سعودی عرب نے جنرل اتھارٹی فار سٹیٹسٹکس (GASTAT) کی نمائندگی میں عرب لیگ کی اقتصادی اور سماجی کونسل کی مستقل ٹیکنیکل کمیٹی برائے شماریات کے 44ویں اجلاس کی صدارت کی۔ یہ اجلاس آج جدہ میں سعودی عرب کی میزبانی میں منعقد ہوا، جس میں رکن ممالک کی شماریاتی ایجنسیوں کے سربراہان اور نمائندگان کے ساتھ متعلقہ عرب اور علاقائی تنظیموں کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، اجلاس کی صدارت GASTAT کے صدر فہد بن عبداللہ الدوسری نے کی۔ اجلاس میں عرب شماریاتی کام سے متعلق متعدد ترجیحی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان امور میں سرکاری شماریات کی ترقی اور اپ ڈیٹنگ، پائیدار ترقی کے اہداف کے اشاریے، اور عرب ممالک کے درمیان شماریاتی تجربات اور مہارت کے تبادلے شامل تھے۔ شرکاء نے متعلقہ ایجنسیوں، دفاتر اور تنظیموں کے درمیان ہم آہنگی اور تعاون کو بڑھانے کے طریقوں پر بھی بات کی۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب اعداد و شمار کے ذرائع، طریقہ کار اور شماریات کی تیاری میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجیز میں تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے۔ اس صورتحال میں شماریاتی ایجنسیوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ انضمام اور عرب ممالک میں شماریات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے صلاحیت کی ترقی کی ضرورت ہے۔
کیا عرب خطے میں شماریاتی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے یہ اجلاس ایک نیا باب کھولے گا؟ اجلاس کی میزبانی سعودی عرب نے جدہ میں کی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ مملکت عرب شماریاتی کام میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ GASTAT کی قیادت میں ہونے والی اس صدارت کے دوران رکن ممالک کے سربراہان اور نمائندگان نے ایک ہی پلیٹ فارم پر بیٹھ کر مشترکہ چیلنجز پر غور کیا۔
اجلاس میں سرکاری شماریات کی ترقی اور اپ ڈیٹنگ ایک اہم موضوع تھا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اعداد و شمار کی درستگی اور بروقت دستیابی فیصلہ سازی کے لیے کتنی ضروری ہے؟ پائیدار ترقی کے اہداف کے اشاریوں پر بھی تفصیلی بات ہوئی، کیونکہ یہ اشاریے عرب ممالک کی سماجی اور اقتصادی ترقی کی پیمائش کا بنیادی ذریعہ ہیں۔
عرب ممالک کے درمیان شماریاتی تجربات اور مہارت کے تبادلے کو اجلاس میں نمایاں جگہ دی گئی۔ کیا رکن ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھ کر اپنے شماریاتی نظام کو مزید بہتر بنا سکیں گے؟ شرکاء نے متعلقہ ایجنسیوں، دفاتر اور تنظیموں کے درمیان ہم آہنگی اور تعاون بڑھانے کے طریقوں پر بھی غور کیا، تاکہ مشترکہ کوششیں ضائع نہ ہوں اور وسائل کا بہترین استعمال ہو سکے۔
اجلاس کے انعقاد کا پس منظر اعداد و شمار کے ذرائع، طریقہ کار اور ٹیکنالوجیز میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت ہے۔ ڈیجیٹل دور میں جب ڈیٹا کی مقدار بے پناہ بڑھ گئی ہے، شماریاتی ایجنسیوں کے درمیان انضمام کیوں ناگزیر ہو گیا ہے؟ اسی لیے اجلاس میں صلاحیت کی ترقی پر زور دیا گیا، تاکہ عرب ممالک میں شماریات کے معیار کو بلند کیا جا سکے۔
سعودی عرب کی صدارت اور جدہ میں میزبانی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مملکت عرب شماریاتی تعاون کے عمل میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ GASTAT کے صدر فہد بن عبداللہ الدوسری کی قیادت میں اجلاس نے ترجیحی امور کا جائزہ لیا اور آئندہ کے لیے راہ ہموار کی۔ کیا اس قسم کے اجلاسوں سے عرب ممالک کے شماریاتی نظام میں حقیقی تبدیلی آئے گی؟
رکن ممالک کی شماریاتی ایجنسیوں کے سربراہان اور نمائندگان کی موجودگی نے اجلاس کو نمائندہ بنایا۔ عرب اور علاقائی تنظیموں کی شرکت نے بھی اس بات کو یقینی بنایا کہ مختلف نقطہ نظر سامنے آئیں۔ شرکاء نے اعداد و شمار کے معیار اور دستیابی کے حوالے سے اپنے تجربات کا تبادلہ کیا، جس سے مشترکہ مفاہمت کو فروغ ملا۔
پائیدار ترقی کے اہداف کے اشاریوں پر بات چیت اس لیے بھی اہم تھی کہ یہ اشاریے عالمی سطح پر ترقی کی پیمائش کا معیار بن چکے ہیں۔ عرب ممالک ان اشاریوں کو اپنے قومی سیاق و سباق میں کیسے ڈھال سکتے ہیں؟ اجلاس میں اس پہلو پر غور کیا گیا کہ اعداد و شمار کی تیاری میں جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال کو کیسے بڑھایا جائے۔
سرکاری شماریات کی اپ ڈیٹنگ کا موضوع بھی اجلاس کے مرکزی نکات میں شامل تھا۔ جب معیشتیں اور معاشرے تیزی سے بدل رہے ہیں، تو شماریاتی نظام کو ان تبدیلیوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کے لیے کیا اقدامات درکار ہیں؟ شرکاء نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کی اہمیت پر اتفاق کیا۔
