Tuesday, September 8, 2026
Uncategorized

لٹریچر، پبلشنگ اور ٹرانسلیشن کمیشن نے پیشہ ورانہ تصدیق پر تبادلہ خیال کیا

لٹریچر، پبلشنگ اور ٹرانسلیشن کمیشن نے پیشہ ورانہ تصدیق پر تبادلہ خیال کیا

ریاض میں لٹریچر، پبلشنگ اور ٹرانسلیشن کمیشن نے ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز کی شرکت کے ساتھ “The Future of the Translation Profession in Light of Accreditation” کے عنوان سے ایک ورچوئل میٹنگ منعقد کی۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 12 اگست 2026 کو بیان کیا، اس اجلاس میں پیشہ ورانہ تصدیق کے ذریعے اہلکاروں کی اہلیت بڑھانے، ترجمے کے معیار کو بہتر بنانے اور مملکت میں اس پیشے کے مستقبل کو تشکیل دینے پر بات کی گئی۔ میٹنگ میں “Certified Translator” پروگرام کا تعارف کرایا گیا جو ترجمہ کے پیشے کی تنظیم اور ترقی میں کردار ادا کرے گا۔

شرکاء نے لائسنسنگ اور پیشہ ورانہ تصدیق کے درمیان فرق پر بحث کی، جہاں لائسنسنگ دفاتر اور اداروں کو قانونی اجازت فراہم کرتی ہے جبکہ پیشہ ورانہ تصدیق افراد کی پیشہ ورانہ اہلیت کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ تصدیق زبان، ترجمے کی سمت اور قانونی و طبی جیسے شعبہ جات کی مہارت سے منسلک ہے۔

اجلاس میں مصنوعی ذہانت (AI) کے اثرات کا جائزہ لیا گیا اور واضح کیا گیا کہ ٹیکنالوجی پیشہ ور مترجمین کا متبادل نہیں ہے، بلکہ AI کے نتائج کی لسانی، ثقافتی اور اخلاقی درستگی کی تصدیق کے لیے انسانی مہارت کی ضرورت مزید بڑھ جائے گی۔

Certified Translator پروگرام کا مقصد کیا ہے؟ اس پروگرام کا مقصد ترجمے کو واضح اہلیت اور معیار کے معیارات پر مبنی پیشہ ورانہ مشق کے طور پر بلند کرنا ہے۔ یہ پروگرام اہلکاروں کو بااختیار بنانے، ترجمے کے نتائج کے معیار کو بہتر بنانے اور مملکت کے مختلف شعبوں میں ہونے والی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

لائسنسنگ اور پیشہ ورانہ تصدیق میں کیا فرق ہے؟ لائسنسنگ کے ذریعے دفاتر اور اداروں کو ترجمے کی مشق کرنے کی قانونی اجازت ملتی ہے، جبکہ پیشہ ورانہ تصدیق کا تعلق افراد سے ہے جو ان کی پیشہ ورانہ اہلیت کو ثابت کرتی ہے۔ یہ تصدیق مخصوص زبان، ترجمے کی سمت اور قانونی یا طبی جیسے شعبوں کی مہارت پر مبنی ہوتی ہے۔

مصنوعی ذہانت کا ترجمے کے پیشے پر کیا اثر ہوگا؟ ٹیکنالوجی پیشہ ور مترجمین کی جگہ نہیں لے گی بلکہ انسانی مہارت کی ضرورت کو مزید مضبوط کرے گی۔ مترجمین کو AI کے ذریعے تیار کردہ مواد کی لسانی، ثقافتی اور اخلاقی درستگی کی تصدیق کرنی ہوگی اور ان ٹولز کو ذمہ داری سے استعمال کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی ہوگی۔