Monday, November 2, 2026
سعودی خبریں

شاہ سلمان کی جانب سے ولی عہد آج شوریٰ کونسل کے نویں اجلاس کے تیسرے سال کا افتتاحی شاہی خطاب کریں گے

شاہ سلمان کی جانب سے ولی عہد آج شوریٰ کونسل کے نویں اجلاس کے تیسرے سال کا افتتاحی شاہی خطاب کریں گے

ریاض میں آج بدھ کے روز شوریٰ کونسل کے نویں اجلاس کے تیسرے سال کا آغاز ہو رہا ہے، اور اس موقع پر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی جانب سے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سالانہ شاہی خطاب پیش کریں گے۔ یہ خطاب کونسل کے نئے سال کے آغاز کی رسمی علامت ہے اور ریاض میں قومی سطح پر اسے ایک اہم موقع سمجھا جاتا ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 30 ستمبر 2026 کو بیان کیا، یہ خطاب آج بدھ کے روز دیا جائے گا اور اس کی میزبانی شوریٰ کونسل کر رہی ہے۔ ایس پی اے کے مطابق ولی عہد کی موجودگی خود کونسل کے لیے اعزاز ہے، اور یہ موقع قیادت کی جانب سے کونسل اور قومی عمل میں اس کے کردار پر توجہ کا عکاس ہے۔

شوریٰ کونسل کے اسپیکر شیخ ڈاکٹر عبداللہ بن محمد بن ابراہیم آل الشیخ نے اپنی جانب سے اور کونسل کے عہدیداروں اور اراکین کی جانب سے خادم الحرمین الشریفین اور ولی عہد کا گہرا شکریہ اور قدردانی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کونسل کو دی جانے والی فراخدلانہ حمایت اور نگہداشت پر یہ تشکر پیش کیا۔ کیا یہ حمایت کونسل کے روزمرہ کام میں کس طرح جھلکتی ہے؟

اسپیکر نے کہا کہ انہیں اس بات پر بہت فخر ہے کہ ولی عہد نے اپنی موجودگی سے شوریٰ کونسل کو نوازا اور خادم الحرمین الشریفین کی جانب سے سالانہ شاہی خطاب پیش کیا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یہ موقع قیادت کی کونسل اور قومی کام کے عمل میں اس کے کردار پر توجہ کو ظاہر کرتا ہے۔ کیا قومی فیصلہ سازی میں کونسل کے کردار کو مزید مضبوط کرنے کی گنجائش ہے؟

شوریٰ کونسل کے اسپیکر کے مطابق، سالانہ شاہی خطاب ایک قومی حوالہ ہے جو کونسل کو اس کے مشن کی انجام دہی اور قوم و شہریوں کی خدمت میں رہنمائی فراہم کرتا ہے، کیونکہ اس میں ریاست کے رجحانات اور ترجیحات کا تعین کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطاب کونسل کے کام کی رہنمائی کرتا ہے۔

انہوں نے نوٹ کیا کہ برسوں کے دوران اس خطاب نے ایک مستحکم مقام حاصل کر لیا ہے اور یہ ایک جامع قومی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے جو مملکت سعودی عرب کی پالیسیوں اور رجحانات کا جائزہ لیتا ہے، اس کی تیز رفتار ترقی اور تبدیلی کے ساتھ قدم بہ قدم چلتا ہے، اور قانون سازی کے نظام کی ترقی اور کارکردگی کی کارکردگی کو بڑھانے میں کونسل کے کام کی رہنمائی کرتا ہے۔ کیا یہ دستاویز آئندہ سالوں میں کونسل کے ایجنڈے کو نئی شکل دے سکتی ہے؟

اسپیکر نے یہ بھی اشارہ کیا کہ یہ خطاب سعودی وژن 2030 کے مقاصد اور مستقبل کی خواہشات کے حصول میں معاون ہے۔ ان کے مطابق، خطاب کونسل کے کام کو قانون سازی کے نظام کی ترقی اور کارکردگی کی کارکردگی کو بڑھانے کی سمت میں رہنمائی کرتا ہے، جو وژن کے اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ کیا وژن 2030 کے اہداف کے حصول میں کونسل کی قانون سازی کا کردار مزید واضح ہو رہا ہے؟

