ریاض میں کنگ فیصل اسپیشل ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر (KFSH) میں دل کی پیوند کاری کے ایک سال بعد، درہ نامی ایک نوجوان خاتون دوبارہ قانون کی تعلیم اور مصوری کی طرف لوٹ آئی ہے، اور وہ اکثر اپنی تصویروں میں دل کو موضوع بناتی ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 30 ستمبر 2026 کو بیان کیا، درہ کو اس وقت کوئی علامات نہیں تھیں جب ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کے دل کے پٹھے کو کمزور کرنے والا جینیاتی تغیر (میوٹیشن) اس کے جسم میں موجود ہے۔
اس کی تشخیص اس کی بہن کے ذریعے ہوئی۔ بہن میں کارڈیو مایوپیتھی کی تشخیص کے بعد جینیاتی ٹیسٹنگ سے اس بیماری سے جڑا تغیر سامنے آیا، اور ڈاکٹروں نے خاندان کے باقی افراد کی اسکریننگ کی سفارش کی۔ درہ میں بھی یہی تغیر پایا گیا، جس کی وجہ سے ڈاکٹروں کو بیماری کے بڑھنے سے پہلے ہی اس کی نگرانی شروع کرنے کا موقع ملا۔
کیا یہ حیران کن نہیں کہ ایک خاموش جینیاتی تغیر برسوں تک کسی علامت کے بغیر جسم میں موجود رہ سکتا ہے؟
KFSH میں بالغوں کے دل کی ناکامی کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر احمد المصطفیٰ، جنہوں نے اس کا کیس نگرانی کیا، نے کہا: ”کارڈیو مایوپیتھی کی بہت سی وجوہات ہیں، اور جینیاتی ٹیسٹنگ وجہ تلاش کرنے کے سب سے اہم مراحل میں سے ایک ہے۔ یہ حالات خاندان کے افراد میں مختلف درجوں میں ظاہر ہو سکتے ہیں، اس لیے ٹیسٹنگ ہمیں علامات ظاہر ہونے سے پہلے ہی کیریئرز کی شناخت اور بیماری کے جدید مرحلے تک پہنچنے سے پہلے ان کی نگرانی کا موقع دیتی ہے۔“
جیسے جیسے اس کے دل کی کارکردگی کم ہوتی گئی، اس کا کارڈیک کیتھیٹرائزیشن اور ایم آر آئی کیا گیا اور اسے دواؤں سے علاج دیا گیا۔ جب یہ کافی نہ رہا تو ایک طبی کمیٹی نے اسے پیوند کاری کی ویٹنگ لسٹ میں شامل کیا۔ اسے تقریباً پانچ ماہ انتظار کرنا پڑا، جس کا کچھ حصہ روزانہ نگرانی میں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں گزرا، یہاں تک کہ ایک موزوں عطیہ دہندہ مل گیا۔
کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انتظار کے ان پانچ مہینوں میں مریض اور اس کے اہل خانہ کے لیے ہر دن کیسا گزرا ہوگا؟
آپریشن آٹھ گھنٹے جاری رہا، دوپہر سے رات آٹھ بجے تک۔ ایک نرس پورے عرصے دوران خاندان کے ساتھ موجود رہی، جبکہ ڈاکٹر المصطفیٰ وقفے وقفے سے باہر آ کر انہیں تازہ معلومات دیتے رہے۔ جب آپریشن ختم ہوا تو نرس نے درہ کی والدہ سے کہا: ”ہو گیا۔ جو مجھے سپرد کیا گیا تھا، میں نے وہ ادا کر دیا۔“
پیوند کاری کے بعد درہ کو ECMO پر رکھا گیا، یہ ایک ایسی مشین ہے جو عارضی طور پر دل اور پھیپھڑوں کے کام کا کچھ حصہ سنبھال لیتی ہے تاکہ نئے عضو پر دباؤ کم ہو۔ وہ تین دن بعد اس مشین سے ہٹا دی گئیں، اور اس کے جسم نے نئے دل کو قبول کر لیا۔
کیا یہ سمجھنا آسان ہے کہ ایک مشین جو دل اور پھیپھڑوں کا کام سنبھالتی ہے، مریض کے لیے کتنی اہم ہو سکتی ہے؟
آج وہ اپنا وقت لیکچرز، کھیل کود، سفر اور مصوری کے درمیان تقسیم کرتی ہے۔ اس کی تصویریں اکثر دل کے گرد گھومتی ہیں، گویا وہ اپنے تجربے کو رنگوں اور لکیروں میں بیان کر رہی ہو۔
