سعودی عرب نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ریاض میں 2027 میں گیارہویں ورلڈ واٹر فورم کی میزبانی مشترکہ بین الاقوامی اقدامات کو مضبوط بنانے اور وعدوں اور اقدامات سے عملی حل کی طرف منتقلی کو تیز کرنے کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے، جو آبی تحفظ اور پائیداری میں معاون ثابت ہوں گے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، یہ بات وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت میں پانی کے نائب وزیر ڈاکٹر عبدالعزیز الشیبانی کی روم میں یورو-میڈیٹرینین واٹر فورم کے ایک مکالماتی اجلاس میں شرکت کے دوران سامنے آئی، جس میں کئی وزراء، سینئر حکام اور آبی شعبے کے بین الاقوامی ماہرین نے شرکت کی۔
الشیبانی نے کہا کہ سعودی عرب 21 سے 25 مارچ 2027 تک گیارہویں ورلڈ واٹر فورم کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے، اور یہ فورم بین الاقوامی شراکت داریوں کو بڑھانے، قابل عمل حل کی حمایت اور عالمی وعدوں کو واضح پروگراموں سے جوڑنے کا ہدف رکھتا ہے جن کے اثرات کی پیمائش اور نتائج کی نگرانی کی جا سکے۔
انہوں نے روشنی ڈالی کہ ریاض میں ہونے والا ورلڈ واٹر فورم چھ اہم موضوعات اور 30 سے زائد ذیلی موضوعات پر بات کرے گا، جن میں آبی تحفظ، آبی فنانس، انسانوں اور فطرت کے لیے پانی، آبی گورننس اور ڈپلومیسی، پانی کے لیے جدت اور پانی کی قدر شامل ہیں۔ توقع ہے کہ 150 سے زائد ممالک کے 20,000 سے زیادہ شرکاء اس میں شرکت کریں گے۔
الشیبانی نے زور دیا کہ سعودی عرب ایک جامع تیاری کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے جس میں مختلف اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں اور مختلف خطوں اور ممالک کی ضروریات کی عکاسی ہو، ساتھ ہی نوجوانوں، تعلیمی اداروں، نجی شعبے، بین الاقوامی تنظیموں اور دریائی طاس کی تنظیموں کی شرکت کو بڑھایا جائے۔
انہوں نے بین الاقوامی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ فورم کی تیاریوں میں فعال طور پر حصہ ڈالے اور ایسے اقدامات، مہارت اور شراکت داریاں فراہم کرے جو عملی اور پائیدار نتائج کی حمایت کریں۔ انہوں نے دہرایا کہ سعودی عرب امید کرتا ہے کہ یہ فورم ایک ایسا پلیٹ فارم ثابت ہوگا جو دنیا کو مشترکہ اقدامات کے لیے اکٹھا کرے۔
عالمی آبی بحران کے تناظر میں ریاض کا کردار
کیا دنیا آبی تحفظ کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے؟ یہ سوال اس وقت مزید اہم ہو جاتا ہے جب سعودی عرب جیسے خشک خطے میں واقع ملک کو عالمی آبی فورم کی میزبانی سونپی جا رہی ہے۔ سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ ریاض میں 2027 میں ہونے والا گیارہواں ورلڈ واٹر فورم مشترکہ بین الاقوامی کوششوں کو مضبوط بنانے اور وعدوں سے عملی حل کی طرف منتقلی کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
یہ اعلان روم میں یورو-میڈیٹرینین واٹر فورم کے موقع پر سامنے آیا، جہاں وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت میں پانی کے نائب وزیر ڈاکٹر عبدالعزیز الشیبانی نے ایک مکالماتی اجلاس میں شرکت کی۔ اس اجلاس میں کئی وزراء، سینئر حکام اور آبی شعبے کے بین الاقوامی ماہرین موجود تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب کی آبی سفارت کاری کس طرح مختلف خطوں اور پلیٹ فارمز تک پھیل رہی ہے۔
الشیبانی نے بتایا کہ سعودی عرب 21 سے 25 مارچ 2027 تک گیارہویں ورلڈ واٹر فورم کی میزبانی کرے گا۔ کیا یہ صرف ایک تقریب ہوگی یا اس سے آگے بڑھ کر عملی نتائج کی راہ ہموار ہوگی؟ انہوں نے واضح کیا کہ فورم کا مقصد بین الاقوامی شراکت داریوں کو بڑھانا، قابل عمل حل کی حمایت کرنا اور عالمی وعدوں کو ایسے واضح پروگراموں سے جوڑنا ہے جن کے اثرات کی پیمائش اور نتائج کی نگرانی کی جا سکے۔ یہ نقطہ نظر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سعودی عرب صرف میزبانی تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ پیمائش کے قابل نتائج پر زور دے رہا ہے۔