انہوں نے مزید بتایا کہ نویں اجلاس کے دوسرے سال کے دوران کونسل نے اپنے قانون سازی اور نگرانی کے فرائض جاری رکھے، اور اس دوران 46 اجلاس منعقد کیے جن میں 555 فیصلے جاری کیے گئے۔ یہ فیصلے سرکاری اداروں کی سالانہ رپورٹوں، قوانین اور ضوابط سے متعلق تھے۔ یہ اعداد و شمار کونسل کی مصروفیت اور اس کے کام کے دائرے کو ظاہر کرتے ہیں۔ کیا 46 اجلاسوں میں 555 فیصلے کونسل کی رفتار اور توجہ کا درست پیمانہ ہیں؟

شوریٰ کونسل کے اسپیکر نے کونسل کے عہدیداروں اور اراکین کی جانب سے بھی تشکر کا اظہار کیا۔ انہوں نے کونسل کو دی جانے والی حمایت اور نگہداشت پر خادم الحرمین الشریفین اور ولی عہد کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حمایت کونسل کے کام کو جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کیا اس حمایت کا اثر کونسل کی کارکردگی پر براہ راست نظر آتا ہے؟

سالانہ شاہی خطاب کو ایک قومی حوالہ قرار دیا گیا ہے جو ریاست کے رجحانات اور ترجیحات کا تعین کرتا ہے۔ اسپیکر کے مطابق، یہ خطاب کونسل کے مشن کی انجام دہی اور قوم و شہریوں کی خدمت میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطاب کونسل کے کام کی رہنمائی کرتا ہے اور اسے قومی مفاد کے مطابق ڈھالنے میں مدد دیتا ہے۔ کیا قومی ترجیحات کا تعین کرنے میں یہ خطاب ہر سال مزید جامع ہو رہا ہے؟

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، یہ خطاب آج بدھ کے روز دیا جائے گا۔ رپورٹ میں اس بات کا ذکر ہے کہ ولی عہد خادم الحرمین الشریفین کی جانب سے یہ خطاب پیش کریں گے۔ اس موقع پر شوریٰ کونسل کے اسپیکر نے اپنی جانب سے اور کونسل کے عہدیداروں اور اراکین کی جانب سے شکریہ اور قدردانی کا اظہار کیا۔ کیا اس طرح کی رسمی تقریب کونسل اور قیادت کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط کرتی ہے؟

اسپیکر نے کہا کہ خطاب ایک جامع قومی دستاویز ہے جو مملکت کی پالیسیوں اور رجحانات کا جائزہ لیتا ہے اور تیز رفتار ترقی اور تبدیلی کے ساتھ قدم بہ قدم چلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دستاویز کونسل کے کام کی رہنمائی کرتی ہے، خاص طور پر قانون سازی کے نظام کی ترقی اور کارکردگی کی کارکردگی کو بڑھانے کے حوالے سے۔ کیا قانون سازی کے نظام میں مسلسل بہتری کے لیے یہ خطاب ایک بنیادی محرک ہے؟

رپورٹ کے مطابق، نویں اجلاس کے دوسرے سال میں کونسل نے 46 اجلاس منعقد کیے اور 555 فیصلے جاری کیے۔ یہ فیصلے سرکاری اداروں کی سالانہ رپورٹوں، قوانین اور ضوابط سے متعلق تھے۔ اسپیکر نے کونسل کے قانون سازی اور نگرانی کے فرائض کے تسلسل پر زور دیا۔ کیا ان فیصلوں کی نوعیت کونسل کے نگرانی کے کردار کو نمایاں کرتی ہے؟