درہ کا کیس اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح خاندانی اسکریننگ اور جینیاتی ٹیسٹنگ کسی جان لیوا بیماری کو بروقت پکڑ سکتی ہے۔ اس کی بہن کی تشخیص نے پورے خاندان کے لیے راستہ کھولا، اور اسی وجہ سے درہ کو علامات ظاہر ہونے سے پہلے ہی طبی نگرانی میں لے لیا گیا۔
کیا خاندان میں کسی ایک فرد کی تشخیص باقی سب کے لیے ایک انتباہ ثابت ہو سکتی ہے؟
ڈاکٹر احمد المصطفیٰ کے مطابق، کارڈیو مایوپیتھی کے متعدد اسباب ہو سکتے ہیں، اور جینیاتی ٹیسٹنگ ان اسباب کو سمجھنے کا ایک بنیادی ذریعہ ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ حالات ایک ہی خاندان کے مختلف افراد میں مختلف شدت کے ساتھ ظاہر ہو سکتے ہیں، اس لیے ٹیسٹنگ سے کیریئرز کی قبل از وقت شناخت ممکن ہوتی ہے اور انہیں بیماری کے بڑھنے سے پہلے زیر نگرانی رکھا جا سکتا ہے۔
درہ کے علاج کے سفر میں کئی مراحل شامل تھے: ابتدا میں دوائیں، پھر کارڈیک کیتھیٹرائزیشن اور ایم آر آئی جیسے تشخیصی اقدامات، اور جب یہ سب ناکافی ثابت ہوئے تو پیوند کاری کی ویٹنگ لسٹ۔ اس کے بعد آٹھ گھنٹے کا آپریشن، ECMO پر تین دن، اور پھر جسم کا نئے دل کو قبول کرنا۔
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ایک نوجوان طالبہ کے لیے اپنی پڑھائی کے دوران اس طرح کے طویل طبی سفر سے گزرنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے؟
یہ بھی قابل غور ہے کہ درہ کی تشخیص اس کی بہن کے ذریعے ہوئی۔ اگر بہن میں کارڈیو مایوپیتھی کی تشخیص نہ ہوتی اور خاندان کی اسکریننگ کی سفارش نہ کی جاتی، تو شاید درہ کی بیماری اس وقت تک سامنے نہ آتی جب تک کہ وہ جدید مرحلے تک نہ پہنچ جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر المصطفیٰ جینیاتی ٹیسٹنگ کو اس عمل کا ایک اہم ستون قرار دیتے ہیں۔
کیا خاندانی اسکریننگ کو عام طبی مشق کا حصہ بنایا جانا چاہیے؟
آپریشن کے دوران ایک نرس کا خاندان کے ساتھ مسلسل موجود رہنا اور ڈاکٹر کا وقفے وقفے سے باہر آ کر اپ ڈیٹ دینا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ طبی عملے کی توجہ صرف مریض تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس کے پیچھے کھڑے اہل خانہ بھی اس کا حصہ ہوتے ہیں۔ نرس کے وہ الفاظ کہ ”جو مجھے سپرد کیا گیا تھا، میں نے وہ ادا کر دیا“ اس لمحے کی شدت اور ذمہ داری کا اظہار کرتے ہیں۔
پیوند کاری کے بعد ECMO پر رکھا جانا اور تین دن بعد اس سے ہٹایا جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نئے عضو کو جسم میں ڈھلنے کے لیے معاون طبی مدد کتنی ضروری ہو سکتی ہے۔ درہ کے جسم نے نئے دل کو قبول کر لیا، اور وہ آج اپنی روزمرہ زندگی میں واپس آ چکی ہیں۔
کیا آپ کے خیال میں آرٹ اور تعلیم میں واپسی کسی مریض کی بحالی کا سب سے بڑا ثبوت ہوتی ہے؟
آج درہ لیکچرز، کھیل، سفر اور مصوری کے درمیان اپنا وقت تقسیم کرتی ہیں۔ ان کی تصویروں میں دل کا بار بار آنا اس بات کا اظہار ہے کہ ان کا تجربہ ان کے فن کا حصہ بن چکا ہے۔ ایک ایسی طالبہ جو قانون کی تعلیم حاصل کر رہی ہے اور ساتھ ہی مصوری بھی کر رہی ہے، اپنے ذاتی سفر کو تخلیقی انداز میں بیان کر رہی ہے۔
رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ درہ کا مکمل نام کیا ہے، عطیہ دہندہ کون تھا، آپریشن کی صحیح تاریخ کیا تھی، یا اس کے علاج کے اخراجات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ وہ کس قانون کی فیکلٹی میں زیر تعلیم ہیں یا ان کی مصوری کے بارے میں مزید تفصیلات کیا ہیں۔
درہ کی تشخیص کیسے ہوئی؟ درہ کی بہن میں کارڈیو مایوپیتھی کی تشخیص کے بعد جینیاتی ٹیسٹنگ سے اس بیماری سے جڑا تغیر سامنے آیا، اور ڈاکٹروں نے خاندان کے باقی افراد کی اسکریننگ کی سفارش کی۔ درہ میں بھی یہی تغیر پایا گیا، جس سے بیماری کے بڑھنے سے پہلے نگرانی ممکن ہوئی۔ ایس پی اے کے مطابق درہ کو اس وقت کوئی علامات نہیں تھیں۔
ڈاکٹر احمد المصطفیٰ نے جینیاتی ٹیسٹنگ کے بارے میں کیا کہا؟ KFSH میں بالغوں کے دل کی ناکامی کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر احمد المصطفیٰ نے کہا کہ کارڈیو مایوپیتھی کی بہت سی وجوہات ہیں اور جینیاتی ٹیسٹنگ وجہ تلاش کرنے کے سب سے اہم مراحل میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق یہ حالات خاندان کے افراد میں مختلف درجوں میں ظاہر ہو سکتے ہیں، اس لیے ٹیسٹنگ سے علامات ظاہر ہونے سے پہلے کیریئرز کی شناخت اور نگرانی ممکن ہوتی ہے۔
آپریشن اور اس کے بعد کے مراحل کیا تھے؟ آپریشن آٹھ گھنٹے جاری رہا، دوپہر سے رات آٹھ بجے تک۔ ایک نرس پورے عرصے خاندان کے ساتھ موجود رہی، جبکہ ڈاکٹر المصطفیٰ وقفے وقفے سے باہر آ کر اپ ڈیٹ دیتے رہے۔ پیوند کاری کے بعد درہ کو ECMO پر رکھا گیا، وہ تین دن بعد اس سے ہٹا دی گئیں، اور ان کے جسم نے نئے دل کو قبول کر لیا۔
درہ کو پیوند کاری کے لیے کتنا انتظار کرنا پڑا؟ اس کے دل کی کارکردگی کم ہونے پر کارڈیک کیتھیٹرائزیشن اور ایم آر آئی کیا گیا اور دواؤں سے علاج ہوا۔ جب یہ کافی نہ رہا تو ایک طبی کمیٹی نے اسے پیوند کاری کی ویٹنگ لسٹ میں شامل کیا۔ اسے تقریباً پانچ ماہ انتظار کرنا پڑا، جس کا کچھ حصہ روزانہ نگرانی میں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں گزرا، یہاں تک کہ موزوں عطیہ دہندہ مل گیا۔
پیوند کاری کے بعد درہ کی زندگی کیسی ہے؟ آج وہ اپنا وقت لیکچرز، کھیل کود، سفر اور مصوری کے درمیان تقسیم کرتی ہیں۔ وہ دوبارہ قانون کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور مصوری بھی کر رہی ہیں، اور ان کی تصویریں اکثر دل کے گرد گھومتی ہیں۔ ایس پی اے کے مطابق پیوند کاری کے ایک سال بعد وہ اپنی تعلیم اور آرٹ کی طرف لوٹ آئی ہیں۔
رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں کی گئیں؟ رپورٹ میں درہ کا مکمل نام، عطیہ دہندہ کی شناخت، آپریشن کی صحیح تاریخ، یا علاج کے اخراجات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ وہ کس قانون کی فیکلٹی میں زیر تعلیم ہیں یا ان کی مصوری کے بارے میں مزید تفصیلات کیا ہیں۔ ایس پی اے نے ان تفصیلات کے بغیر کیس کا خلاصہ پیش کیا۔