فورم کے ایجنڈے میں چھ اہم موضوعات اور 30 سے زائد ذیلی موضوعات شامل ہیں۔ ان میں آبی تحفظ، آبی فنانس، انسانوں اور فطرت کے لیے پانی، آبی گورننس اور ڈپلومیسی، پانی کے لیے جدت اور پانی کی قدر جیسے امور شامل ہیں۔ کیا یہ موضوعات دنیا بھر میں پانی کے بحران کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرنے کے لیے کافی ہیں؟ توقع ہے کہ 150 سے زائد ممالک کے 20,000 سے زیادہ شرکاء اس فورم میں شرکت کریں گے، جو اسے ایک واقعی عالمی اجتماع بناتا ہے۔
الشیبانی نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب ایک جامع تیاری کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے جس میں مختلف اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں اور مختلف خطوں اور ممالک کی ضروریات کی عکاسی ہو۔ کیا نوجوانوں، تعلیمی اداروں، نجی شعبے، بین الاقوامی تنظیموں اور دریائی طاس کی تنظیموں کی شرکت کے بغیر کوئی بھی آبی حکمت عملی کامیاب ہو سکتی ہے؟ انہوں نے ان تمام گروہوں کی شرکت کو بڑھانے پر زور دیا، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ فورم میں شمولیت کو بنیادی اہمیت دی جا رہی ہے۔
انہوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فورم کی تیاریوں میں فعال طور پر حصہ ڈالے اور ایسے اقدامات، مہارت اور شراکت داریاں فراہم کرے جو عملی اور پائیدار نتائج کی حمایت کریں۔ کیا عالمی برادری اس موقع کو ایک اجتماعی ذمہ داری کے طور پر دیکھ رہی ہے یا صرف ایک اور کانفرنس کے طور پر؟ انہوں نے دہرایا کہ سعودی عرب امید کرتا ہے کہ یہ فورم ایک ایسا پلیٹ فارم ثابت ہوگا جو دنیا کو مشترکہ اقدامات کے لیے اکٹھا کرے۔
سعودی عرب کا یہ کردار اس وقت مزید اہم ہو جاتا ہے جب دنیا بھر میں پانی کی کمی، موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث آبی وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ کیا خشک اور نیم خشک خطوں کے ممالک کے تجربات سے دنیا بھر کے ممالک فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟ سعودی عرب کا اپنا تجربہ آبی وسائل کے موثر انتظام، ڈی سیلینیشن اور پانی کے دوبارہ استعمال میں اہم ہے، اور یہی تجربہ فورم کے دوران عالمی شرکاء کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔
روم میں ہونے والے یورو-میڈیٹرینین واٹر فورم میں سعودی عرب کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مملکت مختلف علاقائی اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر آبی مسائل پر اپنی آواز بلند کر رہی ہے۔ کیا یہ شرکت ریاض فورم کی کامیابی کے لیے بنیاد فراہم کرے گی؟ یہ بات قابل غور ہے کہ سعودی عرب نے فورم کی تیاریوں کے لیے ایک جامع عمل کا خاکہ پیش کیا ہے جس میں مختلف خطوں کی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے گا۔
فورم کے موضوعات میں آبی فنانس ایک اہم پہلو ہے، کیونکہ آبی منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری اور مالی وسائل کی فراہمی کے بغیر کوئی بھی حکمت عملی عملی شکل اختیار نہیں کر سکتی۔ کیا عالمی مالیاتی ادارے آبی شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں؟ اسی طرح آبی گورننس اور ڈپلومیسی کا موضوع اس بات پر زور دیتا ہے کہ سرحدوں سے ماورا آبی وسائل کے انتظام کے لیے بین الاقوامی تعاون ضروری ہے۔
پانی کے لیے جدت اور پانی کی قدر جیسے موضوعات جدید ٹیکنالوجی اور شعور بیدار کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ کیا ٹیکنالوجی تنہا آبی بحران حل کر سکتی ہے یا رویوں میں تبدیلی بھی ضروری ہے؟ سعودی عرب کا مؤقف ہے کہ فورم کو ایسے حل پیش کرنے چاہئیں جو پائیدار اور قابل پیمائش ہوں، اور یہی نقطہ نظر اس کی تیاریوں میں جھلکتا ہے۔
150 سے زائد ممالک کی شرکت اور 20,000 سے زیادہ شرکاء کی متوقع موجودگی اس فورم کو ایک بے مثال عالمی اجتماع بناتی ہے۔ کیا اتنی بڑی تعداد میں شرکاء کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا آسان ہوگا؟ اس چیلنج کے باوجود، سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ مختلف خطوں اور ممالک کی ضروریات کی عکاسی کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور نوجوانوں اور تعلیمی اداروں کی شرکت کو خاص اہمیت دے رہا ہے۔
نوجوانوں کی شمولیت اس لیے بھی اہم ہے کہ آبی بحران کا طویل مدتی حل آنے والی نسلوں کی شراکت کے بغیر ممکن نہیں۔ کیا نوجوان نسل آبی تحفظ کے لیے کافی آگاہ ہے؟ سعودی عرب کی تیاریوں میں نوجوانوں، تعلیمی اداروں، نجی شعبے، بین الاقوامی تنظیموں اور دریائی طاس کی تنظیموں کی شرکت کو بڑھانے پر زور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ فورم کے نتائج جامع اور نمائندہ ہوں۔
