عرب گلف پروگرام فار ڈیولپمنٹ (اے جی فنڈ) نے 2026 کے کنکورڈیا سالانہ سمٹ اور نیویارک شہر میں اپنے مصروفیات کے پروگرام میں شرکت مکمل کر لی ہے، جس میں متعدد ملاقاتیں، ترقیاتی مکالمے اور بین الاقوامی مصروفیات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ کئی معاہدوں پر دستخط بھی شامل تھے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 29 ستمبر 2026 کو بیان کیا، یہ سب کچھ اے جی فنڈ کی اپنی شراکت داریوں کو مضبوط بنانے اور انسانی ترقی کے شعبے میں کام کرنے والے اداروں اور تنظیموں کے ساتھ تعاون کو وسعت دینے کی کوششوں کے تحت کیا گیا۔
اے جی فنڈ کے نیویارک پروگرام میں ترقی کے مستقبل پر بین الاقوامی مباحثوں میں شرکت، ڈیجیٹل شمولیت پر ایک گول میز کانفرنس کا انعقاد، بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں کے ساتھ ملاقاتیں، اور ڈیجیٹل جدت، مالی شمولیت، مصنوعی ذہانت، موسمیاتی اقدام اور نوجوانوں کی شمولیت سے متعلق منصوبوں کی معاونت کرنے والے معاہدوں پر دستخط شامل تھے۔
کیا یہ حیران کن نہیں کہ ایک خلیجی ترقیاتی ادارہ نیویارک کے عالمی پلیٹ فارم پر انسانی ترقی کے ایجنڈے کی تشکیل میں اتنا فعال کردار ادا کر رہا ہے؟
پروگرام کی ایک نمایاں جھلک اے جی فنڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہمام بن ناصر بن جریعد کی کنکورڈیا کے مین اسٹیج پر شرکت تھی، جس کا سیشن عنوان تھا ”نیا سرمایہ، نیا خاکہ: ترقی کے اگلے باب کو تیز کرنا“۔
اس بحث میں ترقیاتی شعبے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور ایسے طریقوں کی ضرورت پر بات کی گئی جو سرمایہ، شراکت داریوں اور ادارہ جاتی صلاحیت کو یکجا کریں۔ اس میں اے جی فنڈ کی اگلے مرحلے کے لیے سمت بھی اجاگر کی گئی، جو اس کے ترقیاتی تجربے پر استوار ہوتے ہوئے اثر اور پائیداری کو زیادہ سے زیادہ کرنے، شراکت داریوں اور ادارہ سازی کو مضبوط بنانے، اور انسانی ترقی کی معاونت کے لیے وسائل کو متحرک کرنے پر مرکوز ہے۔
کیا ترقیاتی اداروں کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ سرمائے اور شراکت داریوں کو ایک ہی ڈھانچے میں سموئیں تاکہ انسانی ترقی کے نتائج پائیدار ہو سکیں؟
کنکورڈیا سالانہ سمٹ ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم ہے جو سرکاری، نجی اور غیر منافع بخش شعبوں کے رہنماؤں کو ایک جگہ جمع کرتا ہے۔ 2026 کا ایڈیشن نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ساتھ ساتھ منعقد ہوا۔
سمٹ میں شرکت کے دوران اے جی فنڈ نے 2026 کے پرنس طلال انٹرنیشنل پرائز فار ہیومن ڈیولپمنٹ کے لیے نامزدگیوں کے آغاز کا اعلان بھی کیا، جس کا امسال کا موضوع انسانی ترقی سے متعلق اہداف کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
کیا انسانی ترقی کے میدان میں کام کرنے والے اداروں کے لیے عالمی فورمز پر اس طرح کی موجودگی ان کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے؟
اے جی فنڈ کا نیویارک میں یہ پروگرام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترقیاتی شعبہ عالمی سطح پر کئی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے، جن میں مالی وسائل کی فراہمی کے طریقے، ادارہ جاتی صلاحیت کی تعمیر اور بین الاقوامی شراکت داریوں کی نوعیت شامل ہیں۔
اس تناظر میں اے جی فنڈ کی جانب سے ڈیجیٹل جدت، مالی شمولیت، مصنوعی ذہانت، موسمیاتی اقدام اور نوجوانوں کی شمولیت جیسے شعبوں میں معاہدوں پر دستخط اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ادارہ ان شعبوں کو اپنی ترقیاتی ترجیحات میں شامل کر رہا ہے۔
کیا ڈیجیٹل شمولیت اور مالی شمولیت کے بغیر انسانی ترقی کے اہداف کا حصول ممکن ہے؟
ڈیجیٹل شمولیت پر گول میز کانفرنس کا انعقاد بھی اے جی فنڈ کے پروگرام کا حصہ تھا، جس کا مقصد اس بات پر تبادلہ خیال کرنا تھا کہ ٹیکنالوجی تک رسائی کو کیسے وسیع کیا جا سکتا ہے اور ڈیجیٹل خلا کو کیسے پُر کیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں کے ساتھ ملاقاتیں اے جی فنڈ کے تعاون کے دائرے کو وسعت دینے کی کوششوں کا حصہ تھیں، جن کا مقصد مشترکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے راہ ہموار کرنا اور موجودہ شراکت داریوں کو مزید مضبوط بنانا تھا۔
کیا بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ ملاقاتیں اور معاہدے طویل المدتی ترقیاتی نتائج پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں؟
کنکورڈیا سمٹ کے مین اسٹیج پر اے جی فنڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی شرکت اس بات کا عکاس ہے کہ ادارہ عالمی ترقیاتی مکالمے میں اپنی آواز بلند کرنے اور اپنے تجربے کو بین الاقوامی سطح پر پیش کرنے کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔
اس سیشن کا موضوع ”نیا سرمایہ، نیا خاکہ“ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ترقیاتی شعبے کو نہ صرف نئے مالی وسائل کی ضرورت ہے بلکہ نئے طریقہ کار اور نئے ادارہ جاتی ڈھانچوں کی بھی ضرورت ہے۔
کیا ترقیاتی اداروں کو اپنے روایتی طریقوں پر نظرثانی کرنی چاہیے تاکہ وہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکیں؟
پرنس طلال انٹرنیشنل پرائز فار ہیومن ڈیولپمنٹ کے لیے نامزدگیوں کا اعلان بھی اس پروگرام کا ایک اہم حصہ تھا۔ یہ ایوارڈ انسانی ترقی کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والے افراد اور اداروں کو تسلیم کرنے کا ذریعہ ہے، اور اس کا امسال کا موضوع انسانی ترقی سے متعلق اہداف کے ساتھ ہم آہنگ رکھا گیا ہے۔
کیا اس طرح کے بین الاقوامی ایوارڈز انسانی ترقی کے شعبے میں جدت اور بہترین طریقوں کو فروغ دینے میں کردار ادا کرتے ہیں؟
اے جی فنڈ کی نیویارک میں مصروفیات کا یہ سلسلہ اس بات کا مظاہرہ کرتا ہے کہ خلیجی خطے کے ترقیاتی ادارے عالمی سطح پر انسانی ترقی کے ایجنڈے میں کس طرح شامل ہو رہے ہیں اور بین الاقوامی شراکت داریوں کے ذریعے اپنے اثر کو کیسے بڑھا رہے ہیں۔
رپورٹ میں معاہدوں کی مالی تفصیلات، ان کے نفاذ کی ٹائم لائن یا شراکت داروں کے نام نہیں دیے گئے، اور نہ ہی گول میز کانفرنس یا ملاقاتوں میں پیش کیے گئے مخصوص اعداد و شمار کا ذکر کیا گیا۔