شوریٰ کونسل کے اسپیکر نے اس بات پر زور دیا کہ خطاب کونسل کو اس کے مشن کی انجام دہی میں رہنمائی فراہم کرتا ہے اور قوم و شہریوں کی خدمت میں معاون ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطاب ریاست کے رجحانات اور ترجیحات کا تعین کرتا ہے۔ یہ بات رپورٹ میں واضح طور پر بیان کی گئی ہے۔ کیا شہریوں کی خدمت میں کونسل کے کردار کو عوام بھی محسوس کرتے ہیں؟

ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسپیکر نے کونسل کے عہدیداروں اور اراکین کی جانب سے شکریہ ادا کیا اور کونسل کو دی جانے والی حمایت اور نگہداشت پر قدردانی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ولی عہد کی موجودگی کونسل کے لیے اعزاز ہے۔ کیا یہ اعزاز کونسل کے اراکین کے لیے مزید ذمہ داری کا باعث بنتا ہے؟

رپورٹ کے مطابق، سالانہ شاہی خطاب کو ایک قومی حوالہ قرار دیا گیا ہے جو کونسل کے کام کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسپیکر نے کہا کہ یہ خطاب سعودی وژن 2030 کے مقاصد اور مستقبل کی خواہشات کے حصول میں معاون ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطاب کونسل کے کام کو قانون سازی کے نظام کی ترقی اور کارکردگی کی کارکردگی کو بڑھانے کی سمت میں رہنمائی کرتا ہے۔ کیا وژن 2030 کے اہداف کے حصول میں کونسل کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا کوئی طریقہ کار موجود ہے؟

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، یہ خطاب آج بدھ کے روز دیا جائے گا اور اس کی میزبانی شوریٰ کونسل کر رہی ہے۔ رپورٹ میں اس بات کا ذکر ہے کہ ولی عہد خادم الحرمین الشریفین کی جانب سے یہ خطاب پیش کریں گے۔ اس موقع پر کونسل کے اسپیکر نے اپنی جانب سے اور کونسل کے عہدیداروں اور اراکین کی جانب سے شکریہ اور قدردانی کا اظہار کیا۔ کیا اس طرح کے مواقع پر کونسل کے اراکین کی شرکت کا کوئی خاص طریقہ کار ہے؟

رپورٹ کے مطابق، اسپیکر نے کہا کہ خطاب ایک جامع قومی دستاویز ہے جو مملکت کی پالیسیوں اور رجحانات کا جائزہ لیتا ہے اور تیز رفتار ترقی اور تبدیلی کے ساتھ قدم بہ قدم چلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دستاویز کونسل کے کام کی رہنمائی کرتی ہے، خاص طور پر قانون سازی کے نظام کی ترقی اور کارکردگی کی کارکردگی کو بڑھانے کے حوالے سے۔ کیا اس دستاویز کا کوئی باقاعدہ جائزہ لیا جاتا ہے؟

ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ نویں اجلاس کے دوسرے سال میں کونسل نے 46 اجلاس منعقد کیے اور 555 فیصلے جاری کیے۔ یہ فیصلے سرکاری اداروں کی سالانہ رپورٹوں، قوانین اور ضوابط سے متعلق تھے۔ اسپیکر نے کونسل کے قانون سازی اور نگرانی کے فرائض کے تسلسل پر زور دیا۔ کیا ان فیصلوں میں سے کسی کا تعلق براہ راست شہریوں کی روزمرہ زندگی سے ہے؟

رپورٹ کے مطابق، اسپیکر نے کونسل کے عہدیداروں اور اراکین کی جانب سے شکریہ ادا کیا اور کونسل کو دی جانے والی حمایت اور نگہداشت پر قدردانی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ولی عہد کی موجودگی کونسل کے لیے اعزاز ہے اور یہ موقع قیادت کی کونسل اور قومی عمل میں اس کے کردار پر توجہ کو ظاہر کرتا ہے۔ کیا قیادت کی توجہ کونسل کے کام کی رفتار کو متاثر کرتی ہے؟