الشیبانی کا بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کہ وہ فورم کی تیاریوں میں فعال حصہ ڈالے، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سعودی عرب اس فورم کو صرف اپنی کامیابی نہیں بلکہ عالمی شراکت داری کا نتیجہ بنانا چاہتا ہے۔ کیا عالمی برادری اس مطالبے کا مثبت جواب دے گی؟ یہ سوال آنے والے مہینوں میں اس وقت واضح ہوگا جب مختلف ممالک اور ادارے اپنے اقدامات اور شراکت داریاں پیش کریں گے۔
سعودی عرب کی آبی سفارت کاری کا یہ سفر روم سے شروع ہو کر ریاض تک پہنچے گا، جہاں مارچ 2027 میں دنیا بھر کے ماہرین، وزراء اور اسٹیک ہولڈرز جمع ہوں گے۔ کیا یہ فورم آبی تحفظ کے میدان میں ایک نیا باب رقم کرے گا؟ اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ شرکاء کس حد تک عملی حل، مالی وسائل اور سیاسی عزم کے ساتھ آگے آتے ہیں۔
رپورٹ میں فورم کے بجٹ، شرکاء کی حتمی فہرست یا تیاریوں کی تفصیلی ٹائم لائن کے بارے میں مزید معلومات نہیں دی گئیں۔ تاہم، جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ سعودی عرب اس فورم کو مشترکہ بین الاقوامی اقدامات، قابل عمل حل اور پائیدار نتائج کے لیے ایک پلیٹ فارم بنانے کے لیے پرعزم ہے، اور اس کی تیاریوں میں شمولیت، جدت اور پیمائش کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
ریاض میں ورلڈ واٹر فورم کب ہوگا اور اس کی میزبانی کون کر رہا ہے؟ سعودی عرب 21 سے 25 مارچ 2027 تک گیارہویں ورلڈ واٹر فورم کی میزبانی کرے گا۔ یہ اعلان وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت میں پانی کے نائب وزیر ڈاکٹر عبدالعزیز الشیبانی نے روم میں یورو-میڈیٹرینین واٹر فورم کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ فورم بین الاقوامی شراکت داریوں کو بڑھانے اور عالمی وعدوں کو واضح پروگراموں سے جوڑنے کا ہدف رکھتا ہے جن کے نتائج کی نگرانی کی جا سکے۔
فورم میں کون سے اہم موضوعات زیر بحث آئیں گے؟ فورم چھ اہم موضوعات اور 30 سے زائد ذیلی موضوعات پر بات کرے گا، جن میں آبی تحفظ، آبی فنانس، انسانوں اور فطرت کے لیے پانی، آبی گورننس اور ڈپلومیسی، پانی کے لیے جدت اور پانی کی قدر شامل ہیں۔ الشیبانی نے بتایا کہ فورم کا مقصد قابل عمل حل کی حمایت کرنا ہے۔ توقع ہے کہ 150 سے زائد ممالک کے 20,000 سے زیادہ شرکاء شرکت کریں گے۔
سعودی عرب فورم کی تیاریوں میں کس طرح شمولیت کو یقینی بنا رہا ہے؟ الشیبانی نے زور دیا کہ سعودی عرب ایک جامع تیاری کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے جس میں مختلف اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں اور مختلف خطوں اور ممالک کی ضروریات کی عکاسی ہو۔ اس میں نوجوانوں، تعلیمی اداروں، نجی شعبے، بین الاقوامی تنظیموں اور دریائی طاس کی تنظیموں کی شرکت کو بڑھانا شامل ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ تیاریوں میں فعال حصہ ڈالے۔
روم میں یورو-میڈیٹرینین واٹر فورم میں سعودی عرب کی شرکت کیوں اہم ہے؟ روم میں یورو-میڈیٹرینین واٹر فورم کے مکالماتی اجلاس میں ڈاکٹر عبدالعزیز الشیبانی کی شرکت سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب مختلف علاقائی اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر آبی مسائل پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس اجلاس میں کئی وزراء، سینئر حکام اور بین الاقوامی ماہرین موجود تھے۔ یہ شرکت ریاض فورم 2027 کی تیاریوں کے لیے بین الاقوامی تعاون کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
کیا رپورٹ میں فورم کے بجٹ یا تفصیلی ٹائم لائن کا ذکر ہے؟ رپورٹ میں فورم کے بجٹ، شرکاء کی حتمی فہرست یا تیاریوں کی تفصیلی ٹائم لائن کے بارے میں مزید معلومات نہیں دی گئیں۔ البتہ یہ واضح کیا گیا کہ فورم 21 سے 25 مارچ 2027 تک ریاض میں ہوگا اور اس میں 150 سے زائد ممالک کے 20,000 سے زیادہ شرکاء کی شرکت متوقع ہے۔ سعودی عرب کی تیاریوں میں شمولیت، جدت اور پیمائش کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔





