ریاض میں گلوبل سی ایس آر فورم کے دوسرے ایڈیشن کا اختتام منگل کی شام ہوا، جس میں 3,000 سے زائد شرکاء اور دنیا بھر سے 100 سے زائد مقررین نے شرکت کی۔ یہ فورم 40 سے زائد خصوصی سیشنز اور مکالمات پر مشتمل تھا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 6 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، اس موقع پر متعدد وزراء کے علاوہ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر سماجی ذمہ داری کے شعبے سے تعلق رکھنے والے چیف ایگزیکٹوز، ماہرین، ماہرین اور فیصلہ سازوں کی ایک منتخب جماعت موجود تھی۔
وزیر انسانی وسائل و سماجی ترقی احمد الراجحی نے اس بات کی تصدیق کی کہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی اس فورم کی سرپرستی، اور ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی حمایت اور پیروی، سعودی عرب کی سماجی ذمہ داری کو مضبوط بنانے، جدت اور مکالمے کی حمایت، اور اس شعبے میں قیادت کی طرف بڑھنے کے عزم کا مظاہرہ کرتی ہے، جو سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق ہے۔
الراجحی نے نوٹ کیا کہ فورم نے ایسی مثمر شراکتیں قائم کرنے میں تعاون کیا ہے جو نئے افق کھولتی ہیں اور سماجی ذمہ داری میں تعاون کو بڑھانے کے لیے امید افزا مواقع پیدا کرتی ہیں، اس طرح ایک پائیدار معاشرے اور زیادہ خوشحال مستقبل کی تعمیر کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت ہوتی ہے۔
فورم کے اختتام پر، وزیر نے شرکاء اور حاضرین سے مطالبہ کیا کہ وہ مکالمے اور مشترکہ کام کو جاری رکھیں تاکہ ایک ایسے مستقبل کی تشکیل میں تعاون ہو جو پائیدار طریقوں پر مبنی ہو اور سماجی ذمہ داری کے اثرات کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جائے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ اس فورم کا دوسرا ایڈیشن کس طرح پہلے ایڈیشن سے آگے بڑھا؟ فورم کے ایجنڈے میں چھ اسٹریٹجک ستونوں پر توجہ دی گئی: حکمت عملی اور انضمام؛ آب و ہوا، فطرت، اور منصفانہ منتقلی؛ افرادی قوت، ٹیلنٹ مینجمنٹ، اور سماجی اثرات؛ ذمہ دارانہ جدت؛ ڈیجیٹل تبدیلی اور کارپوریٹ سماجی ذمہ داری؛ اور کیا آپ جانتے ہیں کہ ان ستونوں کا مقصد کیا ہے؟
شرکاء میں حکومتی اور انتظامی رہنما، سرمایہ کار، ماہرین تعلیم، ماہرین، ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندے شامل تھے۔ کیا آپ سوچتے ہیں کہ یہ تنوع کس طرح سماجی ذمہ داری کے شعبے میں نئی راہیں ہموار کرتا ہے؟
فورم کے دو دنوں کے دوران، شرکاء نے سماجی ذمہ داری کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا، جس میں پائیدار طریقوں اور اختراعی حل شامل تھے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ فورم سعودی وژن 2030 کے اہداف کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ ہے؟
سعودی عرب کی قیادت سماجی ذمہ داری کو فروغ دینے اور پائیدار ترقی کے لیے کام کرنے میں پیش پیش ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس فورم کے انعقاد کا مقصد کیا ہے؟
فورم کے اختتام پر، وزیر نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ مکالمے اور مشترکہ کام کو جاری رکھیں تاکہ ایک ایسے مستقبل کی تشکیل میں تعاون ہو جو پائیدار طریقوں پر مبنی ہو اور سماجی ذمہ داری کے اثرات کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جائے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے؟
ایس پی اے کی رپورٹ میں فورم کے دوران کیے گئے مخصوص اعلانات، معاہدوں یا شراکتوں کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔ رپورٹ میں فورم کے نتائج یا آئندہ کے اقدامات کے بارے میں بھی کوئی اضافی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
فورم کے شرکاء میں حکومتی اور انتظامی رہنما، سرمایہ کار، ماہرین تعلیم، ماہرین، ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندے شامل تھے، جنہوں نے سماجی ذمہ داری کے شعبے میں اپنے تجربات اور بصیرت کا تبادلہ کیا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس طرح کے فورم کس طرح سماجی ذمہ داری کے شعبے میں تعاون کو بڑھاتے ہیں؟
فورم کے ایجنڈے میں چھ اسٹریٹجک ستونوں پر توجہ دی گئی، جن میں حکمت عملی اور انضمام، آب و ہوا، فطرت اور منصفانہ منتقلی، افرادی قوت، ٹیلنٹ مینجمنٹ اور سماجی اثرات، ذمہ دارانہ جدت، ڈیجیٹل تبدیلی اور کارپوریٹ سماجی ذمہ داری شامل ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ان ستونوں کا مقصد کیا ہے؟