اجلاس میں ہم آہنگی اور تعاون بڑھانے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ متعلقہ ایجنسیوں، دفاتر اور تنظیموں کے درمیان روابط مضبوط کیے بغیر مشترکہ اہداف کا حصول کیسے ممکن ہے؟ یہ سوال اجلاس کے ایجنڈے کا اہم حصہ رہا، جس کا مقصد عرب شماریاتی کام کو ایک مربوط نظام کی شکل دینا ہے۔
سعودی عرب کی میزبانی میں جدہ میں ہونے والا یہ اجلاس عرب لیگ کی اقتصادی اور سماجی کونسل کے فریم ورک کے تحت ہوا۔ مستقل ٹیکنیکل کمیٹی برائے شماریات کا یہ 44واں اجلاس تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کمیٹی مسلسل کام کر رہی ہے اور اس کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد ہو رہے ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے عرب ممالک میں شماریات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے صلاحیت کی ترقی کی ضرورت پر زور دیا۔ کیا آنے والے برسوں میں اس سلسلے میں ٹھوس نتائج سامنے آئیں گے؟ یہ سوال اس وقت کے جواب پر منحصر ہے، لیکن اجلاس نے کم از کم ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا جہاں ترجیحی امور پر کھل کر بات ہوئی۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں اجلاس کے فیصلوں، سفارشات یا آئندہ کے اقدامات کی تفصیل نہیں دی گئی۔ اسی طرح اجلاس میں شرکت کرنے والے ممالک یا تنظیموں کے نام بھی شامل نہیں ہیں۔ رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا کہ اجلاس میں رکن ممالک کی شماریاتی ایجنسیوں کے سربراہان اور نمائندگان کے ساتھ متعلقہ عرب اور علاقائی تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔
اجلاس کی صدارت کس نے کی اور کہاں منعقد ہوا؟ سعودی عرب نے جنرل اتھارٹی فار سٹیٹسٹکس (GASTAT) کی نمائندگی میں عرب لیگ کی اقتصادی اور سماجی کونسل کی مستقل ٹیکنیکل کمیٹی برائے شماریات کے 44ویں اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس جدہ میں سعودی عرب کی میزبانی میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت GASTAT کے صدر فہد بن عبداللہ الدوسری نے کی۔ ایس پی اے کے مطابق اجلاس میں رکن ممالک کی شماریاتی ایجنسیوں کے سربراہان اور نمائندگان کے ساتھ متعلقہ عرب اور علاقائی تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔
اجلاس میں کون سے ترجیحی امور زیر بحث آئے؟ اجلاس میں عرب شماریاتی کام سے متعلق متعدد ترجیحی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان میں سرکاری شماریات کی ترقی اور اپ ڈیٹنگ، پائیدار ترقی کے اہداف کے اشاریے، اور عرب ممالک کے درمیان شماریاتی تجربات اور مہارت کا تبادلہ شامل تھے۔ شرکاء نے متعلقہ ایجنسیوں، دفاتر اور تنظیموں کے درمیان ہم آہنگی اور تعاون بڑھانے کے طریقوں پر بھی بات کی۔ ایس پی اے کے مطابق یہ امور عرب شماریاتی تعاون کے لیے ترجیحی نوعیت کے حامل ہیں۔
اجلاس کے انعقاد کا پس منظر کیا بتایا گیا؟ ایس پی اے کے مطابق اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب اعداد و شمار کے ذرائع، طریقہ کار اور شماریات کی تیاری میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجیز میں تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے۔ اس صورتحال میں شماریاتی ایجنسیوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ انضمام اور عرب ممالک میں شماریات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے صلاحیت کی ترقی کی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہی عوامل اجلاس کے ایجنڈے کی بنیاد بنے۔
اجلاس میں کون سی تنظیمیں اور کون سے نمائندگان شامل تھے؟ ایس پی اے کے مطابق اجلاس میں رکن ممالک کی شماریاتی ایجنسیوں کے سربراہان اور نمائندگان کے ساتھ متعلقہ عرب اور علاقائی تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت GASTAT کے صدر فہد بن عبداللہ الدوسری نے کی۔ رپورٹ میں شرکت کرنے والے ممالک یا تنظیموں کے انفرادی نام شامل نہیں ہیں، اور نہ ہی شرکاء کی مکمل فہرست دی گئی ہے۔
کیا رپورٹ میں اجلاس کے فیصلوں یا سفارشات کا ذکر ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اجلاس کے فیصلوں، سفارشات یا آئندہ کے اقدامات کی تفصیل نہیں دی گئی۔ رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا کہ اجلاس میں ترجیحی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور شرکاء نے ہم آہنگی اور تعاون بڑھانے کے طریقوں پر بات کی۔ اس طرح اجلاس کے نتائج یا ان پر عمل درآمد کا کوئی خاکہ رپورٹ کا حصہ نہیں ہے۔