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، سالانہ شاہی خطاب کو ایک قومی حوالہ قرار دیا گیا ہے جو کونسل کے کام کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسپیکر نے کہا کہ یہ خطاب سعودی وژن 2030 کے مقاصد اور مستقبل کی خواہشات کے حصول میں معاون ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطاب کونسل کے کام کو قانون سازی کے نظام کی ترقی اور کارکردگی کی کارکردگی کو بڑھانے کی سمت میں رہنمائی کرتا ہے۔ کیا وژن 2030 کے اہداف کے حصول میں کونسل کی قانون سازی کا کردار مزید واضح ہو رہا ہے؟

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ خطاب میں کن مخصوص موضوعات کا ذکر کیا جائے گا، نہ ہی اس کے دورانیے یا اس کے بعد کسی خصوصی اجلاس کا کوئی ذکر ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ خطاب کے بعد کونسل کے ایجنڈے میں کون سی نئی قانون سازی شامل ہوگی۔ اس طرح کی تفصیلات رپورٹ میں موجود نہیں ہیں۔

شاہی خطاب کون پیش کرے گا اور کس کی جانب سے؟ ایس پی اے کے مطابق، خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی جانب سے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود یہ سالانہ شاہی خطاب پیش کریں گے۔ یہ خطاب آج بدھ کے روز دیا جائے گا اور اس کا موقع شوریٰ کونسل کے نویں اجلاس کے تیسرے سال کا افتتاح ہے۔ رپورٹ میں خطاب کے مقام یا دورانیے کی مزید تفصیل نہیں دی گئی۔

شوریٰ کونسل کے اسپیکر نے کیا کہا؟ شوریٰ کونسل کے اسپیکر شیخ ڈاکٹر عبداللہ بن محمد بن ابراہیم آل الشیخ نے اپنی جانب سے اور کونسل کے عہدیداروں اور اراکین کی جانب سے خادم الحرمین الشریفین اور ولی عہد کا گہرا شکریہ اور قدردانی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کونسل کو دی جانے والی فراخدلانہ حمایت اور نگہداشت پر تشکر پیش کیا اور کہا کہ ولی عہد کی موجودگی کونسل کے لیے اعزاز ہے۔

سالانہ شاہی خطاب کی کیا اہمیت بیان کی گئی ہے؟ اسپیکر کے مطابق، سالانہ شاہی خطاب ایک قومی حوالہ ہے جو کونسل کو اس کے مشن کی انجام دہی اور قوم و شہریوں کی خدمت میں رہنمائی فراہم کرتا ہے، کیونکہ اس میں ریاست کے رجحانات اور ترجیحات کا تعین کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطاب ایک جامع قومی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے جو مملکت کی پالیسیوں اور رجحانات کا جائزہ لیتا ہے اور تیز رفتار ترقی اور تبدیلی کے ساتھ قدم بہ قدم چلتا ہے۔

نویں اجلاس کے دوسرے سال میں کونسل نے کیا کام کیا؟ اسپیکر نے بتایا کہ نویں اجلاس کے دوسرے سال کے دوران کونسل نے اپنے قانون سازی اور نگرانی کے فرائض جاری رکھے اور 46 اجلاس منعقد کیے۔ ان اجلاسوں میں 555 فیصلے جاری کیے گئے جو سرکاری اداروں کی سالانہ رپورٹوں، قوانین اور ضوابط سے متعلق تھے۔ رپورٹ میں ان فیصلوں کی مزید تفصیل یا ان کے موضوعات کی فہرست نہیں دی گئی۔

خطاب کا سعودی وژن 2030 سے کیا تعلق بتایا گیا ہے؟ اسپیکر کے مطابق، یہ خطاب سعودی وژن 2030 کے مقاصد اور مستقبل کی خواہشات کے حصول میں معاون ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطاب کونسل کے کام کو قانون سازی کے نظام کی ترقی اور کارکردگی کی کارکردگی کو بڑھانے کی سمت میں رہنمائی کرتا ہے۔ رپورٹ میں اس بات کی مزید وضاحت نہیں کی گئی کہ خطاب کے کن حصوں کا وژن کے اہداف سے براہ راست تعلق ہے۔