Sunday, November 1, 2026
معیشت

فنانشل اکیڈمی نے ریاض میں بلومبرگ فنانس لیب اور فنانس پاتھ ویز کا آغاز کر دیا

فنانشل اکیڈمی نے ریاض میں بلومبرگ فنانس لیب اور فنانس پاتھ ویز کا آغاز کر دیا

ریاض کے کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ میں واقع فنانشل اکیڈمی کے صدر دفتر میں بلومبرگ فنانس لیب کا افتتاح کر دیا گیا ہے اور بلومبرگ فنانس پاتھ ویز پروگرام کا آغاز بھی کیا گیا ہے، جس کا مقصد مالیاتی شعبے کے ماہرین اور طلبہ کو جدید ترین ٹیکنالوجیز اور عالمی کیپٹل مارکیٹ کی رہنمائی کے پروگراموں تک عملی رسائی فراہم کرنا ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، یہ افتتاح فنانشل اکیڈمی اور بلومبرگ کے درمیان اکتوبر 2025 میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت پر استوار ہے اور یہ سعودی وژن 2030 کے فنانشل سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام اور ہیومن کیپیبلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام کے مقاصد کی معاونت کرتا ہے۔

کیا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ریاض میں قائم یہ لیب خطے کے مالیاتی منظر نامے میں کس قسم کی تبدیلی لا سکتی ہے؟ بلومبرگ فنانس پاتھ ویز پروگرام مشرق وسطیٰ میں اس اقدام کی پہلی علاقائی توسیع ہے، جو ہونہار طلبہ کو سرکاری اور نجی شعبے کے رہنماؤں اور مینٹورز سے جوڑتا ہے۔ 2022 میں اپنے آغاز سے اب تک یہ پروگرام 15 ممالک کے 2,500 سے زائد طلبہ تک پہنچ چکا ہے۔

فنانشل اکیڈمی میں چیف آف کیپیسیٹی ڈیولپمنٹ محمد الحمازانی نے کہا کہ یہ لیب اور پروگرام قومی کیڈرز کو بااختیار بنانے اور مالیاتی شعبے کے پریکٹیشنرز کو جدید ترین تجزیاتی آلات، ڈیٹا اور تعلیمی مواقع سے لیس کرنے کی جانب ایک معیاری قدم ہے، جو نظریاتی علم کو عملی اطلاق سے جوڑ کر مالیاتی رہنماؤں کی نئی نسل تیار کرے گا۔

کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ نظریاتی تعلیم اور مارکیٹ کی حقیقتوں کے درمیان جو خلا ہے، وہ اس طرح کے تعاون سے پُر ہو سکتا ہے؟ بلومبرگ کے ہیڈ آف یورپ، مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ بزنس مشیل بینیٹ نے کہا کہ یہ لیب بلومبرگ کے ایجوکیشن پلیٹ فارم کو فنانشل اکیڈمی کے تربیتی نصاب سے جوڑے گی، جس سے تعلیمی کامیابی اور مارکیٹ کے لیے تیاری کے درمیان فرق کو کم کرنے میں مدد ملے گی اور سعودی عرب کے مالیاتی شعبے میں تکنیکی قابلیت میں اضافہ ہوگا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مملکت اپنے مالیاتی شعبے کو عالمی معیارات کے مطابق ڈھالنے اور مقامی ہنر کو بین الاقوامی مارکیٹوں کے لیے تیار کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔ کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ ریاض میں مالیاتی اداروں اور پیشہ ورانہ تربیتی مراکز کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے، اور اکیڈمی کے صدر دفتر میں اس لیب کا قیام اس ماحول کو مزید تقویت دیتا ہے۔

کیا طلبہ کو صرف کلاس روم کی تعلیم کافی ہے، یا انہیں حقیقی مارکیٹ کے اعداد و شمار اور آلات تک رسائی بھی درکار ہے؟ بلومبرگ فنانس لیب کے ذریعے شرکاء کو عالمی کیپٹل مارکیٹ کی رہنمائی کے پروگراموں اور جدید تجزیاتی ٹیکنالوجیز تک عملی رسائی ملے گی، جو روایتی تربیت سے آگے بڑھ کر تجرباتی سیکھنے پر زور دیتی ہے۔

فنانشل اکیڈمی اور بلومبرگ کے درمیان اکتوبر 2025 کی مفاہمت کی یادداشت اس تعاون کی بنیاد ہے، اور موجودہ افتتاح کو اسی سمجھوتے کا عملی تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس یادداشت کا مقصد مالیاتی شعبے کی صلاحیت سازی اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا بتایا گیا تھا۔

کیا مشرق وسطیٰ میں اس پروگرام کی پہلی علاقائی توسیع خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی راہ ہموار کرے گی؟ بلومبرگ فنانس پاتھ ویز نے 2022 میں اپنے آغاز کے بعد سے 15 ممالک میں 2,500 سے زائد طلبہ کو متاثر کیا ہے، اور اب اس کا دائرہ مشرق وسطیٰ تک بڑھایا جا رہا ہے، جہاں یہ طلبہ کو سرکاری اور نجی شعبے کی قیادت سے جوڑنے پر مرکوز ہے۔

محمد الحمازانی کے مطابق یہ اقدام قومی کیڈرز کو بااختیار بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے، جس میں مالیاتی شعبے کے پریکٹیشنرز کو جدید ڈیٹا، تجزیاتی آلات اور تعلیمی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے اسے نظریاتی علم اور عملی اطلاق کے درمیان پل قرار دیا، جو مالیاتی رہنماؤں کی نئی نسل کی تشکیل میں معاون ہوگا۔

کیا مالیاتی شعبے میں قابلیت کا فروغ وژن 2030 کے اہداف کے حصول میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے؟ افتتاح کو سعودی وژن 2030 کے فنانشل سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام اور ہیومن کیپیبلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام کے مقاصد کی معاونت کرنے والا قرار دیا گیا ہے، جو مملکت کی اقتصادی تنوع اور انسانی سرمائے کی ترقی کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

مشیل بینیٹ کے بیان کے مطابق لیب بلومبرگ کے ایجوکیشن پلیٹ فارم کو اکیڈمی کے تربیتی نصاب سے منسلک کرے گی۔ اس سے تعلیمی کامیابی اور مارکیٹ کے لیے تیاری کے درمیان موجود فرق کو کم کرنے میں مدد ملے گی، اور سعودی عرب کے مالیاتی شعبے میں تکنیکی قابلیت کو بہتر بنانے پر زور دیا جائے گا۔

کیا یہ تعاون طلبہ کو عالمی کیپٹل مارکیٹ کے رجحانات کو براہ راست سمجھنے کا موقع فراہم کرے گا؟ بلومبرگ فنانس لیب کا بنیادی مقصد شرکاء کو جدید ترین ٹیکنالوجیز اور عالمی کیپٹل مارکیٹ کی رہنمائی کے پروگراموں تک عملی رسائی دینا ہے، جس سے وہ بین الاقوامی مارکیٹ کے عمل کو قریب سے دیکھ سکیں گے۔

فنانشل پاتھ ویز پروگرام کا ڈھانچہ طلبہ کو مینٹورز اور قائدین سے جوڑنے پر مبنی ہے، جس میں سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کی شخصیات شامل ہیں۔ یہ ماڈل طلبہ کو نہ صرف تکنیکی مہارتیں بلکہ پیشہ ورانہ رہنمائی بھی فراہم کرتا ہے، جو ان کی مارکیٹ کے لیے تیاری کو بہتر بناتا ہے۔

کیا اس طرح کے بین الاقوامی تعاون سے سعودی مالیاتی شعبے کی عالمی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ ہوگا؟ اکیڈمی اور بلومبرگ کا اشتراک تعلیمی نصاب اور عالمی پلیٹ فارم کو یکجا کرتا ہے، جس کا مقصد مقامی ہنر کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ اقدام فنانشل اکیڈمی کے صدر دفتر میں عملی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں لیب قائم کی گئی ہے اور پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس کے شرکاء میں مالیاتی شعبے کے ماہرین اور طلبہ شامل ہیں، جنہیں جدید آلات اور ڈیٹا تک رسائی دی جائے گی۔

کیا 2,500 سے زائد طلبہ تک پہنچنے والا یہ پروگرام مشرق وسطیٰ میں بھی اسی رفتار سے پھیل سکے گا؟ 2022 سے 15 ممالک میں اس کی رسائی اس کی عالمی قبولیت کو ظاہر کرتی ہے، اور علاقائی توسیع اس کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کی کوشش ہے۔

محمد الحمازانی نے اسے قومی کیڈرز کی بااختیاری اور مالیاتی پریکٹیشنرز کو جدید تجزیاتی آلات سے لیس کرنے کی جانب ایک معیاری قدم قرار دیا۔ ان کے مطابق اس سے نظریاتی علم کو عملی اطلاق سے جوڑا جائے گا، جس کا نتیجہ مالیاتی رہنماؤں کی نئی نسل کی صورت میں نکلے گا۔

مشیل بینیٹ نے اس بات پر زور دیا کہ لیب بلومبرگ کے ایجوکیشن پلیٹ فارم اور اکیڈمی کے نصاب کے درمیان رابطہ قائم کرے گی۔ اس سے تعلیمی کامیابی اور مارکیٹ کی ضروریات کے درمیان فرق کم ہوگا اور سعودی مالیاتی شعبے کی تکنیکی قابلیت بہتر ہوگی۔

کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ انسانی سرمائے کی ترقی کے بغیر مالیاتی شعبے کی ترقی ممکن نہیں؟ افتتاح کو ہیومن کیپیبلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام سے جوڑا گیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مملکت میں ہنر کی ترقی اور مالیاتی شعبے کی مضبوطی کو ایک ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں لیب کے آلات، شرکاء کی تعداد، پروگرام کے دورانیے، اہلیت کے معیار یا آئندہ کے شیڈول کے بارے میں تفصیلات نہیں دی گئیں۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اس تعاون کے تحت کسی مالیاتی سرمایہ کاری یا بجٹ کا ذکر ہے۔

بلومبرگ فنانس لیب کہاں قائم کی گئی ہے؟ یہ لیب فنانشل اکیڈمی کے صدر دفتر میں قائم کی گئی ہے، جو ریاض کے کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ میں واقع ہے۔ ایس پی اے کے مطابق افتتاح اکیڈمی اور بلومبرگ کے تعاون سے ہوا، اور اس کا مقصد مالیاتی شعبے کے ماہرین اور طلبہ کو جدید ٹیکنالوجیز اور عالمی کیپٹل مارکیٹ کی رہنمائی کے پروگراموں تک عملی رسائی دینا ہے۔

بلومبرگ فنانس پاتھ ویز پروگرام کیا ہے؟ یہ پروگرام ہونہار طلبہ کو سرکاری اور نجی شعبے کے مینٹورز اور رہنماؤں سے جوڑتا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ مشرق وسطیٰ میں اس اقدام کی پہلی علاقائی توسیع ہے، اور 2022 میں آغاز کے بعد سے یہ 15 ممالک کے 2,500 سے زائد طلبہ تک پہنچ چکا ہے۔

اس اقدام کی بنیاد کیا ہے؟ یہ افتتاح فنانشل اکیڈمی اور بلومبرگ کے درمیان اکتوبر 2025 میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت پر استوار ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ اقدام سعودی وژن 2030 کے فنانشل سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام اور ہیومن کیپیبلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام کے مقاصد کی معاونت کرتا ہے۔

فنانشل اکیڈمی کے عہدیدار نے کیا کہا؟ چیف آف کیپیسیٹی ڈیولپمنٹ محمد الحمازانی نے کہا کہ لیب اور پروگرام قومی کیڈرز کو بااختیار بنانے اور مالیاتی شعبے کے پریکٹیشنرز کو جدید تجزیاتی آلات، ڈیٹا اور تعلیمی مواقع سے لیس کرنے کی جانب ایک معیاری قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نظریاتی علم کو عملی اطلاق سے جوڑا جائے گا۔

بلومبرگ کی نمائندہ نے کیا بیان دیا؟ بلومبرگ کے ہیڈ آف یورپ، مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ بزنس مشیل بینیٹ نے کہا کہ لیب بلومبرگ کے ایجوکیشن پلیٹ فارم کو فنانشل اکیڈمی کے تربیتی نصاب سے جوڑے گی۔ ان کے مطابق اس سے تعلیمی کامیابی اور مارکیٹ کے لیے تیاری کے درمیان فرق کم کرنے میں مدد ملے گی اور سعودی مالیاتی شعبے میں تکنیکی قابلیت بڑھے گی۔

رپورٹ میں کون سی تفصیلات شامل نہیں ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں لیب کے آلات، شرکاء کی تعداد، پروگرام کے دورانیے، اہلیت کے معیار یا آئندہ کے شیڈول کے بارے میں تفصیلات نہیں دی گئیں۔ رپورٹ میں اس تعاون کے تحت کسی مالیاتی سرمایہ کاری یا بجٹ کا بھی ذکر نہیں ہے، اور نہ ہی کسی تکمیل کی تاریخ کا تذکرہ ہے۔