اے جی فنڈ نے کنکورڈیا سمٹ میں کون سی سرگرمیاں کیں؟ اے جی فنڈ کے نیویارک پروگرام میں ترقی کے مستقبل پر بین الاقوامی مباحثوں میں شرکت، ڈیجیٹل شمولیت پر گول میز کانفرنس کا انعقاد، اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ ملاقاتیں شامل تھیں۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل جدت، مالی شمولیت، مصنوعی ذہانت، موسمیاتی اقدام اور نوجوانوں کی شمولیت سے متعلق منصوبوں کی معاونت کرنے والے معاہدوں پر دستخط بھی کیے گئے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ سب اے جی فنڈ کی شراکت داریوں کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ تھا۔
کنکورڈیا سمٹ کیا ہے اور 2026 کا ایڈیشن کہاں ہوا؟ کنکورڈیا سالانہ سمٹ ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم ہے جو سرکاری، نجی اور غیر منافع بخش شعبوں کے رہنماؤں کو ایک جگہ جمع کرتا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق 2026 کا ایڈیشن نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ساتھ ساتھ منعقد ہوا۔ یہ فورم ترقیاتی شعبے کے اہم مسائل پر مکالمے اور بین الاقوامی شراکت داریوں کے قیام کا موقع فراہم کرتا ہے، جہاں مختلف ادارے اپنے تجربات اور ترجیحات کا تبادلہ کرتے ہیں۔
اے جی فنڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کس سیشن میں شرکت کی؟ اے جی فنڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہمام بن ناصر بن جریعد نے کنکورڈیا کے مین اسٹیج پر ”نیا سرمایہ، نیا خاکہ: ترقی کے اگلے باب کو تیز کرنا“ کے عنوان سے سیشن میں شرکت کی۔ اس بحث میں ترقیاتی شعبے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور سرمایہ، شراکت داریوں اور ادارہ جاتی صلاحیت کو یکجا کرنے کی ضرورت پر بات کی گئی۔ ایس پی اے کے مطابق اس میں اے جی فنڈ کی اگلے مرحلے کی سمت بھی اجاگر کی گئی۔
پرنس طلال انٹرنیشنل پرائز کے بارے میں کیا اعلان ہوا؟ سمٹ میں شرکت کے دوران اے جی فنڈ نے 2026 کے پرنس طلال انٹرنیشنل پرائز فار ہیومن ڈیولپمنٹ کے لیے نامزدگیوں کے آغاز کا اعلان کیا۔ ایس پی اے کے مطابق اس سال ایوارڈ کا موضوع انسانی ترقی سے متعلق اہداف کے ساتھ ہم آہنگ رکھا گیا ہے۔ یہ ایوارڈ انسانی ترقی کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والے افراد اور اداروں کو تسلیم کرنے کا ذریعہ ہے۔
اے جی فنڈ کی اگلے مرحلے کی سمت کیا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق اے جی فنڈ کی اگلے مرحلے کی سمت اس کے ترقیاتی تجربے پر استوار ہوتے ہوئے اثر اور پائیداری کو زیادہ سے زیادہ کرنے، شراکت داریوں اور ادارہ سازی کو مضبوط بنانے، اور انسانی ترقی کی معاونت کے لیے وسائل کو متحرک کرنے پر مرکوز ہے۔ یہ سمت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ادارہ بدلتے ہوئے عالمی ترقیاتی منظرنامے میں اپنے کردار کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔
رپورٹ میں کون سی تفصیلات شامل نہیں کی گئیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں معاہدوں کی مالی تفصیلات، ان کے نفاذ کی ٹائم لائن یا شراکت داروں کے نام نہیں دیے گئے۔ اسی طرح گول میز کانفرنس یا ملاقاتوں میں پیش کیے گئے مخصوص اعداد و شمار کا بھی ذکر نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا کہ کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے اور کئی شعبوں میں تعاون کی بات ہوئی، لیکن ان کی تفصیلی نوعیت واضح نہیں کی گئی۔