وزیر انسانی وسائل و سماجی ترقی احمد الراجحی نے اس بات پر زور دیا کہ فورم نے مثمر شراکتیں قائم کرنے میں تعاون کیا ہے جو نئے افق کھولتی ہیں اور سماجی ذمہ داری میں تعاون کو بڑھانے کے لیے امید افزا مواقع پیدا کرتی ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ شراکتیں کس طرح ایک پائیدار معاشرے کی تعمیر میں معاون ہیں؟
فورم کے اختتام پر، وزیر نے شرکاء اور حاضرین سے مطالبہ کیا کہ وہ مکالمے اور مشترکہ کام کو جاری رکھیں تاکہ ایک ایسے مستقبل کی تشکیل میں تعاون ہو جو پائیدار طریقوں پر مبنی ہو اور سماجی ذمہ داری کے اثرات کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جائے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس مطالبے کا کیا مطلب ہے؟
فورم میں 3,000 سے زائد شرکاء اور 100 سے زائد مقررین نے شرکت کی، جنہوں نے 40 سے زائد خصوصی سیشنز اور مکالمات میں حصہ لیا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ تعداد اس فورم کی اہمیت کو کس طرح ظاہر کرتی ہے؟
سعودی عرب کی قیادت کی سرپرستی اور حمایت اس فورم کے انعقاد کا بنیادی عنصر تھی، جو سماجی ذمہ داری کے شعبے میں قیادت کی طرف بڑھنے کے عزم کا مظاہرہ کرتی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ عزم سعودی وژن 2030 کے اہداف کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ ہے؟
ایس پی اے کی رپورٹ میں فورم کے دوران پیش کیے گئے مخصوص منصوبوں یا پالیسیوں کی تفصیلات نہیں دی گئیں، نہ ہی آئندہ کے ایڈیشنز کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی گئیں۔
گلوبل سی ایس آر فورم کا دوسرا ایڈیشن کب اور کہاں اختتام پذیر ہوا؟ گلوبل سی ایس آر فورم کا دوسرا ایڈیشن منگل کی شام ریاض میں اختتام پذیر ہوا۔ ایس پی اے کے مطابق، یہ فورم دو دن جاری رہا اور اس میں 3,000 سے زائد شرکاء اور 100 سے زائد مقررین نے شرکت کی۔ فورم میں 40 سے زائد خصوصی سیشنز اور مکالمات منعقد ہوئے، جن میں حکومتی اور انتظامی رہنما، سرمایہ کار، ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے نمائندے شامل تھے۔
فورم میں کون کون سے اہم شرکاء موجود تھے؟ فورم میں متعدد وزراء، چیف ایگزیکٹوز، ماہرین، ماہرین اور فیصلہ ساز شامل تھے۔ وزیر انسانی وسائل و سماجی ترقی احمد الراجحی نے بھی شرکت کی اور فورم کے اختتام پر شرکاء سے مکالمہ جاری رکھنے کی اپیل کی۔ شرکاء میں حکومتی اور انتظامی رہنما، سرمایہ کار، ماہرین تعلیم، ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندے شامل تھے، جو مقامی اور بین الاقوامی سطح پر سماجی ذمہ داری کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں۔
فورم کے ایجنڈے میں کون سے اسٹریٹجک ستون شامل تھے؟ فورم کے ایجنڈے میں چھ اسٹریٹجک ستون شامل تھے: حکمت عملی اور انضمام؛ آب و ہوا، فطرت اور منصفانہ منتقلی؛ افرادی قوت، ٹیلنٹ مینجمنٹ اور سماجی اثرات؛ ذمہ دارانہ جدت؛ ڈیجیٹل تبدیلی اور کارپوریٹ سماجی ذمہ داری۔ ایس پی اے کے مطابق، ان ستونوں پر 40 سے زائد سیشنز اور مکالمات میں تبادلہ خیال کیا گیا، جن کا مقصد سماجی ذمہ داری کے شعبے میں تعاون اور اختراع کو فروغ دینا تھا۔
وزیر احمد الراجحی نے فورم کے بارے میں کیا کہا؟ وزیر انسانی وسائل و سماجی ترقی احمد الراجحی نے کہا کہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی سرپرستی اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی حمایت سعودی عرب کے سماجی ذمہ داری کو مضبوط بنانے کے عزم کا مظاہرہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فورم نے مثمر شراکتیں قائم کرنے میں تعاون کیا جو نئے افق کھولتی ہیں اور سماجی ذمہ داری میں تعاون کو بڑھانے کے لیے امید افزا مواقع پیدا کرتی ہیں۔
فورم کا انعقاد سعودی وژن 2030 سے کیسے منسلک ہے؟ وزیر احمد الراجحی نے اس بات کی تصدیق کی کہ فورم کی سرپرستی اور حمایت سعودی عرب کے سماجی ذمہ داری کو مضبوط بنانے، جدت اور مکالمے کی حمایت، اور اس شعبے میں قیادت کی طرف بڑھنے کے عزم کا مظاہرہ کرتی ہے، جو سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق ہے۔ فورم کا مقصد ایک پائیدار معاشرے اور زیادہ خوشحال مستقبل کی تعمیر کے لیے کوششوں کی حمایت کرنا ہے۔
فورم کے اختتام پر کیا پیغام دیا گیا؟ فورم کے اختتام پر، وزیر احمد الراجحی نے شرکاء اور حاضرین سے مطالبہ کیا کہ وہ مکالمے اور مشترکہ کام کو جاری رکھیں تاکہ ایک ایسے مستقبل کی تشکیل میں تعاون ہو جو پائیدار طریقوں پر مبنی ہو اور سماجی ذمہ داری کے اثرات کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جائے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں فورم کے دوران کیے گئے مخصوص اعلانات یا معاہدوں کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔





