Monday, November 2, 2026
سعودی خبریں

ویقاء سینٹر نے پودوں کی صحت کے سات حوالہ جاتی اٹلس جاری کر دیے

ویقاء سینٹر نے پودوں کی صحت کے سات حوالہ جاتی اٹلس جاری کر دیے

سعودی عرب میں پودوں کی صحت کے شعبے میں سات حوالہ جاتی اٹلس جاری کیے گئے ہیں، جن میں ایک اٹلس ایسا بھی ہے جو زرعی ماحول میں پائے جانے والے مقامی اور غیر مقامی پودوں اور جڑی بوٹیوں کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ اٹلس نیشنل سینٹر فار دی پریوینشن اینڈ کنٹرول آف پلانٹس پیسٹس اینڈ اینیمل ڈیزیز (ویقاء سینٹر) نے جاری کیے ہیں۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے یکم اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ اٹلس نیشنل ٹرانسفارمیشن پروگرام کے ایک اقدام کے تحت جاری کیے گئے ہیں، جس کا تعلق مربوط کیڑے مار انتظام سے ہے۔ اس اقدام کا مقصد زرعی تحفظ اور پائیدار ملکی پیداوار کو سہارا دینا ہے۔

سات اٹلس میں سے ہر ایک کا اپنا موضوع ہے۔ ایک اٹلس مقامی اور غیر مقامی پودوں پر مرکوز ہے، جبکہ دوسرا زرعی جڑی بوٹیوں کا احاطہ کرتا ہے۔ ان دو اٹلس کو عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں شائع کیا گیا ہے۔ باقی اٹلس میں کھیت کی فصلوں اور چارے کو متاثر کرنے والے کیڑوں، پھلوں کے درختوں، کھجوروں اور کھجوروں، ذخیرہ شدہ اناج اور بیجوں، اور سبزیوں سے متعلق موضوعات شامل ہیں۔

کیا یہ اٹلس سعودی عرب کے کسانوں کے روزمرہ فیصلوں میں کوئی فرق پیدا کر سکیں گے؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ ان اٹلس میں صرف کیڑوں کی فہرست نہیں دی گئی، بلکہ ان کی حیاتیات، ان کے پھیلاؤ کے نقشے اور ان سے نمٹنے کے طریقے بھی شامل کیے گئے ہیں۔

یہ اٹلس ایک تحقیقی اور میدانی منصوبے کا نتیجہ ہیں جو 2018 سے 2025 کے اختتام تک جاری رہا۔ اس منصوبے کا مقصد کیڑوں کی حیاتیات کو دستاویزی شکل دینا، سعودی عرب کے مختلف ماحول میں ان کے پھیلاؤ کا نقشہ تیار کرنا، اور ایک جامع قومی ڈیٹا بیس بنانا تھا۔ یہ ڈیٹا بیس زرعی قرنطینہ اور مربوط کیڑے مار انتظام میں فیصلہ سازوں کے لیے معاون ثابت ہوگا۔

کیا سعودی عرب کے متنوع ماحول میں کیڑوں کا نقشہ تیار کرنا آسان کام تھا؟ سعودی عرب میں صحرائی علاقے، پہاڑی خطے، ساحلی میدان اور زرعی وادیاں سب شامل ہیں، اور ہر ماحول میں کیڑوں کی اقسام اور ان کے پھیلاؤ کے انداز مختلف ہو سکتے ہیں۔ اسی تنوع کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ منصوبہ سات سال سے زائد عرصے تک جاری رہا۔

اٹلس میں سائنسی تفصیلات، تصویریں، جغرافیائی تقسیم کے نقشے اور کنٹرول کے طریقے شامل ہیں۔ کیڑوں سے متعلق اٹلس میں کیڑوں کے زندگی کے مراحل اور انفیکشن کی علامات بھی بیان کی گئی ہیں۔ یہ مواد روک تھام کو بہتر بنانے، زرعی اور غذائی تحفظ کو مضبوط کرنے اور ملکی پیداوار کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

کیا کیڑوں کے زندگی کے مراحل کی دستاویز بندی سے بروقت مداخلت ممکن ہو سکتی ہے؟ زرعی ماہرین کے لیے یہ معلومات اس لیے اہم ہیں کہ کیڑے کی شناخت اور اس کے مرحلے کا تعین ہی درست علاج کے انتخاب کی بنیاد بنتا ہے۔ اگر کسان کو یہ معلوم ہو کہ اس کے کھیت میں موجود کیڑا کس مرحلے میں ہے، تو وہ کم نقصان دہ اور زیادہ مؤثر طریقہ اختیار کر سکتا ہے۔

یہ اٹلس کس طرح تیار کیے گئے؟ ایس پی اے کے مطابق یہ ایک تحقیقی اور میدانی منصوبے کا نتیجہ ہیں، جس کا آغاز 2018 میں ہوا اور جو 2025 کے اختتام تک جاری رہا۔ اس طویل عرصے میں محققین نے مختلف علاقوں کا دورہ کیا، نمونے جمع کیے اور کیڑوں کی اقسام کی شناخت کی۔ اس کام کا مقصد ایک ایسا قومی ڈیٹا بیس بنانا تھا جو فیصلہ سازوں کو زرعی قرنطینہ اور مربوط کیڑے مار انتظام میں مدد فراہم کرے۔

کیا زرعی قرنطینہ کے فیصلے بغیر مستند ڈیٹا کے ممکن ہیں؟ قرنطینہ کا نظام اس بات پر منحصر ہے کہ کون سے کیڑے کس علاقے میں موجود ہیں اور کون سے ابھی داخل نہیں ہوئے۔ اگر یہ معلومات دستیاب نہ ہوں تو درآمدی پودوں اور زرعی مصنوعات کی جانچ کمزور پڑ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جغرافیائی تقسیم کے نقشے اس منصوبے کا مرکزی حصہ قرار دیے گئے۔

سات اٹلس میں سے دو یعنی مقامی اور غیر مقامی پودوں کا اٹلس اور زرعی جڑی بوٹیوں کا اٹلس عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں شائع کیے گئے ہیں۔ باقی اٹلس کی زبانوں کے بارے میں ایس پی اے کی رپورٹ میں تفصیل نہیں دی گئی۔

کیا دو زبانوں میں اشاعت سے یہ مواد بین الاقوامی محققین تک پہنچ سکے گا؟ انگریزی میں اشاعت سے سعودی عرب کے علاوہ دیگر ممالک کے ماہرین بھی ان اٹلس سے استفادہ کر سکتے ہیں، جبکہ عربی میں اشاعت مقامی اداروں، یونیورسٹیوں اور کسانوں کے لیے رسائی آسان بناتی ہے۔

اٹلس کے موضوعات میں کھیت کی فصلیں اور چارہ، پھلوں کے درخت، کھجوریں اور کھجوریں، ذخیرہ شدہ اناج اور بیج، اور سبزیاں شامل ہیں۔ یہ موضوعات سعودی زراعت کی بنیادی پیداوار سے جڑے ہوئے ہیں۔ کھجور کی کاشت سعودی عرب کی زرعی شناخت کا حصہ ہے، جبکہ ذخیرہ شدہ اناج اور بیجوں سے متعلق کیڑے گوداموں اور ذخیرہ گاہوں میں نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔

کیا ذخیرہ شدہ اناج کو کیڑوں سے بچانا کھیتوں سے کم اہم ہے؟ اکثر توجہ کھیت پر ہوتی ہے، مگر گودام میں لگنے والا نقصان بھی پیداوار کو ضائع کر دیتا ہے۔ اسی لیے ذخیرہ شدہ اناج اور بیجوں کا الگ اٹلس تیار کیا گیا، جس میں ان کیڑوں کی شناخت اور ان سے بچاؤ کے طریقے شامل ہیں۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ اٹلس نیشنل ٹرانسفارمیشن پروگرام کے ایک اقدام کے تحت جاری کیے گئے ہیں۔ اس پروگرام کا دائرہ وسیع ہے اور زراعت اس کے اہم شعبوں میں شامل ہے۔ مربوط کیڑے مار انتظام کا مطلب یہ ہے کہ کیڑوں سے نمٹنے کے لیے صرف کیمیائی علاج پر انحصار نہ کیا جائے، بلکہ حیاتیاتی، زراعتی اور دیگر طریقوں کو ملا کر استعمال کیا جائے۔

کیا مربوط کیڑے مار انتظام روایتی طریقوں سے زیادہ مؤثر ہے؟ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ کسان کے پاس کتنی معلومات موجود ہیں۔ اگر اسے معلوم ہو کہ کون سا کیڑا کس فصل کو کب متاثر کرتا ہے، تو وہ کم سے کم مداخلت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ یہی مقصد ان اٹلس کی تیاری میں سامنے رکھا گیا۔

اٹلس میں سائنسی تفصیلات کے ساتھ تصویریں بھی شامل ہیں۔ تصویریں اس لیے اہم ہیں کہ کسان اور فیلڈ ورکر کیڑے کو پہچان سکیں، خاص طور پر جب وہ مختلف زندگی کے مراحل میں مختلف شکل اختیار کرتا ہو۔ انفیکشن کی علامات کی تفصیل سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ نقصان پہنچنے سے پہلے ہی انتباہ مل جائے۔

کیا انفیکشن کی علامات کی شناخت میں تاخیر سے فصل ضائع ہو سکتی ہے؟ بہت سے کیڑے شروع میں کم نظر آتے ہیں مگر تیزی سے بڑھتے ہیں۔ اگر علامات کی پہچان ہو تو مداخلت بروقت کی جا سکتی ہے اور نقصان محدود رہتا ہے۔ اسی لیے اٹلس میں علامات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

یہ منصوبہ 2018 سے 2025 کے اختتام تک جاری رہا، یعنی تقریباً سات سال۔ اس عرصے میں کیڑوں کی حیاتیات کو دستاویزی شکل دی گئی، ان کے پھیلاؤ کا نقشہ تیار کیا گیا اور ایک جامع قومی ڈیٹا بیس بنایا گیا۔ یہ ڈیٹا بیس فیصلہ سازوں کے لیے زرعی قرنطینہ اور مربوط کیڑے مار انتظام میں معاون ہوگا۔

کیا سات سال کا عرصہ اس نوعیت کے منصوبے کے لیے ضروری تھا؟ کیڑوں کی حیاتیات اور پھیلاؤ کو سمجھنے کے لیے مختلف موسموں اور علاقوں میں مشاہدہ درکار ہوتا ہے۔ ایک ہی سال کے نمونے سے مکمل تصویر نہیں بنتی، اسی لیے طویل میدانی کام کو بنیاد بنایا گیا۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اٹلس کہاں سے حاصل کیے جا سکتے ہیں، نہ یہ کہ ان کی اشاعت کی تعداد کتنی ہے، نہ ہی یہ کہ ان کے مصنفین یا محققین کون ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ باقی پانچ اٹلس کس زبان میں شائع کیے گئے ہیں۔

کیا یہ اٹلس آن لائن دستیاب ہوں گے یا صرف مطبوعہ شکل میں؟ اس سوال کا جواب رپورٹ میں موجود نہیں۔ اگر یہ ڈیجیٹل شکل میں دستیاب ہوں تو ان تک رسائی زیادہ کسانوں اور طلبہ کو ہو سکتی ہے، جبکہ مطبوعہ شکل فیلڈ ورکرز کے لیے زیادہ آسان ہو سکتی ہے۔

مجموعی طور پر یہ اٹلس پودوں کی صحت کے شعبے میں ایک حوالہ جاتی ذخیرہ فراہم کرتے ہیں، جس میں سائنسی تفصیلات، تصویریں، نقشے اور کنٹرول کے طریقے شامل ہیں۔ یہ مواد روک تھام کو بہتر بنانے، زرعی اور غذائی تحفظ کو مضبوط کرنے اور ملکی پیداوار کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

کیا زرعی تحفظ اور غذائی تحفظ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں؟ جب فصل کیڑوں سے محفوظ رہتی ہے تو پیداوار برقرار رہتی ہے، اور جب پیداوار برقرار رہتی ہے تو خوراک کی دستیابی بہتر ہوتی ہے۔ یہی سلسلہ ان اٹلس کی تیاری کا بنیادی محرک نظر آتا ہے۔

ویقاء سینٹر نے کون سے اٹلس جاری کیے ہیں؟ ویقاء سینٹر نے پودوں کی صحت کے سات حوالہ جاتی اٹلس جاری کیے ہیں۔ ان میں مقامی اور غیر مقامی پودوں، زرعی جڑی بوٹیوں، کھیت کی فصلوں اور چارے، پھلوں کے درختوں، کھجوروں اور کھجوروں، ذخیرہ شدہ اناج اور بیجوں، اور سبزیوں سے متعلق موضوعات شامل ہیں۔ ایس پی اے کے مطابق مقامی اور غیر مقامی پودوں کا اٹلس اور زرعی جڑی بوٹیوں کا اٹلس عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں شائع کیے گئے ہیں۔

یہ اٹلس کس منصوبے کا حصہ ہیں؟ ایس پی اے کے مطابق یہ اٹلس نیشنل ٹرانسفارمیشن پروگرام کے ایک اقدام کے تحت جاری کیے گئے ہیں، جس کا تعلق مربوط کیڑے مار انتظام سے ہے۔ اس اقدام کا مقصد زرعی تحفظ اور پائیدار ملکی پیداوار کو سہارا دینا ہے۔ اٹلس میں سائنسی تفصیلات، تصویریں، جغرافیائی تقسیم کے نقشے اور کنٹرول کے طریقے شامل ہیں، جو روک تھام کو بہتر بنانے اور زرعی و غذائی تحفظ کو مضبوط کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

یہ اٹلس کتنے عرصے کے کام کا نتیجہ ہیں؟ یہ اٹلس ایک تحقیقی اور میدانی منصوبے کا نتیجہ ہیں جو 2018 سے 2025 کے اختتام تک جاری رہا۔ اس منصوبے کا مقصد کیڑوں کی حیاتیات کو دستاویزی شکل دینا، سعودی عرب کے مختلف ماحول میں ان کے پھیلاؤ کا نقشہ تیار کرنا، اور ایک جامع قومی ڈیٹا بیس بنانا تھا۔ یہ ڈیٹا بیس زرعی قرنطینہ اور مربوط کیڑے مار انتظام میں فیصلہ سازوں کے لیے معاون ثابت ہوگا۔

اٹلس میں کون سی معلومات شامل ہیں؟ اٹلس میں سائنسی تفصیلات، تصویریں، جغرافیائی تقسیم کے نقشے اور کنٹرول کے طریقے شامل ہیں۔ کیڑوں سے متعلق اٹلس میں کیڑوں کے زندگی کے مراحل اور انفیکشن کی علامات بھی بیان کی گئی ہیں۔ ایس پی اے کے مطابق یہ مواد روک تھام کو بہتر بنانے، زرعی اور غذائی تحفظ کو مضبوط کرنے اور ملکی پیداوار کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

کیا رپورٹ میں اٹلس کی دستیابی کے بارے میں کچھ بتایا گیا؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اٹلس کہاں سے حاصل کیے جا سکتے ہیں، نہ ان کی اشاعت کی تعداد، نہ مصنفین یا محققین کے نام۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ باقی پانچ اٹلس کس زبان میں شائع کیے گئے ہیں۔ صرف یہ واضح کیا گیا کہ مقامی اور غیر مقامی پودوں کا اٹلس اور زرعی جڑی بوٹیوں کا اٹلس عربی اور انگریزی میں شائع ہوئے۔