Sunday, November 1, 2026
معیشت

جی سی سی معیشتوں کی مضبوطی پر آئی ایم ایف کی تعریف، البدیوی کا بیان

جی سی سی معیشتوں کی مضبوطی پر آئی ایم ایف کی تعریف، البدیوی کا بیان

منامہ میں خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنروں کا بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کے ساتھ مشترکہ اجلاس ہوا، جس میں جی سی سی کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے کہا کہ آئی ایم ایف نے عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود جی سی سی معیشتوں کی مضبوطی اور ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کی صلاحیت کو سراہا ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، یہ اجلاس یکم اکتوبر 2026 کو منامہ میں منعقد ہوا اور اس کی صدارت بحرین کے وزیر خزانہ و قومی معیشت اور موجودہ اجلاس کے چیئرمین شیخ سلمان بن خلیفہ آل خلیفہ نے کی۔

البدیوی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جی سی سی کی مجموعی معاشی مضبوطی نظم و ضبط والی پالیسیوں، مضبوط مالیاتی بفرز، لچکدار بینکنگ شعبوں اور اقتصادی تنوع میں مسلسل سرمایہ کاری کا براہ راست نتیجہ ہے۔ کیا عالمی معیشت کی اتھل پتھل کے دوران یہی نظم و ضبط خطے کی سب سے بڑی طاقت نہیں؟

انہوں نے زور دیا کہ خطے کی فوری ترجیح مالیاتی استحکام کا تحفظ ہے، ساتھ ہی ایسے لچکدار پالیسی فریم ورک کو برقرار رکھنا ہے جو جغرافیائی سیاسی مشکلات اور تجارت و رسد کے راستوں میں خلل کا مقابلہ کر سکے۔ کیا پالیسیوں کی یہ لچک ہی غیر یقینی دور میں فیصلہ کن فرق ڈالتی ہے؟

سیکرٹری جنرل نے واضح کیا کہ اقتصادی مضبوطی کو جی سی سی کے معاشی ڈھانچے کا بنیادی ستون رہنا چاہیے، نہ کہ محض بحران کے وقت استعمال ہونے والا ردِ عمل کا آلہ۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوطی کو وقتی انتظام نہیں بلکہ مستقل بنیاد بنانا ہوگا۔ کیا بحران آنے پر سوچنے کے بجائے پہلے سے تیار رہنا زیادہ دانشمندی نہیں؟

طویل مدتی ساختی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے البدیوی نے علاقائی اقتصادی انضمام کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اشیا، خدمات اور سرمائے کی سرحدوں کے پار نقل و حرکت کو آسان بنایا جائے، مضبوط تجارتی راہداریاں قائم کی جائیں، ڈیجیٹل تبدیلی کو آگے بڑھایا جائے اور نجی شعبے کو بااختیار بنایا جائے۔ کیا سرحدوں کے پار تجارت کی آسانی سے خطے کی معیشتیں نئی بلندیوں تک نہیں پہنچ سکتیں؟

انہوں نے اختتام پر جی سی سی کے عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اندرونی ہم آہنگی کو مزید گہرا کرے گا اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں، بالخصوص آئی ایم ایف، کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کو وسعت دے گا تاکہ پائیدار اقتصادی خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔ کیا بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ مضبوط شراکت داری کے بغیر پائیدار ترقی ممکن ہے؟

اجلاس میں جی سی سی کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنر موجود تھے، جبکہ آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت بحرین کے وزیر خزانہ و قومی معیشت شیخ سلمان بن خلیفہ آل خلیفہ نے کی، جو موجودہ اجلاس کے چیئرمین ہیں۔ کیا اس طرح کے مشترکہ اجلاس خطے کے مالیاتی تعاون کو نئی سمت نہیں دیتے؟

البدیوی کے بیان کے مطابق آئی ایم ایف نے جی سی سی معیشتوں کی لچک اور ترقی کی رفتار کو تسلیم کیا، اور اسے دانشمندانہ مالیاتی اقدامات کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مضبوطی اتفاقی نہیں بلکہ مسلسل محنت اور منصوبہ بندی کا پھل ہے۔ کیا یہ اعتراف خطے کی معیشتوں کے لیے عالمی اعتماد کا اشارہ نہیں؟

انہوں نے مزید کہا کہ جی سی سی ممالک کی معاشی طاقت کے چار اہم ستون ہیں: نظم و ضبط والی پالیسیاں، مضبوط مالیاتی بفرز، لچکدار بینکنگ شعبے اور اقتصادی تنوع میں سرمایہ کاری۔ ان عناصر نے عالمی دباؤ کے باوجود ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنے میں مدد دی۔ کیا ان چار ستونوں کے بغیر کوئی معیشت عالمی جھٹکوں کا مقابلہ کر سکتی ہے؟

سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا کہ جغرافیائی سیاسی تناؤ اور تجارتی و رسد کے راستوں میں خلل خطے کے لیے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے، اس لیے پالیسی فریم ورک کو ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مالیاتی استحکام کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ کیا رسد کے راستوں کی حفاظت کے بغیر تجارت کا تسلسل ممکن ہے؟

انہوں نے علاقائی انضمام کے حوالے سے کہا کہ اشیا، خدمات اور سرمائے کی نقل و حرکت میں رکاوٹیں دور کرنا ضروری ہے۔ مضبوط تجارتی راہداریوں کی تعمیر، ڈیجیٹل تبدیلی اور نجی شعبے کی شرکت کو بڑھانا طویل مدتی ترجیحات میں شامل ہیں۔ کیا نجی شعبے کی شمولیت کے بغیر انضمام کا خواب پورا ہو سکتا ہے؟

البدیوی نے کہا کہ جی سی سی اندرونی ہم آہنگی کو مزید مضبوط کرنے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ شراکت داری بڑھانے کے لیے پرعزم ہے، جن میں آئی ایم ایف سب سے اہم ہے۔ ان کا مقصد پائیدار اقتصادی خوشحالی کو یقینی بنانا ہے۔ کیا خطے کی معیشتیں مل کر عالمی مالیاتی نظام میں اپنا مقام مزید مستحکم نہیں کر سکتیں؟

اجلاس میں جی سی سی کے مالیاتی اور مالیاتی پالیسی سازوں نے آئی ایم ایف کے نمائندوں کے ساتھ موجودہ عالمی معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں معاشی مضبوطی، مالیاتی استحکام اور طویل مدتی ساختی اصلاحات پر بات کی گئی۔ رپورٹ میں مزید تفصیلات، اعداد و شمار یا فیصلوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔

آئی ایم ایف نے جی سی سی معیشتوں کے بارے میں کیا کہا؟ جی سی سی سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی کے مطابق آئی ایم ایف نے خلیجی معیشتوں کی لچک اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کی صلاحیت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مضبوطی دانشمندانہ مالیاتی اقدامات کا نتیجہ ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں آئی ایم ایف کے مزید تفصیلی بیانات یا اعداد و شمار شامل نہیں ہیں۔

جی سی سی معیشتوں کی مضبوطی کی وجوہات کیا بتائی گئیں؟ البدیوی نے چار عوامل بیان کیے: نظم و ضبط والی پالیسیاں، مضبوط مالیاتی بفرز، لچکدار بینکنگ شعبے اور اقتصادی تنوع میں مسلسل سرمایہ کاری۔ انہوں نے کہا کہ یہی عناصر عالمی دباؤ کے باوجود ترقی کی رفتار برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوئے۔ رپورٹ میں ان عوامل کی مزید تفصیل یا مقداری اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔

اجلاس میں کون کون شریک ہوا اور صدارت کس نے کی؟ منامہ میں جی سی سی وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنروں کا آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر کے ساتھ مشترکہ اجلاس ہوا۔ اس کی صدارت بحرین کے وزیر خزانہ و قومی معیشت اور موجودہ اجلاس کے چیئرمین شیخ سلمان بن خلیفہ آل خلیفہ نے کی۔ اجلاس میں جی سی سی کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے بھی خطاب کیا۔

خطے کی فوری ترجیح کیا قرار دی گئی؟ البدیوی نے کہا کہ فوری ترجیح مالیاتی استحکام کا تحفظ اور ایسے لچکدار پالیسی فریم ورک کو برقرار رکھنا ہے جو جغرافیائی سیاسی مشکلات اور تجارت و رسد کے راستوں میں خلل کا مقابلہ کر سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ مضبوطی کو بحران کے وقت کا ردِ عمل نہیں بلکہ معاشی ڈھانچے کا مستقل ستون ہونا چاہیے۔

طویل مدتی ساختی ترجیحات کون سی بتائی گئیں؟ سیکرٹری جنرل نے علاقائی اقتصادی انضمام کو تیز کرنے، اشیا، خدمات اور سرمائے کی سرحدوں کے پار نقل و حرکت آسان بنانے، مضبوط تجارتی راہداریاں قائم کرنے، ڈیجیٹل تبدیلی کو آگے بڑھانے اور نجی شعبے کو بااختیار بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جی سی سی اندرونی ہم آہنگی اور آئی ایم ایف سمیت بین الاقوامی اداروں کے ساتھ شراکت داری بڑھانے کا عزم رکھتا ہے۔