹ میں کیا تفصیلات شامل نہیں ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں پائلٹ منصوبے میں شامل گاڑیوں کی تعداد، تجربے کی مدت، اور تکمیل کی تاریخ نہیں دی گئی۔ اسی طرح رقم یا سرمایہ کاری کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ یہ بھی واضح نہیں کہ نتائج کا جائزہ کس طریقے سے لیا جائے گا۔ صرف یہ بتایا گیا کہ منصوبہ الفلاح ضلع سے شروع ہوا اور اس کا ہدف اخراجات میں 85 فیصد تک کمی ہے۔